اقول:ھذاھوالموافق لکلام اصحابنا المتقدمین وقاعدتھم الغیر المنخرمۃ المختارۃ للمحققین فلا علیک ممایوجد من خلاف ذلک فی بعض الفروع المنقولۃ عن المتاخرین نعم ماذکر فی الراب فعندی فیہ وقفۃ فانہ القیاس فی اسم فاعل الربوبیۃ وان کان فی الاستعمال بمعنی اخرواھل اللغۃ لایذکرون المشتقات القیاسیۃ ولاھی موقوفۃ علی السماع والا لم تکن قیاسیۃ والقیاس لایردالابالنص علی ھجر انہ لاجرم قال فی تاج العروس ھواسم فاعل من ربہ یربہ ای تکفل بامرہ۱؎ اھ
اقول ( میں کہتا ہوں ) یہ گفتگو ہمارے متقدمین علماء کے کلام اور محققین کے اختیار کردہ ان کے پختہ ضابطہ کے مطابق ہے لہذا متاخرین سے اس کے خلاف جو جزئیات منقول ہیں آپ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں البتہ لفظ رابکے بارے میں جو کچھ ذکر ہُوا اس میں مجھے توقف ہے کیونکہ قیاساً یہ ربوبیت سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اگرچہ کسی دوسرے معنی کے لئے بھی مستعمل ہے اور اہلِ لغت مشتقات قیاسیہ کا ذکر کرتے ہی نہیں اور نہ ہی وہ سماع پر موقوف ہوتے ہیں ورنہ وہ قیاسی ہی نہ رہیں اور قیاس کو اس وقت رَد کیا جاسکتا ہے جب اس کے ترک پر نص ہو۔ لاجرم تاج العروس میں ہے کہ راب ربہ یربہسے اسم فاعل ہے جس کے معنی دوسرے کے معاملے کا کفیل ہونے کے ہیں اھ
(۱؎ تاج العروس من جواہرالقاموس فصل الراء من باب البائ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۲۶۲)
وصحۃ الصلٰوۃ تعتمد علی احتمال معنی صحیح ولوکان ثَم احتمالات فاسدۃ کما نص علیہ ھووغیرہ ففی ردالمحتار عند الاحتمال ینتفی الفساد لعدم تیقن الخطأ ۲؎ اھ
اور صحتِ نماز کا اعتبار صحتِ معنی کے احتمال پر ہوتا ہے اگرچہ وہاں احتمالات ِفاسدہ بھی ہوں ،جیسا کہ اس پر شامی وغیرہ نے تصریح کی ہے۔ردالمحتار میں ہے احتمال کے وقت فساد منتقی ہوجاتا ہے کیونکہ خطا کا یقین نہیں رہتا اھ
(۲؎ ردالمحتار مطلب مسائل زلۃالقاری مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۶۹)
غنیـہ میں ہے تحقیق اس مسئلہ میں یہ ہے کہ کسی طور صحتِ معنی کے احتمال اور عدمِ احتمال پر ہوگا جیسا کہ نے فقہا کا وہ ضابطہ بیان کیا ہے جو ٹوٹنے والا نہیں اھ فافہم ت)
(۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۸۴)
(۷) یونہی مشدّد کو مخفّف ،مخفف کو مشدد پڑھنا فساد معنی میں فساد نماز ہے جیسے ظللنا بتحفیف لام ایاک بتشدد کاف نہیں ورنہ نہیں جیسے ماودعک بتخفیف دال اکبربتشدید راء،
غنیـہ میں ہے کہ جو لفظ مشدّد کو مخفف پڑھنے میں قاعد ہ یہ ہے کہ اسکو مخفف پڑھنے سے اگر معنی میںتبدیلی نہیں آتی،مثلاً قتلو تقتیلاشد کے بغیر پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر معنی بدل جاتا ہے مثلاًرب الفلق وغیرہ میں شد کو ترک کردیا تو عام مشائخ کے ہاں مختار یہی ہے کہ نماز فاسد ہوگی کذافی خلاصہ، اور یہ تفصیل متقدمین کے قول کے مطابق ہے اور پہلے گزر چکا کہ اسی میں زیادہ احتیاط ہے، مخفف کو شد کے ساتھ پڑھنا یامشدد کو مخفف پڑھنا دونوں کا حکم ایک جیسا ہے ۔اسی طرح مدغم کا اظہار یااسکا عکس ہو تو ان تمام صورتوں کا ایک ہی حکم ہے اھ ملخصاً(ت)
(۱؎ غنیـہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۸۸)
اقول: ھکذا فی کتب اخری حکم الفساد بتخفیف الرب وعندی فیہ وقفہ فقد قال فی القاموس قد یخفف۲؎ اھ
اقول : ( میں کہتا ہوں )اسی طرح دیگر کتب میں رب کے مخفف پڑھنے پر فساد ِنماز کا حکم دیا گیا ہے اور میرے نزدیک اس میں توقف ہے ،کیونکہ قاموس میں ہے کہ اس میں کبھی کبھی تخفیف کی جاتی ہے اھ
(۲؎ القاموس المحیط فصل الراء من باب الراء مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۷۲)
ونقلہ الصاغانی عن ابن الانباری وانشد المفصل ؎
اسے صاغانی نے ابن الانباری سے نقل کیا ہے اور مفضل نے یہ شعر کہا ہے: ؎
وقـد علـم الاقـوام ان لیـس فــوقــہ
رب غیر من یعطی الحـظوظ ویرزق۳؎
نقلہ فی لسان العرب وغیرہا کما فی التاج۔
ان اقوام نے یہ جان رکھاہے کہ ان سے اوپر رب کے سوا کوئی نہیں جو رزق اور نعمتیں عطا کرے۔
تاج العروس کے مطابق یہ شعرلسان العرب میں وغیرہا میں منقول ہے۔(ت)
(۳؎ تاج العروس من جواہر القاموس فصل الراء من باب الباء مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۲۶۰)
(۸) س ص وغیرہما حروف کی باہم تبدیل میں بھی فساد معنی ہی پر لحاظ ہے بحالت عدم فساد نماز فاسد نہیں خصوصاً جب خاص لفظ زبان عرب میں دونوں طرح ہو جیسےصراط و سراط وہ تبدیل کسی قاعدہ عرب کے موافق ہو جیسے وہ ہر کلمہ جس میں سین کے بعد ط مہملہ یا غین معجمہ یا ق یا خ معجمہ واقع ہو اس سین کو ص پڑھنا صحیح ہے بعض نے قبل وبعد کی قید نہیں لگائی اور ت کی معیت میں بھی سین اور صاد کی باہم تبدیل دونوں جانب سے جائز بتائی ،بعض نے کہا جس کلمہ میں کے ص بعد ط مہملہ یا غ معجمہ یا سین کے بعد ق یا خ معجمہ ہو وہاں ان میں ہر ایک کے عوض دوسرا اور زمعجمہ بھی جائز ،
اور جس ص کے بعد د مہملہ ہو اگر ص ساکن ہے تو اس کی جگہ س یا ز روا اور متحرک ہے تو ناجائز و مفسد نماز ،
قنیہ میں ہے :
متی سألت جار اﷲ عمن قرأ وصطاً او اصبغ او صقر او مصخرات بالصاد مکان السین فقال لا تفسد لان کل کلمۃ وقع فیھا بعد السین طاء اوغین اوقاف اوخاء جازان یبدل السین صادا ۱؎اھ۔
جار اﷲ سے جب میں نے پوچھا کہ کوئی شخص وسطاً کو وصطاً ،اسبغ کو اصبغ ، سقر کو صقر اور مسخرات کو مصخرات س کی جگہ ص پڑھتا تواسکا کیاحکم ہے؟ فرمایا نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ ہر وُہ کلمہ جس میں سین کے بعد طاء ، غین ، قاف یا خا آجائے تو اس سین کو صاد کے ساتھ بدلنا جائز ہے(ت)
وضبط الحروف فقال کل کلمۃ وقع فیھا بعد السین طاء مھملۃ او غین معجمۃ اوقاف اوخاء معجمۃ جازان یبدل فیھا السین صادا۔۲؎
اور حروف کا ضابطہ اس کے متعلق فرمایا ہر وہ کلمہ جس میں سین کے بعد ط مہملہ یا غین معجمہ یا ق یاخ معجمہ واقع ہو وہاں سین کو صاد کے ساتھ بدلنا جائز ہے ۔(ت)
المبتغی میں ہے وہ شخص جس نے صاد کی جگہ سین پڑھا وہاں غور کیا جائے اگرصاد کی بعد طاء مہملہ ہے مثلاً صراط، یا اس کے بعد غین معجمہ ہو مثلاً واصبغ یا کسی کلمہ میں س کے بعد ق ہو جیسے سلقوکم ،یااس کے بعد خاء معجمہ ہو جیسے یسخرون،تو ایسی صورت میں س کی جگہ ص یازپڑھنا جائز ہوگا،لیکن اگر ص کے بعددمہملہ ہو تواگر صاد ساکن ہو مثلاً یصدر تو اسے سین یا زاء پڑھنا جائز، اور اگر صاد متحرک ہے جیسے الصمد تواب اسے سین پڑھنا جائز نہیں ،اگر کسی نے سین پڑھا توا س کی نمازفاسد ہوجائے گی ،اسی ضابطہ پر بہت سے مسائل کی تخریج ہوتی ہے انتہی(ت)
(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
خانیہ میں ہے :
عن ابی منصور العراقی کل کلمۃ فیھاعین اوحاء اوقاف اوطاء اوتاء وفیھا سین اوصاد فقرأ السین مکان الصاداو الصاد مکان السین جاز اھ ۲؎۔
ابو منصور عراقی کہتے ہیں ہر وہ کلمہ جس میں عین ،حاء ،قاف،طاء یا تاء ہو اس کلمہ میںسین یاصاد ہو توایسی صورت میں اگر کسی نے صاد کی جگہ سین یا سین کی جگہ صاد پڑھا تو جائز ہوگااھ (ت)
(۲؎ فتاوی قاضی خان فصل فی قرأۃ القرآن خطاء مطبوعہ نولکشور لکھنو، ۱/۶۸)
اقول: (میں کہتا ہوں) خانیہ مطبوعہ کلکتہ۱۸۳۵ میلادیہ میں یوں ہی عین مہملہ اورحاء مہملہ دونوں کا ذکر ہے، اسی طرح غنیہ مطبوعہ استنبول ۱۲۹۵ھ میں ہے، اور بزازیہ مطبوعہ مصر ۱۳۱۰ھ میں بھی اسی طرح کے الفاظ ہیں، مگرخانیہ مطبوعہ مصر سنِ مذکورہ میں خاء معجمہ اورعین مہملہ کا ذکر ہے، اور یہ اس کے مطابق ہے جوعلّامہ خفاجی نے عنایۃ القاضی حاشیہ بیضاوی مطبوعہ مصر۱۲۸۳ھ میں اﷲ تعالیٰ کے ارشاد گرامی الصراط المستقیم کے تحت لکھا ہے وہ فرماتے ہیں کہ اس مقام پر بلکہ ہر وہ مقام جہاں اس کے عین ،خاء معمہ یاقاف ہو وہاں سین کوصاد کےساتھ بدل کر پڑھنا لغتِ قریش ہے اور یہ مستعمل ہے اھ قنیہ اورحلیہ کے حوالے سے جوکچھ تفصیلاً گزرا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب معجمہ ہوں،پس اسے اچھی طرح محفوظ کرو(ت)۔
پچھلے تین مسائل میں کہ بحالتِ فسادِمعنی فسادِنماز کا حکم ِمذکور ہمارے امام صاحب مذہب اور ان کے اتباع ائمہ متقدمین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا مذہب تھا اور وہی احوط و مختار ہے اجلّہ محققین نے اُسی کی تصریح فرمائی
ومعلوم ان الفتوی متی اختلف وجب الرجوع الی قول الامام کما نص علیہ فی البحروالدر وحواشیہ وغیرھا من اسفارالکرم۔
اور یہ بات معلوم ہے کہ جب اختلاف ہوتو فتوٰی میں قولِ امام کی طرف رجوع کیاجائے گا جیسا کہ اس پربحر ، در اور دیگر مبارک کتب میں تصریح موجود ہے(ت)