Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
115 - 185
مسئلہ نمبر ۶۰۴: ازبدایوں    مدرسہ قادریہ    ۶جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ

کیافرمایا ہے شرع مطہر نے اس مسئلہ میں کہ بخشش ولد الحرام المومن کی ہوگی یا نہیں اور بشرط قابلیت امامت کے نماز میں امام بنایا جائے گا یا نہیں؟ اور طریقہ ازروئے قواعد طریقت کے بانسبت اور مرتبہ عرفان پاسکتا ہے یا نہیں ؟اور استخلاف اس طریقہ کاجائز ہے یا نہیں؟ یعنی شیخ اپنے کا درصورت حصول قابلیت جانشین ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اور شیخ کو سندِخلافت اُس کو دینا جائز ہوگا یا نہیں؟بینوا توجروا
الجواب: ہر مومن جس کا خاتمہ ایمان پر ہو اور مومن عنداﷲ وہی قابلِ مغفرت ہے اوراس کا انجام یقیناجنّت
کما نطقت بہ النصوص واجمعت علیہ علماء السنۃ والجماعۃ
 (جیسا کہ اس پر نصوص کی تصریح اور علماء اہلسنّت وجماعت کا اجماع ہے۔ت) ولد الزنا کی امامت مکروہ تنزیہی یعنی خلافِ اولٰی ہے جبکہ وُہ سب حاضرین میں مسائلِ طہارت ونماز کا علم زائد نہ رکھتا ہو،
فی الدرالمختار کرہ امامۃ عبد واعرابی وولدالزناا لٰی قولہ الا ان یکون اعلم القوم۱؎۔
درمختار میں ہے غلام ،اعرابی، ولد الزنا کی امامت مکروہ ہے ،البتّہ اس صورت میں مکروہ نہیں جبکہ وہ دوسری قوم سے زیادہ صاحبِ علم ہو۔(ت)
 (۱؎ درمختار        باب الامامۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۸۳)
پھر یہ بھی اس صورت میں ہے کہ دُوسرا قابل امامت موجود ہو اور اگر حاضرین میں صرف وہی لائقِ امامت ہے تو اُسے امام بنانا واجب ہوگا مرتبہ عرفان اہل ِحق کے نزدیک وہی ہے
واﷲ یختص برحمتہ من یشاء ۲؎،
 (اوراﷲ تعالٰی جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مختص فرما لیتا ہے۔ت)
(۲؎ القرآن         ۲/۱۰۵)
ولدالزنا پر خود اس گناہ کاالزام نہیں الزام زانی اور زانیہ پر ہے،
وقد سئل سید الطائفۃ جنید البغدادی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ھل یزنی العارف فاطرق ملبیا ثم قال وکان امر اﷲ قدرامقدورا۔
سیّد الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے پوچھا گیا کیا عارف زنا کرسکتا ہے؟ آپ تلبیہ کہتے ہوئے چل پڑے اور کہا اﷲ کا امر مقدر و مقرر ہوچکا ہے۔(ت)



اس کا استخلاف جبکہ وہ اس کا اہل ہو نظر شیخ عارف بصیر پر ہے اگر مصلحت دیکھے تو ممنوع نہیں اگر حال اس کا مشہور اور عامہ خلائق اس سے نفورہوں اور سمجھے کہ کار دعوت الی اﷲ اور ہدایت خلق اﷲ بسبب تنفرناس منتظم نہ ہوگا تو احتراز فرمائے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۰۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکی ایک بی بی زینب غیر منکوحہ اور دو ۲بیبیاں صغرٰی اورکبرٰی منکوحہ ہیں زید عرصہ آٹھ سال سے بی بی زینب غیر منکوحہ سے بلالحاظ وپاس اس کی عدم منکوحیت اور بلا شرم و حجاب اپنے ہمسروں اور ہمچشموں کے مباشر اور ہم صحبت رہتاہے اس صورت میں زید کی امامت جائز ہے یا نہیں؟ بینواوجروا
الجواب: اگر اس کا زانی ہونا ثابت و متحقق ہو جب تو اُسے امام بنانے کی ہرگز اجازت نہیں کہ زانی فاسق ہے اور فاسق کو امام کرنا منع ہےغنیـۃ میں ہے:
لوقدموا فاسقا یاثمون بناء علی ان الکراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ وتساھلہ فی الاتیان بلوازمہ فلا یبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلاۃ وفعل ماینا فیھا بل ھوالغالب بالنظر الی فسقہ ۱؎۔
اگر لوگوں نے فاسق کو امام بنایا تو لوگ گنہگار ہوں گے اس لئے کہ اس کی تقدیم برائے امامت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وُہ امورِ دینیہ میں لاپروائی برتتا ہے اور نماز کے لوازمات کی ادائیگی میں تساہل سے کام لیتاہے ممکن ہے وہ نماز کی بعض شرائط ادا نہ کرے(یعنی چھوڑ دے)یا ایسا عمل کردے جو نماز کے منافی ہو،بلکہ ایسا کرنا اس کے فسق کے پیشِ نظر اغلب ہے(ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی امامۃ الخ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۱۳)
اور اگر وُہ لوگوں میں عام طور پر زانی مشہور ہو جب بھی اس کے امام بنانے سے احتراز چاہئے کہ اس صورت میں لوگ اس کی امامت سے نفرت کریں گے یہ امر باعث تقلیل جماعت ہوگا کہ مقاصد شرع کے خلاف ہے،
کماکرھوا امامۃ ولدالزنا لاجل ذلک وان لم یکن الاثم منہ۔
جیسا کہ فقہاء نے اسی حکمت کے پیشِ نظر ولد زناکی امامت کو مکروہ قرار دیا ہے اگر چہ گناہ اس کی (اپنی ذات کی ) طرف سے نہیں ہوا۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۰۶:     ازگھورکھپور  محلّہ شاہ معروف مکان مولوی محمد مسعود العاقیۃ محمد عبدالقیوم صاحب مرحوم 

    ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ:  بہرے کی امامت جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: عدمِ جوازکی کوئی وجہ نہیں حیث لامانع ،ہاں غیر بہرا کہ مرجحات راجیحات امامت میں بہرے سے کم نہ ہو افضل و  اولٰی ہے کہ نماز میں جس طرح حفظ طہارت بدن وثوب ومصلی وتصحیح جہت قبلہ کے لئے حاسہ بصر کی حاجت ہوتی ہے جس کے سبب بینا کو اندھے بلکہ ضعیف البصر پر ترجیح دی گئی ،
فی الدریکرہ امامۃ الاعمٰی و نحوہ الاعشی نھر۲؎ ۔
درمختار میں ہے نابینے کی امامت مکروہ ہے، اسی طرح اعشٰی (ضعیف البصر) کی بھی،نھر۔
 (۲؎ درمختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۸۳)
فی ردالمحتارھوسیئ البصر لیلا ونھارا قاموس فھذا ذکرہ فی النھر بحثااخذامن تعلیل الاعمٰی بانہ لایتوقٰی النجاسۃ ۱؎۔
ردالمحتار میں اعشٰی کا معنٰی را ت اور دن کو کم دیکھنے والا لکھے ہیں۔ قاموس،اس کا ذکرنہر میں اعمٰی کی علت کی بناء پر کیا گیا ہے کہ یہ بھی نجاست سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔(ت)
یوں ہی حاسہ سمع کی بھی ضرورت پڑتی ہے اگرچہ نہ دواماً مگر نادر،بھی نہیں کہ انسان سے نسیان نادر نہیں اور وقت سہو امام ،اصلاح مقتدیوں کے بتانے سے ہو تی ہے اور وہ سمع پر موقوف،جب اُس کا حس سامعہ موقوف ہے تو ان صورتوں کا وقوع متوقع جن میں اس کے نہ سننے کے سبب نماز فاسد یا مکروہ یا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوجائے مثلاً قعدہ اخیرہ چھوڑ کر اُٹھا مقتدیوں کا بتانا نہ سُنا،زائد کا سجدہ کرلیا ،فرض باطل ہوگئے یا اولٰی چھوڑا اور بتانے پر مطلع نہ ہو کر سلام پھیر دیاسجدہ سہو کے لئے بتایا گیا تو سمجھا کہ کوئی کچھ بات کرتا ہے تکلم کربیٹھا،نماز بوجہ ترک واجب واجب الاعادہ رہی یا قرأت میں وہ غلطی کی جس سے معنی میں تغیر اور نماز میں فساد ہو فتح مقتدمین سُن کر صحیح ارادہ کرلیتا تو اصلاح ہوجاتی
علی ماذکر فی الحلیۃ من احد القولین وھو الایسرالارفق کما لایخفی۔
اس قول کی بنا پر جو حلیہ میں دو قولوں میں سے ایک ذکر ہے اور یہی آسان اور نرم ہے جیسا کہ مخفی نہیں(ت)

اس نے نہ سنا اور نماز فاسد کرلی
الی غیرذلک من وجوہ کثیرۃ
 (اس کے علاوہ متعددوجوہ ہیں۔ت)تو امامت کے لئے اصلح واولٰی وہی ہے جو وجوہ نقص سے خالی ہو لاجرم امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں فرمایا
کل من کان اکمل فھو افضل۲؎۔
(جو بھی ہر لحاظ سے اکمل ہوگا وہی افضل ہوگا،ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ تبیین الحقائق        باب الامامۃ والحدیث فی الصلٰوۃ     مطبوعہ مطبعہ کبرٰی امیریہ بولاق مصر    ۱/۱۳۴)
Flag Counter