بہتر یہ ہے کہ اختلافی صورت میں متقدمین کے قول کو لیا جائے کیونکہ ان کے قواعد نہایت مضبوط ہیں اور انکے اقوال بہت ہی محتاط ہوتے ہیں اور کتب فتاوٰی کی اکثر فروعات اسی پر مبنی ہیں۔(ت)
(۲؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۷۷)
اُسی میں ہے:
ھذابناء علی مختار المتقدمین وھوالمختار۳؎۔
یہ متقدمین کے قولِ مختار کی بناء پر ہے اور درحقیقت یہی مختار ہے۔(ت)
(۳؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۸۳)
اُسی میں ہے :
ھذا ملخص قاعدۃ المتقدمین وھوالذی صححہ المحققون من اھل الفتاوی کقاضی خان وغیرہ وفرعوا علیہ الفروع فافھم ترشد۱؎۔
یہ قاعدہ متقدمین کا خلاصہ ہے اور اسی کو اہل فتوی محققین مثلاً قاضی خان وغیرہ نے صحیح قرار دیااور اس پر کئی فروعات کی تخریج کی پس اچھی طرح سمجھ لو تو رہنمائی پاؤ گے۔(ت)
(۱؎ غنـیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۹۳)
اگرچہ علمائے متاخرین ان تین میں بھی کہیں بعض کہیں اکثر بغرض آسانی جانب جوازِ نماز گئے اوربکثرت فروع میں ان کے اقوال خود مختلف و مضطرب رہے،
جیسا کہ غنیـہ کے مطالعہ سے اور ان کے فتاوی میں منقول اقوال میں غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے باوجود اصول پر فروعات کے جاری اوررَد ہونے کے ۔(ت)
(۹) س،ص وغیرہما حروف کی تبدیل جس میں آج کل اکثر عوام مبتلا ہیں جب بطور عجز ہو یعنی ص کہنا چاہیں توسہی ادا ہو ص نہ نکال سکیں جیسا کہ یہاں آجکل عوام کا جنہوں نے قواعدِاعداد نہ سیکھے اور اس فرض عین کے تارک رہے یہی حال ہے تو اس صورت میں اگرچہ ان کی اپنی نماز ہوجانے پر فتوی ہے جبکہ سیکھنے پر کوشش کئے جائیں اور جو حرف نہیں نکال سکتے اس سے خالی کوئی صورت یا آیت پاتے ہوئے سوائے فاتحہ ایسا کلام جس میں وُہ حروف آئے ہیں نہ پڑھیں اور صحیح خوان کی اقتدا ملتے ہوئے جُدا نماز ادا نہ کریں مگر یہ حکم صرف اُن کی اپنی نمازان شرطوں کے ساتھ جائز ہونے کے لئے صحیح خواں کی امامت نہیں کرسکتے نہ اُس کی نماز ان کے پیچھے ہوگی یہی مذہب صحیح ہے اور یہی قول جمہور ائمہ ہے جن میںمتاخرین بھی شامل ہیں۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے۔
الراجح المفتی بہ عدم صحۃ امامۃ الالثغ لغیرہ ممن لیس بہ لثغۃ ۲؎۔
راجح اورمفتی بہ قول یہی ہے کہ الثغ (توتلے) کی امامت اس شخص کے لئے جائزنہیں جس میں توتلاپن نہ ہو۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۰)
اُسی میں ہے :
امامۃ الالثغ للفصیح فاسدۃ فی الراجح الصحیح ۳؎۔
الثغ(توتلے) کی امامت فصیح کے لئے راجح اورصحیح قول کے مطابق فاسد ہے۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۰)
اسی میں ہے :
قداباہ اکثر الاصحاب لما لغیرۃ من الصواب۴؎۔
اس کا اکثر علماء نےانکار کیا ہے جبکہ اس کا غیر اس سے بہتر ودرست پڑنے والا موجود ہو۔(ت)
(۴؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۰)
بزازیہ میں ہے :
ان امکنہ ان یتخذ اٰیات خالیۃ عن تلک الحروف فعل والا سکت وان وجداٰیات خالیۃ عن لثغتہ ومع ذلک قرأ ما فیھا لثغتہ لایجوز وعلی قیاس ما ذکرنا فی المسئلۃ الاولی ان بدل حرفا بحرف ولم یقدر لایفسد وبہ نأخذ وکذا المستقین مکان المستقیم الاان غیرہ لایقتدی ۱؎ بہ۔
اگراس کے لئے ممکن ہے تو ایسی آیات پڑھے جو ان حروف سے خالی ہوں ورنہ ساکت رہے اور اگر وہ ایسی آیات (جن میں اس کو توتلاپن نہیں ہوتا) پر قادر ہونے کے باوجود وُہ آیات پڑھتا ہے جن میں توتلا پن ہوتا ہے تو یہ جائز نہیں، اور پہلے مسئلہ میں ہم نے جو کچھ بیان کیا اس پر قیاس کرتے ہوئے اگر اس نے ایک حرف کو کسی حرف کےساتھ بدل دیا اور درست پڑھنے پر قادر نہ ہو تو فسادِنماز نہیں آئے گا،اسی پرہمارا عمل ہے، اسی طرح وہ جس نے مستقیم کی جگہ مستقین پڑھا ، مگر کوئی دوسرا اس کی اقتدا نہ کرے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی بزازیہ مع الفتاوی الہندیہ ، الثانی عشر زلۃ القاری ، مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشارو ۴/۴۴)
غنیـہ میں محیط ،فتاوٰی حجہ ،فتاوی خانیہ وغیرہا کی عبارات لکھ کر فرمایا: الحاصل ان اللثغ یجب علیھم الجھددائما وصلٰوتھم جائزۃ ماداموا علی الجھد ، ولکنھم بمنزلۃ الامین فی حق من یصح الحرف الذی عجزوا عنہ لایجوزاقتدائہ بھم لاتجوز صلٰوتھم اذا ترکوا الاقتداء بہٖ مع قدرتھم وانماتجوزصلاتھم مع قرأۃ تلک الحروف اذا لم یقدروا علی قرأۃ تلک الحروف اذا لم یقدروا علی قرأۃ ماتجوز بہ صلاۃ ممالیس فیہ تلک الحروف واما لوقدروامع ھذا قرأوا تلک الحروف فصلٰوتھم فاسدۃ ایضاً ھذاھوالذی علیہ الاعتماد۲؎۔
الحاصل توتلاپن رکھنے والے پر ہمیشہ تصحیح ِ حروف کی جدوجہد کرنا ضروری ہے اور جب تک ایسے لوگ جدوجہد کرتے رہیں گے ان کی نمازیں درست ہونگی اور حروف کوصحیح ادا کرنے والے کے حق میں امّی کی طرح ہیں لہذا صحیح اداکرنے والے کوان کی اقتداء نہیں کرنی چاہئے اور یہ لوگ صحیح پڑھنے والے کی اقتداء پر قادر ہونے کے باوجود اگراقتدا ترک کریں تو ان کی نماز نہ ہوگی اور ان کی اپنی نماز ان حروف کی قرأت کے ساتھ تبھی ہوگی جب یہ قرآن کے کسی اتنے حصے پر قادر نہ ہوں جتنے میں نماز جائز ہوجائے اور اس حصے میں وہ حروف بھی نہ ہوں اور اگر اتنی قرأت کی قدرت کے باوجود انہی حروف کو پڑھتے ہیںتو بھی ان کی نماز فاسد ہوگی یہ وہ ہے جس پر اعتماد ہے(ت)
(۲؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۸۳)
(۱۰) فجر و ظہر میں طوال مفصل ، عصروعشاء میںاوساط کا پڑھنا اگرچہ سنّت ہے کما نص علیہ فی المتون (جیسا کہ اس پر متون میں تصریح ہے۔ت)مگر نہ ایسا ضروری عذر سے بھی ترک نہ کیاجائے ۔صحیح حدیث سے ثابت کہ ایک بچّہ جس کی ماں شریکِ جماعت تھیں اس کے رونے کی آواز سن کر حضور پُرنور رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فجر کی نماز صرف معوزتین سے پڑھائی ۔علماء یہاں منجلمہ اعذار ملال قوم و بدآوازی امام تک شمار کرتے ہیں کہ کریہہ الصوت ہو توچھوٹی سورتوں پر قناعت کرے تاکہ مقتدیوں کو ناگوار نہ ہو۔