اعرابی،نابینا اور غلام کی امامت جائز ہے البتہ مکروہ ہے اھ ملخصاً(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ ، الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ ، مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور، ۱/۸۵)
بحر میں ہے:
کراہت تنزیہہ ۔خانیہ میں ہے:
غیرھم اولی
(ان کے علاوہ اولٰی ہے ۔ت)
حضرت عتبان بن مالک انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ باجازت حضور پُر نور سیّد المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اپنی قوم کی امامت فرماتے ،
فی الصحیحین واللفظ لمسلم عن ابن شھاب ان محمود بن الربیع الانصاری حدثہ ان عتبان بن مالک وھومن اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ممن شھد بدرامن الانصار انہ اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یارسول اﷲ انی قد انکرت بصری وانا اصلی لقومی ۲؎ الحدیث فی اتیانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الٰی بیتہ وصلاتہ فیہ لیتخذہ مصلی۔
بخاری و مسلم میں ہے اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ محمود بن الربیع انصاری سے مروی ہے کہ حضر ت عتبان بن مالک جو انصاری اور بدری صحابیِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں وہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے عرض کیایا رسول اﷲ ! میری آنکھیں جواب دے گئی ہیں حالانکہ میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں الی آخر الحدیث تو آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے نماز ادا فرمائی تاکہ وہ اس جگہ کواپنی نماز کی جگہ بنالیں۔(ت)
(۲؎ صحیح مسلم ، باب الرخصۃ فی التخلف الخ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی،۱/۲۳۳)
حضرت ابن ام مکتوم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے سفر کو تشریف لیجاتے وقت دوبار مدینہ طیبہ پر نیابت عطا فرمائی کہ باقی ماندہ لوگوں کی امامت کرتے،
قلت اخرج احمد وابوداؤد عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استخلف ابن ام مکتوم علی المدینۃ مرتین یصلی بھم وھو اعمی ۱؎۔
میں کہتا ہوں امام احمد اورابو داؤد نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت ابن ام مکتوم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو دومرتبہ مدینہ طیبہ میں اپنا خلیفہ مقرر فرمایاحالانکہ وہ نابینا تھے۔(ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل مروی از مسند انس بن مالک مطبوعہ دارالفکر بیروت ، ۳/۱۹۲
سنن ابو داؤد باب امامۃ الاعمٰی مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۸۸)
علماء فرماتے ہیں انھیں امام مقرر کرنے کی یہی وجہ ہے کہ حاضرین میں سب سے افضل یہی تھےبحرالرائق میں ہے:
قید کراھۃ امامۃ الاعمٰی فی المحیط وغیرہ بان لایکون افضل القوم فان کان افضلھم فھو اولی وعلی ھذا یحمل تقدیم ابن ام مکتوم لانہ لم یبق من الرجال الصالحین للامامۃ فی المدینۃ احد افضل منہ حینئذ ولعل عتبان بن مالک کان افضل من کان یؤمہ ایضاً اھ ۲؎
محیط وغیرہ میں امامتِ اعمٰی کے مکروہ ہونے کے لئے یہ قید لگائی گئی ہے کہ وہ اعمٰی اس قوم سے افضل نہ ہو، اگر وہ دوسروں سے افضل ہے تو وہی بہتر ہوگا،اورحضرت ابنِ مکتوم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تقدیم کو بھی اسی بات پر محمول کیا جاتا ہے کہ اس وقت مدینہ منورہ میں ان سے بڑھ کر امامت کا اہل کوئی نہیں تھا ،ممکن ہے حضرت عتبان بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ بھی دوسرے لوگوں سے افضل ہوں۔
قلت وقد سمعت انہ کان من الاصحاب البدریین رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین فان لم یکن فی من کان یؤمھم من شھد بدراکان افضلہم بالیقین۔واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔
قلت (میں کہتا ہوں ) آپ نے سن لیا ہے کہ وہ اصحاب بد رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین میں سے تھے اگر ان کے مقتدیوں میں کوئی بھی اصحاب بدر میں سے نہ تھا تو وہ بالیقین ان سے افضل ہوئے(ت)
مسئلہ نمبر ۵۸۵ ، ۵۸۸: از شاہجہانپور محلہ بابوزئی مرسلہ شاہ فخر عالم صاحب قادری ۲۲ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ مسجد میں بحکم والی ملک(زید) جو حافظ قرآن و متشرع ہے قدیم سے خدمت ِ امامت بجالاتا ہے اور اس کی تنخواہ پاتا ہے لیکن بکر جو دوسرے سرشتہ کا ملازم ہے اور اس کے پاس باوجود یکہ کوئی حکم فسخ امامت کا زید کانہیں ہے اور نہ بکر کو حکم امامت کا والی ملک کے یہاں سے ملا اور عموماً مقتدیان بکر کی امامت سے بوجوہاتِ ذیل نارضامند ہیں:
(۱) یہ کہ بکر بعض اوقات رقصِ طوائف دیکھ لیتا ہے۔
(۲) کفار و مشرکین کے میلوں ٹھیلوں اور دیوالی کی شب جو ہنود میں صورت لچھمن کی ہوتی ہے اور خبائث دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی ہے شریک ہوکر بھی سب کے ساتھ مہورت کا روپیہ چڑھاتا ہے اور علاوہ تنخواہ اپنی مقررہ کے خلاف حکم لوگوں سے نذرانہ بھی لیتاہے۔
(۳) محفل میلادِ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اور قیام کو بدعت سیئہ بتلاتا ہے اور محفل یاز دہم حضرت غوث الثقلین محبوب سبحانی کرنے اور پڑھنے والے بدعتی اور گنہگار کہتا ہے اور شیرنیِ محفل میلاد کو برا جانتاہے ۔
(۴) شرفا و نجبا کی توہین اور غیبت کو فخر سمجھتا ہے اور مولوی ابو المنصور صاحب دہلوی کی نسبت جو امامِ وقت کہے جاتے ہیں ان کی تصنیف پر جو سب علماء دیکھ چکے ہیں اور کوئی حر ف زن نہیں ہوا مگربکر نے فتوی کفر دے دیا ہے پس مقتدیان وغیرہ کے دلوں میں جو بکر کی طرف سے بوجوہات بالاکراہت آگئی ہے اس واسطے بکر نماز نہ پڑھنے میں کوئی حر ج تو نہیں ہے اور بکر اپنی امامت کے باعث مقتدیان وغیرہ کو تارکِ جماعت دیکھتا مگر پھر بھی اپنی امامت نہیں چھوڑتا اور اس کے امام حکمی کو جس کا ذکر اوپر آچکا امامت کرنے کا موقع نہیں آنے دیتا پہلے خود امام بن جاتاہے توبکر کس گناہ کا مرتکب کہا جائے گا،فقط،بینوا تو جروا۔
الجواب: صورۃ مستفسرہ میں بکر کا فاسق فاجر مرتکب کبائر بدعتی گمراہ خائب و خاسر ہونا تو بداہۃً ظاہر اور اگر لچھمن کو روپیہ معاذ اﷲ بطور عبادت بھینٹ چڑھایا ہے تو قطعاً یقیناً مرتد کافر اور اس فعل ملعون کے بدترین فسق و فجور قریب بکفر ہونے میں تو کلام ہی نہیں بہرحال اُس کے پیچھے نماز نہ پڑھنے میں کیا حرج ہوتا بلکہ اقتدا میں حرج اور سخت حرج ہے جو اسے امام کرے گا گنہگار ہوگا مسلمان اس فاسق بددین کے پیچھے نماز ہرگز نہ پڑھیں جہاں تک قدرت ہو اُسے امامت سے دفع کریں قدرت نہ پائیں تو اپنی جماعت جُدا کریں اور جبکہ امام معین یعنی زید اور عامہ اہل مسجد انھیں کے ساتھ ہیں تو جماعت اولٰی اِنھیں کی جماعت ہوگی اگرچہ وہ پہلے پڑھ جائے بلکہ جبکہ اس کے اسلام میں شک ہے تو انھیں درجہ اولٰی جائز ہے وہ جس وقت امامت کر رہا ہو اُسی وقت مسجد میں یہ اپنی جماعت قائم کریں اور اگر یہ ایسا کریں تو اس جماعت کے مقتدیوں کو چاہئے فوراً نیت توڑ کر اس میں میں آملیں اگر ایسا نہ کریں گے تو انھیں اپنی نماز پھیرنی ہوگی یُوں ہی آج تک جتنی نمازین لوگوں نے دانستہ خواہ نادانستہ اس کے پیچھے پڑھی ہیں سب پھیریں، اور اگر مسلمان نہ اُسے امامت سے دفع کرسکتے ہیں نہ اُس مسجد میں اپنی جماعت اس سے پہلے یا ساتھ یا بعد کرسکتے ہیں تو انھیں روا ہے کہ اس مسجد میں نماز نہ پڑھیں دوسری مسجد میں جاکر شریک جماعت ہوں۔
مراقی الفلاح میں ہے:
کرہ امامۃ الفاسق العالم لعدم اھتمامہ بالدین فتجب اھانتہ شرعا فلا یعظم بتقدیمہ للامامۃ واذاتعذر منہ ینتقل عنہ الی غیر مسجدہ للجمعۃ وغیرھا۱؎۔
فاسق کی امامت مکروہ ہے کیونکہ وہ اہتمامِ دین نہیں کرتا پس شرعاً اس کی اہانت ضروری ہے تو امامت میں مقدم کرکے اس کی تعظیم نہ کی جائے اور جب اسے امامت سے روکنا متعذر ہو تو جمعہ وغیرہ کے لئے آدمی کسی دوسری مسجد میں چلا جائے۔(ت)
(۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص۱۶۵)
فتاوی الحجہ میں ہے اس سے اشارہ ہے کہ لوگوں نے فاسق کو امام بنایا تو تمام گنہ گار ہوں گے اھ ملخصاً(ت)
(۲؎ غنیـۃ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳)
ردالمحتار میں ہے:
بقی لوکان مقتدیابمن یکرہ الاقتداء بہ ثم شرع من لاکراھۃ فیہ ھل یقطع ویقتدی بہ استظھرط ان الاول لوفاسقالایقطع ولو مخالفاوشک فی مراعاتہ یقطع اقول والاظھر العکس لان الثانی کراھتہ تنزیھیۃ کالاعمی والاعرابی بخلاف الفاسق فانہ استظھر فی شرح المنیۃ انھاتحریمیۃ لقولھم ان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علینا اھانتہ بل عند مالک و روایۃ عن احمد لاتصح الصلٰوۃ خلفہ۳؎ اھ قلت والحکم فیما نحن فیہ ابین واظھر علی کلا الاستظھارین کما لایخفی من حال ذلک الافسق الاطغی۔
باقی رہا یہ معاملہ کہ اگر کسی نے اقتداء کی اس شخص کی جس کی اقتداء مکروہ تھی پھر ایسے شخص نے نماز شروع کی جس میں کراہت نہ تھی تو کیا نماز قطع کردے اور دوسرے کی اقتداء کرے؟ ط نے اس کو ترجیح دی ہے کہ اگر اول فاسق ہو(یعنی مخالف نہ ہو) تو نماز قطع نہ کرے اوراگر وہ مُخالف ہو اور رعایتِ نماز میں شک ہو تو قطع کردے، میں کہتا ہوں مختاراس کا عکس ہے کیونکہ دوسری(یعنی مخالف کی) صورت میں کراہت تنزیہی ہے جیسا کہ نابینا اوراعرابی کی امامۃ میں ہے بخلاف فاسق کے کہ اس کے بارے میں شرح منیہ میں ہے کہ مختار یہی ہے کہ اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ فقہا کہتے ہیں کہ اس کو امام بنانے کی بنا پر اس کی تعطیم ہوگی حالانکہ ہم پر اس کی اہانت لازم ہے بلکہ امام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک اورایک روایت کے مطابق امام احمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک فاسق کے پیچھے نماز جائز ہی نہیں اھ قلت (میں کہتا ہوں) جس کے بارے میں ہم گفتگو کر رہے ہیں دونوں مختار اقوال کے مطابق اس کا حکم نہایت ہی واضح ہے جیسا کہ اس بدتر فاسق اور بدتر باغی کے حال سے آشکارا ہے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب ادراک الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۵۲۵)
درمختار میں ہے :
کل صلٰوۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا۱؎۔
ہر وُہ نماز جو کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے اس کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۷۱)