Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
121 - 185
اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے وہ عورتیں جو مطلقہ ہوجائیں وُہ اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔(ت)
(ا؎ القرآن             ۲/۲۲۸)
مسلمانوں پر فرض ہے کہ اُس کو مسجد سے معزول کریں، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز کم از کم سخت مکروہ ، جب اس کے فسق و بیباکی کی یہ حالت ہے توکیا اعتبار کے بے وضو نماز پڑھادیتاہو یا جاڑے کے دنوں میں خواہ ویسے ہی نہانے کی کاہلی سے بے نہائے امامت کرلیتاہو ،آخر بے غسل کے نماز پڑھنا عدت میں نکاح جائز کردینے سے زیادہ نہیں ہے۔غنیـہ شرح منیہ میں ہے:
انھم لوقدموا فاسقایا ثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ بامور دینہ وتساہلہ فی الاتیان بلوازمہ فلایبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلاۃ وفعل بماینا فیھا بل ھو غالب بالنظر الی فسقہ ولذا لم تجزالصلٰوۃ خلفہ اصلا عند مالک وھوروایۃ عن احمد۱؎۔
کیونکہ اگر لوگوں نے کسی فاسق کومقدم (امام)کردیا تو اس بنا پر گنہ گار ہوں گے کہ اس تقدیم کی کراہت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ امورِ دینیہ میں لاپروائی برتتا ہے اور امورِ دینیہ کے تقاضوں اور لوازمات کو پُورا کرنے میں تساہل سےکام لیتا ہے ، بعید نہیں کہ وہ نماز کے بعض شرائط کو خالی چھوڑنے کاارتکاب کرتاہو اورنماز کے منافی بعض اعمال بجالاتاہو ،بلکہ اس کے فسق کے پیش نظر ایساکرناغالب گمان ہے اسی لئے امام مالک کے نزدیک اس کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں ۔ امام احمد بن حنبل سے بھی ایک روایت یوں ہی ہے(ت)
 (۱؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی الامامۃ الخ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص ۵۱۳)
اور خود معاملہ نمازمیں اس کی بیباکی اور طہارت نجاست سے بے پروائی اُسی بیان سے ظاہر جوسائل نے لکھے کہ ناپاک کپڑے مسجد میں دھونے والوں کو منع نہیں کرتا بلکہ منع کرنے کوبُرا کہتا ہے اور لڑنے پر آمادہ ہوتا ہے تو جس کی یہ حالت ہے اس کے پیچھے نماز کی اصلاً اجازت نہیں ہوسکتی واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۶۱۵: از بنارس محلہ کندی گر ٹولہ مسجد بی بی راجی متصل شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب

۲۰ محرم الحرام ۱۳۱۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہر بنارس میں ایک مسجد متصل کچہری دیوانی جس میں نماز وقتیہ و جمعہ ہوتا ہے،عرصہ دراز سے ایک جلسہ بایمائے حاکم ضلع بغرض انہدام مسجد مذکور اہل اسلام نے کیا منجملہ اور باتوں کے بیان کیا گیا کہ مسجد کا کھودنا بمعاوضہ مکان دیگر ازروئے کتب فقہ جائز ہے تو یہ مسجد کھود ڈالی جائے بعوض اس کے دوسری مسجد سرکار کی جانب سے تیار کردی جائے حالانکہ مسجد کا کھودنا ازروئے فقہ جائز نہیں ہے ۔عالمگیریہ میں ہے :
لوکان مسجد فی محلۃ ضاق علٰی اھلہ ولایسعھم ان یزید وافیہ فسألھم بعض الجیران ان یجعلوا ذلک المسجد لہ لید خلہ فی دارہ ویعطیھم مکانہ عوضا ماھو خیرلہ فیسع فیہ اھل المحلۃ قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لایسعھم ذلک ۱؎۔
اگر محلہ کی مسجد اہل محلہ پر تنگ ہو گئی ہو اور وہ لوگ اس میں کشادگی نہ کرسکتے ہوں تو اس مسئلہ کے متعلق بعض پڑوسی یہ کہتے ہوں کہ مسجد کو ان میں سے کوئی ایک حاصل کرے اور اپنے گھر میں شامل کرے اور اس کے عوض متبادل بہتر جگہ مسجد کے لئے خریدے تاکہ اہل محلہ مسجد میں کشادگی حاصل کر سکیں۔امام محمدرحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا ایسا کرنا ان کے لئے جائز نہیں ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     الباب الحادی عشر فی المسجد الخ        مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشارو        ۲/۴۵۷)
اُس جلسہ میں بعض وہ شریک تھے جو بنارس کے مولوی صاحب کہلاتے ہیں انھوں نے معلوم نہیں کس غرض سے مسجد مذکور کے کھودنے کے واسطے رائے دی اور دستخط بھی کئے بلکہ مولوی صاحب موصوف سے لوگوں نے دریافت کیا تو مولوی صاحب نے جواب دیا کھودنے کے واسطے رائے نہ دیتا تو کیا بیڑیاں پیروں میں ڈالتا ،حالت اکراہ میں تو دو خدا اور جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو گالیاں دینا جائز ہیں۔حالانکہ کسی قسم کا اکراہ حاکمِ ضلع کی جانب سے نہ تھا صرف اہل ِاسلام سے امر مذکور الصدر میں رائے طلب کی گئی تھی ،مولوی صاحب نے اکراہ کوقُطِعَ اَوْقُتِلَ کےساتھ مقید نہیں کیا اور نہ توریہ کو کہا جس کی قید کتبِ فقہ میں ہے۔الغرض ایسی ایسی باتیں مولوی صاحب نے بیان کیں جس سے عوام کے گمراہ ہوجانے کاخیال ہے۔ حنفیوں  پر اکثر طعنے بھی مخالفین کے ہونے لگے کہ تمھارے یہاں ایسے ایسے گندے مسائل ہیں۔مولوی صاحب کو امام نماز کا ازروئے شرع ومصلحت بناناچاہئے یا نہیں؟
بینوابالکتاب وتوجروایوم الحساب۔
الجواب: یہ شخص بنص قطعی قرآن شریف فاسق وفاجر ہے ۔
قال اﷲتعالٰی :
ومن اظلم ممن منع مساجد اﷲان یذکر فیھا اسمہ وسعٰی فی خرابھا۲؎۔
اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو بازرکھے خدا کی مسجدوں کو اُن میں نامِ خدا لئے جانے سے اور کوشش کرے ان کی ویرانی میں۔
(۲؎القرآن         ۲/۱۱۴)
عذر اکراہ محض جھوٹا ہے،جوکمیٹیاں رائے زنی کے لئے مقرر کی جاتی ہیں ہر گز حکّام کی طرف سے گلے میں چھری نہیں رکھی جاتی کہ اگر تم نے یوُں رائے نہ دی تو قتل کر دئیے جاؤ گے یا زبان کاٹ لی جائے گی یا ہاتھ قلم کر دئیے جائیں گے، بلکہ رائے زنی کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہر شخص آزادانہ اپنی رائے ظاہر کرے۔ہاں دنیا پرست جیفہ خور خوشامد میں آکر دین و ایمان گنواکر حکّام پر جبرواکراہ کا طوفان اٹھا کر بحیلہ کاذبہ اکراہ چاہیں مسجد ڈھائیں چاہے خدا ورسول کو گالیاں سنائیں چاہے دو کے آتے تین گائیں
وسیعلم الذین ظلموای منقلب ینقلبون۱؎
 (عنقریب ظالم لوگ جان لیں گے کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت)
  (۱؎القرآن         ۲۶/۲۲۷)
ایسے لوگ نہ عنداﷲ معذور ہوسکتے ہیں نہ عندالحکام مجبور ؎
					مبادا دل آں فرومایہ شاد

					کہ ازبہر دنیا دہد دیں بباد
 (اس کمینے کا دل کبھی خوش نہ ہوجو دنیا کی خاطر دین کو ہوا کے حوالے کردیتا ہے۔ت)

خرد مند انصاف پسند حاکموں کی نگاہ میں بھی دین فروش نہایت ذلیل و خوار ہوتا ہے کہ جس نے ذراسی خوشامد کے لئے دین جیسی عزیز چیز کوخیرباد کہا اس سے جو پاجائے تھوڑا ہے،جس نے ادنٰی طمع کے واسطے حاکم حقیقی جل جلالہ، سے روگردانی کی اس حاکم دنیوی کے ساتھ خیر خواہی کی توقع کیا ہے
خسر الدنیاوالاٰخرۃ ذلک ھوالخسران المبین۲؎
 (دنیاوآخرت کا گھاٹا یہی صریح نقصان ہے۔ت)
(۲؎القرآن            ۲۲/۱۱)
اور مسئلہ اکراہ یوں بے قید الفاظ جو خدا اور رسول کی جانب منہ بھر کر اس شخص نے کہے وہ بھی اسکے سوئے ادب وقلّتِ دین پر دال ہیں شرع مطہر میں خوفِ جان کے وقت بھی حکم عزیمت یہی ہے کہ کسی طرح اصلاً کلمہ کفرزبان سے نہ نکالے اور رخصت یہ کہ حتی الامکان توریہ کر کے پہلو دار بات سے جان بچائیں ،اگر توریہ پر قادر تھا اور اسے چھوڑ کر صریح کلمہ کفر بولا قطعاًیقینا کافر ہوجائے گا ،دُرمختار میں ہے:
ان اکرہ علی الکفر باﷲ تعالٰی اوبسب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بقطع اوقتل رخص لہ ان یظھر ما امر بہ علی لسانہ ویوری وقلبہ مطمئن بالایمان ،وان خطر ببالہ التوریۃ ولم یورکفروبانت دیانۃ وقضاء نوازل وجلالیۃ ویوجرلوصبر لترکہ الاجراء المحرم ۳؎ الخ باختصار۔
اگر کسی کو مجبور کردیا گیا کہ وہ اﷲ تعالٰی کے ساتھ معاذاﷲ کفر کرے یانبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو معاذ اﷲ گالی دے ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا یااس کا کوئی عضوکاٹ لیا جائے گاتو اسے اجازت ہے کہ زبان پر ایسے کلمات کو جاری کردے جن کا مطالبہ کیا گیا ہو لیکن توریہ (یعنی حتٰی الامکان پہلو دار بات کے ذریعے جان بچائے) سے کام لے اور اس کادل ایمان پر مطمئن اور قائم رہے اور اگر اس کے دل میں توریہ کا خیال آیا مگر اس نے توریہ نہ کیا تو وہ کافر ہوجائے گا اور اس کی عورت قضاءً و دیانۃً بائنہ ہوجائیگی نوازل اورجلالیہ ،اور اگر صبر وہمت سے کام لے تو اجر پائے گا کیونکہ اس نے حرام کام کے ارتکاب کا ترک کیا ہے الخ اختصاراً(ت)
 (۳؎درمختار    کتاب الاکراہ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/۱۹۶)
ایسے شدید فاسق کو افضل الاعمال نماز و مناجات بارگاہِ بے نیاز میں اپنا امام بنانا سخت حماقت اور دین میں بے احتیاطی و جرأت ہے ،جب وہ ادنٰی طمع یا خوشامد کے لئے مسجد ڈھانے کے لئے موجود ہے تو ادنٰی تکلیف یا کاہلی کے باعث بے نہائے یا بے وضو نماز پڑھاتے اسے کیا لگتا ہے، ایسے کوامام بنانے والے گناہگار ہوں گے ، مسلمانوں کو چاہئے ہرگزہرگز اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔اگر ناواقفی میں پڑھ لی تو اعادہ کریں ۔غنیـہ شرح منیہ میں ہے:

لوقدموافاسقایاثمون بناء علی ان کراہۃ تقدیمہ کراہۃ تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ وتساھلہ فی الاتیان بلوازمہ فلا یبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلٰوۃ وفعل ماینافیھابل ھوالغالب بالنظر الی فسقہ۔۱؎
اگر لوگوں نے فاسق کو امام بنادیا تو اس بناپر گناہگار ہوں گے کہ ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ فاسق امور دینیہ میں لاپروائی برتتا ہے اور دین کے لوازمات کو بجالانے میں سستی کرتاہے ۔پس ایسے شخص سے یہ بعید نہیں کہ وہ نماز کے بعض شرائط چھوڑ دے اور نماز کے منافی عمل کو بجالائے ،بلکہ ا یسا کرنا اس کے فسق کے پیشِ نظر اغلب ہے۔(ت)
 (۱؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی الامامۃ الخ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۱۳)
امام بنانا درکنار،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:''ایسے کی صحبت سے دور بھاگو، اُسے اپنے سے دُور رکھو کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دے ،فتنہ میں نہ ڈال دے''۔ صحیح مسلم شریف میں ہے:
ایاکم ایاھم لایضلّونکم ولایفتنونکم۲؎
 (تم اپنے آپ کو ان فساق سے بچاؤ تاکہ وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ت)اﷲ تعالٰی مسلمانوں کو ہدایت و توفیق بخشے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی واعلم۔
 (۲؎ صحیح مسلم     باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ    مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۱/۱۰)
؂مسئلہ ۶۱۶: ازملک اپر برہما چھاؤنی مٹکینہ     مرسلہ حاجی ہادی یارخان        ۶صفر۱۳۶۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامیانِ دین اس مسئلہ میں کہ اس ملک میں رسم ہے کہ عورتیں بازار میں دُکان کرتی ہیں اور باہر نکلتی ہیں سر کھول کر، اور بجائے پاجامہ کے تہبند باندھتی ہیں ،چلتے میں ان کا جسم ران تک معلوم ہوتا ہے مردوں کو،اور مرد اُن کومنع نہیں کرتے ،اور جب ان کے شوہروں سے کہا گیا کہ شرع کے خلاف ہے ایسی عورتوں سے پرہیز کرو ۔ تو وہ کہتے ہیں ہم جوان ہیں جب ہم کو شہو ت ہوتی ہے تو ہم کیا کریں نکاح پڑھا لیتے ہیں ۔اور وہاں اکثرآدمی اسی کے موافق پڑے ہوئے ہیں جن عورتوں کا ذکر ہوچکا اس کے پیچھے نماز اور امامت اس آدمی کی کیسی ہے؟
الجواب: ران کھولنا حرام ہے،اور اس آزاد عورت کو سر کھولنا بھی حرام ہے۔ وہ عورتیں ان حرکات کی وجہ سے فاسقہ ہیں اور شوہر پر فرض ہے کہ اپنی عورت کوفسق سے روکے۔ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
یا ایھاالذین اٰمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۱؎۔
اے ایمان والو! بچاؤ اپنی جانوں کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے۔
(۱؎ القرآن             ۶۶/۶)
اوررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ۲؎۔
تم سب اپنے متعلقین کے سردار وحاکم ہو اور ہرحاکم سے روزِقیامت اس کی رعیت کے باب میں سوال ہوگا۔
 (۲؎ صحیح بخاری     باب الجمعۃ فی القرٰی والمُدن        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی        ۱/۱۲۲)
تو یہ مرد کہ انھیں منع نہیں کرتے خود فاسق ہیں اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے اور اسے امام بنانا گناہ ہے ۔ غنیـہ میں ہے:
لوقدمو فاسقایاثمون ۳؎۔
اگر لوگوں نے فاسق کو امام بنایا تو وہ گنہ گار ہوں گے(ت)
 (۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی الامامۃ     مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۱۳)
بلکہ جب اس کی عورت بازار میں ران کھولے پھرتی ہے اور وہ منع نہیں کرتا تو دیوّث ہے۔
فی الدرالمختار دیوث من لا یغار علی امرأتہ او محرمہ۴؎۔
دُرمختار میں ہے کہ وہ شخص دیوّث ہوتا ہے جو اپنی بیوی اور کسی محرم پر غیرت نہ کھائے ۔(ت)
 (۴؎ درمختار            باب التعزیر             مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی            ۱/۳۲۸)
ہاں اگر یہ منع کرے روکے جس قدر اپنی قدرت اس رسم شنیع کے مٹانے سے ہے صرف کرے اور پھر عورت نہ مانے تو مرد پر الزام نہ رہے گا،
قال اﷲ تعالٰی :
لاتزر وازرۃ وزراخری۵؎
 ( کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۵؎ القرآن             ۶/۱۶۴)
Flag Counter