Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
112 - 185
اور فرماتا ہے:
اذالقواالذین اٰمنو قالواٰمنّا واذاخلو الٰی شٰیطینھم قالوا انا معکم انما نحن مستھزؤن ۳؎
جب مسلمانوں سے ملیں کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اورجب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو یونہی ٹھٹھا کرتے ہیں۔
 (۳؎ القرآن     ۲/۱۴)
الغرض زیدکے فاسق ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور نماز فاسق کے پیچھے مکروہ ہے ۔علماء حکم دیتے ہیں کہ اُس کے پیچھے نماز نہ پڑھے بلکہ دوسری مسجد میں چلا جائے ،اور جن لوگوں کے نزدیک جمعہ چند مسجدوں میں جائز نہیں ہوتا وہ بضرورت جمعہ اُس کی اقتدا روارکھتے ہیں اگر اس طرح اُس کا امامت سے روکنا نہ بن پڑے ،امام علّامہ محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں جبکہ قولِ مفتی بہ یہ ٹھہرا کہ جمعہ بھی چند مسجدوں میں ہوجاتا ہے تو نمازِجمعہ میں بھی اُس کی اقتدا مکروہ ہے کہ دوسری مسجد چلا جانا میسر ہے،
فی البحرالرائق وذکر الشارح وغیرہ ان الفاسق اذا تعدرمنعہ یصلی الجمعۃ خلفہ وفی غیرھا ینتقل الی مسجد اٰخر وعلل لہ فی المعراج بان فی غیرالجمعۃ یجد اماما غیرہ فقال فی فتح القدیر وعلٰی ھذا فیکرہ الاقتداء بہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد وھوالمفتی بہ لانہ سبیل من التحول ح ۱؎(حینئذ)
بقیہ نمازوں میں دوسرا امام میسر آسکتا ہے ،تو فتح القدیر میں کہا کہ اس بنا پر نماز جمعہ مین بھی فاسق کی اقتدا مکروہ ہوگی کیونکہ امام محمد کے قول کے مطابق شہرمیں متعدد جگہ جمعہ ادا کیا جاسکتا ہے۔اور اسی قول پر فتوٰی ہے لہذا جمعہ میں بھی دوسری جگہ منتقل ہونا ممکن ہے (ت)
 (۱؎ البحرا لرائق ، باب الامامۃ  ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی، ۱/۳۴۹)
معہذا تکثیر جماعت شرع کو مطلوب ہے اسی واسطے جن کی امامت میں احتمال لوگوں کی قلت رغبت وکمی جماعت کا تھا  اُ نکی اقتداء مکروہ ٹھہری مثل اعرابی وغلام ولدالزنا پس جس شخص سے لوگ اپنے دین کو وجہ سے تنفر تام رکھیں اور جو اُس کے حال سے آگاہ ہوتا جائے نماز چھوڑتا جائے اس کی امامت شرع کوکیونکر پسند آئے گی۔
فی البحرالرائق واماالکرھۃ فمبنیۃ علی قلۃ رغبۃ الناس فی الاقتداء بھؤلآء فیؤدی الی تقلیل الجماعۃ المطلوب تکثیراللاجر۲؎۔
البحرالرائق میں ہے کراہت کی وجہ یہ ہے کہ ان کی اقتداکی رغبت لوگوں میں کم پائی جاتی ہے اس وجہ سے جماعت میں حاضری کم لوگوںکی ہوگی اور حالانکہ کثرتِ اجر کے پیشنظرجماعت میں کثیر افراد کی حاضری مطلوب ہے(ت)
 (۲؎ البحرا لرائق    باب الامامۃ     مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۳۴۸)
علاوہ بریں افعال مذکورہ زید مجرد فسق ہی نہیں بلکہ دلیل واضح ہیں اس پر کہ وہ سخت بدعتی غالی مکلب اور مذہب حق کادشمن اور خلقِ خدا کو گمراہ کرنے والا ہے تو اب کراہت بہ نسبت پہلے کے بہت زائد ہوگئی کہ فسق فی الاعمال وفسق فی العقائد میں زمین و آسمان کا فرق ہے،کبیری شرح منیہ میں ہے:
ویکرہ تقدیم المبتداع ایضالانہ فاسق من حیث الاعتقاد وھواشد من الفسق من حیث العمل یعترف بانہ فاسق ویخاف ویستغفر بخلاف المبتدع والمراد بالمبتدع من یعتقد شیأً علی خلاف ما یعتقدہ اھل السنۃ والجماعۃ ۳؎۔
بدعتی کو امام بنانا بھی مکروہ ہے کیونکہ وہ اعتقاد کے لحاظ سے فاسق ہے اور ایسا آدمی عملی فاسق سے بدتر ہے کیونکہ عملی فاسق اپنے فسق کا اعتراف کرتا ہے اور ڈرتا ہے اور اﷲ سے معافی کا خواست گار ہوتا ہے بخلاف بدعتی کے اور بدعتی سے مراد وہ شخص ہے جو اہلسنت وجماعت کے عقائد کے خلاف کوئی دوسرا عقیدہ رکھتا ہوں۔(ت)
 (۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی الامامۃ الخ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۱۴)
یہاں تک تو مجرد کراہت تھی اب جبکہ اُس کے حالات سے معلوم ہوا کہ اپنا وہ کوئی عقیدہ نہیں رکھتا بلکہ بعض اہلِ بدعت جوبات کہہ دیں وہ اس کے نزدیک مسلّم ہوتی ہے حتّی کہ ان کے کفریات کو مسلّم رکھتا ہے اوراس کی ترویج میں بجان ودل ساعی ہوتا ہے تو معلوم ہواکہ بدعت اس کی حدِ کفر تک پہنچی ہے اور انتہا اس کے عقیدہ زائغہ کی نہیں معلوم ہوسکتی بلکہ جب اپنے اُن پیشواؤں کو بھی گالیاں دیتااور ان کے مذہب سے تبرّاکرتا ہے تو ظاہر اس کے حال سے یہ ہے کہ وہ محض زندیق ملحد بے دین ہے جسے کسی خاص کسی مذہب سے غرض نہیں بلکہ مجرد مخالفت دینِ اسلام ومذہب اہل سنّت منظور ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز قطعاً باطل وحرام ہے۔
فی البحرالرائق قیدہ فی المحیط والخلاصۃ والمجتبٰی وغیرھا بان لایکون بدعتہ تکفرہ فان کانت تکفرہ فالصلاۃ خلفہ لاتجوز۱؎۔ ؂
بحرالرائق میں ہےمحیط،خلاصہ،مجتبٰی وغیرہ مین ہے اس کی بدعت حدِکفر تک پہنچی ہو،اگراس کی بدعت حد کفر تک پہنچتی تو اس کے پیچھے نماز جائز نہ ہوگی۔(ت)
 (۱؎ بحرالرائق،  باب الامامۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی،  ۱/۳۴۹)
کبیری میں ہے:
انما یجوزالاقتداء بہ مع الکراھۃ اذا لم یکن مایعتقدہ یؤدی الی الکفرامالوکان مؤدیا الی الکفر فلایجوز اصلا۲؎۔
کراہت کے ساتھ اس کی اقتداء اسی صورت میں جائز ہے جب اس کا اعتقاد حدِکفر تک نہ پہنچادے اگر وُہ حد ِ کفر تک پہنچاتاہے تو بالکل اس کے پیچھے نماز جائز نہ ہوگی۔(ت)
 (۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی        فصل فی الامامۃ الخ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۱۴)
اور بعد امتحان و تجربہ کے ظاہر کہ فریب ِمسلماناں کے لئے توبہ کرتا ہے اور ان عقائد ومکائد سے باز نہیں آتا ہر گز اس کی توبہ پر اعتبار نہ ہوگا خصوصاً امرِنماز میں تمام اعمال سے افضل واتم ہے جولوگ ایسی توبہ پر اعتماد کرتے ہیں ان سے پوچھا جائے اگر کسی شخص کے چور ہونے کا تمہیںیقین ہوگیا اور وہ بار بار توبہ کرکے پھر چوریاں کرتا ہو ، آیا اس کی توبہ پر مطمئن ہوکہ پھر بھی اپنا مال اسے سپرد کردو گے افسوس مالِ دنیوی کہ اﷲ کے نزدیک محض حقیر وذلیل ہے تمہاری نگاہ میں ایسا عزیز ٹھہرا کہ جس امر میں اس کے نقصان کا وہم بھی ہو اُس سے پرہیز کرو اور نماز کہ اﷲ کو نہایت محبوب اور اس کے نزدیک بس عظیم ہے اس میں یہ مداہنت اگر بالفرض اس کی توبہ سچّی اور صدق باطن سے ہو تاہم جب حال اس کا مشتبہ ہوچکا تو خواہ مخواہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا کس نے فرض وواجب کیا، کیا ایسا کوئی شخص نہیں ملتا جو ان معائب سے بری اور اس کے پیچھے نماز بلا اشتباہ درست ہو،اورجو لوگ ایسے شخص کی حمایت کرتے ہیں نماز کے دشمن اور مسجد کی ویرانی اور اہل اسلام کے عمدہ شعار یعنی نماز کی بربادی چاہنے والے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۹۵: ازرنگون    مرسلہ انتظام علی صاحب         ۱۵ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مرجہ ذیل مسئلہ میں : ایک شخص کا دہنا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے اس وجہ سے نیت باندھتے وقت ہاتھ اسکا گوش تک نہیں پہنچتا کہ اس کو مس کرے، اس سبب سے بعض لوگ اس کے پیچھے اقتداء کرنے سے انکار کرتے ہیں کیا موافق ان لوگوں کے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی؟
الجواب: خیال مذکور غلط ہے اُس کے پیچھے جوازِنماز میں کلام نہیں،ہاں غایت یہ ہے کہ اسکا غیر اولٰی ہونا ہے وہ بھی اس حالت میں کہ یہ شخص تمام حاضرین سے علم مسائل نماز وطہارت میں زیادت نہ رکھتا ہو ورنہ یہی احق و اولٰی ہے۔
فی ردالمحتار تحت قولہ تکرہ خلف امرد وسفیہ ومفلوج وابرص الخ وکذلک اعرج یقوم ببعض قدمہ فالاقتداء بغیرہ اولی تاتار خانیۃ وکذااجذم برجندی ومجبوب وحاقن ومن لہ ید واحد فتاوی الصوفیۃ عن التحفۃ ۱؎ اھ
ردالمحتار میں ماتن کے قول ''امرد، بیوقوف، مفلوج اور ابرص کے پیچھے نمازمکروہ ہے''الخ کے تحت ہے یہی حکم اس لنگڑے کاہے جو اپنے قدم کے بعض حصے پر قیام کرتا ہو، پس اس صورت میں غیر لنگڑے کی اقتداء بہتر ہوگی، تاتار خانیہ۔صاحب ِجزام کابھی یہی حکم ہے۔برجندی،مقطوع الذکر ،پیشاب روک رکھنے والا اور وہ شخص جس کا ایک ہی ہاتھ ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔فتاوٰی صوفیہ میں تحفہ کے حوالے سے یہی ہے اھ
 (۱؎ ردالمحتار        مطلب فی امامۃ الامرد        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۱۶)
وفی الدر یکرہ امامۃ الاعمی الا ان یکون اعلم القوم فھو اولٰی اھ ۲؎ملخصاواﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اور درمختار میں ہے نابینا شخص کی امامت مکروہ ہے سوائے اس صورت کے کہ وہ قوم میں سب سے زیادہ عالم ہو تو اس صورت میں وہی امامت کے زیادہ لائق وافضل ہے اھ ملخصاً واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎درمختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۸۳)
Flag Counter