مسئلہ نمبر۶۲۰: ازنجیب آباد مرسلہ حافظ محمد ایازصاحب ۲۰ جمادی الاخری۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کو مرض بواسیر کا ہے اور مسّے کثرت سے ہوگئے ان میں سے آلائش رنگ زردی مائل خارج ہوتی ہے ونیز کثرت مسّوں سے اخراجِ ریح فضلہ براز کا دھبّا بھی کپڑے پر آجاتا ہے کہ جو ہجوم مسّوں کی وجہ سے وقت اجابت کسی جگہ اندر الجھا ہوا رہ جاتا ہے ان دونوں حالتوں میں کپڑا ہر وقت نجس رہتا ہے ،زید مذکور ہر طرح انتظام مثل لنگوٹ باندھنا،دو یا تین پاجامے رکھنا اور ان کا وقتاً فوقتاً دھوکرپاک رکھنا یہ سب کچھ کر چھوڑا مگر کچھ نہ ہوسکا خاص کرسفر میں اس سے زیادہ دقتیں پیش آتی ہیں اور خصوصاً امامت کرنا اگرچہ وہ امامت سے درگزر کرتا ہے مگر اس صورت میں وہ کیا کرسکتا ہے کہ ادائے نماز فرض کے واسطے کھڑا ہوا اور بعد کو اور نمازی آکر مقتدی بن گئے بجز اس کے کیا چارہ کہ نماز اداکرے ،ان دقّتوں کی حالت میں زید مذکور کو کیا کرنا چاہئے کہ جس سے بے کراہت نماز ادا کرے اور وہ کپڑا حکم پاکی کا رکھے؟بینوا توجروا۔
الجواب: اگر حالت ایسی ہے کہ کپڑا پاک کرے یا بدلے تو فرض نہ پڑھنے پائے گا کہ پھر نجس ہوجائے گا یعنی براز ساڑھے چارماشہ سے زائد یا وہ زرد پانی روپیہ بھر کی مساحت سے زیادہ آجائے گا تو دھونے کی کوئی ضرورت نہیں ورنہ بے دھوئے خود اس کی اپنی نماز نہ ہوگی اور جبکہ وہ حالتِ معذوری میں ہے یعنی کوئی وقت کامل نماز کا ایساگزر گیا شروع سے ختم تک کہ اُسے وضو کرکے فرض پڑھ لینے کی فرصت نہیں ملی اور جب سے برابر ہروقت نمازمیں یہ نجاست آتی رہتی ہے اگرچہ وقت میں ایک ہی بار تو وہ ایسی حالت میں امامت نہیں کرسکتا ،لوگ اگرآکر شامل ہوں جہر نہ کرے تکبیر آواز سے نہ کہے وہ لوگ خود الگ ہوجائیں گے۔اور اس پر بھی جُدانہ ہوں تو بعد سلام اطلاع کردے کہ میں معذور ہُوں میرے پیچھے نماز جائزنہیں تم اپنی پھر پڑھ لو۔
فی الدرالمختار ان سال علی ثوبہ فوق الدرھم جازلہ ان لا یغسلہ ان کان لوغسلہ تنجس قبل الفراغ منھا ای الصلاۃ والایتنجس قبل فراغہ فلا یجوز ترک غسلہ ھوالمختار للفتوی۱؎واﷲ تعالٰی اعلم۔
دُرمختار میں ہے اگر معذور کے کپڑے پر درہم سے زیادہ نجاست بہہ گئی تو اس کے لئے اس کا نہ دھونا اس صورت میں جائز ہے جبکہ اس کو دھوئے تو نماز سے فارغ ہونے سے پہلے کپڑے اس کے نجس ہوجاتے ہیں اگر اس کے فارغ ہونے سے پہلے نجس نہ ہو تو اس کے لیے دھونے کو ترک کرنا جائز نہیں ۔فتوٰی کے لئے یہی قول مختارہے(ت)
(۱؎ درمختار باب الحیض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۵۳)
مسئلہ نمبر۶۲۱: ازدلیرگنج پر گنہ جہاں آبادضلع پیلی بھیت مرسلہ خلیفہ الہٰی بخش ۱۸رجب ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جو شخص قواعدِ تجوید سے ناواقف ہو اُس کوامام کیاجائے یا نہیں؟ اور اگر کیا جائے توا س کے پیچھے قواعدداں کی نماز ہوگی یا نہیں؟اور عام لوگوں یعنی غیرقواعدداں کی نماز بھی اس کے پیچھے ہوگی یا نہیں ؟ بینواتوجروا۔
الجواب: اگر ایسی غلطیاں کرتا ہے کہ معنی میں فساد آتا ہے مثلاً حرف کی تبدیل جیسےع ط ص ح ظ کی جگہ و ت س ہ زپڑھناکہ لفظ مہمل رہ جائے یامعنی میں تغیر فاحش راہ پائے یاکھڑا پڑا کی بدتمیزی کہ حرکات بڑھ کر حروف مدہ ہوجائیں اور وہی قباحتیں لازم آئیں، جس طرح بعض جہال نستعین کو نستاعین پڑھتے ہیں کہ بے معنی یا لا اِلی اﷲ تحشرون بلام تاکید کو لالی اﷲ تحشرون بلائے نافیہ کہ تغیر معنی ہے تو ہمارے ائمہ متقدمین کے مذہب صحیح ومعتمد محققین پر مطلقاً خود اس کی نماز باطل ہے
کما حققہ ورجححہ المحقق فی الفتح والحلبی فی الغنیۃ وغیرھما
(محقق نے فتح میں اورحلبی نےغنیـہ میں اور دیگر لوگوں نے اپنی کتب میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) اور جب اُس کی اپنی نہ ہوگی تو قوادداں وغیرہ کسی کی اس کے پیچھے نہ ہو سکے گی
فان صلٰوۃ المأموم مبتنیۃ علی صلٰوۃ الامام
(کیونکہ مقتدی کی نماز امام کی نماز پر مبنی ہے۔ت) اور اگر غلطی یوں ہے کہ حرف بروجہ صحیح ادا نہیں کرسکتا جس طرح آج کل عام دہقانوں اور بہت شہریوں کا حال ہے تو اب جمہور متاخرین کا بھی فتوٰی اسی پر ہے کہ اس کے پیچھے صحیح خواں کی نماز باطل
(جیسے علامہ غزی اورعلامہ خیررملی اور دیگر علماء نے اس کا تذکرہ کیاہے۔ت) اور جب اس کی اپنی نہ ہوگی اور اگر عجزیوں ہے کہ سیکھنے کی کوشش نہ کی یا کچھ دنوں کرکے چھوڑ دی اگر لپٹا رہتا تو امید تھی کہ آجاتا جب توایسی غلطی ان کے نزدیک بھی خود اس کی اپنی نماز بھی باطل کرے گی
کما فی الخلاصۃ والفتح وغیرھماعامۃ الکتب
(جیسے خلاصہ،فتح اور ان کے علاوہ عام کتب میں ہے ۔ت) غرض ایسا شخص امام بنانے کے لائق نہیں
وقد فصلناالقول فی تلک المسائل فی عدۃ مواضع من فتاوٰنا
(ہم نے ان مسائل پر اپنے فتاوٰی میں متعدد جگہ پر تفصیل سے لکھا ہے ۔ت) اور اگر ایسی غلطی نہیں کرتا جس سے فسادِمعنی ہو تو نماز خود اس کی بھی صحیح اور اس کے پیچھے اور سب کی صحیح ،پھر اگر حالت ایسی ہے کہ تجوید کے امور ضروریہ واجبات شرعیہ ادا نہیں ہوتے جن کا ترک موجب گناہ ہے جیسے مدمتصل بقدر ایک الف وغیرہ
فما فصلنا فی فتاوٰی لنا فی خصوص الترتیل
(جس کا ہم نے اپنے فتاوی میں ترتیل کے تحت تفصیلاً ذکر کیا ہے۔ت) جب بھی اُسے امام بنایا جائے گا نماز اس کے پیچھے بشدت مکروہ ہوگی
لاشتمالہاعلی امرمؤثم وکونہ فاسقا بتمادیہ علی ترک واجب متحتم
(کیونکہ وُہ ایسے امر پر مشتمل ہے جو گناہ ہے اور اسکا فاسق ہونا اس شک میں ڈالتا ہے کہیں وہ حتمی واجب کا ترک نہ کر بیٹھے۔ت) اور اگر ضروریات سب ادا ہولیتے ہیں صرف محسنات زائد ومثل اظہار اخفا وروم واشمام وتفخیم وترقیق وغیرہا میں فرق پڑتا ہے تو حرج نہیں،ہاں قواعدان کی امامت اولٰی ہے
لان الامام کلما کان اکمل کان افضل
(وہ شخص جو ہر لحاظ سے اکمل ہو وہی افضل امام ہوگا۔ت) واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۲۲ : ازبنگالہ سہلٹ موضع پیام مرسلہ جناب سورج میاں صاحب معرفت مولوی سلطان الدین ۱۳شعبان ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عمرو سے زید دربارہ جائداد مشترک فیہ بینھما نزاع مقدمہ کچہری کیاعمرو فتح یاب ہُوا زید اس گاؤں کا امام ہے اب عمرو نے بوجہ تعصب ومخاصمت کے تمام اس کے مقتدیوں کو کہا کہ زید نے کچہری میں واسطے فتحیابی اپنے مقدمہ کرکے جھوٹ بولا تم لوگ اب اسکے پیچھے نماز مت پڑھو وہ اب امامت کے قابل نہیں رہا، تب مقتدیوں نے عمرو سے کہا کہ تم اس کے جھوٹ بولنے کا کوئی ثبوت پیش کرو ہنوز کوئی شاہد پیش نہیں کیا گیا،دعوٰی بلا دلیل ہے اور آج تک کبھی زید نے جھوٹ کلمہ اپنی زبان سے نہ نکالا اور نہ کسی نے اس پر دروغ گوئی کا کبھی شک کیا ،اگر بالفرض اس کی کذب گوئی پر کوئی گواہ ثابت ہوجائے تو زید قابلِ امامت رہے گا یا نہیں؟ اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب: نماز اس کے پیچھے ہوجانے میں تو اصلاً شبہ نہیں بحدیث
صلواکل بر وفاجر
(ف) اورکچہری میں مقدمہ ہار جانے سے جھوٹا ہونا ثابت نہیں ہوتا،
ف:حدیث کےالفاظ تفصیلاً یوں ہیں:صلواخلف کل بر وفاجر صلواعلی کل بر وفاجر وجاھدوا مع کل بر وفاجر۔ نذیر احمد سعیدی
کچہریوں میں ہزاروں بار جھوٹے سچّے اورسچّے جھوٹے ٹھہرتے ہیں، انگریزی کچہریاں تو شرع مطہر سے علاقہ رکھتی ہی نہیں بلکہ یہاں کے اسلامی محکمے ہی پوری پابندی شرع سے صراحۃً کنارہ گزیں ، جہاں کامل شرعی عدالتیں تھیں وہاں بھی باآنکہ قاضی شرع جس کے خلاف حکم فرمادے اُسے فقہاء دفع تناقض کے لئے صار مکذبا شرعاًلکھتے ہیں مگر کسی مدعی یا مدعا علیہ کو صرف اس بنا پر کاذب وفاسق ومرتکب کبیرہ نہیں کہہ سکتے کہ حکمِ حاکم بنظرِ ظاہر ہوتاہے اُس سے واقع میں کذب لازم نہیں آتا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما انا بشر وانکم تختصمون الی ولعل بعضکم ان یکون الحن بحجتہ من بعض فاقضی لہ علی مانحوما اسمع منہ فمن قضیت لہ بشیئ من حق اخیہ فلا یاخذنہ فانما اقطع قطعۃ من النار۱؎۔ رواہ الشیخان عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
میں ایک انسان ہوں اور تم میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو ممکن ہے تم میں سے کوئی آدمی دلیل پیش کرنے میں ہوشیار ہو اور دلیل کی وجہ سے دوسرے پر غالب آجائے اور میں دلائل سننے کے بعد اس کے مطابق فیصلہ کردوں ،تو جس کے حق میں فیصلہ ہوا ہو وہ اس کو نہ لے کیونکہ وہ ایک آگ کا ایک ٹکڑا ہے ۔اسے بخاری ومسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب من اقام البینۃ بعد الیمین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۰)