Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
108 - 185
درمختار میں ہے:
اختار فی البدائع عدم التقدیر وانہ یختلف بالوقت والقوم والامام۱؎
بدائع میں مقدار مقرر نہ کرنے کو پسند کیا ہے اور یہ وقت ،امام اور قوم کے باعث قرأت کاحال مختلف ہوجاتا ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار    فصل ویجہرالامام    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۸۰)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ والامام ای من حیث حسن صوتہٖ وقبحہٖ۲؎۔
قولہ والامام یعنی اس سے امام کی آواز کا اچھا یا برا ہونا مراد ہے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        فصل ویجہرالامام    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۰۰)
توقرآن عظیم کو اپنے اغلاط اور اپنی مقتدیوں کی نماز کو فساد سے محفوظ رکھنا تو اعظم اعذار اور اہم کار ہے۔

(۱۱) فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے بحرالرائق و دُرمختارومعراج الدرایہ ومجتبٰی وغیرہا میں اس کراہت کو تنزیہی اورغنیـہ وفتاوی حجہ ومراقی الفلاح وفتح اﷲ المعین وغیرہا میں تحریمی ٹھہرایا اور یہی کلام امام زیلعی کا مفاد،
کما بیناہ فی رسالتنا النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید وغیرھا من تحریراتنا۔
جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے رسالہ النہی الاکید عن الصلٰوۃ وراء عدی التقلید اور دیگر تحریرات میں کی ہے۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:
ھوکالمبتدع تکرہ امامتہ بکل حال بل مشی فی شرح المنیۃ علی انکراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لما ذکرنا۱؎۔
فاسق بدعتی کی طرح ہے اس کی امامت ہر حال میں مکروہ ہے ، بلکہ شرح المنیہ میں ہے کہ اس کی تقدیم مکروہ تحریمی ہے اس دلیل کی بنا پر جو ہم نے ذکر کردی ۔(ت)
 (۱؎ ردالمختار ،  باب الامامۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۱۴)
Flag Counter