Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
113 - 185
مسئلہ ۵۹۶: ایک شخص کی جوان بی بی بے پردہ باہر نکلی ہے بلکہ بازار میں بیٹھ کر کچھ سودا بیچا کرتی ہے پس اُس شخص کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اگر باہر نکلنے میں اس کے کپڑے خلافِ شرع ہوتے ہیں مثلاً باریک کہ بدن چمکے یا اوچھے کہ سترِ عورت نہ کریں جیسے اونچی کُرتی پیٹ کُھلا ہو ا یا بے طوری سے اوڑھے پہنے جیسے دوپٹہ سر سے ڈھلکا ،یا کچھ حصہ بالوں کا کُھلا،یا زرق برق پوشاک جس پر نگاہ پڑے اور احتمالِ فتنہ ہو یا اسکی چال ڈھال بول چال میں آثار بدوضعی پائے جائیں اور شوہران باتوں پرمطلع ہوکر باوصفِ قدرت بندوبست نہیں کرتا تو وہ دیّوث ہے اور اسکے پیچھے نمازمکروہ،
فان الدیوث من لایغار علی امرأتہ اومحرمہ ۱؎کما فی الدرالمختار وھوفاسق واجب التعزیر فی الدر لواقرعلی نفسہ بالدیاثۃ او عرف بھا لایقتل مالم یستحل ویبالغ فی تعزیرہ ۲؎ الخ والفاسق تکرہ الصلاۃ خلفہ۔
دیّوث ہر وہ شخص ہے جس کو اپنی بیوی اور محرم پر غیرت نہ آئی ہو(اس کے پاس غیر مرد کے آنے سے) جیساکہ دُرمختار میں ہے ایسا شخص فاسق ہے اور اس پر تعزیہ واجب ہے۔دُرمختار میں ہے اگر کوئی اپنی ذات کے بارے میں دیّوث ہونے کا اقرارکرتا ہے یا اس فعل قبیح میں معروف ہوا تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا جب تک وہ دیوثت کو حلال نہ جانے لیکن تعزیر میں مبالغہ کیا جائے گا الخ اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار        باب التعزیر    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی         ۱/۳۲۸)

(۲؎ درمختار        باب التعزیر    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی         ۱/۳۲۸)
اور اگر ان شناعتوں سے پاک ہے تو اس کے پیچھے نماز میں کوئی حرج نہیں،
فان المرأۃ نفسھالا تفسق بمجرد کونھا برزۃ تخالط الرجال حتی انھا تصلح مزکیۃ معدلۃ للشھود فلا شنعتہ بذلک علی زوجھا فی الھندیۃ یقبل تعدیل المرأۃ لزوجھاوغیرھ اذاکانت امرأۃ برزۃ تخالط الناس وتعاملھم کذافی المحیط السرخسی ۳؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ عورت بذاتہا بے پردہ رہنے اور مردوں سے اختلاط کی وجہ سے فاسق نہیں ہوتی حتی کہ وہ گواہوں کی تعدیل اور تزکیہ کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس بناپر اس کے خاوند پرکوئی اعتراض نہ ہوگا۔ہندیہ میں ہے کہ اس عورت کی خاوند وغیرہ کے بارے میں تعدیل قبول کی جائے گی جب وہ ایسی ہو کہ با پردہ باہر آئے اور مردوں سے اختلاط اور معاملات کرے،محیط سرخی میں اسی طرح ہے واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ     الباب الثانی فی الجرح والتعدیل         مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/۵۲۸)
مسئلہ نمبر ۵۹۷ تا۵۹۹: از ماہرہ مطہرہ    مرسلہ حضرت میاں صاحب قبلہ سیّد شاہ ابولحسین احمد نوری میاں مدظلہ الاقدس    ۳۰ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ    

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) توتلے کے پیچھے نماز کیسی ہے؟

(۲) ہکلے کے پیچھے نماز کیسی ہے؟

(۳) ایک شخص تھوڑی سی افیون بغرضِ دوا کھاتا ہے اور اسکے سبب اسے نشہ نہیں ہوتا ایسے کی امامت مکروہ ہے یا نہیں؟
الجواب

(۱) مذہب صحیح میں غیر توتلے کی نماز اُس کے پیچھے باطل ہے ،خیریہ میں ہے :
امامۃ الالثغ بالفصیح فاسدۃ فی الراجح الصحیح ۱؎
 (توتلے کی امامت فصیح(غیرتوتلے) کے لئے راجح اور صحیح قول کے مطابق فاسد ہے۔ت)
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ     کتاب الصلٰوۃ        دارالمعرفۃ بیروت    ۱/۱۰)
 (۲) اگر ہکلا نماز میں نہ ہکلائے جیسے بعض لوگوں کا ہکلانا وقت غضب سے مخصوص ہوتاہے صرف غصہ میں ہکلانے لگتے ہیں ویسے صاف بولتے ہیں یا بعض کا ہکلانا بے پروائی کے ساتھ ہوتا ہے اگر تحفظ واحتیاط کریں تو کلام صاف ادا ہو ایسے لوگوں کو دیکھا گیا کہ باتوں میں ہکلاتے ہیں اور اذان و نماز و تلاوت میں اس کا کچھ اثر نہیں پایا جاتا ایسی صورت میں تو کلام نہیں کہ وہ حق نماز میں خود فصیح ہے اور جو ہو جگہ ہکلائے اس کی تین قسمیں ہیں:

۱۔ایک وہ کہ ان کی تکرار میں بعض حروف معین ہیں مثلاً کاف یا چ یاپ کہ جہاں رُکیں گے ان ہی حروف کی تکرار کریں گے یا گھبرا کر ایں ایں کرنے لگتے ہیں ان کے پیچھے فسادِ نماز بدیہی ہے۔
دوسرے وہ کہ جس کلمہ پر رُکتے ہیں اُسی کے اوّل حرف کی تکرار کرتے ہیں، اس صورت میں اگرچہ حرف خارج نہیں بڑھتا بلکہ اُسی کلمہ کا ایک جزو مکرر ادا ہوتا ہے مگر از انجاکہ حرف بوجہ تکرار لغو ومہمل وخارج عن القرآن رہ گیا ان کے پیچھے بھی نماز فاسد ہے،درمختار میں توتلے کے پیچھے فسادِ نماز کا حکم لکھ کر فرماتے ہیں:

ھذاھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذامن لایقدرعلی التلفظ بحرف من الحروف اولایقدر علی اخراج الفاء الابتکرار۱؎۔

توتلے کے بارے میں مختار اور صحیح حکم یہی ہے اور اسی طرح وہ شخص ہوگا جو حروف تہجی میں سے کسی حرف کی ادا پرقادر نہ ہو یا ف کو بدون مکرر کرنے کے ادا نہ کرسکے۔(ت)
 (۲) اگر ہکلا نماز میں نہ ہکلائے جیسے بعض لوگوں کا ہکلانا وقت غضب سے مخصوص ہوتاہے صرف غصہ میں ہکلانے لگتے ہیں ویسے صاف بولتے ہیں یا بعض کا ہکلانا بے پروائی کے ساتھ ہوتا ہے اگر تحفظ واحتیاط کریں تو کلام صاف ادا ہو ایسے لوگوں کو دیکھا گیا کہ باتوں میں ہکلاتے ہیں اور اذان و نماز و تلاوت میں اس کا کچھ اثر نہیں پایا جاتا ایسی صورت میں تو کلام نہیں کہ وہ حق نماز میں خود فصیح ہے اور جو ہو جگہ ہکلائے اس کی تین قسمیں ہیں:

۱۔ایک وہ کہ ان کی تکرار میں بعض حروف معین ہیں مثلاً کاف یا چ یاپ کہ جہاں رُکیں گے ان ہی حروف کی تکرار کریں گے یا گھبرا کر ایں ایں کرنے لگتے ہیں ان کے پیچھے فسادِ نماز بدیہی ہے۔

۲۔ دوسرے وہ کہ جس کلمہ پر رُکتے ہیں اُسی کے اوّل حرف کی تکرار کرتے ہیں، اس صورت میں اگرچہ حرف خارج نہیں بڑھتا بلکہ اُسی کلمہ کا ایک جزو مکرر ادا ہوتا ہے مگر از انجاکہ حرف بوجہ تکرار لغو ومہمل وخارج عن القرآن رہ گیا ان کے پیچھے بھی نماز فاسد ہے،درمختار میں توتلے کے پیچھے فسادِ نماز کا حکم لکھ کر فرماتے ہیں:
ھذاھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذامن لایقدرعلی التلفظ بحرف من الحروف اولایقدر علی اخراج الفاء الابتکرار۱؎۔
توتلے کے بارے میں مختار اور صحیح حکم یہی ہے اور اسی طرح وہ شخص ہوگا جو حروف تہجی میں سے کسی حرف کی ادا پرقادر نہ ہو یا ف کو بدون مکرر کرنے کے ادا نہ کرسکے۔(ت)
 (۱؎ دُرمختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۸۵)
نور الایضاح ومراقی الفلاح میں ہے:
لایصح اقتداء من بہ الفأفأۃ بتکرار الفاء والتمتمۃ بتکرار التاء فلایتکلم الابہ ۲؎ اھ ملخصا
اس شخص کی اقتدا درست نہیں جس کوفأفأۃ کا عارضہ ہو یعنی ف کو تکرار سے پڑھتا ہو یا تمتمۃ کا عارضہ ہو یعنی ت کو تکرار سے پڑھتا ہو یعنی جب بھی ایسے حروف کو بولتا ہے تو وہ حرف تکرار سے اداہوتا ہے اھ ملخصاً (ت)
 (۲؎ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح مع حاشیہ الطحطاوی   باب الامامۃ  مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی  ص ۱۵۷)
۳۔تیسرے وہ کہ ہکلاتے وقت نہ کوئی حرف غیر نکالتے ہیں نہ اسی حرف کی تکرار کرتے ہیں بلکہ صرف رک جاتے ہیں اور جب ادا کرتے تو ٹھیک ادا کرتے ہیں ایسوں کے پیچھے نماز صحیح ہے۔ہندیہ میں ہے:
الذی لایقدر علی اخراج الحروف الابالجھد ولم یکن لہ تمتمۃ او فأفاۃ فاذا اخرج الحروف اخرجھا علی الصحۃ لایکرہ ان یکون اماما ھکذا فی المحیط۔۳؎
وہ شخص جو کوشش کے بغیر ادائے حروف پر قادر نہ ہو نہ تو وہ تکرارِ ت کرتا ہو اور نہ ہی تکرارِ ف تو جب حروف ادا کرتا صحیح ادا کرتا ہے ،تو ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ نہیں۔محیط میں یونہی ہے۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الثالث فی بیان من یصلح امامالغیرہ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور     ۱/۸۶)
رہا یہ کہ کوئی کراہت بھی ہے یا نہیں ۔ظاہر ہے کہ اگر اُن کا رُکنا اتنی دیر نہ ہوتا جس میں ایک رکن ادا کرلیاجائے جب تو کراہت کی کوئی وجہ نہیں اور اگر اتنی دیر ہو تو اگر چہ بوجہ سہو اس قدر سکوت موجب سجدہ سہوہے اور بلا عذر کراہت تحریم
کما یظھر من التنویر والدر والغنیۃ وردالمحتار
 (جیسا کہ تنویر،در،غنیـہ اورردالمحتار میں اس کا بیان واضح ہے۔ت) اور اگر ان کا رکنا بعذر ہے جس طرح جمائی یا چھینک یا کھانسی وغیرہا اعذار کے باعث بعض اوقات سکوت بقدرادائے رُکن ہوجاتا ہے تو ظاہراً یہاں وہ حکم نہیں ،ہاں اس میں شک نہیں کہ ان کا غیر ان سے اولٰی ہے جبکہ بہ سبب حاضرین سے اعلم باحکام طہارت و نماز نہ ہوں۔واﷲ تعالی اعلم۔

(۳) نشہ جو ہمارے محاورہ میں سکر و تفتیردونوں کو عام ہے اور بنص حدیث دونوں حرام اُس کے یہی معنی نہیں کہ زمین و آسمان یا مرد و عورت میں امتیاز نہ رہے یہ تو اس کی انتہا اور نشہ کی ابتدا انتہا دونوں حرمت میں یکساں پس اگر افیون کے سبب کچھ بھی اس کی عقل میں فتور یا حواس میں اختلال پیداہو توکسی وقت پینک آتی ہوبیٹھے بیٹھے اونگھ جاتا ہو کسی وقت گردن ڈھلتے یا آنکھیں چڑھ جاتیں اُن میں لال ڈورے پڑتے ہوں جیسے یہ لوگ اپنی اصطلاح میں کیف و سرور کہتے ہیں تو یہ سب صورتیں حرام ہیں اور اُن کا مرتکب فاسق اور اس کے پیچھے نماز مکروہ بلکہ اگر صاف اتنا ہی ہوتا کہ جس دن نہ کھائے جمائیاں آئیں،اعضاشکنی ہو، دورانِ سر ہو،تاہم حرمت میں شک نہیں کہ ترک پرخمار پیدا ہونا صاف بتارہا ہے کہ استعمال بطور دوا نہیں ،نفس اس کا خوگر ہوگیا ہے اور بلا غرض مرض اپنی طلب و شوق سے اُسے مانگتا ہے اور یہ صورت خودناجائز ہے اگر چہ نشہ نہ ہو بلکہ حقیقۃً یہ حالت اُسی کو پیدا ہوگی جس دماغ میں افیون اپنا عمل ناجائز کرتی ہو ورنہ مجرب دوا کا ترک خمار نہیں لاتا،ہاں اگر ان سب حالتوں سے پاک ہے اور واقعی صرف حالتِ مرض میں بقصد دوا اتنی قلیل مقدارپراستعمال کرتا ہے کہ نہ اُس کے کھانے سے سرور آتا ہے اور نہ چھوڑنے سے خمار ، تو اس کے پیچھے نماز مکروہ نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
البنج والافیون استعمال الکثیر المسکر منہ حرام مطلقا واما قلیل فان کان لھوحرم وان للتداوی فلا ۱ ؎ انتہی ملتقطا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بھنگ اور افیون کا استعمالِ کثیر کہ اس سے نشہ پیدا ہو تو ہر حال میں حرام ہے، اگرقلیل ہو تو لہو کے لئے حرام ہے اور بطور دوائی حرام نہیں انتہی تلخیصاً(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الاشربۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۵/۳۲۵)
Flag Counter