اور اسی طرح بحرالرائق میں محیط اور خلاصہ اور مجتبٰی سے منقول ہے:
حیث قال وقیدہ فی المحیط والخلاصۃ والمجتبی وغیرھا بان لا تکون بدعتہ تکفرہ فان کانت تکفرہ فالصلاۃ خلفہ لاتجوز۲؎۔
اس کے الفاظ ہیں کہ محیط،خلاصہ اور مجتبٰی وغیرہ میں اسے اس قید کے ساتھ مقید کیا ہے کہ وہ بدعت حدِ کفر تک نہ پہنچانے والی ہو اگر اس سے وہ کافر ہوگیا ہے تو اس کے پیچھے نماز ہر گز جائز نہیں(ت)
اور جب امامِ مسجد وہابی المذہب ہواسے منع کرنے اورامامت سے باز رکھنے پر قدرت حاصل نہ تو اُس مسجد کو چھوڑ چلا جائے اور دوسر ی مسجدکا امام ایسے خبائث سے پاک ہو نماز پڑھے۔بحرالرائق میں ہے:
وذکر الشارح وغیرہ ان الفاسق اذا تعذر منہ یصلی الجمعۃ خلفہ وفی غیرہا ینتقل الی المسجد اخروعلل لہ فی المعراج بان فی غیر الجمعۃ یجد اماما غیرہ فقال فی فتح القدیر یکرہ الاقتداء بہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد ھوالمفتی بہ ۳؎
شارح وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ جب فاسق کو امامت سے روکنا دشوار ہو تو جمعہ کی نماز اس کی اقتداء میں پڑھ لی جائے اور دیگر نمازوں کے لئے کسی دوسری مسجد میں چلا جائے ،معراج میں اس کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ جمعہ کے علاوہ میں دوسرا امام میسر آسکتا ہے،اور فتح القدیر میں ہے اس بناء پر اگر جمعہ شہر میں متعدد جگہ ہوتا ہو توجمعہ میں بھی اقتداء مکروہ ہوگی، اور امام محمد کے قول کے مطابق ایسا کرنا جائز ہے اور اسی پر فتوی ہے
قلت (میں کہتا ہوں) جب اعمال میں فسق رکھنے والوں کا یہ حکم ہے تو عقائد میں فسق رکھنے والوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہوگا! واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ نمبر ۵۹۳ : ازا شہر کہنہ بریلی مرسلہ مولوی غلام محمد صاحب پنجابی ۸ شعبان المعظم ۱۳۱۲ھ
ایک جنازہ وقت غروب شمس کے پاس مسجدکے موجود ہو اور وہ جنازہ اہل سنّت والجماعت کا تھا حال یہ ہے کہ وارث میّت من کل الوجوہ جاہل تھے حتّی کہ نماز سے اور امام اس مسجد کا پانچوں وقت نماز تاکید پڑھاتا ہے اور کتب د رسیہ متداولہ میں بھی تعلیم و تعلم رکھتا ہے اور خالص سنت وجماعت ہے خالص حنفی ہے اور اس امام کا یہ عقیدہ منعقد ہوا ہے خدا ایک ہے مثل اس کے متصوّر نہیں ہوسکتا ہے اور سب انبیاء علیہم السلام صادق ہیں خصوصاً حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بزرگی میں سب سے زیادہ اور بعد سب انبیاء علیہم السلام کے بزرگی میں سب سے زیادہ حضرت ابوبکر صدیق ہیںپھرحضرت عمر ہیںپھرحضرت عثمان ہیں پھرحضرت علی ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہم،اور کرامت اولیاء اﷲ کی بھی برحق ہے خلاصہ جو طریقہ اہلسنت وجماعت کا ہے وہ اُس امام میں موجودہے ا ور ایک شخص اور ہے کتب درسیہ پڑھے ہے یا نہیں واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب مگر دعوٰی ہے اور تعلیم و تعلم بھی کسی کتاب کا نہیں ہے اُس شخص کا عقیدہ یہ ہے کہ بزرگی حضرت محمدرسول اللہ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی سب آدمی سے زیادہ ہے مگر حضرت علی اور بی بی فاطمہ اورحضرت امام حسن و حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے زیادہ نہیں ہے بلکہ یہ سب پانچ تن بزرگی میں برابر ہیں اور بزرگی حضرت علی کی سب اصحاب سے زیادہ ہے اور وہ شخص نماز پانچ وقت جماعت سے نہیں پڑھتا ہے بلکہ محض جمعہ کے دن جماعت سے پڑھتا ہے اور تعزیہ بنانے کو بھی اچھا کہتا ہے وقت جنازہ کے یہ دونوں مولوی مذکور موجود تھے اور دونوں ورثائے میّت نے بلایا تھا اور دونوں حکم جنازہ پڑھانے کا کیا اور سواامام کے دوسرا مولوی امام بن گیا اس وقت امام نے کہا لائق امامتِ جنازہ کے میں ہوں چونکہ سلطان اور قاضی اس وقت میں نہیں ہیں اور یہی بات شرح وقایہ اور ہدایہ اور سب کتابوں میں موجود ہے عبارت مسئلہ مذکورہ کی یہ ہے:
والاحق بالامامۃ السلطان ثم القاضی ثم امام الحی ثم الولی کما فی العصبات۔
امامت کا زیادہ حقدار سلطان ہے پھر قاضی پھر محلّہ کا امام پھرولی،اس ترتیب سے جو عصبات میں ہے۔(ت)
اور وہ مولوی اس مسئلہ کو نہ مانا اور امام بنا اور امام الحی نے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھی اس وجہ سے کہ اس نے اس مسئلہ محررہ کو نہ مانا اور بلحاظ عقائد مذکورہ محررہ کے امام الحی نے اس کے پیچھے نماز ترک کی۔آیا امام ہونا نماز جنازہ کا امام الحی مولوی کو لائق تھا یا دوسرے مولوی کو ،اور نماز کا ترک کرنا امام الحی کا ایسے شخص کے پیچھے مناسب تھا یا نہ اور سب نمازیعنی پانچ وقتی اور جمعہ کی اور جنازہ کی ان سب نمازوں میں امام ہونا ان دونوں میں سے کون لائق ہے؟بینوا توجروا۔
الجواب فی الواقع جبکہ ان بلاد میں حکام اسلام سلطان والی وقاضی مفقودہیں اور جب وہ نہیں تو ان کے نائب کہاں، اور اولیائے میّت حسبِ تصریح سائل محض جاہل تھے تو صورت ِمستفسرہ میں امام مسجد کو سب پر تقدم اور اسی کو امام کرنا مستحب و بہتر تھا۔
تنویر الابصار وردالمحتار یقدم فی الصلاۃ علیہ السلطان ( ثم نائبہ کما فی الفتح) ثم القاضی (فی الفتح ثم خلیفۃ الوالی ثم خلیفۃ القاضی ومثلہ فی الامداد عن الزیلعی) ثم امام الحی۱؎ اھ ملتقطا وفی الدرتقدیم الولاۃ واجب وتقدیم اماالحی مندوب فقط بشرط ان یکون افضل من الولی والافالولی اولٰی ۲؎الخ۔
تنویر الابصار اور ردالمحتار میں ہے نمازِ جنازہ مین سلطان مقدم ہے(پھر اس کا نائب جیسا کہ فتح میں ہے) پھر قاضی (فتح میں ہے پھر والی کا نائب پھر قاضی کا نائب اور امداد میں زیلعی کے حوالے سے اسی طرح ہے) پھر محلہ کا امام اھ تلخیصاً۔ اوردر میں ہے حکام کی تقدیم واجب اور محلہ کے امام کی تقدیم فقط مندوب ہے بشرطیکہ وہ ولی سے افضل ہوورنہ ولی اولٰی ہوگا الخ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۴۹)
نوٹ: ہلالین کے اندروالی عبارت ردالمحتار کی ہے اور باہر والی تنویرالابصار کی ہے جو حاشیہ ردالمحتار پر موجود ہے۔
(۲؎ درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۳)
شخص دیگر کا ترک جماعت تو صرف گناہ تھا کہ بعد اعادہ گناہ کبیرہ موجبِ فسق ہوا اور تعزیہ رائجہ بنانے کو اچھا جاننابدعت شیعہ کی تحسین اور حضرت امیر المومنین سیدنا مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کو حضرت شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے افضل بتانا رفض و بد مذہبی، یہی وجوہ اس شخص کے پیچھے نماز کے سخت مکروہ ہونے کو کافی تھا۔خلاصہ وفتح القدیر وہندیہ وغیرہا میں ہے:
ان فضل علیا علیھما فمبتدع ۳؎۔
اگرکوئی شخص سیدنا علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو دونوں خلفاء پرفضیلت دیتا ہے تو وہ بدعتی ہے ۔ت)
(۳؎خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس عشر فی الامامۃ الخ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/۱۴۹)
وہ شیعہ لوگ جوحضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کوشیخین (حضرت ابوبکروحضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما) پر فضیلت دیتے ہیں اور ان پر ہر گز طعن و تشنیع بھی نہیں کرتے مثلاً فرقہ زیدیہ کے لوگ ،تو ان کے پیچھے نماز جائز ہے لیکن سخت مکروہ ۔ (ت)
(۱؎ رسائل الارکان فصل فی الجماعت مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۹۹)
مگر بیان سائل اگرسچّاہے تو حضرات آلِ عبا رضوان اﷲ تعالٰی علیہم کو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا معاذ اﷲ ہمسر وہم مرتبہ بنانا تو خود کفرِ صریح اور دوسراکفر صریح یعنی آلِ عبا کو انبیاء سابقین علیہم الصلاۃ والسلام پر تفصیل کو مستلزم اس تقدیر پر تو امامت کیسی ،وہ شخص اصلاً و قطعاً کسی نماز میں یا عبادت یا نیک کام کی خود لیاقت نہیں رکھتا کہ کفار کا کوئی حسنہ مقبول نہیں بلکہ حقیقۃً اُن سے صدور عبادت معقول نہیں اس صورت میں اس کے پیچھے ترک نماز نہ صرف مناسب بلکہ فرض قطعی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم