Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
122 - 185
مسئلہ ۶۱۷: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص ایک مسجد کا امام ہے اور وہ کارہائے مندرجہ ذیل سے روزی پیدا کرتا ہے : مُردہ نہلانا اس کی اجرت لینا،سوم میں قرآن مجید پڑھنا اور ناخواندہ لوگوں سے قرآن مجید پڑھوانا اور اس کی اجرت لینا،مُردے کے کپڑے وغیرہ لینا اور فروخت کرنا،اور سود کھانا خفیہ طور سے۔اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا ناجائز ؟ اور دوسرا شخص جس کو عام لوگ جانتے ہیں کہ اس کی روزی ناجائز ہے اُس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔بینوا توجروا۔
الجواب: سوُد لینا گناہ کبیرہ ہے، یوں ہی جس ناجائز طریقہ سے روزی حاصل کی جائے وہ یا تو سرے سے خود ہی کبیرہ ہوگا یا بعد عادت کے کبیرہ ہوجائے گا ۔ناخواندہ لوگوں سے پڑھواکر اُجرت لیتاہے کے معنی سائل نے یہ بیان کیا کہ بے پڑھوں کو بلالاتا ہے اور براہِ فریب اُن کی قرآن خوانی ظاہر کرکے اُجرت لیتا ہے یہ صورت خودکبیرہ کی ہے اور تلاوتِ قرآن کریم پر اُجرت لینا ہی ناجائز ہے
کما حققہ السید المحقق الشامی فی ردالمحتار وشفاء العلیل
 (جیسا کہ سیّد محقق شامی نے ردالمحتاراورشفاء العلیل میں اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ت) اور مردے کو نہلانے یا اٹھانے یا قبر کھودنے کی اُجرت لینے میں دوصورتیں ہیں اگر یہ فعل اسی شخص پر موقوف نہ ہو اور لوگ بھی ہیں کہ یہ نہ کرے تو وہ کرسکتے ہیں جب تواُن پر اجرت لینی جائز ہے اوراگر خاص یہی شخص یا جنازہ اُٹھانے کو یہی دو چار اشخاص ہیں کہ یہ نہ کریں تو کام نہ ہوگا اُجرت لینی حرام ہے،
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ رجل استاجر قوما یحملون جنازۃ اویغلسون میتا ان کان فی موضع لایجد من یغسلہ غیرھؤلاء فلا اجرلھم وان کان ثمۃ اناس فلھم الاجروحفرالحفار علی ھذا وفی موضع لااجرھم لواخذوا الاجرلایطیب لھم۱؎۔
ہندیہ میں خلاصہ سے ہے کہ ایک آدمی نے کچھ لوگوں کو جنازہ اُٹھانے یا میّت کو غسل دینے کے لئے کرایہ پر حاصل کیا اگر تو وُہ ایسی جگہ ہے جہاں ان کے علاوہ اور کوئی دوسراغسل دینے والا نہیں اور نہ ہی جنازہ اٹھانے والا کوئی ہے تو ان کے لئے کوئی کرایہ لینا روا نہیں ہے،اور اگر وہاں دوسرے لوگ ہیں تو پھر ان کے لئے کرایہ لینا جائز ہے ۔قبر کھودنے والے کا معاملہ بھی یہی ہے اگر وہ ایسی جگہ ہے جہاں کرایہ لینا ان کے لئے جائز نہ تھا اور انہوں نے کرایہ لے لیا تو یہ ان کے لئے اچھاکام نہیں ہے ۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    الباب السادس عشرفی مسائل الشیوع الخ     مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۴۵۲)
اور مردے کے کپڑے وغیرہ بہ نیت تصدّق دے دئیے جاتے ہیں اگر یہ لینے والا محتاج ہے یا غنی ہے اور دینے والے کو اس کا غنی ہونا معلوم ہے یا وہاں بطورِ رسم امامِ نماز یا ملّائے مسجد کو یہ چیزیں دی جاتی ہیں خواہ محتاج ہو یا نہیں تو لینا جائز ہے اگرچہ غنی کے لئے کراہت سے خالی نہیں ،اور اگر یہ شخص غنی ہے اور دینے والا محتاج کو دینا چاہتا ہے اوراس نے اپنے آپ کو محتاج جتاکر اُس سے لے لئے توحرام ہے۔
کمالایخفی وقد نبہ فی الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ علی ادق من ھذا۔
جیسا کہ مخفی نہیں کہ اورحدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہمیں اس سے بھی بڑھ کر سخت تنبیہ ہے۔(ت)

اور گناہ کبیرہ خواہ ابتداءً کبیرہ ہویا بعد عادت کبیرہ ہوجائے موجب فسق ہے ،اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ، اسے امام بنانا گناہ ہے
کما حققہ المحقق الحلبی فی الغنیۃ
(جیسا کہ محقق حلبی نے غنیـہ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) ہاں گناہ کبیرہ خفیہ ہو یا اعلانیہ فاسق کردینے میں برابر ہے مگر ایسا خفیہ جس پر بندے مطلع نہ ہوں بندے اس پر حکم نہیں کرسکتے کہ بے جانے حکم کیونکر ممکن
کما اوضحہ فی الدرالمختارمن الشھادۃ فی بیان تقییدھم شرب الخمر بالادمان
 (جیسا کہ دُرمختار میں شہادت سے متعلق گفتگو میں جہاں انھوں نے فقہاء کا شرب خمر کو دوام شرب کے ساتھ مقید کرنے کو بیان کیا ہے ۔ت)اور مسلمان پر بدگمانی خود حرام ہے جب تک ثبوتِ شرعی نہ ہو،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۱۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جوشخص اسمٰعیل دہلوی مصنف تقویۃ الایمان کو حق جانتا ہواُس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب : اگر اس کے ضلالت وکفریات پرآگاہی ہو کر اُسے اہلِ حق جانتا ہو تو خود اُس کی مثل گمراہ بددین ہے اور اُس کے پیچھے نماز کی اجازت نہیں ،اگر نادانستہ پڑھ لی ہو تو جب اطلاع ہو اعادہ واجب ہے،
کما ھوالحکم سائر اعداء الدین من المبتدین الفسقۃ المرتدۃ المفسدین۔
جیسا کہ یہی حکم تمام ان اعداء دین کا ہے جو بدعتی ،فاسق ،مرتد اور فساد پھیلانے والے ہیں۔(ت)



اوراگرآگاہ نہیں تو اُسے اس کے اقوال ضالہ دکھائے جائیں، اس کی گمراہی بتائی جائے ،رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ بطورنمونہ مطالعہ کرایاجائے۔ اگر اب بعد اطلاع بھی اُسے اہلِ حق کہے وہی حکم ہے، اور اگر توفیق پائے حق کی طرف
فاخوانکم فی الدین
 (تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں۔ت)
واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم ۔
مسئلہ ۶۱۹:    ۶جمادی الاولٰی ۱۳۱۷ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ بغرض پیشہ کے جو شخص تصاویر دیوتائے اہلِ ہنود کی مثل ٹیسوو رادن  ورام چندر وسیتا وغیرہ کی بناتا ہے اور فوٹوگرافر اور مغلم اور حرامی اور علی العموم جن اشخاص کی عورات بے پردہ سرِبازار پھرتی ہیں تواس حالت میں اشخاص مذکورین کے پیچھے پڑھنا نماز کا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر پڑھ لی تو اعادہ اس کا چاہئے یا نہیں؟بینوا توجروا
الجواب :جاندار کی تصویر بنانی دستی ہو یا خواہ عکسی حرام ہے، اورمعبودانِ کفار کی تصویریں بنانا اورسخت ترحرام واشد کبیرہ ہے،رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
ان اشد الناس عذابا یوم القیمۃ المصورون۱؎رواہ الائمۃ والشیخان عن عبداﷲ بن مسعود عن ام المؤمنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا۔
بیشک سب سے زیادہ سخت عذاب روزِقیامت مصوّروں پر ہوگا۔اس کو ائمہ اوربخاری ومسلم نےحضرت عبداﷲ بن مسعود کے حوالے سے حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے نقل کیا ہے۔
 (۱؎ صحیح البخاری    باب عذاب المصورین یوم القٰی مۃ         مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲/۸۸۰)
یوں ہی مغلم ،فاسق،فاجر مرتکب کبائر ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ملعون من یعمل عمل قوم لوط۲؎ ۔رواہ احمد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
ملعون ہے جو قومِ لوط کا کام کرے۔اس کو امام احمد نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل    مروی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ    مطبوعہ دارالفکر بیروت            ۱/۲۱۷)
جس کی عورت بے ستر باہر پھرتی ہے کہ بازو یا گلا یا پیٹ یا سر کے بال یا پنڈلی کا حصّہ غرض جس جسم کا چھپانا فرض ہے کُھلا ہوا ہے یا اس پر ایک باریک کپڑا ہو کہ بدن چمکتا ہو اور وہ اس حالت پر مطلع ہوکر عورت کو اپنی حدِ مقدور تک نہ روکتا ہو بندوبست نہ کرتا ہو وہ بھی فاسق و دیّوث ہے۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لاید خلون الجنّۃ العاق لوالدیہ والدیوث ورجلۃ النساء ۳؎۔رواہ الحاکم والبیھقی بسند صحیح عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کو ایذا دینے والا اور دیّوث اور مردوں کی صورت بنانے والی عورت۔ اس کوحاکم اوربیہقی نے حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے بسند صحیح روایت کیا ہے۔
 (۳؎ السنن الکبرٰی للبیہقی        باب الرجل یتخذ الفلاح والجاریۃ المغنیین الخ    مطبوعہ دارصادر بیروت    ۱۰/۲۲۶)
درمختار میں ہے :
دیوث من لایغارعلی امرأتہ او محرمہ۱؎۔
جو اپنی عورت یا اپنی کسی محرم پر غیرت نہ رکھے وہ دیوّث ہے۔
(۱؎ درمختار        باب التعزیرات    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۳۲۸)
اسی طرح اگر عورت جوان اور محل فتنہ ہے اور اس کے باہر پھرنے سے فتنہ اٹھتا ہے اور یہ مطلع ہوکر باز نہیں رکھتاجب بھی کھلا دیوّث ہے اگر چہ پورے ستر کےساتھ باہرنکلتی ہو، ان سب لوگوں کو امام بنانا گناہ ہے اوران کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی قریب بحرام ہے نہ پڑھی جائے اور پڑھ لی تو اعادہ ضرور ہے۔
کماحققہ فی الغنیۃ وفصلناہ فی فتاوٰنا
 (جیسا کہ اس تحقیق غنیـہ میں ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تفصیلی گفتگو کی ہے۔ت)اور حرامی کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی اور خلافِ اولٰی ہے جبکہ وہ سب حاضرین سے زیادہ مسائلِ نماز وطہارت نہ جانتا ہو ،اگر امام نہ ملے تو ضرور اس کے پیچھے پڑھی جائے ۔اس عذر سے ترکِ جماعت جائز نہیں
فان الواجب لایترک لاجل
 (واجب کو کسی وجہ سے ترک نہیں کیا جاسکتا۔ت) خلافِ اولٰی اور دفع کراہت کےلئے اعادہ مستحب ۲؎
کما بینہ فی الدرالمختار
 (جیسا کہ درمختار میں اس کو بیان کیا ہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
 (۲؎ درمختار ، باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱/۷۱)
Flag Counter