Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
117 - 185
مسئلہ نمبر ۶۰۹تا ۶۱۲: از کلکتہ مسجد دھرم تلہ    مرسلہ حافظ محمد عظیم صاحب        ۱۲جمادی الاولٰی ۱۳۱۵ھ

تسلیم بصد تکریم کے بعد خدمت عالی میں عرض رساں ہوں آپ کے اصافِ حمیدہ کی تحریر سے بندہ قاصر ہے جناب کی خدمت میں نہ عرض کے لائق نہ طاقت چونکہ اس وقت ایک فتوٰی پر آپ کے دستخط اور مہر کی اشد ضرورت ہوئی خدمت عالی میں عرض رساں ہوں کہ عنداﷲوعندالرسول اپنے خاص دستخط اور مہر سے زینت بخشیں اس عاجز کو آپ کی قدم بوسی کی ازحد تمنّا ہے دُعافرمائیں،فتوٰی یہ ہے:
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی اندریں کہ بامامت (۱) کدام شخص اولٰی است وامامت  (۲) حرام زادہ مکروہ تحریمی است یا نہ (۳) وامامت شخص بد پنداشتہ قوم مکروہ تحریمی است یاچہ واگرکسے (۴) درمسجد از امام حی افضل باشد بامامت کدام اولی است بینواتوجروا
تم پر اﷲ تعالٰی کی رحمت ہو اس مسئلہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ امامت کے لئے افضل شخص کون ہوتا ہے ؟حرام زادہ کی امامت مکروہ تحریمی ہے یا نہیں؟ جس شخص کو قوم بُرا جانے اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے یاکیا ہے؟ اگر مسجد میں محلہ کے امام سے کوئی افضل شخص موجود ہو تو امام کس کو بنانا اولٰی ہے(ت)
الجواب :

(۱) ہرکہ عالم تردرسنّت نماز بود درامامت آں اولٰی است پست ازآں اقرأ ثم اورع ثم معمراست کما فی الھدایۃ والعلمگیریۃ وملتقی الابحر وجامع الرموز
 (۱) ہر وہ شخص جو طریقہ نماز میں زیادہ عالم وآگاہ ہے وہ امامت کے زیادہ لائق ہے اس کے بعد سب سے اچھا قاری،پھر سب سے صاحب تقوٰی، پھر زیادہ عمر والا لائق امامت ہےہدایہ،عالمگیری، ملتقی البحراورجامع الرموز میں اسی طرح ہے۔
 (۲) امامۃ حرام زادہ مکروہ تحریمی است لما فی الھدایۃ یکرہ تقدیم العبد والاعرابی والفاسق والاعمی وولدالزنا لانہ لیس لہ اب یشفقہ فیغلب علیہ الجھل ولان فی تقدیم ھؤلاء تنفیر الجماعۃ فیکرہ ۱؎
 (۲) حرام زادہ کی امامت مکروہ تحریمی ہے ہدایہ میں ہے غلام ،اعرابی،فاسق،نابینا اور ولدزناکی امامت مکروہ ہے کیونکہ اس کا شفیق باپ نہیں جو اسے تعلیم دیتا لہذا اس پر جہالت غالب ہوگی اور (دوسری بات یہ ہے)کہ ایسے افراد کی تقدیم سے لوگ جماعت سے نفرت کریں گے لہذا ان میں سے ہر ایک کا اما م بننامکروہ ہے،
 (۱؎ الہدایۃ         باب الامامۃ    مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی        ۱/۱۰۱)
وفی العلمگیریۃ وتجوز امامۃ الاعرابی والاعمی والعبد و ولد الزنا والفاسق کذا فی الخلاصۃ الا انھا تکرہ ۱؎
عالمگیری میں ہے اعرابی ، نابینا ، غلام ، ولدزنا اور فاسق کی امامت جائز ہے،اسی طرح خلاصہ میں ہے مگر مکروہ ہے ۔
 (۱؎ فتاوی ہندیہ    الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۸۵)
وفی شرح الوقایۃ(ف) امامۃ بندہ واعرابی وفاسق واعمی ومبتدع وولد الزناجائز بودے مکروہ باشد۲؎
  شرح الوقایہ میں ہے غلام،اعرابی ،نابینا،بدعتی اور ولدالزنا کی امامت جائز ہے مگر مکروہ ہے
 (۲؎ شرح الوقایہ    فصل فی الجماعۃ    مطبوعہ المکتبۃ الرشید یہ دہلی        ۱/۱۷۵)
ف: مجیب رحمۃ اﷲ علیہ نے شرح وقایہ کی عبارت نقل نہیں کی صرف مفہوم بزبان فارسی ذکر کیا ہے نیز بعد والی عبارت میں قوسین کے درمیان جامع الرموز عبارت نقل کی ہے جسے قوسین سے باہر والی عبارت نقایہ یعنی جامع الرموز کے متن کی ہے اور شرح وقایہ کی عبارت بھی نقایہ کی عبارت جیسی ہے۔        (نذیر احمد سعیدی)
وفی جامع الرموز  فان ام عبد او اعرابی اوفاسق او اعمی اومبتدع او ولد الزنا۳؎(ای ولد یحصل من وطئ حرام لعینہ)کرہ
جامع الرموز میں ہے اگر غلام ، اعرابی، نابینا، فاسق، بدعتی او رولد الزنا (یعنی وہ بیٹا جو وطی حرام لعینہ سے حاصل ہو) نے امامت کرائی تو اس کی امامت مکروہ ہے۔
 (۳؎ جامع الرموز    فصل یجہرالامام    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۱۷۲)
وفی ملتقی الابحر تکرہ امامۃ العبد والاعرابی والاعمٰی والفاسق والمبتدع و ولدالزنا ۴؎الخ
ملتقی الابحر میں ہے غلام ،اعرابی، نابینا ،فاسق،بدعتی اور ولدزنا سب کی امامت مکروہ ہے الخ۔
 (۴؎ ملتقٰی الابحر    فصل حکم الجماعۃ    مطبوعہ مؤسستہ الرسالۃ بیروت    ۱/۹۴)
 (۳) اگر بد پنداشتن بباعث امر شرعی باشد امامت شخص بد پند اشتہ قوم مکروہ تحریمی ست لما فی العلمگیریۃ وقاضی خان رجل ام قوما وھم لہ کارھون فان کانت الکرھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلک ۔۵؎
 (۳) اسے برا جاننے کی وجہ اگر کسی امر شرعی کے باعث ہو تو اس کی امامت مکروہ تحریمی ہوگی ، کیونکہ عالمگیری اور قاضی خان میں ہے وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کرائی حالانکہ وُہ قوم اسے پسند نہیں کرتی پس اگر کراہت خوداس شخص میں کسی فساد کی وجہ سے ہو یا اس وجہ سے کہ اس سے دوسرے افراد امامت کے زیادہ لائق ہوں تو ان دونوں صورتوں میں شخص مذکور کو امامت کرانا مکروہ ہے۔
 (۵؎ فتاوٰی ہندیۃ     الفصل فی بیان من یصلح امامالغیرہ        مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۸۷-۸۶)
 (۴) امامت امام حی اولٰی بود اگرچہ غیرش درمسجد افضل است لمافی العلمگیریۃ دخل مسجدامن ھواولی بالامامۃ من امام المسجد فامام المحلۃ اولٰی ۱؎
محلہ کے مقرر امام کو امام بنانا اولٰی ہے اگرچہ کوئی دوسرا شخص افضل موجود ہو جیسا کہ عالمگیری میں ہے ایک ایسا شخص مسجد میں داخل ہُواجو محلہ کے امام سے افضل ہے تو محلہ کے امام ہی کو امام بنانا اولٰی ہے،
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الثانی فی بیان من ہواحق بالامامۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۸۳)
وفی المنیۃ :
لو دخل فی المسجد من ھواولی بالامامۃ فامام المحلۃ ۲؎ اولی ھکذا حکم الکتاب والیہ المرجع والماٰب واﷲ اعلم بالصواب ۔
اور منیہ میں ہے اگر مسجد میں ایسا شخص آیا جو امام مقرر سے افضل ہو تو محلے کا امام ہی بہتر ہوگا،کتاب کا حکم بھی یہی ہے اور یہی مرجع اور جائے پناہ ہے واﷲ اعلم بالصواب
۲؎ منیہ:    یہ عبارت سعیِ بسیار کے باوجود مشہور منیۃ المصلی سے نہ مل سکی ،معلوم ہوتا ہے اس سے کوئی اور منیہ مراد ہے جو مجھے دستیاب نہیں۔نذیر احمد سعیدی
المستخرج المذنب ابونعیم محمد نقی عفی عنہ اسلام آبادی المجیب المصیب فقیر محمد امانت اﷲ غازی پوری ۔ الجواب صحیح بندہ رشید احمد عفی عنہ اصاب من اجاب محمد قادر بخش سہسرامی عفی عنہ-صح من اجاب حرر الفقیرابوالبرکات  غازیپوری ۔مافیہ حق، اماالدین عفی عنہ۔
المستخرج المذنب ابونعیم محمد نقی عفی عنہ اسلام آبادی المجیب المصیب فقیرمحمد امانت اﷲ غازی پوری ۔الجواب صحیح بندہ رشید احمد عفی عنہ اصاب من اجاب محمدقادر بخش سہسرامی عفی عنہ ۔صح من اجاب حررالفقیر ابوالبرکات غازیپوری۔اس میں جوکچھ ہے وہ حق ہے۔امام الدین عفی عنہ۔
Flag Counter