Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
104 - 185
بکر جیسا کہ اپنے دیگر اقوال وافعال مذکورہ سوال کے باعث خاطی و بزہ کار اور اس بھینٹ کے سبب بدترین و ناپاک ترین اشرار، یوں ہی اس امامت میں بھی کہ بنا راضی مقتدیان ہے مخالف شرع و گنہگار ہے۔

حدیث پاک میں ہےحضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لعنھم اﷲ من تقدم قوما وھم لہ کارھون وامرأۃ باتت وزوجھا علیھا ساخط ورجل سمع حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح فلم یجب ۲؎۔رواہ الحاکم فی المستدرک۔
تین شخص ہیں جن پر اﷲ تعالٰی کی لعنت ہے ایک وہ کہ لوگوں کی امامت کو کھڑا ہوجائے اور وُہ اس سے ناخوش ہوں، دوسری وہ عورت کہ رات گزارے اس حالت میں کہ اس کا شوہر اُس سے ناراض ہے، تیسرا وہ شخص کہ حی علی الصلٰوۃ وحی علی الفلاح سنے اور نماز کو حاضر نہ ہو۔ اسےحاکم نےمستدرک میں روایت کیا ۔(ت)
 (۲؎ الزواجر عن اقتراف الکبائر     بحوالہ مستدرک الکبیرۃ السادسۃ والثمانون    دارالفکر بیروت    ۱/۲۳۹)
خصوصاً ایسی امامت تو اور بھی سخت ہے کہ بلاوجہ شرعی امامِ متعین کا منصب چھین کر جبراً لوگوں کی امامت کرے ائمہ دین نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ،ابن حجر مکی زواجرعن اقتراف الکبائر میں فرماتے ہیں:
الکبیرۃ السادسۃ والثمانون امامۃ الانسان لقوم وھم لہ کارھون،عدھذا من الکبائر مع الجزم بہ وقع لبعض ائمتنا وکانہ نظر الٰی مافی ھذہ الاحادیث وھو عجیب منہ ، فان ذلک مکروہ نعم ان حملت تلک الاحادیثعلی من تعدی علی وظیفۃ امام راتب فصلی فیھا قھرا علی صاحبھا وعلی المامومین امکن ان یقال حینئذ ان ذلک کبیرۃ لان غصب المناصب اولی بالکبیرۃ من غصب الاموال المصرح فیہ بانہ کبیرۃ اھ ۱؎ ملخصا۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
چھیاسیواں کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی کا ان لوگوں کی امامت کروانا جو اسے پسند نہ کرتے ہوں اس عمل کو ہمارے بعض ائمہ نے بالجزم کبائر میں شمارکیا ہے،شاید انہوں نے یہ اُن احادیث کی روشنی میں کیا ہو لیکن یہ عجیب ہے کیونکہ یہ عمل مکروہ ہے البتہ ایک صورت ایسی ہے جب ان احادیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے جس نے مقرر امام پر زیادتی کی اور اس پر مقتدیوں پر جبراً اپنی امامت کو مسلط کیا تو اس وقت کہا جاسکتا ہے کہ یہ عمل کبیرہ گناہ ہے کیونکہ مناصب کا غصب کرنا بطریق اولٰی کبیرہ ہے اس غصب سے جو مال کاہو جس کے کبیرہ ہو نے پر تصریح موجود ہے اھ ملخصاً(ت)
 (۱؎ الزواجر عن اقتراف الکبائر         الکبیرۃ السادسہ والثمانون    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۱/۲۴۰)
مسئلہ نمبر ۵۸۹: ازکلکتہ دھرم تلا نمبر۶     مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب    ۵ جمادی الآخری ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوامام نماز پڑھانے پر نوکر ہے اس کی اقتداء کی جائے یا جماعت ترک کی جائے؟ بینواتوجروا
الجواب: قطعاً اقتداء کی جائے اس عذر پر ترکِ جماعت ہرگز جائز نہیں، متقدمین کے نزدیک جو اُجرت لے کر امامت کرنے والے کے پیچھے نماز میں کراہت تھی اس بنا پر کہ اُن کے نزدیک امامت پر اُجرت لینا ناجائز تھا وہ بھی ایسی نہ تھی جس کے باعث ترکِ جماعت کا حکم دیا جائے ،اب کہ فتوٰی جواز اجرت پر ہے تو وہ کراہت بھی نہ رہی طحطاوی میں زیرِ قول درمختارتکرہ خلف من ام باجرۃ قھستانی(اس شخص کے پیچھے نماز مکروہ ہے جو اُجرت لے قہسانی۔ت) فرمایا:
ھذا مبنی علی بطلان الاستئجار علی الطاعات وھی طریقۃ المتقدمین والمفتی بہ جوازہ خوف تعطیل الشعائرحلبی وابومسعود۲؎۔
یہ حکم اس پر مبنی ہے کہ عبادات پر اجرت لینا جائز نہیں (باطل ہے) اور یہ متقدمین کا طریقہ تھا اب مفتٰی بہ قول یہ رہے کہ اُجرت لینا جائز ہے ورنہ شعائر اسلامی کے معطل ہونے کا خوف ہےحلبی ومسعود (ت)
 (۲؎ حاشیہ الطحطاوی        باب الامامۃ    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۱/۲۴۴)
اسی طرح ردالمحتار وغیرہا میں ہے واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ نمبر ۵۹۰: ازمارہرہ مطہر ضلع ایٹہ مرسلہ سیّد ظہور حیدر میاں صاحب    ۱۱جمادی الآخری ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو بہت رکوع اور سورتیں یاد ہیں جن سے وہ نماز پڑھاتاہے مگر اسے کھڑے پڑے مدوشد وقف رہاؤ پر چنداں خیال عبور نہیں اپنے نسیان کی وجہ سے مجبور ہے حافظ یاقاری کو سنا کر صاف بھی کرتا ہے تاہم بڑے رکوع یا سُورت نقصان حافظہ یا کمی علم عربی قواعد قرأت کے سبب امور مذکورہ کا خیال نہیں رہتا ہاں چھوٹے رکوعوں سورتوں پر اکتفا کرے تو کسی قدر عبوررہ سکتا ہے مگر صبح وعشاء وغیرہ میں جوطوال اوساط کا حکم ہے اُس کی رعایت نہ ہوگی زید سین وصاد میں بھی غلطی کرتا ہے اس صورت میں زید کی امامت درست ہے یا مکروہ؟ اورکھڑا پڑا ادا نہ ہونے سے نماز تو مکروہ نہ ہوگی اور اگرہر نماز میں قصار پر قناعت کرے تو کیا حکم ہے؟ دوسراشخص بکر ہے جو تمام امورِ قرأت حسبِ قواعد ملحوظ رکھتا ہے مگر بوجہ اپنے کسی فعل ناجائز مثل نشہ ممنوع شرعی میں معلن ہونے کے امامت سے انکار کرکے زید کو جو بوجہ غلطی سین و صاد وعدم رعایت امور مذکورہ معذور ہے امام کرنا چاہتا ہے اور خود انکار کرتا ہے ایسی صورت میں اس کا اپنی امامت سے انکاراور زید کو امام کرنا درست ہے یا نہیں اور ان دونوں میں لائق امامت کون ہے ؟بینواتوجروا
الجواب: اس مسئلہ میں جواب سے پہلے چند مسائل کا معلوم کرنا ضرور:

(۱) وقف کی غلطی کہ وصل کی وقف،وقف کی جگہ وصل کرے۔یہ اصلاً مفسدِنماز نہیں اگرچہ وقف لازم پر نہ ٹھہرے
کما نص علیہ فی الھندیۃ وفی المنیۃ وشرحہا للعلامۃ الحلبی الوقف فی غیر موضعہ و الابتداء من غیر موضعہ لایوجب فساد الصلٰوۃ عندعامۃ علمائنا (الٰی ان قال بعد ذکر الامثلۃ) فالصحیح عدم الفساد فی ذلک کلہ لماتقدم ولانہ نظم القراٰن ۱؎ اھ ملخصا
جیسا کہ ہندیہ،منیہ اور اس کی شرح للعلامہ حلبی میں تصریح ہے کہ ہمارے اکثر علماء کے نزدیک غیر وقف کی جگہ وقف اور غیر شروع کی جگہ شروع کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی (آگے چل کر مثالیں ذکر کرنے کے بعد کہا)صحیح یہ ہے کہ ان تمام صورتوں میں فساد نہیں، اس دلیل کے پیشِ نظر جو گزرچکی اوراس لئے کہ یہ نظمِ قرآن ہیں اھ ملخصاً (ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل زلۃالقاری    مطبوعہ عہیل اکیڈمی لاہور        ص ۴۸۰)
 (۲) جن حروف پر مد ہے جیسے جآء ،تنوٓء ،جآء،  یآ یھا، قالوٓا انا، فیٓ ایّام، دآبۃ، آمین (وہاں مد نہ کرنا بھی اصلاً مفسد نہیں،
فان ذلک من محسنات التجوید ولادخل لہ فی المعنی بل فی اللفظ ایضا بحیث یتغیربترکہ اللفاظ فضلا عن المعنی۔
کیونکہ یہ حسنِ تجوید میںسے ہے اس کا معنی میں بلکہ الفاظ میں بھی کوئی دخل نہیں کیونکہ اس کے ترک سے الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی چہ جائیکہ معنی میں تبدیلی آئے(ت)

(۳) جن حروف مد یا لین پر مد نہیں مثلاً قال یقول قیل قول خیر۔ان پر بھی موجب فساد نہیں جبکہ حد سے زیادہ نہ ہوں ،ہاں حد سے متحاوز ہو جیسے گانے میں زمزمہ کھینچا جاتا ہے توآپ ہی مطلقاً مفسد ہے اگر چہ مد ہی کی جگہ ہو،
فی الخانیۃ لوقرألقراٰن فی صلاۃ بالحان ان غیرالکلمۃ تفسد صلٰوتہ لما عرف فان کان ذلک فی حروف المد واللین وھی الیاء والالف والواو  لایغیر المعنی الا  اذا  فحش ۱؎اھ
خانیہ میں ہے اگر نماز میں الحان کے ساتھ قرآن پڑھا اگر کلمہ میں تبدیلی آگئی تونماز فاسد ہوجائے گی جیسا کہ معروف ہے  پس اگر وہ الحان حروف مد اور لین میں ہو  جو کہ یاء ،الف اور واؤ ہیں تو معنی میں تبدیلی نہیں ہوگی البتہ اس صورت میں آئےگی جب وہ حد سے متجاوز ہو اھ۔
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان ،  فصل فی قرأۃ القرآن خطاء، مطبوعہ نو لکشور  لکھنؤ ، ۱/۷۵)
فی ردالمحتار قولہ بالالحان ای بالنغمات وحاصلھا کما فی الفتح اشباع الحرکات لمراعات النغم۲؎۔
ردالمحتار میں ہے قولہ بالالحان یعنی نغمہ کے ساتھ پڑھنا اوراس کا حاصل فتح کے مطابق نغمہ کی رعایت کی خاطر حرکات میں اشباع کرنا ہے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        باب ما یفسد الصلٰوۃ الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۶۶)
Flag Counter