فی القنیۃ قع حم قرأوتعال جدک بغیریاء لاتفسد وعن جار اﷲ مثلہ لان العرب یکتفی بالفتحۃ عن الالف اکتفاء ھم بالکسرۃ عن الیاء ولوقرأ اعذباﷲ لاتفسدصلاتہ ایضا لاکتفائھم بالضمۃ عن الواو۳؎۔
قنیہ میں ہے قع حم کے ہاں اگر کسی نے تعالٰی جدک یاء کے بغیرپڑھا تو نماز فاسد نہ ہو گی اور جاراﷲ سے بھی یہی منقول ہے کیونکہ اہلِ عرب الف کی جگہ فتحہ پر اکتفا کرلیتے ہیں جیسا کہ یاء کی جگہ کسرہ پر اکتفاء کرتے ہیں اور اگر اعوذ باﷲکی جگہ اَعُذُ باﷲ پڑھا تو بھی نمازفاسدنہ ہوگی کیونکہ اہلِ عرب واو کی جگہ ضمہ پر اکتفاء کرلیتے ہیں۔(ت)
(۳؎ قنیہ فتاوٰی قنیۃ باب فی حذف الحرف والزیادہ المطبعۃ المشتہرہ بالمہانندیۃ ص۶۳)
عک وجار اﷲ والصلاوات لاتفسد وکذا لو قرأ وطور سنین بحذف الیاء لا تفسد عک ولو قرء نَسْتَعِنُکَ اوْونُؤمِینُ بک لاتفسد ۱؎ اھ
عین الائمہ کرابیسی اور جار اﷲ زمخشری کے نزدیک اگر کسی نے والصلاوات پڑھااور اسی طرح اگر کسی نے وطورسنین یاء کوحذف کرکے پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی۔ عین الائمہ کرابیسی کے نزدیک اوراگر '' نستعینک ' ' یا ''ونؤمین بک''پڑھاتو نماز فاسد نہ ہوگی اھ
(۱؎ قنیہ ، فتاوٰی قنیۃ باب فی حذف الحرف والزیادۃ مطبعۃ مشتہرۃ بالمہانندیۃ ص۶۳)
وفی الغنیۃ اذاکان الحذف علی وجہ الترخیم الجائز فی العربیۃ نحوان یقرأ یا مالک بحذف الکاف فلا تفسد اجماعاوکذا اذالم یکن من اصول الکلمۃ کما اذا اقرأ الواقعۃ بغیرھاوکذا ان کان من الاصول و لم یتغیر المعنی کان یقرأ تعالٰی جد ربنا باللام مع حذف الیاء فی تعالٰی لا تفسد بالاتفاق۲؎ اھ
اور غنیـہ میں ہے اگر حذف بطورترخیم ہو جو اہل عرب کے ہاں جائز ہے مثلا یامالک کے کا ف کو حذف کرکے پڑھا تو بالاتفاق نمازفاسدنہ ہوگی اسی طرح جب وہ حرف کلمہ کے اصلی حروف میں سے نہ ہو مثلاً لفظ الواقعہ کو ہاء کے بغیر پڑھااسی طرح اگروہ حرف کلمہ کے حروف اصلی میں سے ہو مگر معنٰی میں تبدیلی نہ آئے مثلاً تعالٰی جدّ ربّنامیںتعالی کے یاء کوحذف کرکے صرف لام کے ساتھ پڑھا تو بالاتفاق نماز فاسد نہ ہوگیاھ(ت)
(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۸۵)
ان چاروں باتوں سے اگرچہ فساد نماز نہیں مگر کراہت ضرور ہے کہ آخر قرآنِ عظیم کا غلط پڑھنا ہے یہاں تک کہ علمائے کرام نے فرمایا :مد کا ترک حرام ہے۔توکھڑے کو پڑاپڑھنا بدرجہ اولی حرام ہوگا اس میں توجوہر لفظ میں کمی ہوگئی بخلاف مدکہ امرزائد تھا،
فی الدرعن الحجۃ فی النفل لیلا،لہ ان یسرع بعد ان یقرأکمایفھم۳؎اھ
درمختار میں الحجہ کے حوالے سے ہے کہ رات کے وقت نوافل میں اتنا تیز پڑھ سکا ہے کہ پڑھا ہوا سمجھا جاسکے اھ
(۳؎ درمختار فصل ویجہر الامام الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۸۰)
قال السید ان العلامتان الطحطاوی والشامی قولہ کما یفھم ای بعد ان یمد اقل مدقال بہ القراء والاحرم لترک الترتیل الماموربہ شرعا۴؎۔
ہمارے دونوں سید علامہ طحطاوی اورشامی فرماتے ہیں اس کا قول کمایفھم سے مراد یہ ہے کہ وہ مدکی کم ازکم مقدارضروری ہے۔یہ بات قراء نے بتائی ہے ورنہ یہ عمل حرام ہوگا کیونکہ اس میں اس کا ترتیل کا ترک لازم آتا ہے جس کا شرعاً حکم ہے۔(ت)
(۴؎ ردالمحتار فصل و یجہرالامام الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۰۰)
یوں ہی تصریح فرماتے ہیں کہ جو شخص وقف ووصل کی رعایت نہ رکھتا ہو اُسے امام نہ ہونا چاہئے۔
فی الھندیۃ عن المحیط من یقف فی غیر مواضعہ ولایقف فی مواضعہ لاینبغی لہ ان یؤم ۱؎۔
ہندیہ میں محیط کے حوالے سے ہے کہ وُہ شخص جو غیر وقف کی جگہ وقف کرے اوروقف کی جگہ وقف نہ کرے اسے امام نہیں ہونا چاہئے۔(ت)
(۱؎ فتاوی ہندیہ الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماماً لغیرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۸۶)
(۶) پڑے کو کھڑا پڑھنے سے اگرمعنی فاسد نہ ہوں جیسےاتلُ ادعُ یرضَہ لم یخشَ وَانہ لاتأسَ علیہ لاتمشِ یعبادکو اتل، ادع، یرضٰہ لم یخشٰ وانہ لا تاس علیہ، لا تمشٖ ٰیعبادٖ پڑھنا تو نماز فاسد نہ ہوگی۔
فی الغنیۃ ان زادحرفا ان لم یغیرالمعنی بان قرأ وَاْمُر بالمعروف وانھی عن المنکر بزیادۃ الالف فی اللفظ بعد الھاء لاتفسد۲؎ اھ ملخصا۔
غنیـہ میں ہے اگر کسی نے ایسے حرف کا اضافہ کیا جس سے معنی میں تبدیلی نہ آئے مثلاً وأمر بالمعروف وانہی عن المنکر میں ہا کے بعد الف پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اھ ملخصاً۔(ت)
(۲؎ غنیـۃ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۸۴)
ورنہ فاسد،
کما قدمنا عن الخانیۃ وفی الدرومنھا ای من المفسدات القراء ۃ بالالحان ان غیر المعنی ۳؎ الخ
جیساکہ ہم پہلے خانیہ حوالے سے بیان کرچکے ہیں اور درمختار میں ہے مفسدات ِ نماز میں قراء ۃ بالالحان بھی ہے بشرطیکہ معنی تبدیل ہوجائے الخ
(۳؎ درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۹۰)
فی ردالمحتار قولہ ان غیرالمعنی کمالو قرأ الحمدﷲ رب العٰلمین واشبع الحرکات حتی اتی بواو بعد الدال وبیاء بعد اللام والھاء وبالف بعد الراء ومثلہ قول المبلغ رابنا لک الحامد بالف بعد الراء لان الراب ھوزوج الام کمافی الصحاح والقاموس وابن الزوجۃ یسمٰی ربیبا اھ ۴؎۔
ردالمحتار میں ہے کہ ماتن کے قول ان غیرالمعنی کی مثالیں یوں ہیں کہ الحمد ﷲ رب العٰلمین میں اگر کسی نے حرکات میں اشباع کیا وہ یوں کہ دال کے بعد واو ،لام اور ہاء کے بعد یا اور راء کے بعد الف پیدا ہوگیا اسی طرح ہے مکبر کا قول ''رابنا لک الحامد''یعنی راء کے بعد الف پڑھ دیا کیونکہ راب ماں کے شوہر کوکہا جاتا ہے جیسا کہ صحاح اورقاموس میں ہے، اور زوجہ کے بیٹے کو ربیب کہا جاتا ہے اھ (ت)
(۴؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۶۶)