Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
118 - 185
الجواب: اولٰی بامامت کسے است کہ مسائل نماز وطہارت داناتر است درتنویر است الاحق بالامامۃ الاعلم باحکام الصلٰوۃ ۳؎
امامت کےلئے وہ شخص اورلائق اور بہتر ہے جومسائلِ نماز وطہارت میں زیادہ آگاہی رکھتا ہو،تنویر میں ہے امامت کا زیادہ حقدار وُہ ہے جو احکام نماز سے زیادہ آگاہ ہو۔
 (۳؎ در مختار   باب الامامۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۸۲)
در دُرمختار است بشرط اجتنابہ للفواحش الظاھرۃ ۴؎۔
درمختار میں بشرطیکہ وہ ظاہری گناہوں سے بچنے والا ہو۔
 (۴؎ در مختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۸۲)
در ردالمحتار ازکافی وغیرہ است الاعلم بالسنۃ اولی ان یطعن علیہ فی دینہ ۵؎۔
ردالمحتار میں کافی کے حوالے سے ہے سنت (یعنی طریقہ نماز) سے زیادہ آگاہی رکھنے والا شخص امامت کے لئے بہتر ہے بشرطیکہ اس کے دین پر کوئی طعن نہ کرتا ہو(ت)
 (۵؎ ردالمحتار        باب الامامۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۱۲)
جواب و سوال دوم: وہمچنیں غلام ودہقانی وکور اگر درحاضرین غیرانیاں کسے صالح امامت نیست خود واجب بود قدیم ایناں زیرا کہ اگر نکند جماعت است رود واجب فوت شود وایں ناروا بود اگر دیگرے نیز حاضر است اما ایناں درعلم مسائل نماز وطہارت برو رجحان و زیادت دارندہم ایناں احق و اولی بامامت باشد چہ جائے کراہت باشد بلکہ کراہت درتقدیم دیگرے باشد کہ کمتراز ایشان است آرے اگر آں دیگر از  ایشاں داناتر  یا ہر دو درعلم مذکور ہمسر  وبرابر اند آں گاہ امامت ایشاں مکروہ باشد وازمکروھے تنزیہی بیش نیست یعنی خلاف اولٰی است واگرامام نمایند رواہ باشدوباک ندارد در تنویر الابصار ودرمختار است یکرہ تنزیھا امامۃ عبدواعرابی واعمی الا ان یکون ای غیرالفاسق اعلم القوم فھواولی (وولدالزنا)ھذا ان وجد غیرھم والافلاکرھۃ بحربحثا۱؎ ملخصا۔
 (۱؎ درمختار        باب الامامۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۸۳)
جواب و سوال دوم: غلام،دیہاتی اور نابینا کا حکم بھی یہی ہے اگر حاضرین میں سے کوئی دوسراامامت کے لائق نہ ہو تو خود بخود ان کو مقدم کرنا واجب ہوگا اور جماعت فوت ہو جائے گی جو واجب ہے اور جماعت کو فوت کرنا جائز نہیں اور اگر کوئی دوسرا بھی لائقِ امامت حاضر ہو لیکن یہ لوگ مسائلِ نماز و طہارت میں اس پر فوقیت رکھتے ہوں تو پھر بھی انہی کو امام بنانا اولٰی ہے چہ جائیکہ ان میں کراہت ہو بلکہ ایسی صورت میں دوسرے کو مقدم کرنا مکروہ ہوگا،کیونکہ وُہ دوسرا ان سے ادنٰی ہے البتہ اگر دوسرا ان سے زیادہ دانا اور صاحب علم ہو یا دونوں مذکورہ علم میں ہمسر اور برابر ہوں تو اس وقت ان کی امامت مکروہ ہوگی اور وہ بھی مکروہ تنزیہی ،اس سے زیادہ نہیں ،یعنی خلاف اولٰی ہوگی،اگر ان کو امام بنا لیا جائے تو جائز ہے،کوئی حرج نہیں،تنویرالابصار اوردرمختار میں ہے امامتِ غلام ،اعرابی ،نابینا،مکروہ تنزیہی ہے مگر جب وہ مذکورہ افراد فاسق کے علاوہ دوسروں سے زیادہ صاحب علم ہوں تو یہی لوگ امامت کے لائق ہیں(اور ولدِزنا) یعنی ولدزناکی امامت بھی مکروہ ہے، مذکورہ افراد کی امامت اس وقت مکروہ ہے جب ان کے سوا کوئی شخص لائقِ امامت موجود ہو ورنہ کوئی کراہت نہیں اس مسئلہ کی بحث بحرالرائق میں ہے اھ ملخصاً
دربحرالرائق از مجتبٰی شرح قدوری ومعراج الدرایہ شرح ہدایہ ست ھذہ الکراھۃ تنزیھیۃ لقولہ فی الاصل امامۃ غیرھم احب الی۲؎۔
بحرالرائق میں مجتبٰی شرح قدوری اور معراج الدرایہ شرح ہدایہ سے ہے یہ کراہت کراہت تنزیہیہ ہے کیونکہ اصل(کتاب) میں ان کا قول ہے ان کے علاوہ کی امامت مجھے زیادہ پسند ہے ،
 (۲؎ بحرالرائق    باب الامامۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۳۴۹)
ہمدراں باز در فتاوٰی اسعدیہ وغیرہ است فالحاصل انہ یکرہ لھؤلاء التقدم ویکرہ الاقتداء بھم کراھۃ تنزیہ ان وجد غیرھم والافلاکراھۃ۱؎۔
پھر اس کے بعد فتاوی اسعدیہ وغیرہ کی عبارت یُوں ہے حاصل یہ ہے کہ ان کی تقدیم مکروہ ہے اور اُن کا غیر موجود ہو تواقتداء مکروہ تنزیہی ہے ورنہ کوئی کراہت نہیں۔
 (۱؎ بحرالرائق     باب الامامۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۳۴۹

فتاوی اسعدیہ    کتاب الصلٰوۃ    مطبوعہ مطبع خیریہ مصر        ۱/۱۰)
نوٹ: اس عبارت کے آخری حصہ یعنی ان وجد  الخ میں تلخیص اور تبدیلی ہے تفصیل کے لئے دونوں کتابیں ملاحظہ ہوں۔ نزیزاحمد
در ردالمحتار از اختیار شرح مختار شرح الملتقی للبہنسی وشرح دررالبحاراست لو عدمت ای علۃ الکراھۃ بان کان الاعرابی افضل من الحضری والعبد من الحر وولدالزنا من ولدالرشدۃ والاعمی من البصیر فالحکم بالضد۲؎ ملخصاً
ردالمحتار میں اختیارشرح مختار،شرح الملتقی،للبہنسی اور شرح دررالبحار سے ہے اگر علّتِ کراہت معدوم ہو مثلاً اعرابی شہری سے،غلام آزاد سے ،ولدِزناولدرشد سے اور نابینا بینا سے افضل ہو تو حکم اس کے برعکس ہوگا۔
 (۲؎ ردالمحتار        باب الامامۃ     مطبوعہ مصطفی البابی مصر     ۱/۴۱۴)
در جامع الرموز است فان ام عبد او اعرابی اوولدالزناکرہ ذلک کراہۃ تنزیھۃ وفی الاختیار لوکانو افضل من ضدھم فالحکم بالصد۳؎
جامع الرموز میں ہے اگر غلام یا اعرابی یا ولد زنا امام بنا تو یہ مکروہ تنزیہی ہے۔اور اختیار میں ہے اگر یہ افراد مذکورہ اپنے مخالف سے افضل ہوں تو حکم اس کے برعکس ہوگا ۔
 (۳؎ جامع الرموز    فصل یجہر الامام    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۷۳-۱۷۲)
در خانیہ است تجوز امامۃ لاعرابی والاعمی والعبد و ولد الزنا وغیرھم ۴؎
اولٰی خانیہ میں ہے اعرابی،نابینا،غلام اور ولدِزنا کی امامت جائز ہے اور ان کے علاوہ کی اولٰی ہے۔
 (۴؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل فیمن نصیح الاقتداء الخ    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ        ۱/۴۴)
درشرح نقایہ علّامہ برجندی است المرادبہ الکراھۃ التنزیہیۃعلی ماصرح بہ فی الزاہدی ۵؎
علّامہ برجندی کی شرح نقایہ میں ہے کراہت سے مراد کراہت تنزیہی ہے جیسا کہ اس بات کی تصریح زاہدی نے کی،
 (۵؎ شرح النقایہ للعلامۃ البرجندی         فصل یجہر الامام فی الجمعۃ الخ    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ    ۱/۱۱۷)
در حاشیہ درر وغررللعلامۃ الشرنبلانی است وکرہ امامۃ ولد الزنا اقول الکراھۃ تنزیھیۃ کما فی البحر۱؎
حاشیہ درر وغررللعلامہ شرنبلالی میں ہے کہ ولد زنا کی امامت مکروہ ہے۔ میں کہتا ہوں اس سے کرہت تنزیہی مراد ہے جیسا کہ بحر میں ہے،
 (۱؎ حاشیہ دُرر وغرر للعلامۃ الشرنبلالی    فصل فی الامامۃ    مطبوعہ مطبعۃ احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادۃ مصر ۱/۸۶-۸۵)
در حاشیہ علّامہ سید احمد طحطاوی برمراقی الفلاح ازشرح علامہ سید محمد ازہری ازعلامہ سید احمد حموی است کراھۃ الاقتداء بالعبدوماعطف علیہ تنزیھیۃ ان وجد غیرھم والافلا۲؎ اھ
مراقی الفلاح کے حاشیہ میں علامہ سید احمد طحطاوی نے شرح علامہ سید محمد ازہری سے اور انہوں نےعلامہ سید احمد حموی کے حوالے سے لکھا کہ غلام اور اسکے دیگر معطوفات کی اقتداء کرنا مکروہ تنزیہی ہے بشرطیکہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا لائقِ امت موجود ہو ورنہ مکروہ تنزیہی بھی نہیں اھ۔
 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ،فصل فی بیان الاحق بالامامۃ    مطبوعہ نور محمد کتب خانہ تجارت کتاب گھر کراچی     ص۱۶۴)
Flag Counter