Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
120 - 185
جواب سوال چہارم:اگر امام الحی ازوجوہ خلل خالی است ہموں اولی است مگر درحضرت سلطان مسلمین و قاضی شرع ووالی اسلام کہ ایناں رابروتقدیم ست فی الدرالمختار،اعلم ان صاحب البیت ومثلہ امام المسجد الراتب اولی بالامامۃ من غیرہ مطلقاالاان یکون معہ سلطان اوقاض فیقدم علیہ لعموم ولایتھماوصرح الحدادی بتقدیم الوالی علی الراتب۱؎ اھ
 (۱؎ درمختار        باب الامامۃ         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۸۳)
جواب سوال چہارم اگر محلہ کا امام اسباب و وجوہِ خلل سے خالی ہو تو اسی کاامام بننا بہتر ہے مگر اس صورت میں جب مسلمانوں کا حاکم ،قاضی شرع اوروالیِ اسلام موجود ہوں کیونکہ ان حضرات کو امام ِ محلہ پر تقدیم کاحق حاصل ہے۔دُرمختار میں ہے،واضح رہے کہ صاحب ِ خانہ اور اسی طرح مسجد کا مقررہ امام امامت کے لئے ہرحال میں دوسرے لوگوں سے اولٰی مگر اس صورت میں کہ جب صاحب خانہ یا امامِ معیّن کے ساتھ سلطان یاقاضی ہوتو بادشاہ اور قاضی کے تصرف وولایت کے عام ہونے کی وجہ سے ان کو مقدم کیا جائیگا اور حدادی نے والی کو امام معیّن پر مقدم کرنے کی تصریح کی ہے اھ۔
قال العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ المراقی قال فی البنایۃ ھذا فی الزمن الماضی لان الولاۃ کانو علماء وغالبھم کانواصلحاء وامافی زماننا فاکثرالولاۃ ظلمۃ جھلۃ ۲؎ اھ  ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول نعم ولکن الفتنۃ اکبرمن القتل بلی ان رضوابتقدیم غیرھم فلا کلام وان کانو علماء صلحاء کما اذااذن صاحب البیت لغیرہ واﷲ تعالٰی اعلم اھ ماکتبت علیہ واﷲ سبحٰنہ وتعالی اعلم۔
اور علامہ طحطاوی نے حاشیہ مراقی میں فرمایا بنایہ میں ہے یہ حکم زمانہ ماضی میں تھاکیونکہ حکمران (اصحابِ اختیار ) علماء اور صلحاء ہوتے تھے،ہمارے دور میں والی اکثر ظالم اور جاہل ہیں اھ مجھے یاد آرہا ہے اس پر میں نے حاشیہ لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول(میں کہتا ہوں) یہ ٹھیک ہے لیکن فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے،ہاں اگر یہ خود کسی کو امام بنانے ہر رضا مند ہوں تو کوئی کلام ہی نہیں ، اگرچہ یہ حضرات خود علماء و صلحاء ہی ہوں جیسا کہ صاحبِ خانہ اگر اپنے غیر کو اجازت دے دے تو کوئی اعتراض نہیں واﷲ تعالٰی اعلم اھ میرا حاشیہ ختم ہوا ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی ۔
 (۲؎ حاشیہ الطحطاوی علی المراقی الفلاح    فصل فی بیان الاحق بالامامۃ    مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص ۱۶۳)
مسئلہ ۶۱۳ : مرسلہ حافظ مولوی امیر اﷲ صاحب     ۳شعبان ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے حفظ قرآن شریف کیااور عمر اس کی تقریباً ۱۵ برس کی ہے یعنی ۳ ماہ کم ہیں اور احتلام نہ ہونا ظاہر کرتاہے وللاکثرحکم الکل(اور اکثر کے لئے کُل کا حکم ہوتا ہے۔ت) حدِبلوغ میں داخل ہوکرامامتِ تراویح بغرض ختم قرآن رجال کی کراسکتاہے ،اور بالغین کی درصورت عدم بلوغ امامت تراویح کرا سکتا ہے مثلاً زید مذکور کے ولی نے کسی حافظ بالغ کو نوکر رکھااور بعد کہا کہ اس نابالغ کا قرآن شریف تراویح میں سن اس اجیر نے بوجہ اقتدا اس نابالغ کے قصد کیا کہ میں تراویح کا اعادہ کروں گا اس حیلہ سے اس فاعل پر کوئی کراہت ہے یا نہیں،اکثر نابالغین امامتِ تراویح حسبِ تجویز ِ مشائخِ بلخ کرتے ہیں در صورت عدمِ  جواز کیاان کاحکم یعنی اُن رجال کا جوتراویح باقتدائے نابالغ اداکریں اعادہ ہے یا نہیں؟درصورت اعادہ ان پر کوئی اساء ت ہے یا نہیں؟خصوصاً یہ مقتدی حافظ ہوکر جماعت نابالغ کرے بوجہ استاد ہونے کے اور اعادہ کرے تو اسپر کیا ہجنت وقباحت؟
الجواب: جبکہ ہنوز پندرہ سال کامل نہیں اور وُہ احتلام نہ ہونا ظاہر کرتا ہے تو اس کی تکذیب کی کوئی وجہ نہیں قول اس کا واجب القبول ہے اور تحدیدات میںوللاکثرحکم الکلنہیں کہہ سکتے ورنہ تحدید باطل ہوجائے اور آٹھ برس میں بھی حکم بلوغ ہوکہ پندرہ کااکثر وہ بھی ہے غرض پورے تمام پندرہ درکار ہیں ایک دن بھی کم ہوتو بے ا قرار یا ظہور آثار حکم بلوغ نہیں ہوسکتا،
فی الدرالمختار فان لم یوجد فیھماشیئ فحتی یتم لکل منھماخمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی۱؎۔
درمختار میں ہے اگر دونوں (یعنی لڑکا اور لڑکی ) میں کوئی علامت نہ پائی جائے تو ہر ایک کے لئے پندرہ سال عمر کا کامل ہونا ضروری ہے اور اسی پر فتوٰی ہے (ت)
 (۱؎ درمختار    فصل بلوغ الغلام الخ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۲/۱۹۹)
نابالغوں کی امامتِ تراویح تو درکنار ،فرائض بھی کرسکتا ہے،
فی ردالمحتار غیرالبالغ فان کان ذکراتصح امامتہ لمثلہ من ذکر وانثی وخنثی۱؎۔
ردالمحتار میں ہے غیر بالغ اگر مذکر ہوتو اس کی امامت درست ہے یعنی اس کا اپنے ہم مثل مذکر، مونث اور خسرہ کا امام بننا درست ہے(ت)۔
(۱؎ ردالمحتار        باب الامامۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۴۲۷)
مگر بالغوں کی امامت مذہب اصح میں مطلقاً نہیں کرسکتا حتی کہ تراویح ونافلہ میں بھی۔
فی ردالمحتار لایصح اقتداء الرجل بصبی مطلقا ولو فی نفل علی الاصح ۲؎۔
ردالمحتار میں ہے اصح قول کے مطابق بالغ مرد کا بچّے کی اقتداء کرناہرحال میں درست نہیں اگرچہ نفل ہوں (ت)
 (۲؎ درمختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی            ۱/۸۴)
ہدایہ میں ہے :
المختار انہ لایجوز فی الصلوات کلھا۔۳؎
مختار قول یہ ہے کہ سب نمازوں میں اس کی امامت درست نہیں۔(ت)
 (۳؎ الہدایۃ        باب الامامۃ    مطبوعہ المکبتبۃ العربیۃ کراچی        ۱/۱۰۳)
اس حافظ بالغ پراس حیلہ میں بربنائے مذہب اصح ضرورکراہت ہے
لاشتغالہ بمالایصح
 (بسبب ایسے عمل میں مشغول ہونے کے جوصحیح نہیں ہے ۔ت) درمختار میں ہے:
صلاۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتعال بمالایصح ۔۴؎
دیہاتوں میں عید ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسے عمل میں مصروف ہوناہے جو نادرست ہے(ت)
 (۴؎ درمختار        باب العیدین    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی            ۱/۱۱۴)
مذہب اصح میں ان بالغین پر اعادہ میں اساء ت کیا ہوتی بلکہ ترک ِاعادہ میں اساء ت ہے استاذ غیر استاذ سب اس حکم میں برابر ہیں، ہاں اگر حافظ صحیح خواں سوانابالغ کے نہ ملتاہو توباتباعِ مشائخ بلخ سنّت ختم حاصل کرلیں
فان الادأعلی قول خیرمن الترک مطلقا
 (کیونکہ ایک قول کے مطابق ادا کرنا مطلقاً ترک کرنے سے بہتر ہے ۔ت)

درمختار میں ہے :
الادء الجائز عند البعض اولی من الترک کما فی القنیۃ وغیرھا ۔۵؎
بعض کے نزدیک جائز ادا، ترک سے اولٰی ہے، جیسا کہ قنیہ وغیرہا میں ہے۔(ت)
 (۵؎ درمختار     کتاب الصلٰوۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی      ۱/۶۱)
پھر مناسب یہ ہے کہ بلحاظِ مذہب اصح اعادہ تراویح کرلیں
لیحصل الاحتیاط بالمقدر المیسور
 (تاکہ بقدرآسانی احتیاط حاصل ہوجائے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۶۱۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ(۱) ہندہ زید کی بیوی کچھ روز علیحدہ رہی اب اس نے زید کو چھوڑ کر بکر سے نکاح کرناچاہااوراب ہندہ زید کے پاس جاکر دوچار روز رہی اس سے طلاق نامہ لکھوالائی اس جگہ کے جوصاحب پیش امام ہیں اور وہی قاضی بھی ہیں ان کو طلاق نامہ دکھایا پیش امام صاحب نے خود بھی پڑھا اور لوگوں نے بھی پڑھ کر پیش امام صاحب کو سنایا اور سب نے مع مادر ہندہ پیش امام صاحب سے کہا جب تک عدت کے دن پورے نہ ہوں نکاح نہیں ہوسکتا پیش امام صاحب نے فرمایا کہ تم لوگ نہیں جانتے ہو ضرور نکاح ہوجائےگا۔چنانچہ رات کو مولوی صاحب پیش امام نے بکر کے خود گھرجاکر نکاح پڑھا دیابلکہ ہندہ کی والدہ اس نکاح میں بلانے سے بھی نہیں آئی نکاح بطمع نفسانی پڑھایاگیااورپہلے بھی اس قسم کے دوچار نکاح امام صاحب اور پڑھ چکے ہیں۔امام صاحب مولوی ہیں اوراکثر اس قسم کے فتوے بھی دیتے رہتے ہیں۔(۲) مسجد کے اندربوجہ پمپ ہونے کے پانی کی کثرت ہے بازار اور محلہ کے آدمی اپنے گھر وں کے کپڑے دھوتے ہیں پاک ناپاک چھینٹیں مسجد کے گھڑے لوٹے فرشِ مسجد پر پڑتی ہیں دوسرا آدمی کپڑے دھونے والوں کو منع کرتاہے تو مولوی صاحب منع کرنے والے کوبراکہتے ہیں اور مارنے کواُس آدمی کے آمادہ ہوتے ہیں مسجد میں روزمرّہ دھوبی گھاٹ رہتاہے اکثر لوگ مسجد کے اندر خط یعنی حجامت بھی بنواتے ہیں مگر مولوی صاحب کسی کے مانع نہیں آتے،(۳)دوبرس سے مولوی صاحب اس مسجد میں مقررہیں چارمہینے اس جگہ رہتے ہیں باقی آٹھ ماہ باہراور شہروں میں وعظ کہتے ہیں اور اپنی اوگھائی کرتے ہیں غرض یہاں سے بھی اپنی تنخواہ سال تمام کی لیتے ہیں ۔جو کوئی ان سے کہتا ہے کہ مولوی صاحب پیچھے آپ کے یہاں پر نماز پڑھانے والا میسر نہیں آتا ہم لوگوں کو بہت تکلیف ہوتی تو فرماتے ہیں ہم تو ایسے ہی رہیں گے اس مسجد کی تنخواہ میں پشم پرمارتاہوں۔(۴) اور جن لوگوں کی عورتیں باہر کی پھرنے والی ہیں اُن کو مولوی صاحب نماز پڑھانے کی اجازت فرماتے ہیں ۔فقط،جواب سے مشرف فرمائیے۔
الجواب: جس شخص کے وہ حالات و عادات واقوال وافعال ہوں وہ نِرافاسق ہی نہیں بلکہ کھلا گمراہ بد دین ہے ۔عدّت کے اندر نکاح ناجائز و حرام قطعی ہے جس کی حرمت پر خود عظیم ناطق:
قال اﷲ تعالٰی
والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلٰثۃ قروء ۱؎۔
Flag Counter