مسئلہ نمبر ۶۰۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک زمین اپنی بنام مسجد وقف کی ایک زمانے تک مہتمم مسجد کے قبضہ میں رہی اور کرایہ مسجد میں خرچ ہوتا رہا پھر با غوائے بعض ہنود زید نے ایک کچہری میں کرایہ دار پر خود کرایہ پانے کا دعوٰی کیا مہتمم مسجد جس کے متعلق اس زمین کا اہتمام تھا اور وہی مسجد کا امام ہے مسجد کے نام کے کرایہ نامہ وغیرہ کاغذات اُس کے پاس تھے اس کچہری میں موافق مسجد رہا کہ دعوٰی خارج ہوا زید نے پھر دوسری کچہری میں دعوٰی مالکیت کیا اب وہ مہتمم زید سے مل گیا مقدمہ کی پیروی نہ کی نہ مسجدکی طرف سے کاغذات ثبوت پیش کئے عدمِ پیروی کی وجہ سے مقدمہ خلاف مسجد تجویز ہوا مسلمانوں نے مسجد کی طرف سے اپیل کیا اس کچہری میں کاغذات سے مہتمم نے صاف انکار کردیا کہ زمین قبضہ مسجد سے نکل گئی اس صورت میں مہتمم مذکور مسجد کا مہتمم یا امام رکھے جانے کے قابل ہے یا نہیں؟ اسے امام مقرر کرنا کیسا ہے؟ اور اب کہ مسلمان اس کی حرکت کے باعث ناراض ہیں اُسے امام بننا کیسا ہے؟بینوا توجروا۔
الجواب :صورت مذکورہ میں مہتمم خائن مجرم فاسق ہے اسے مہتمم رکھنا حرام، امام بنانا گناہ ،اسے امام بنناناجائز، اگر امامت کرے گا اس کی نماز قبول نہ ہوگی۔
درمختار میں :
ینزع وجوبا بزازیۃ لو الواقف درر فغیرہ بالاولٰی غیر مامون۱؎۔
وقف شدہ مال چھیننا واجب ہے کذافی البزازیہ اگر واقف پر اطمینان نہ ہو یعنی خائن ہو کہ کذا فی الدرر تو خیانت کی صورت میں غیر واقف سے مال چھیننا بطریق اولٰی جائز ہ ہو گا۔(ت)
مسئلہ نمبر ۶۰۱: از مونڈیا ضلع بریلی غرہ محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیںعلمائے دین ان مسائل میں کہ جو شخص رشوت لیتاہے اسکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے اور جو شخص اپنی زوجہ کو باہر نکلنے سے منع نہیںکرتا اور پردہ نہیں کراتا اس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں ؟
الجواب
رشوت لینا حرام رشوت لینے والے کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہے ،اوراگر عورت بے ستر نکلتی ہے جیسےبلاد ہند یہ کے ننگے کپڑے اور شوہر اس کا باوصف اطلاع و قدرت باز نہیں رکھتا تو فاسق ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ ورنہ نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر :۶۰۲: از پیلی بھت محلہ منیرخاں مرسلہ مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی۲۲ ربیع الاول ۱۳۱۴ھ
میں بعد فرضِ ظہر مغرب و عشاء کے سلام پھیرتے ہی یمین ویسار کی جانب رُخ کرکے اللھم انت السلام ومنک السلام پڑھ کر سنّتیں پڑھا کرتا ہوں مولوی حبیب الرحمن سہارن پوری نے مجھ سے کہاکہ فقہا بعد ان فرضوں کے جن کے بعد تطوع ہے ترک استقبال قبلہ کو منع لکھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ان فرضوں کے بعد اُسی ہیأت پر رہے اور فوراً تطوع میں مصروف رہے اس پر خلیل الرحمان نے یہ کہا کہ تعامل حرمین میں بھی یوں ہی ہے۔میں نے کتابوں میں دیکھا تو کہیں ممانعت نہ ملی صرف اتنا ملا کہ جن فرضوں کے بعد تطوع ہے مقدار اللھم انت السلام سے زیادہ توقف نہ کرے اس مسئلہ میں جو حضور کے نزدیک صواب ہو افادہ فرمائےے تاکہ میں اس کے مطابق عمل کروں بلکہ مناسب تو یہ ہوگا کہ عربی عبارت میں بطور اختصار اس کو قلمبد فرمائیے۔
الجواب: الحمد ﷲ وحدہ السنۃ المتوارثۃ للامام من لدن امام الانام سید الرسل الکرام علیہ وعلیھم افضل الصلٰوۃ والسلام ھوالانصراف من القبلۃ لمن اراد مکثا مابعد السلام ،کل الصلٰوۃ فی ذلک متساویۃ الاقدام وصرح بذلک وبکراھۃ بقائہ مستقبل القبلۃ بعد التمام غیرواحد من العلماء العظام فالحق معکم ومازعم مخالفکم فقد افتری فیہ علی الفقھاء الفخام قال المولی المحقق محمد بن محمد بن محمد الشھیر بابن امیرالحاج فی الحلیۃ شرح المنیۃ ناقلا عن الذخیرۃ،اذاکان فرغ الامام من صلاتہ اجمعوالی انہ لایمکث فی مکانہ مستقبل القبلۃ ،سائرالصلوات فی ذلک علی السواء قال وقد صرح غیرواحدبانہ یکرہ ذلک اھ ۱؎،
سب تعریف اﷲ کے لئے جو وحدہ، لاشریک ہے امام الانام سید الانبیاء نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ والسلام کی طاہری حیات سے لے کر اب تک امام کے لئے بطور سنّت منقول ہے کہ جو شخص سلام کے بعد کچھ ٹھہر نے کا ارادہ رکھتا ہو تو قبلہ سے رُخ پھیر ے۔قدیم زمانہ سے یہ حکم تمام نمازوں میں برابر چلا آرہا ہے اور تکمیلِ نماز کے بعد اس کے لئے قبلہ رُخ رہنا مکروہ ہے۔ ان دونوں باتوں کی تصریح بڑے بڑے علمائے اسلام نے فرمائی ،پس حق تمہارا ساتھ ہے ، اور تمہارے مخالف نے جوکچھ کہا وہ فقہاءِ کرام پر تہمت ہے،ہمارے نہایت ہی فاضل محقق محمد بن محمد بن محمد المعروف ابن امیرالحاج حلیہ شرح منیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے لکھتے ہیں جب امام نماز سے فارغ ہوجائے تو سب علماء کا اتفاق ہے کہ وہ اپنی جگہ قبلہ رُخ نہ ٹھہرا رہے اور اس حکم میں تمام نمازیں برابر ہیں اور فرمایا کہ قبلہ رُخ رہنے کی کراہت پر متعدد علماء نے تصریح کی ہے اھ،
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
وقد اخرج الامام ابوداؤدفی سننہ والحاکم فی المستدرک عن ابی رمثۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال صلیت ھذہ الصلٰوۃ اومثل ھذہ الصلٰوۃمع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکان ابوبکر وعمر یقومان فی الصف المقدم عن یمینہ ۔ و کان رجل قد شھد التکبیرۃ الاولی من الصلاۃ یشفع فوثب الیہ عمر فاخذ بمنکبہ فھزہ ثم قال اجلس فانہ لم یھلک اھل الکتاب الاانھم لم یکن بین صلٰوتھم فصل فرفع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بصرہ فقال اصاب اﷲ بک یابن الخطاب ۱؎(ملخصاً) قلت فھذا نص عن صاحب الشریعۃ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی انفتالہ عن القبلۃ بعد صلٰوۃ یتبعھا تطوع فلاوجہ للنھی عنہ وان خص بعض کراہۃ المکث مستقبلا بمالاتھوی بعدہ کما فی الغنیۃ عن الخلاصۃ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اور امام ابوداؤد نے سنن میں، حاکم نے مستدرک میں ابورمثہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا،فرمایا کہ میں نے یہ یا اسکی مثل نماز نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اور فرمایا کہ حضرت ابوبکر اورحضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہا امام کے پاس صفِ اوّل میں کھڑے ہوتے تھے اور ایک آدمی جو تکبیرِ اولٰی سے نماز میں شامل ہواتھا اُٹھ کر دو۲ رکعت نماز ادا کرنی شروع کردی حضرت عمر اس کی طرف فی الفور بڑھے اور کاندھے سے پکڑ کر حرکت دی اور کہا بیٹھ جاؤ اہل کتاب نہیں ہلاک ہوئے مگر اس لئے کہ وہ اپنی نمازوں کے درمیان فاصلہ نہ کرتے تھے۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نظرِمبارک اٹھا کر دیکھا اور فرمایا اے ابن خطاب اﷲ تعالٰی نے تیری رہنمائی فرمائی ہے قلت(میں کہتا ہوں) یہ صاحب شریعت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے اس بات پر نص ہے کہ جس نماز کے بعد نوافل ہوں اس میں بھی امام قبلہ سے رُخ موڑے اور قبلہ رخ سے موڑنے پر کوئی نہی وارد نہیں (یعنی انصراف سے منع کرنے کی کوئی وجہ نہیں) اگرچہ بعض حضرات نے قبلہ رُخ بیٹھنے کی کراہت کو اس صورت کے ساتھ خاص کیا جبکہ امام بیٹھنے کے بعد کوئی نماز نہ پڑھنا چاہتا ہو جیسا کہ غنیہ میں خلاصہ کے حوالے سے ہے واﷲ سبحٰنہ وتعا لٰی اعلم(ت)
(۱؎ سنن ابو داؤد باب فی الرجل یتطوع فی مکانہ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۱۴۴
المستدرک للحاکم کتاب الصلٰوۃ لم یہلک اہل الکتاب الخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱/۲۷۰)
مسئلہ نمبر ۶۰۳: ازتحصیل جل گاؤں جامود ضلعآنولہ ملک برار مرسلہ حاجی شیخ عبدالرحیم ولد تاج محمد صاحب ۲۱ربیع الاول شریف ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مبروص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیںیعنی جس کا تمام جسم عارضہ برص سے سفید ہوگیا ہو اس کی امامت کے لئے کیا حکم ہے اور اس ملک دکن میں اکثر لوگ ماہ محرم الحرام میں سواری اپنے مکان پر بٹھا لیتے ہیں اور اس کو فعل صاحب کی سواری کہتے ہیں اکثر لوگ اس سے منتیں مانگتے ہیں اور چڑھاوا وغیرہ بہت کچھ چڑھاتے ہیں کیا ایسے شخص کے پیچھے جو اپنے مکان پر سواری بٹھائے نماز جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب :ایسے برص والے کے پیچھے نماز مکروہ ہے
فی الدرالمختار تکرہ خلف ابرص شاع برصہ۱؎
(درمختار میں ہے ایسے برص والے کے پیچھے نماز مکروہ ہے جس کا برص پھیل گیا ہو۔ت)