علاہ بریں بعض وقت آدمی کسی شبہ یا سہو یا جہل کے باعث اپنے آپ کو حق پر جان کر دعوٰی یا جواب دہی کرتا ہے تو بات واقع میں اگرچہ خلاف ہے مگر اس نے قصدِ کذب نہ کیا حکمِ فسق اس پر نہ ہوا،
اس کی مثالیں مقدمات ِ صحابہ میں بہت ہیں بلکہ یہی ان میں متعین ہیں۔(ت)
علاوہ بریں جب آدمی کا حق مارا جاتا ہو اور وُہ بغیر کسی ایسے اظہار کے جوبظاہر خلاف واقع ہے حاصل نہ ہوسکتا ہو تو اپنے احیائے حق کے لئے ایسی بات کا بیان شرعاً جائز ہے اگر چہ سامع اُسے کذب پر محمول کرے۔درمختار میں ہے:
الکذب مباح لاحیاء حقہ ودفع الظلم عن نفسہ ۱؎ الخ وتمام تحقیقہ فی ردالمحتار عن تبیین المحارم عن الامام حجۃ الاسلام۔
اپنے حق کے حصول اور اپنے آپ سے ظلم کو دُور کرنے کے لئے کذب مباح ہے الخ اور اس کی پُوری تفصیل امام حجۃ الاسلام کی تبیین المحارم کے حوالے سے ردالمحتار میں ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار فصل فی البیع من کتاب الحظروالاباحت مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲/۲۵۴)
بالجملہ صورت مذکورہ میں صرف بیان مدعا علیہ کوئی چیز نہیں اگر کسی گواہ سے بھی ثابت ہو کہ زید نے اپنے دعوٰی یا تائید ِ دعوٰی میں کئی بات خلاف کہی تواس سے واقعی کاذب وفاسق ہونا ثابت نہیں ہوتا،ہاں اگر شہادتِ شرعیہ سے زید کا کذاب فاسق بے حرمت ہونا پایہ ثبوت کو پہنچے تو بے شک اُسے امام بنانا ممنوع اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہوگا
کما ھوحکم الفاسق
(جیسا کہ فاسق کا حکم ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۲۳: از شہر کہنہ مرسلہ سید عبدالواحد متھراوی ۲۰ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ ایک ہی مصلّے پر فرض نماز پڑھنا بایں صورت کہ خاوند امام ہو اور عورت مقتدی ،کیا حکم رکھتا ہے؟
الجواب: اگر عورت اس قدر پیچھے کھڑی ہے کہ اس کی ساق مرد کی ساق یا کسی عضو کے محاذی نہیں تو اقتدا صحیح ہے اور دونوں کی نماز ہوجائے گی اور اگر برابر ہے کہ بیچ میں کوئی حائل ہے نہ کوئی اتنا فاصلہ جس میں ایک آدمی کھڑاہوسکے اور عورت کی ساق مرد کی ساق یا کسی عضو کے محاذی ہے تو اس صورت میں اگر مرد نے اُس کی امامت کی نیت نہ کی تو مرد کی نماز صحیح ہے اور عورت کی فاسد ،اور اگر مرد نے تحریمہ نیتِ امامتِ زن کی تھی تو دونوںکی گئی ۔فتاویٰ امام قاضی خان میں ہے :
المرأۃ اذاصلت مع زوجھا فی البیت ان کان قدماھا بحذاء قدم الزوج لاتجوز صلاتھما بالجماعۃ وان کان قدماھاخلف قدم الزوج الا انھا طویلۃ تقع رأس المرأۃ فی السجود قبل رأس الزوج جازت صلاتھما لان العبرۃ للقدم ۱؎۔
کسی خاتون نے جب اپنے خاوند کے ساتھ گھر میں نماز ادا کی ہو اگر اس کے قدم خاوند کے قدم کے مقابل ہوں تو دونوں کی نماز باجماعت جائز نہ ہوگی اور اگر اس کے قدم خاوند کے قدم سے پیچھے اگر خاتون کا قد لمبا ہونے کے وجہ اس کا سر حالتِ سجدہ میں خاوند کے سر سے آگے ہوتا تو پھر بھی دونوں کی نماز درست ہوگی کیونکہ اعتبار قدموں کا ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوی قاضی خان فصل فیمن یصح الاقتداء الخ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۴۵)
ردالمحتار میں ہے:
الزیلعی قال المعتبر فی المحاذاۃ الساق والکعب فی الاصح وبعضھم اعتبرالقدم اھ فعلی قول البعض لو تأخرت عن الرجل ببعض القدم تفسد وان کان ساقہا وکعبھا متاخراً عن ساقہ وکعبہ وعلی الاصح لاتفسدوان کان بعض مھا محاذیا لبعض قدمہ ۲؎ الخ
زیلعی کہتے ہیں کہ اصح قول کے مطابق محاذات میں پنڈلی اور ٹخنے کا اعتبار ہے اور بعض نے قدم کا اعتبار کیا ہے اھ تو بعض کے قول پر اگر قدم کا کچھ حصہ مرد سے پیچھے ہوا نماز فاسد ہوگی اگر چہ اس کی پنڈلی اور ٹخنے مرد کی پنڈلی اور ٹخنے سے پیچھے ہوں، اور اصح یہ ہے کہ نماز فاسد نہیں ہوگی اگر چہ بعض قدم عورت کا مرد کے بعض قدم کا محاذی ہو الخ(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۲۳)
درمختار میں ہے :
حاذتہ مشتھاۃ ولاحائل بینھما اقلہ قدرذراع فی غلظ اصبع اوفرجۃ تسع رجلا فی صلاۃ مطلقۃ مشترکۃ تحریمۃ واداء واتحدت الجھۃ فسدت صلاتہ لومکلفا ان نوی الامام وقت شروعہ لابعدہ امامتہا والا ینوھا فسدت صلاتھا۳؎اھ مختصرا
مرد کے محاذی ایسی خاتون ہوگئی جو صاحبِ شہوت ہو اور ان کے درمیان کوئی مرد اور آڑحائل نہ ہو،آڑ کم ازکم بلندی میں ایک ہاتھ کے برابر موٹائی میں ایک انگلی کے برابر کا اعتبار ہے یا یہ کہ دونوں کے درمیان فاصلہ اتنا چھوٹا ہو جو ایک آدمی کی گنجائش رکھتا ہو (کہ آڑ اور فاصلہ کی صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی) اوریہ کہ نماز مطلق (یعنی رکوع سجدہ والی ) ہو ۔تکبیر تحریمہ وادا میں دونوں مشترک ہوں اور جہت بھی ایک ہو تو مرد کی فاسد ہوجائے گی اگر وہ مکلف ہو(یعنی عاقل بالغ ہو) اورامام نے شروع نماز کے وقت اس خاتون کی امامت کی نیت کی ہو نہ کہ نمازشروع کرنے کے بعد ،اور اگرامام نے عورت کی امامت کی نیت نہیں کی تو اس خاتون کی نماز فاسد ہوگی اھ اختصاراً (ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۴)
مسئلہ نمبر۶۲۴: ۲۹ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سُود خور اور رشوت خور اور جس شخص کی بی بی بے حجاب رہتی ہے اور جو شخص جھوٹی گواہی دیتا ہے اور جوشخص بعض اوقات نماز پڑھتا ہے ان سب کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ جواز وعدم جواز کی کیادلیل ہے؟
الجواب: سود خور اوررشوت خور اورجھوٹی گواہی دینے والااور قصداً بعض اوقات نماز چھوڑ دینے والا یہ سب فاسق ہیں اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔
کما فی الغنیۃ عن الحجۃ واقرہ فی ردالمحتار وتفصیلہ فی رسالتنا النھی الاکید عن الصلاۃ ورای عدی التقلید۔
جیسا کہ غنیـہ میں فتاوٰی حجہ سے مروی ہے ردالمحتار میں اسے ثابت رکھا ،اور اس کی تفصیل ہمارے اپنے رسالے''النہی الاکید عن الصلاۃ ورای عدی التقلید'' میں ہے۔(ت)
اور جس کی عورت بے پردہ نکلتی ہے اسی طرح کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کچھ ظاہر ہوتا ہے مثلاً سر کے بال یا بازو یا کلائی یا گلا یا پیٹ یا پنڈلی کاحصہ خواہ یُوں کہ ان مواقع پر کپڑا ہی نہ یاہو تو باریک کہ ستر نہ کرسکے یا باہر نہیں نکلتی مگر گھر میں غیر محرم بکثرت آتے جاتے ہیں اوروُہ ایسی ہی حالت میں رہتی ہے اور شوہر ان امور پر مطلع نہیں کرتا تو وہ خود دیوث ہے فاسق ہے۔
فان الدیوث کما فی الحدیث وکتب الفقہ کالدر وغیرہ من لایغار علی اھلہ۱؎۔
حدیث اور کتب فقہ مثل درمختار وغیرہ کے مطابق دیّوث وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بیوی پر غیرت نہیں کھاتا۔(ت)
اور اگر ایسا نہیں بلکہ تمام بدن کے پورے سترِعورت کے ساتھ گھر میں کسی نامحرم مثلاً جیٹھ ،دیور ،بہنوئی یا اپنے چچا خالہ ماموں پھوپھی کے بیٹوں کے سامنے ہوتی ہے یا کم قوم لوگوں کی عورات جو خوب موٹے اور ڈھیلے کپڑے پہنے سارا بدن ڈھانکے اپنی ضرورتوں کے لئے باہر آتی جاتی ہیں یا عورت تو بے حجابی اسی طرح کرتی ہے مگر مرد اسے اپنی حدِ قدرت تک روکتا ہے منع کرتا ہے اور وہ یونہی نہیں مانتی ،تو ان صورتوں میں شوہر پر کچھ الزام نہیں اور اس وجہ سے اسکے پیچھے نماز میں کراہت نہیں ہوسکتی۔
قال اﷲ تعالٰی
لاتَزِرُ وَازِرَۃ وِزْرَ اُخْرٰی۱؎۔
(اﷲ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔