(۱۲) جماعت اہم واجبات واعظم شعائرِاسلام سے ہے،توفسق امام کے سبب ترکِ جماعت نہ چاہئے ادائے جماعت کے لئے اس کے پیچھے پڑھ لیں اور دفع کراہت کے لئے اعادہ کر لیں۔
فی الفتح عن المحیط وفی البحر عن الفتاوٰی وفی الدرعن النھرعن المحیط ،صلی خلف فاسق او مبتدع نال فضل الجماعۃ ۲؎ اھ
فتح میں محیط سے،بحر میں فتاوی سے اور درمختار میں نہر سے محیط کے حوالے سے ہے فاسق یا بدعتی کی اقتدا میں نماز ادا کرنے سے جماعت کا ثواب مل جاتا ہے اھ
(۲؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۳)
فی ردالمحتار افاد ان الصّلٰوۃ خلفھا اولی من الانفراد۳؎ الخ ومثلہ فی البحرعن السراج فی الفاسق وفی الفتح ،الحق التفصیل بین کون تلک الکراھۃ کراھۃ تحریم فتجب الاعادۃ اوتنزیہ فتستحب۔
ردالمحتار میں ہے کہ اس سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ اُن کی اقتدا میں تنہانماز پڑھنے سے اولٰی ہے الخ اوربحر میں معراج کے حوالے سے فاسق کے بارے میں یہی رائے ہے اور فتح القدیر میں بھی اسی طرح ہے حق یہ ہے کہ ا س میں تفصیل ہے اگر مکروہ ِ تحریمی ہے تو اعادہ واجب ،اور اگر تنزیہ ہے تو اعادہ مستحب ہے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۵)
بلکہ جب اس کے سوا نہ کوئی امامت کے قابل ہونہ دوسری جگہ جماعت ملے تو اس کے پیچھے کراہت بھی نہ رہے گی
فی الدرھذاان وجد غیرھم والا فلاکراھۃ ،بحر بحثاً ۴؎اھ
درمختار میں ہے کہ یہ کراہت اس وقت ہے جب ان کے علاوہ کوئی دوسرا امام ان سے میسر ہو ورنہ کوئی کراہت نہیں،بحر میں اسی طرح بحث ہے اھ۔
(۴؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۸۳)
قال الشامی قد علمت انہ موافق للمنقول عن الاختیاروغیرہ۵؎۔
امام شامی نے فرمایا کہ آپ نے جان لیا کہ یہ اختیار وغیرہ سے منقول کے موافق ہے۔(ت)
(۵؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۵)
جب یہ مسائل معلوم ہوگئے تو حکمِ مسئلہ منکشف ہوگیا ۔زیدوبکر دونوں کے پیچھے نماز کم سے کم مکروہ تو ضرور ہے،پس اگر کوئی تیسرا قابلِ امامت خالی از کراہت ملے تو اس کی اقتدا کریں،اور اگر کوئی نہ ہو تو اگرچھوٹی چھوٹی بعض سُورتیں جو زید کوخوب صاف وصحیح یاد ہوں۔انہیں پر اکتفا کرنے میں زید سے وہ خرابیاں واقع نہ ہوتی ہوں،ان سین وصاد وغیرہما حروف بھی ٹھیک اداکرلیتا ہو،تو واجب بلکہ لازم ہے کہ ہمیشہ انھیں سورتوں پر قناعت کرے ان کے سوا اورہرگز ہرگز نہ پڑھے جن میں کراہت درکنار نوبت تابہ فساد پہنچے اور جب اس تدبیر سے وہ خرابیاں زائل ہوں تو اس تقدیر پر زید ہی کی امامت رکھیں کہ ہرنماز میںچھوٹی سورتوں پر اقتصار ترک سنّت سہی مگر بعذر قوی ہے، اور عذر دافع کراہت بخلاف بکر کہ اس کے پیچھے بسبب فسق کراہت بلکہ سخت کراہت ہے ، تو زید ہی اولٰی بامامت ہے۔ اگر کوئی سورت زید کو صاف نہیں یاد قصار پراقتصار میں بھی وہی خرابیاں پیش آتی ہیں اگرچہ کم ہوں تو اسے ہرگزامام نہ کیا جائے ،کہ جب پڑے پر کھڑا ،مخفف کو مشدّد ،مشدّد کو مخفف ،س کو ص ،ص کو س پڑھنے کی عادت ہے تو یہ امور ایسی جگہ بھی ضرور واقع ہوں گے جن سے ہمارے ائمہ مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے نزدیک نماز بالکل باطل ہوجائےگی ۔اس کے کوئی معنی نہیں کہ اغلاط کا عادی وہیں غلطی کرے جہاں معنٰی نہ بدلیں اور جہاں فساد معنی ہوتا وہاں نہ کرتا ہو، غلطی اپنے قصد واختیار کی نہیں جہاں چاہی کی جہاں چاہی نہ کی نہ بے علم آدمی یہ سمجھ سکتا ہے کہ کہا ں معنٰی بگڑیں گے کہاں نہیں ،خصوصاً جبکہ س و ص کی تبدیلی بر بنائے عجز ہو کہ عاجز لاجرم کہیں ٹھیک نہ پڑھے گا، اس تقدیر پر اس کے پیچھے نماز اصل مذہب اور تصحیح ائمہ محققین پر فاسد وباطل ہے،اور بحالت ِعجز تو جمہور ائمہ کے نزدیک امامت صحیح خواں کی اس میں اصلاً لیاقت نہیں بلکہ فاسق کے ہوتے ہوئے اس کی خود اپنی نماز نہ ہوگی کہ باوصف قدرت اس نے اس کی اقتداچھوڑ دی ، بخلاف بکر کہ اگر چہ فاسق سہی مگر جبکہ صحیح خواں ہے تو اس کے پیچھے نمازباتفاق اصحاب صحیح ہے۔ رہی کراہت اُس کا علاج اعادہ سے ممکن بلکہ جب دوسرا کوئی قابلِ امامت نہیں تو کراہت بھی نہیں کہ عذر و ضرورت نافی کراہت ہیں۔ اور اسی سبب سے احسن واہم یہ کہ بکر اپنے رب جل وعلا سے ڈرے اپنے حال پر رحم کرے فسق و نافرمانی بادشاہ قہار سے تائب ہوکہ اس کے پیچھے نماز بروقت محبوب و مناسب ہو اگر روزِقیامت کا اندیشہ نہیں تو اس مجلس اسلامی میں صدارت نہ ملنے کی غیرت چاہئے۔آدمی اگر دنیا والوں کے کسی جلسہ میں جائے تو کوشش کرے گا کہ کوئی حرکت ایسی نہ ہو جو لوگ اچھی جگہ بٹھانے کے قابل نہ سمجھیں اور اگر کسی مجلس میں صدر کی جگہ سے ہاتھ پکڑ کر اُٹھادیا جائے کس قدر غیرت آئے گی ندامت ہوگی تو یہ اللہ عزوجل کے دربار میں صدر مقام ہے۔یہاں کیوں نہ غیرت کو کام میں لائیے کہ کارکنانِ بارگاہِ سلطانی صدرجگہ سے ہاتھ پکڑ کر اٹھا نہ دیں ،اﷲ تعالٰی توفیق خیر افیق عطا فرمائے۔آمین واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۹۱: از ریاست رامپور مولوی امداد حسین برادرمولانا ارشاد حسین صاحب ۱۲۹۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام کوئی مستحب ترک کرے تو کیا مقتدیوں پر اس کا ترک بحکم متابعت واجب ہوتا ہے اوردلیل یہ کہ متابعت فرض ہے اور وہ فعل مستحب، اورقاعدہ کلیہ ہے کہ مستحب مزاحم فرض نہیں ہوسکتا۔بینوا توجروا:
الجواب: متابعتِ امام ہرفعل وترک میں علی الاطلاق فرض و واجب کیا معنی مسنون اور مستحب بھی نہیں بلکہ بعض صورتیں خلافِ اولٰی اور بعض میں محض ناجائز ہوتی ہے،
فی ردالمحتار والمتابعۃ لیست فرضا بل تکون واجبۃ فی الفرائض والواجبات الفعلیۃ وتکون سنۃ فی السنن وکذافی غیرھا عند معارضۃ سنۃ وتکون خلاف الاولٰی اذاعارضھاواجب اٰخر اوکانت فی ترک لایلزم من فعلہ مخالفۃ الامام فی واجب فعلی کرفع الیدین للتحریمۃ ونظائرہ وتکون غیرجائزۃ اذا کانت فی فعل بدعۃ اومنسوخ اوما لا تعلق لہ بالصلاۃ اصلا ۱؎ الخ
ردالمحتار میں ہے متابعت ِامام فرض نہیں بلکہ فرائض اور واجباتِ فعلیہ میں واجب ،سُنن میں سنت،اور اسی طرح ان کے علاوہ میں سنت کے معارضہ کی صورت میں اور متابعت خلاف اولٰی ہے جب اس کے ساتھ واجب آخر کا معارضہ ہوجائے ،یا ایسی چیز کے ترک میں جس کے فعل سے واجب فعلی میں امام کی مخالفت لازم نہ آئے مثلاً تحریمہ کے لئے رفع یدین کرنا اور اس کی دیگر نطائر اور متابعت فعل بدعت ،منسوخہ یا ایسے عمل میںجس کانماز سے کوئی تعلق نہ ہو ناجائز ہے الخ(ت)
(۱؎ ردالمحتار مطلب مھم فی تحقیق متابعۃ الامام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۳۴۸)
پھر اگرا س مستحب متروک الامام کے فعل سے کسی واجب فعلی میں مخالفت امام لازم نہ آئے تو اس کا فعل ہی اولٰی اور انسب ہوگا ۔اور وہ مستحب درجہ استحباب سے بھی نہ گرے گا ،چہ جائیکہ بسبب ترک متابعت ،حرام یا ہلکے درجے کا مکروہ ہی ہوجائے ۔کیا اگرامام ادب نظر کی مراعات نہ کرے تو مقتدی بھی آنکھیں پھاڑے دیوارِ قبلہ کو دیکھتے رہیں ، کیا اگر امام بحالتِ قیام پاؤں میں فصل زیادہ رکھے تو مقتدی بھی ٹانگیں چیرے کھڑے رہیں۔ کیا اگرایسا نہ کریں تو بحکم متابعت تارکِ واجب وآثم وگنہگار ہوں گے
لایقول بہ عاقل فضلا عن فاضل
(اس کا قول کوئی عاقل نہیں کرسکتا چہ جائیکہ کوئی فاضل کرے۔ت)اسی قبیل سے ہے عمامہ باندھنا مسواک وغیرہ کرنا '
غیرذلک من الاٰداب والحسنات التی لایستلزم فعلھا مخالفۃ الامام فی واجب فعلی
(اس کے علاوہ آداب و حسنات جن کے بجالانے سے واجب فعلی میں امام کی مخالفت لازم نہیں آتی۔ت) اور یہیں سے ظاہر ہوگئی اس دلیل کی شناعت،اور یہ قاعدہ مسلمہ تعارض واجب وفرض ومستحب مانحن فیہ سے محض بیگانہ اور اس کلیہ دلیل کے صریح ناقص ،نظم زندویسی کی وُہ روایت ہے جسے علامہ ابن امیر الحاج حلبی نےشرح منیہ میں نقل فرمایا :
حیث قال تسعۃ اشیاء اذا لم یفعلھا الامام لا یترکھا القوم رفع یدین فی التحریمۃ و الثناء مادام الامام فی الفاتحۃ وتکبیرالرکوع والسجود والتسبیح فیھما والتسمیع وقرأۃ التشھد والسلام وتکبیرات التشریق۱؎ اھ (ملخصا)
ان کی عبارت یہ ہے کہ نواشیاء ایسی ہیںاگر امام انھیں نہ کرے تو قوم ترک نہ کرے تحریمہ کے لئے رفع یدین ، ثناء کا پڑھنابشرطیکہ امام فاتحہ میں ہو،رکوع کی تکبیر، سجود کی تکبیر ،ان دونوں میں تسبیح ،سمع اﷲ لمن حمدہ کہنا، قرأۃ تشہد،سلام اور تکبیرات تشریق اھ ملخصاً(ت)
(۱؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامام الامۃ مطبوعیہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۲۸)
ف: ابن امیر الحاج کیشرح منیہ مجھے نہیں مل سکی۔نذیر احمد سعیدی
کہ اگر ہر فعل میں متابعت امام فرض ہو، تو جس طرح مستحب مزاحم فرض نہیں ہوسکتا ،سنن بھی بلکہ واجبات بھی صلاحیتِ مزاحمت نہیں رکھتے توان چیزوں میں ائمہ کا یہ حکم کہ اگر امام نہ کرے جب بھی مقتدی نہ چھوڑیں کیونکر صحیح ہوتا
(میں کہتا ہوں تتبع وتلاش نویں حصہ کے منافی ہے لیکن عدد اقل، اکثر کے منافی نہیں اور دوسری طرح گفتگو یوُں ہے۔ت) متابعت امام صرف افعال نماز میں منظور ہے یا جو بات نماز سے کچھ علاقہ نہیں رکھتی اس میں بھی ضرور ہے۔ برتقدیر ثانی اگر امام کھجلائے تو مقتدیوں میں بھی خارش مچ جائے ،اگر امام احیاناً ٹھنڈی سانسیں لے تو مقتدیوں کو بھی دھونکنی لگ جائے ۔اوربرتقدیر اول کیا ترک مستحب بھی افعالِ نماز میں معدودہے جس میں متابعت حتماً مقصود ہے۔
ثمّ اقول: بلکہ اگر نظر دقیق کو رخصتِ تدقیق دی جائے تو اس لزوم متابعت کے سلب کلیت درکنار کلیت سلب واضح اور آشکار ۔
لما ذکرنا انہ لا متابعۃ فی مالا تعلق لہ بالصلٰوۃ وترک المستحب کذلک ومایترا أی من النقص بما اذاااستلزم فعلہ مخالفۃ الامام فی واجب فعلی فانہ ح یجب متابعۃالامام فی ترکہ کما صرح بہ العلماء فلیس ینقص فی الحقیقۃ لانھا انما ھی فی فعل ذالک الواجب ولزم من اتیانہ ترک ھذا المستحب فالامام ترکہ قصداً اوسھواً والمقتدی لایترکہ لمحض ان الامام ترکہ بل لانہ لو فعلہ فاتہ( لو کی جزاء پر لام تاکیدیہ آتا ہے) ماھواھم والزم فصح قولنا لا یلزم المتابعۃ فی ترک المستحب مطلقا ای من حیث ھو ھو فافھم فانہ احری بہ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
اس بنا پر جو ہم نے ذکر کیا کہ ان چیزوں میں متابعت نہیں ہے جن کا نماز سے تعلق نہیں اور ترک مستحب بھی اسی طرح ہے مجھے یہ ظاہر ہو اہے کہ اس صورت کے ساتھ اعتراض درست نہیں کہ جس فعل سے واجب فعلی میں امام کی مخالفت لازم آرہی ہو کیونکہ اس صورت میں امام کی متابعت اس کے ترک میں واجب ہوگی جیسا کہ علماء نے تصریح کی ہے پس یہ حقیقۃً اعتراض ہی نہیں کیونکہ یہ تو فعل واجب کی متابعت کا معاملہ تھا اور اس کے بجا لانے سے اس مستحب کا ترک ہُوا پس امام اگر مستحب کو قصداً یا سہواً ترک کردے تو مقتدی محض اس لئے ترک نہیں کرسکتا کہ امام نے ترک کیا ہے بلکہ وہ اس لئے ترک کر ے گا کہ اگر وہ مستحب کو بجا لاتا ہے تواس سے جواہم اور زیادہ لازم ہے وہ فوت ہوجائے گا ، پس ہمارا قول''مستحب بحیثیت مستحب کے ترک میں امام کی متابعت لازم نہیں '' صحیح ٹھہرا پس اسے اچھی طرح سمجھ لو کیونکہ یہی اس مقام کے لائق ہے۔واﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ نمبر ۵۹۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہابیہ کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کسی مسجد کا امام وہابی المذہب ہو تواس کی اقتدا کرنا بہتر ہے یا اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد میں نماز پڑھنا بینوا توجروا
الجواب :ان دیار میں وہابی اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو اسمٰعیل دہلوی کے پیرو اور اس کی کتاب''تقویۃ الایمان''کے معتقد ہیں یہ لوگ مثل شیعہ خارجی معتزلہ وغیرہم اہلسنت وجماعت کے مخالف مذہب ہیں ان میں سے جس شخص کی بدعت حدِ کفر تک نہ ہو یہ اُس وقت تھا اب کبرائے وہابیہ نے کھلے کھلے ضروریاتِ دین کا انکار کیا اور تمام وہابیہ اُس میں اُن کے موافق یا کم از کم اُن کے حامی یا اُنھیں مسلمان جاننے والے ہیں اور یہ سب صریح کفر ہیں،تو اب وہابیہ میں کوئی ایسا نہ رہا جس کی بدعت کفر سے گری ہوئی ہو خواہ غیر مقلد ہو یا بظاہر مقلّد
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ
(ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور عافیت کو سوال کرتے ہیں۔ت) نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی ہے اور جو اس حد تک پہنچ گئی توا قتدا اس کی اصلاً صحیح نہیں۔
شرح عقائد نسفی میں ہے:
ما نقل عن بعض السلف من المنع عن الصلٰوۃ خلف المبتدع فمحمول علی الکرھۃ اذلاکلام فی کراھۃ الصلٰوۃ خلف الفاسق وامبتدع ھذااذالم یؤد الفسق والبدعۃ الی حد الکفر اما اذا ادی الیہ فلا کلام فی عدم جواز الصلاۃ خلفہ۱؎۔
بعض اسلاف سے یہ جومنقول ہے کہ بدعتی کے پیچھے نماز منع ہے یہ کراہت پر محمول ہے کیونکہ فاسق اور بدعتی کے پیچھے نماز کے مکروہ ہونے میں کوئی کلام نہیں لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ اس کا فسق اور بدعت حدِ کفر تک نہ پہنچے ہوں، اگر حدِ کفر تک پہنچ جائیں تو ان کے پیچھے نماز کا عدم ِ جواز میں کوئی کلام نہیں۔(ت)
(۱؎ شرح عقائد اکنسفیۃ مسئلہ ان الفاسق لیس من اہل الولایۃ مطبوعہ مطبع شرکۃ الاسلام دارالاشاعت قندھار ص۱۱۵)