Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
116 - 185
مسئلہ نمبر۶۰۷: ایک شخص کریہہ الصوت اور بہرا ہے ،دوسرا شخص کلام شریف اس سے اچھا پڑھتا ہے اور کریہہ الصوت نہیں ہے اور بہرا بھی نہیں ہے یعنی حواسِ خمسہ اس کے صحیح ہیں تو حالت مساوی العلم ہونے کے ان دونوں میں شرعاً مرجح لائق امامت کون ہو سکتا ہے بینوا بالبراھین والکتاب توجروایوم الحساب(دلائل وبراہین اور کتاب اﷲ سے بیان کرو اور روزِحساب اجر پاؤ۔ت)
الجواب : اگر اس شخص کے اس سے قرآن مجید اچھا پڑھنے سے مراد یہ حروف مخارج سے صحیح ادا کرتا ہے اوروہ نہیں جیسے آج کل عالمگیر وبا پھیلی ہے ا، ع ، ہ ،ح، ت ، ط، ث ، س،ص ، ذ ،ز، ظ میں تمیز نہیں کرتے جب تو اس بہرے کے پیچھے نماز ہی نہیں ہوتی اگر باوصف قدرت کے سیکھے تو ادا کرسکے مگر نہ سیکھا غلط پڑھتا ہے جب تونہ اس کی اپنی نماز ہوئی نہ اس کے پیچھے کسی دوسرے کی ،اور اگر عاجز ہے جیسے توتلا وغیرہ تو اس کی اپنی ہوجائے گی جبکہ کسی صحیح خواں کے پیچھے اقتدا نہ پاسکے نہ ایسی کوئی آیت ملے جسے وُہ صحیح پڑھ سکے اور یہ دونوں بہت نادر نہیں تاہم صحیح مذہب پر صحیح خواں کی نماز اس کے پیچھے کسی طرح صحیح نہیں۔
کماحققناہ فی فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوٰی میں کی ہے ۔ ت )
درمختار:
لاتصح صلاتہ اذا امکنہ الاقتدابمن یحسنہ او ترک جھدہ او وجدقدرالفرض ممالالثغ فیہ ھذاھوالصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذا من لایقدر علی التلفظ بحرف من الحروف۱؎۔
اس کی نماز اس صورت میں صحیح نہ ہوگی جب اسے ایسے شخص کی اقتداء ممکن ہو جوا حسن انداز میں قرآن پڑھ سکتاہے یا اس نے محنت و کوشش برائے صحت ِحروف ترک کردی یا وہ بقدر فرض قرأت وہ آیتیں حاصل کرلے جس میں تتلانا نہیں پایاجاتا،توتلے کے بارے میں یہی صحیح تنقیح ومختار ہے اور اس شخص کا بھی یہی حکم ہے جو حروف تہجی میں کسی حرف کے صحیح تلفظ پر قادر نہ ہو۔(ت)
 (۱؎ درمختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۸۵)
خیریہ وغیرہا میں ہے :
الراجح المفتی عدم صحۃ امامۃ الالثغ لغیرہ ممن لیس بہ لثغۃ ۲؎۔
راجح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ توتلے کی امامت غیر توتلے کے لئے صحیح نہیں ہے۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی خیریہ ، کتاب الصلٰوۃ    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ،۱/۱۰)
اور اگر یہ معنی کہ صحیح وُہ  بھی پڑھتا ہے مگر اس کی قرأت  و تجوید اس سے بہتر ہے تو اس صورت میں اگر اس کی کراہت  اس حد تک ہے کہ لوگوں میں نفرت پیدا کرے تو اس کی امامت مکروہ ہے۔
فان من مسائل کراھۃ الامام مفرعۃ علی ھذا الاصل وھوان من کان فیہ تنفیر الناس وقلۃ رغبتھم فامامتہ مکروھۃ کولد بغی و ابرص شاع برصہ وغیرہما۔
کیونکہ کراہتِ امامت کے بعض مسائل اس ضابطہ پر مبنی ہیں وہ ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس کے ساتھ لوگوں کو نفرت اور قلتِ رغبت ہواس کی امامت مکروہ ہے مثلاً ولد الزنا اور برص  والا ایساشخص کہ جس کا مرضِ برص پھیل گیا ہو وغیرہما (ت)
ولہذا تبیین میں فرمایا :
کل من کان اکمل فھو افضل لان المقصود کثرۃ الجماعۃ ورغبۃ الناس فیہ اکثر۱؎۔
ہر وہ شخص جو ہرلحاظ سے اکمل ہو وہی افضل ہوگاکیونکہ مقصود کثرت جماعت اور اس میں اکثر لوگوں کو رغبت ہے۔(ت)
 (۱؎ تبیین الحقائق    باب الامامۃوالحدیث فی الصلٰوۃ        مطبوعہ المبطعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر    ۱/۱۳۴)
اور اگر یہ بھی نہیں تاہم تساوی علم یہ غیر بہرا اس سے احق و اولٰی ہے۔ اوّلاً تجوید قرأت میں اس سے زائد ہے دُرمختار میں ہے:
الاحق بالامامۃ تقدیما بل نصبا الاعلم باحکام الصلٰوۃ ثم الاحسن تلاوۃ وتجویدا للقرأۃ۲؎۔
امامت میں آگے بڑھنے کے بلکہ ہمیشہ کے لئے امام مقرر کرنے میں زیادہ مستحق ولائق وہ شخص ہے جوصحت و فسادِنماز کے مسائل سے زیادہ آگاہ ہو(علم میں اگر برابر ہوں تو) پھر زیادہ لائقِ امامت وہ شخص ہے جو تلاوت اور تجوید قرأت کے لحاظ سے اچھا ہو۔(ت)
(۲؎ درمختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۸۲)
ثانیااُسکا بہرا ہونا بھی اُس کی ترجیح کی ایک وجہ ہے
کما بیّناہ فی المسئلۃ الاولٰی
 (جیسا کہ مسئلہ اولٰی میں ہم اسے بیان کر آئے ۔ت)

ثالثاًبہ نسبت اس کے خوش آوازی اور زیادہ مؤید ہے ولہذا وہ بھی مرجحاتِ امامت سے شمار کی گئی ۔نورالایضاح مراقی الفلاح میں ہے:
ثم الاحسن صوتا للرغبۃ فی سماعہ للخضوع۳؎
 (پھروہ شخص جس کی آوازحسین ہو کیونکہ اس کے سننے میں رغبت اور خضوع پیدا ہوتاہے۔ت)
 (۳؎ مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی    فصل فی بیان الاحق بالامتہ    مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص ۱۶۴)
لوگ اگر اس کے ہوتے ہوئے بہرے کو امام کریں گے شرعاً برا کریں گے،

درمختار میں ہے:
لوقدموغیرالاولی ساء وا بلااثم۴؎
 (اگر لوگوں نے غیر اولٰی کو مقدم (پیش امام) کردیا تو بغیر گناہ کے ان لوگوں نے برا کیا(یعنی ترکِ سنت کی وجہ سے بُرا کیا اور گنہگار نہ ہوئے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۴؎ درمختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۸۳)
مسئلہ نمبر ۶۰۸:از براہم پور        ۲۱ربیع الآخر شریف ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ افیونی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں ،اوراگر اس نماز کے پھیرنے کاحکم ہو تو فقط ظہر وعشاء کی پھیری جائے یافجر وعصرومغرب کی بھی ،اور افیون کھانی کیسی ہے افیونی فاسق مستحق عذاب ہے یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب : ضرور فاسق و مستحقِ عذاب ہے،صحیح حدیث میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن کل مسکرو مفتر۱؎۔رواہ امام احمد و ابوداؤد عن ام المؤمنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا بسند صحیح۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہر چیز کہ نشہ لائے اور ہر چیز کہ عقل میں فتور ڈالے حرام فرمائی۔اسے امام احمد ، اور امام ابوداؤد نے بسند صحیح ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الاشربہ باب ماجاء فی السکر    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/۱۶۳)
اگر افیونی پینک کی زور میں ہو جب تو اس کی خود نماز باطل اور اُس کے پیچھے اوروں کی بھی محض باطل ۔

اﷲ تعالٰی فرماتاہے :
لا تقربو الصلٰوۃ وانتم سکٰرٰی حتی تعلموا ماتقولون۔۲؎
نماز کے قریب نہ جاؤ اس حالت میں کہ تم نشہ میں ہو یہاں تک کہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔(ت)
 (۲؎ القرآن        ۴/۴۳)
اور اگر ہوش میں ہو جب بھی اس کے پیچھے نماز ممنوع ہے:
لان الصلٰوۃ خلف الفاسق تکرہ کراھۃ تحریم۳؎ کما حققہ فی الغنیۃ وغیرہا
  کیونکہ فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے جیسا کہ اس مسئلہ کی تحقیقغنیـہ وغیرہ میں کی ہے۔(ت)
 (۳؎ غنیـۃالمستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی االامامۃ الخ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص ۵۱۳)
اگر پڑھ لی ہو تو نما ز پھیرنی ضروری ہے اگرچہ فجرخواہ عصر خواہ مغرب کا وقت ہو،
فان کل صلاۃ ادیت مع کراہۃ تحریم تعاد وجوبا ۴؎کما فی الدر وغیرہ بل وکذا علی قول من قال بالتنزیہ فان الاعادۃ اکمال لاتنفل کما لایخفی واﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی اعلم۔
کہ ہر وہ نماز جو کراہت ِتحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہواسکا اعادہ واجب ہوتا ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے بلکہ اس کے قول پر بھی یہی حکم ہے جو اسے مکرہ تنزیہی قرار دیتا ہے کیونکہ اعادہ کمال ہے فالتو اور بے فائدہ نہیں جیسا کہ واضح ہے واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۴؎ درمختار        باب صفۃ الصلٰوۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۷۱)
Flag Counter