باوصف ایں تصریحات جلیلہ بکراہت تحریم جائے زدن چنانکہ از دوملایان گنگوہی و غازی پوری برخلاف رشد امامت سرزدہ باطل محض است واصلے نداردوکانھما اغتراباطلاق الکراھۃ فی الھدایۃ وغیرھاجاھلین بما صرح بہ الشراح فی خصوص المسألۃ وغیرھا من ان حمل المطلق علی المنع غیرکلیی بل کثیرا مایطلقون والمراد خصوص التنزیہ وربما یطلقون والمقصود الاعم اعنی مایشتمل النوعین الا تری انھم یسردون مکروھات الصلاۃ سردا ویدخلون الکل تحت قولھم کرہ وفیھا من کلا النوعین ولذاقال فی الدر المختار ھذہ تعم التنزیھیۃ التی مرجعھا خلاف الاولی فالفارقالدلیل فان نھیا ظنی الثبوت ولاصارف فتحریمیۃ والا فتنزیھۃ ۱؎
ان واضح تصریحات کے باوجود کراہت تحریم کے ساتھ فتوٰی جڑ دینا مناسب نہیں ہے جیسا کہ دو۲ مُلّا حضرات گنگوہی اور غازی پوری سے درست امامت کے خلاف جو بیان سرزدہُواوُہ باطل محض ہے اس کی کوئی اصل نہیں،گویا انہوں نے ہدایہ وغیرہ میں کراہت کے اطلاق سے دھوکا کھایا اور خصوصاً اس مسئلہ اور اس جیسے دیگر مسائل کے تحت شارحین کی ان تصریحات سے جاہل رہے کہ مطلق کا منع پر محمول کرنا کُلی نہیں بلکہ اکثر اوقات مطلقاً کراہت ذکر کرتے اور مراد کراہت تنزیہی ہوتی ہے بہت دفعہ کراہت کو مطلقاً ذکر کرتے ہیں اور اس سے مقصود تحریمی اور تنزیہی دونوں کا عموم ہوتا ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ فقہاء جب مکروہاتِ نماز بیان کرتے ہیں تو تمام کو وہ لفظ''کرہ'' کے عنوان کے تحت لاتے ہیں حالانکہ ان میں دنوں نوعیت کے مکروہات ہوتے ہیں، اسی لئے دُرمختار میں کہا کہ یہ مکروہ تنزیہی کوشامل ہے جس کا انجام ومآل ترکِ اولٰی ہوتا ہے،پس ان دونوں میں فرق دلیل کی بنیاد پر ہوگا،یعنی اگر دلیل کراہت و ممانعت شرعی ہو جس کا ثبوت ظنی اور نہ ہی تحریم سے استحباب کی طرف پھیرنے والا کوئی امر ہو تو مکروہ تحریمی ورنہ تنزیہی اھ
قال الشامی نقلا عن البحر المکروہ تنزیھا مرجعہ الی ما ترکہ اولی وکثیرا ما یطلقونہ کما ذکرہ فی الحلیۃ فحینئذ اذا ذکروا مکروھا فلابد من النظر فی دلیلہ ۲؎ الخ
امام شامی نے بحر سے نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے مکروہ ِ تنزیہی کا مآل ترکِ اولٰی ہوتا ہے اور اکثر اوقات اس کو مطلقاً ذکر کرتے ہیں ،حلیہ میں اسی طرح مذکور ہے ،لہذا جب فقہاء کسی مقام پر مکروہ کا تذکرہ کریں تو اس کی دلیل میں نظر غائر کرنا ہوتا ہے الخ(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۷۲)
جواب سوال سوم:کراہت قوم اگر بلاوجہ شرعی ست چنانکہ امامت عالمی صالح رابسبب بعض منازعات دنیویہ خودشاں مکروہ دارند یا امامت عبد واعمی دامثالہمارا بانکہ افضل واعلم قوم باشند بد پندارند نگاہ کراہت ایشاںباشد ودرحق امامت اثرے ندارد ،واگر بوجہ شرعی است چنانکہ امام فاسق یامبتدع ست یا بحالِ عدم اعلمیت یکے ازاربعہ مذکورین اعنی عبدواعرابی وولدالزناواعمی است یا آنکہ درقوم کسے ست بوجہ مرجحات شرعیہ مثل زیادت علم وجودت قرأت وغیرہما احق واولٰی ازوست دریں حالت ہمچوکس راباوصف مکروہ داشتن قوم بامامت پیشن رفتنممنوع ومکروہ تحریمی ست ،درمتن محقق غزی وشرح مدقق علائی ست ولوام قوما وھم لہ کارھون ان الکرھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلک تحریما لحدیث ابوداؤد ولایقبل اﷲصلٰوۃ من تقدم قوما وھم لہ کارھون وان ھواحق لا والکرھۃ علیہم ۱؎
جواب سوال سوم :اگر قوم کی کراہت شرعی عذر کے بغیر ہو جیسا صالح اور عالم کی امامت کو اپنے بعض دنیوی تنازعے کی وجہ سے مکروہ سمجھتے ہوں یاغلام، نابینا وغیرہ کی امامت کو مکروہ سمجھتے ہوں حالانکہ وہ قوم سے افضل ہوں،تو ایسی صورت میں قوم کی اپنی ناپسندیدگی کوئی معنی نہیں رکھتی لہذا ان افراد کی امامت میں وہ اثر نہ ہوگی ، اگر کراہت کسی شرعی عذر سے ہو مثلاً امام فاسق یا بدعتی ہو یا چار مذکور افراد غلام، اعرابی ،ولد زنا اور نابینا دوسروں سے افضل واعلم نہ ہوں یا قوم میں کوئی ایساشخص موجود ہو جس میں شرعی ترجیحات ہوں ،مثلاً علم زیادہ رکھتا ہے،تجوید وقرأت کا ماہر ہے تو یہ خود امامت کےزیادہ لائق اور حقدار ہے ایسی صورت میں جس شخص کو امام بنانا قوم مکروہ جانے اس شخص کو امام بننا ممنوع اور مکروہ تحریمی ہے۔محقق غزی کے متن اورشرح مدقق علائی میں ہے اگر کسی شخص نے قوم کی امامت کی حالانکہ وہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں تو اگرلوگوں کی نفرت امام کے اندر کسی خرابی کی بنا پر ہو یا وہ لوگ بہ نسبت امام کے امامت کے زیادہ حقدار ہوں تو ایسی صورت میں اس شخص کا امام ہونا مکروہ تحریمی ہے اس کی دلیل حدیثِ ابوداؤد ہے جس میں فرمایا ہے:''اﷲ تعالٰی اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جولوگوں کا امام بنا حالانکہ لوگ اسے ناپسند کرتے تھے''۔ اور اگر وہ امام ہی امامت کا زیادہ حق رکھتا ہو تو اس پر کراہت نہیں بلکہ لوگوں کا نفرت کرنا مکروہ ہوگا ۔
(۱؎ دُرمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۳)
درمراقی الفلاح علامہ شرنبلالی از کتاب التجنیس والمزید للامام صاحب الہدایہ ست لو ام قوماوھم لہ کارھون فھو علی ثلثہ اوجہ ان کانت الکراھۃ لفساد فیہ اوکانوااحق بالامامۃ منہ یکرہ وان کان ھو احق بھا منھم ولافساد فیہ ومع ھذا یکرھونہ لایکرہ لہ التقدم لان الجاہل والفاسق یکرہ العالم والصالح۲؎
علامہ شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں صاحب ہدایہ کی کتاب التجنیس والمزید کے حوالے سے ذکر کیا ہے اگر کسی شخص نے قوم کی امامت کی حالانکہ وہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں تو اس کی تین صورتیں ہیں:(۱) اگر کراہت خود امام میںفساد کی وجہ سے ہو(۲) یا دوسرے لوگ اس سے امامت کے زیادہ حقدار اور لائق ہوں تو اس کا امام بننا مکروہ ہے(۳) اور اگر وہ امام ہی دوسروں سے زیادہ لائقِ امامت ہو اور بذاتِ خود اس میں کوئی فساد بھی نہ ہو اس کے باوجود لوگ اسے ناپسند کرتےہوں تو اس کا امام ہونا مکروہ نہیں کیونکہ جاہل اور فاسق عالم اور صالح افراد کوناپسندکرتے ہیں الخ
(۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۱۶۴)
اقول تحقیق مقام آنست کہ اینجادوچیزست یکے فعل آنکس کہ بخودی خود بناگواری قوم پیش رفت وایشاں رامکروہانہ براقتدائے خودداشت دوم نماز راپس اوعلماء کہ درصورت مذکورہ حکم بکراہت تحریم فرمودہ اندبراطلاق خودش ناظر بہ اول ست یعنی آنکس را ایں چنیں کردن روانیست اگر میکندگناہگار می شود ونمازخوداوخالی از ثواب رود وہذا معنی قولہم کرہ لہ ذلک ویکرہ لہ التقدمواماثانی پس تابع آں وجہ شرعی است کہ درآنکس حاصل وایناں رابروجہ حق برکراہت حامل است کما عددناہ بعضہآںوجہ حق اگر نماز موجب کراہت تحریم است کالفسق والبدعۃ وغیرھمانمازنیز مکروہ تحریمی باشد ورنہ مجردوتنزیہی کما فی العبد و نظرائہ الا تری انھم یصرحون بکراھۃ امامۃ ھؤلاء تنزیھا ویرسلون ذلک ارسالا ولایقیدونہ بتقدمھم برضی القوم بل یعللونہ بان فیہ تنفیرالجماعۃ وانما النفرۃ تنشؤعن کراھتھم ذلک فدل ان الصلاۃ لاتکرہ الا تنزیھا وان کان التقدم مکروھا لہ تحریما لانھم کارھون ولوان التنزیہ کان مقیدا برضاھم حتی لو کرھواکرھت الصلاۃ ایضا تحریما لکانت کراھتھم التی نشأت عن وجہ شرعی ایضا عائدۃ علیھم بالوبال حیث وقعتھم فی ارتکاب ماٰثم لم یکن لولم تکن وھوکما تری و انماالعود علیھم فی کراھۃ لاعن مستند صحیح کماعلمت۔
اقول (میں کہتا ہوں) تحقیق مقام یہ ہے کہ یہاں دو۲ چیزیں ہیں،ایک یہ کہ کوئی شخص خود بخود لوگوں کی نفرت کے باوجود آگے بڑھے اور لوگوں کو اپنی اقتدا میں نماز ادا کرنے پر مجبور کرے دوسری چیز ایسے امام کے پیچھے نماز کا معاملہ ہے،علماء نے صورت ِمذکور میں جو مکروہ تحریمی کاحکم لگایا ہے اس کا اطلاق پہلے کی طرف لوٹ رہا ہے یعنی اس شخص کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ،اگر اس نے ایسا کیا تو گناہگار ہوگا اور اسکی نماز ثواب سے خالی رہے گی فقہا کے ذکر کردہ الفاظ''کرہ لہ ذلک ویکرہ لہ التقدم''کایہی معنی ہے دوسری چیز کہ اس شرعی وجہ کے تابع ہے جواس آدمی میں حاصل ہے اور لوگوں کو کراہت پر بطریق حق راغب کرتی ہے جیسا کہ ہم نے اس میں بعض کا بیان کیا ہے اگر یہ وجہ نماز میں کراہت ِ تحریمی کا موجب ہو مثلاً فسق اور بدعت وغیرہ تو نماز بھی مکروہ ِ تحریمی ہوگی ورنہ مکروہ تنزیہی ہے۔،جیساغلام اور اس کے ہم مثل میں تنزیہی ہے ۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ فقہا نے ان لوگوں کی امامت کے مکروہ تنزیہی ہونے پر تصریح کی ہے اور فقہا نے اس میں ارسال واطلاق سے کام لیا اوران کے تقدم کو قوم کی رضا کے ساتھ مقید نہیں کیا بلکہ اس کی علّت یہ بیان کی اس میں جماعت کو متنفر کرنا لازم آتا ہے اورنفرت ان کے ناپسند کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اب اس بات کو واضح کردیا کہ نماز صرف مکروہ تنزیہی ہوگی اگر چہ اس کا امام بننا مکروہ تحریمی تھا کیونکہ لوگ اسے نا پسند کرتے تھے ،اگر مکروہ تنزیہی ان کی رضاکے ساتھ مقید ہو حتّی کہ اگر وہ ناپسند کریں تو نماز بھی مکروہ تحریمی ہوگی،تو قوم کی وُہ کراہت جو کسی وجہ شرعی کی بنا پر پیدا ہوئی اس کا وبال بھی انھی پر ہوگا کیونکہ ایسا نہ ہوتا تو یہ گناہ بھی نہ ہوتا اور جیسا معاملہ آپ نے دیکھ لیا اور ان پر گناہ کا لوٹنا اس کراہت میں ہے جو مستند دلیل سے ثابت ہے۔جیسا کہ آپ نے جان لیا۔
بالجملہ موجب کراہت دوگونہ است یکے ذاتی کہ خوددرآنکس وجہے باشد کہ شرعاً امامت اومطلقاً یادرجماعت حاضرہ ممنوع یا خلاف اولی بود چنانکہ امثلہ اش گزشتہ دوم خارجی وآں مکروہ پنداشتن قوم است مرتقدم اورا،بازذاتی بردوصنف است یکے لحق الشرع چوں فسق وابتداع وجہل ،دوم لحق الغیر چوں حضور صاحب البیت یا امام الحی یا قاضی یا سلطان کہ خلواینکس از مزیتے کہ دیگرے دارد حامل برکراہت شدازیں کراہت ذاتی است ووجہ اومرعات حق غیر است پس گویاں ایں صنف برزخ است میان ذاتی وخارجی، ونسبت میان اینہا اعنی ہر دوقسم تقسیم اول عموم و خصوص من وجہ است ، جائے ذاتی یافت شود نہ خارجی چوں رضائے قوم بتقدم غلامے عامی وجائے بالعکس چوں کراہت قوم تقدم عالمے تقی را بعداوت نفسانی وجاہا باہم آیند وتاثیرذاتی درنفس نماز است واثر خارجی برذات امام یاقوم نہ برنماز ،ووقوع اثرش برامام مشروط بوجہ اول ست ورنہ خود برقوم بازگردد بخلاف اول کہ تاثیرش درنماز موقوف بروجہ ثانی نیست ،اگر قوم بتقدیم فاسق وولدالزناوجاہل راضی شوند نماز ازکراہت بری نشود ہمچناں اگر میہماناں برضائے خودشاں یکے از ایشاں رابامامت برگیرندبے رضائے صاحبِ خانہ کراہت نہ رود ،وحکم اول متنوع بتحریم وتنزیہ است وحکم دوم درحق امام دائما تحریم دارد ومندفع میشود برضائے قوم لارتفاع العلۃبخلاف اول کہ در صنف اول اورضائے وعدم رضائے کسے رادخلے نیست لکونہ حقاللشرع المطہرآرے درصنف ثانی رضائے صاحبِ حق نافی کراہت شود گو رضائے دیگراں نباشدلقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الاباذنہ۱؎
الغرض کراہت کا سبب دوطرح پر ہے ،ایک ذاتی کہ اس شخص کے اندر ایسی بات پائی جاتی ہو کہ اس کی امامت مطلقاً یا جماعت حاضرہ میں ممنوع یا خلافِ اولٰی ہو ،جیسا کہ اس کی مثالیں گزریں ۔دوم سبب خارجی ہے وہ یہ کہ قوم خاص اس کے امام بننے کو ناپسند جانتی ہو پھر ذاتی کی دوصورتیں ہیں ایک حق شرع کی بنا پر مثلاً فاسق ہونا ،بدعتی ہونا اور جاہل ہونا۔دوم غیر کے حق کی وجہ سے مثلاً صاحب خانہ، امام محلہ ،قاضی یاسلطان کاموجود ہونا ،کیونکہ اس صورت میں یہ شخص اس اضافی چیز سے خالی ہے جو دوسرے میں ہے لہذا اس وجہ سے کراہت آئے گی اس وجہ سے یہ ذاتی ہے اور اس کی وجہ حق غیر کی رعایت ہے گویا یہ قسم ذاتی اور خارجی کے درمیان برزخ کی طرح ہے،اور تقسیم اول کی دو۲ اقسام کے درمیان عموم وخصوص من وجہ کی نسبت ہے ، ایک جگہ ذاتی ہو خارجی نہ ہو مثلاً قوم کا عام غلام کے تقدم پر راضی ہونا ، اور دوسری جگہ اس کا عکس ہے مثلاً قوم کا عداوت ِنفسانی کی وجہ سے متقی عالم کے تقدم کو ناپسند کرنا ،اور بعض مقامات پر ان دونوں کااجتماع ہوتا ہے ،ذاتی کااثر نماز پر پڑتا ہے،خارجی کا اثر ذاتِ امام یا قوم پر ہوگا نماز پر نہیں خارجی کا وقوع ِاثر امام پر وجودِاول سے مشروط ہے ورنہ خودقوم پراثر لوٹ جائے گا بخلاف پہلی (یعنی ذاتی)کے کہ اس کی تاثیر نماز پر وجہ ثانی پرموقوف نہیں، اگر کوئی قوم فاسق یا جاہل ولدالزنا کے تقدم پر راضی ہوجاتی ہے تو نماز کراہت سے بری (خالی) نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر مہمان صاحبِ خانہ کی رضا کے بغیر اپنے میں سے کسی ایک کو امام بنائیں تو کراہت ختم نہ ہوگی ۔پہلی صنف کا حکم تحریم وتنزہی پر منقسم ہے اور دوسری صنف امام کے حق میں دائماً تحریم کا حکم ہے اور قوم کی رضامندی پر یہ حکم مرفوع ہوگا کیونکہ اس صورت میں قوم کی رضامندی سے علت ختم ہوجائے گی بخلاف پہلی صنف کے کہ اس میں کسی کی رضا یا عدم رضا کے دخل نہیں کیونکہ وہ شریعت مطہرہ کا حق ہے، ہاں دوسری صنف میں صاحبِ حق کی رضا کراہت کے منافی ہوجائیگی اگرچہ دیگر لوگ راضی نہ ہوں،کیونکہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس کے اذن سے امام ہوسکتا ہے ۔
(۱؎ جامع الترمذی باب من احق بالامامۃ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/۳۲)
وفی ردالمحتار عن التتارخانیہ اضیاف فی دار یرید ان یتقدم احدہم ینبغی ان یتقدم المالک فان قدم واحدا منھم لعلمہ وکبرہ فھوافضل۲؎ الخ
(۲؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۴۱۳)
ردالمحتار میں تاتار خانیہ سے ہے کہ کسی گھر میں اگر مہمان کسی کو امام بنانا چاہیں تو مناسب یہی ہے کہ صاحب خانہ کو امام بنایا جائے ،اگر صاحب خانہ ان میں سے کسی کو علم یابزرگی کی بنا پر امام بنائے تو افضل ہے الخ۔
اغنتم ھذاالتحریرفلعلک لاتجدہ ھذہ التحبیر غیر ھذا التحریرپس اعمی مثلاً اعلم قوم نباشد وقوم ہم بتقدیم او راضی نے انگاہ تقدم مراو را مکروہ تحریمی بود ونمازپس اومکروہ تنزیہی واگر قوم بتقدیم او راضی شودکراہت اولی مرتفع شود وثانیہ باقی واگراعلم قوم است پس بحال رضارضائے قوم ہیچ کراہتے نیست وحال کراہت خودبرکاہین است وامام وامامت بری مثلہ فی ذلک نظرائہ الثلٰثۃ علی مابحثہ فی البحر واختارہ فی الدروقدثبت منصوصا فی الاختیار وغیرہ کما مروان خالفہ فی النھر فلیس مع النص لا حدمقال واﷲ تعالٰی اعلم بحقیقۃ الحال۔
پس اسی تفصیلی گفتگو کو غنیمت جان، کیونکہ اس تحریر کے علاوہ اس مسئلہ سے متعلق تفصیلی گفتگو کہیں نہیں ملے گی ، پھر نابینا مثلاً جو قوم سے زیادہ عالم نہ ہو اورقوم اس کے تقدم پر راضی نہ ہو تو اس کا امام بننا مکروہ تحریمی ہوگا اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہوگی، اگر قوم اس کے تقدم پر راضی ہو تو پہلی کراہت ساقط دوسری باقی رہے گی۔ اوراگر قوم سے زیادہ عالم ہو توقوم کی رضا کی صورت میں کوئی کراہت نہ ہوگی،اگر قوم ناپسندکرتی ہو تو کراہت ان لوگوں پر ہوئی جو ناپسند کررہے ہیں اور امام اور امامت دونوں اس (کراہت) سے بری ہوںگے،باقی تینوں کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ بحر میں بیان کیا ،اوردرمختار میں اسے پسند کیا ہے ،اور اختیاروغیرہ میں اس پر نص موجود ہے جیسا گزرا، اگرچہ نہرمیں اس کی مخالفت ہے مگر نص کے مقابل کسی کا قول نہیں چل سکتا ور اﷲ تعالٰی حقیقتِ حال سے زیادہ آگاہ ہے(ت)