Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
102 - 185
وقد یؤید ذلک اطلاقھم قاطبۃ سنیۃ الوضع فی حالۃ القنوت کما فی عامۃ الکتب المذھبۃ فیکون متنا ولا لھذا القنوت المخصوص ایضاً۔
اس کی تائید فقہا کی ان عبارات سے ہوتی ہے جن میں ہے کہ قنوت کے موقع پرہاتھ باندھنا سنّت ہے جیسا کہ عام کتب ِمذہب مین ہے تو وہ حکم اس مخصوص قنوت کو بھی شامل ہوگا۔(ت)

بلکہ درمختار میں ہے:
ھو ای الوضع سنۃ قیام لہ قرار فیہ ذکر مسنون فیضح حالۃ الثناء وفی القنوت لا فی قیام بین رکوع وسجود وتکبیرات العید مالم یطل القیام فیضع ،سراجیۃ ۱؎اھ ملخصا۔
وہ یعنی ہاتھ باندھنا اس قیام کی سنت ہے جس میں طول اور کوئی ذکر مشروع ہو(یعنی جس کے پڑھنے کاحکم ہو خواہ وُہ ذکر فرض ،واجب یا سنت ہو) پس ثنا اور قنوت کے موقع پر ہاتھ باندھے جائیں،رکوع اور سجود کے درمیان (یعنی قومہ میں)اور تکبیرات ِعید کے قیام میں ہاتھ باندھے جب تک قیام کو طویل نہ کرے ،اگر طویل کرے تو باندھ لے،سراجیہ اھ ملخصاً (ت)
 (۱؎ درمختار       فصل واذا ارادالشروع الخ    مطبوعہ مطبع مجتبائی لاہور    ۱/۷۴)
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:
ظاہرہ یعم ای قیام طال وعلیہ فیضع فی قیام صلٰوۃ التسبیح الذی بین الرکوع والسجود۲؎۔
بظاہر اس میں عموم ہے یعنی ہر وہ قیام جو طویل ہو، تو اسی عموم کی بناء پر نماز تسبیح کے رکوع اور سجدوں کے درمیان ہاتھ باندھ لینے چاہیں کیونکہ یہاں قیام طویل ہے۔(ت)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    فصل واذا ارادالشروع الخ    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۱/۲۱۸)
یوں ہی ہمارے ائمہ کا اجماع ہے کہ آمین میں سنّت اخفا ہے اور اس کی بجا آوری میں امام سے کسی واجب فعلی میں مخالفت نہیں تو کیوں ترک کی جائے۔
اقول:  وتحقیق المقام علی ما علمنی الملک العلام ان السنن لاحظ لہا فی المتابعۃ الا بالتبع ذلک لان معنی متابعک غیرک جعلک نفسک تابعالہ والتبعیۃ انما تتصور بشیئین احدھما فی نفس اتیان شیئ بمعنی انہ ان فعلہ فعلت وان ترکہ ترکت والاخرفی وقتہ فلا تتقدم علیہ ولا تسبقہالیہ وان لم یکن فعلک متوقفا علی فعلہ ولا متقیدا بتقدمہ بل تفعلہ وان لم یفعل وتبادر الیہ وان لم یاخذفیہ بعد فماانت تابع لہ بل انت مستقل بنفسک غیرتابع ولامتابع وھذا ظاہر جدا واذ قد علمت ان اتیان الماموم بالسنن غیر متقید باتیان الامام بل یاتی بھا ان ترکھا کما اسمعناک علیہ نصوص الائمۃ، ومن لازم ذلک جواز التقدم علیہ مع الندب الیہ لجواز ان یرجع الامام بعد الترک الی الفعل کما اذا رکع فصوب راسہ وطبق اکفہ اوضم اصابعہ او بقی صامتا غیر مسبح والماموم قد فعل کل ذلک بطلب الشرع ثم عادالامام فسوی واخذ وخرج وسبح فقد تقدم فعل الماموم وھو فیہ غیر ملوم بل الیہ مندوب وہومنہ معتمد محسوب فقد ثبت ان لا مدخل للمتابعۃ فی السنن والمستحبات بل الماموم مستبد فیھا غیر داخل تحت حکم الامام ولم یتناولہ تحکیمہ ایاہ علی ذاتہ ، والتزامہ ان یصلی بصلاتہ فیما ھو محجور فیہ عن التقدم علیہ والاستبداد دونہ وماھوحقیقۃ  الا الواجبات الفعلیۃ اذ ھی موضوع الاقتداء اصالۃ کما نص علیہ فی الغنیۃ واشار الیہ فی المرقاۃ تحت قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما جعل الامام لیؤتم بہ ۱؎ ففیھا القدوۃ حقیقۃ ومنھا یسری الٰی غیرھا وان سری کوجوب ترک سنۃ یلزم من فعلھا مخالفۃ الامام فی واجب فعلی فلیس ذلک للمتابعۃ فی ترک السنۃ بل فی الواجب المذکور کعدم جوازان یاتی بسنن الرکوع قبل رکوع الامام فانہ لایفعلھا الا فی الرکوع ولارکوع لہ قبل رکوعہ فعن ھذا امتنع تقدیمھا علی رکوعہ لا علی فعلیۃ السنن کما علمت وھذا معنی قولنا لا خط لھا من المتابعۃ الابالتبع واذقد تبین ھذا وﷲ الحمد ظھر ان المقتدی یاتی بالسنن علی مذھب نفسہ دون مذہب الامام فان المستبدانما یعمل برائی نفسہ ھذا اینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق اتقن ھذا فانک لاتجدہ فی غیرھذا التحریر وھوعلم عزیز فی کلم یسیر۔
اقول : (میں کہتا ہوں) مالک علام کی عطا سے تحقیق مقام یہ ہے کہ سُنن میں تبعاً اتباع ہوتی ہے یہ اس لئے کہ تیرا غیر کی متابعت کرنے کا معنی یہ ہے کہ تُو نے اپنی ذات کو اس کے تابع بنادیاہے، اور یہ تابعیت دو چیزوں کی وجہ سے متصور ہوگی، ایک یہ کہ شَے کو بجالانا اس طریقہ سے کہ اگر اس نے کیا تو تُو بھی کرے اگر اس نے ترک کیا توتُو بھی ترک کردے دوسری وقت میں کہ تو اسی وقت کرے نہ اس آگے ہو اور نہ اس سے پہلے اور تیرا ایسا فعل جواس کے فعل پر موقوف نہ ہواور نہ ہی اس کے تقدم کے ساتھ مقید ہو بلکہ آپ اسے کرسکتے ہیں اگرچہ امام اسے نہ کرے،اسی طرح آپ اسکی طرف بڑھ سکتے ہیں اگرچہ امام ابھی تک اس میں شروع نہیں ہوا۔ تو آپ اس میں کسی معنی میں بھی تابع نہیں بلکہ آپ کی اس میں مستقل حیثیت ہے نہ کہ تابع اور متابع کی، اور یہ بات نہایت ہی ظاہر ہے اور جب آپ یہ جان چکے کہ مقتدی کا سنن پر عمل امام کے بجالانے کے ساتھ مقید نہیں بلکہ امام کے ترک کی صورت میں مقتدی انھیں بجالاسکتا ہے جیسا کہ ہم نے بہت سے ائمہ کے اقوال سے آپ پر واضح کیا ہے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ مقتدی کے لئے امام پر تقدم جائز جب مقتدی اس عمل کو مستحب بھی جانے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ امام ترک کے بعد اسے بجالائے مثلاً امام نے رکوع میں سرپست کردیا ،اپنی دونوں ہتھیلیاں بند کرلیں، یا انگلیاں متصل رکھیں یا تسبیح کہے بغیر خاموش رہا حالانکہ مقتدی ان تمام کو بجالایا ،کیونکہ شرعاً یہ تمام مطلوب تھیں پھر امام لوٹا اور اس نے سر برابر کیا ، ہتھیلوں سے گھٹنے پکڑے ، انگلیوں میں انفصال کیا اورتسبیح کہی تو یہاں اگر چہ مقتدی نے پہلے عمل کیا لیکن یہ غیر مناسب نہیں لہذا اسے ملامت نہ جائے بلکہ یہ اس کے لئے مستحب ہے اور اس پر اسے ثواب ملے گا ،پس اس سے ثابت ہوگیا کہ سنن اورمستحبات میں متابعت کا کوئی دخل نہیں ،بلکہ مقتدی ان میں مستقل ہے اور وہ امام کے حکم کے تحت داخل نہیں اور نہ ہی اس کی تحکیم اس کی ذات،پر جاری ہوگی ،رہا یہ معاملہ کہ مقتدی نے امام کی نماز میں اقتدا کا التزام کیاتھا تو یہ ان امور میںہوگا جن میں امام پر تقدم منع ہے اور جن میں مقتدی امام کے بغیر مستقل حیثیت نہیں رکھتا اور وہ امور حقیقۃً واجبات ِفعلیہ ہی ہیں کیونکہ اصالۃً یہی موضوعِ اقتدا ہیں جیسا کہ اس پر غنیـہ میں تصریح ہے۔مرقات میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی''امام اس لئے بنایاجاتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے'' کے تحت اسی طرف اشارہ کیا ہے تو ان واجبات میں اقتدا حقیقۃً ہے اور ان کے علاوہ میں ان کی وجہ سے ہے مثلاً اس سنّت کا ترک واجب ہوگا جس کو بجالانے سے واجب فعلی میں امام کی مخالفت لازم آئے تو یہ ترکِ سنّت میں متانعت کی بنا پر نہیں ہے بلکہ واجب مذکور میں مطابقت کی بنا پر نہیں ہے بلکہ واجب مذکور میں مطابقت کی بنا پر ہے جیسا کہ مقتدی سننِ رکوع کو امام کے رکوع سے پہلے بجا نہیں لا سکتا کیونکہ وہ انھیں رکوع کے علاوہ ادا نہیں کرسکتا،اور امام کے رکوع سے پہلے مقتدی کو رکوع کی اجازت نہیں ہے تو اس وجہ سے ان سنن کا امام کے رکوع سے پہلے بجالانا منع ہوگیا، نہ یہ کہ سنن کو بجالانا منع ہے جیسا کہ تُو جان چکا ہے ہمارے قول کہ ''سنن میں اتباعِ امام تبعاً ہی ہے'' کا معنی یہی ہے۔ الحمدﷲ جب یہ چیز واضح ہوگئی تو یہ بھی واضح ہوگیا کہ مقتدی سنن کی بجاآوری اپنے مذہب کے مطابق کرے گا نہ کہ امام کے مذہب کے مطابق ،کیونکہ مستقل حیثیت رکھنے والا اپنی رائے کے مطابق عمل کرتا ہے تحقیق کا حق یہی تھا،اﷲ تعالٰی ہی توفیق کامالک ہے اسے اچھی طرح پختہ کرلو کیونکہ ایسی تحقیق اس تحریر کے علاوہ تمھیں کہیں نہیں ملے گی ،اور یہ آسان ترین کلمات میں نہایت ہی اعلٰی علم ہے۔(ت)
اقول : (میں کہتا ہوں) مالک علام کی عطا سے تحقیق مقام یہ ہے کہ سُنن میں تبعاً اتباع ہوتی ہے یہ اس لئے کہ تیرا غیر کی متابعت کرنے کا معنی یہ ہے کہ تُو نے اپنی ذات کو اس کے تابع بنادیاہے، اور یہ تابعیت دو چیزوں کی وجہ سے متصور ہوگی، ایک یہ کہ شَے کو بجالانا اس طریقہ سے کہ اگر اس نے کیا تو تُو بھی کرے اگر اس نے ترک کیا توتُو بھی ترک کردے دوسری وقت میں کہ تو اسی وقت کرے نہ اس آگے ہو اور نہ اس سے پہلے اور تیرا ایسا فعل جواس کے فعل پر موقوف نہ ہواور نہ ہی اس کے تقدم کے ساتھ مقید ہو بلکہ آپ اسے کرسکتے ہیں اگرچہ امام اسے نہ کرے،اسی طرح آپ اسکی طرف بڑھ سکتے ہیں اگرچہ امام ابھی تک اس میں شروع نہیں ہوا۔ تو آپ اس میں کسی معنی میں بھی تابع نہیں بلکہ آپ کی اس میں مستقل حیثیت ہے نہ کہ تابع اور متابع کی، اور یہ بات نہایت ہی ظاہر ہے اور جب آپ یہ جان چکے کہ مقتدی کا سنن پر عمل امام کے بجالانے کے ساتھ مقید نہیں بلکہ امام کے ترک کی صورت میں مقتدی انھیں بجالاسکتا ہے جیسا کہ ہم نے بہت سے ائمہ کے اقوال سے آپ پر واضح کیا ہے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ مقتدی کے لئے امام پر تقدم جائز جب مقتدی اس عمل کو مستحب بھی جانے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ امام ترک کے بعد اسے بجالائے مثلاً امام نے رکوع میں سرپست کردیا ،اپنی دونوں ہتھیلیاں بند کرلیں، یا انگلیاں متصل رکھیں یا تسبیح کہے بغیر خاموش رہا حالانکہ مقتدی ان تمام کو بجالایا ،کیونکہ شرعاً یہ تمام مطلوب تھیں پھر امام لوٹا اور اس نے سر برابر کیا ، ہتھیلوں سے گھٹنے پکڑے ، انگلیوں میں انفصال کیا اورتسبیح کہی تو یہاں اگر چہ مقتدی نے پہلے عمل کیا لیکن یہ غیر مناسب نہیں لہذا اسے ملامت نہ جائے بلکہ یہ اس کے لئے مستحب ہے اور اس پر اسے ثواب ملے گا ،پس اس سے ثابت ہوگیا کہ سنن اورمستحبات میں متابعت کا کوئی دخل نہیں ،بلکہ مقتدی ان میں مستقل ہے اور وہ امام کے حکم کے تحت داخل نہیں اور نہ ہی اس کی تحکیم اس کی ذات،پر جاری ہوگی ،رہا یہ معاملہ کہ مقتدی نے امام کی نماز میں اقتدا کا التزام کیاتھا تو یہ ان امور میںہوگا جن میں امام پر تقدم منع ہے اور جن میں مقتدی امام کے بغیر مستقل حیثیت نہیں رکھتا اور وہ امور حقیقۃً واجبات ِفعلیہ ہی ہیں کیونکہ اصالۃً یہی موضوعِ اقتدا ہیں جیسا کہ اس پر غنیـہ میں تصریح ہے۔مرقات میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی''امام اس لئے بنایاجاتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے'' کے تحت اسی طرف اشارہ کیا ہے تو ان واجبات میں اقتدا حقیقۃً ہے اور ان کے علاوہ میں ان کی وجہ سے ہے مثلاً اس سنّت کا ترک واجب ہوگا جس کو بجالانے سے واجب فعلی میں امام کی مخالفت لازم آئے تو یہ ترکِ سنّت میں متانعت کی بنا پر نہیں ہے بلکہ واجب مذکور میں مطابقت کی بنا پر نہیں ہے بلکہ واجب مذکور میں مطابقت کی بنا پر ہے جیسا کہ مقتدی سننِ رکوع کو امام کے رکوع سے پہلے بجا نہیں لا سکتا کیونکہ وہ انھیں رکوع کے علاوہ ادا نہیں کرسکتا،اور امام کے رکوع سے پہلے مقتدی کو رکوع کی اجازت نہیں ہے تو اس وجہ سے ان سنن کا امام کے رکوع سے پہلے بجالانا منع ہوگیا، نہ یہ کہ سنن کو بجالانا منع ہے جیسا کہ تُو جان چکا ہے ہمارے قول کہ ''سنن میں اتباعِ امام تبعاً ہی ہے'' کا معنی یہی ہے۔ الحمدﷲ جب یہ چیز واضح ہوگئی تو یہ بھی واضح ہوگیا کہ مقتدی سنن کی بجاآوری اپنے مذہب کے مطابق کرے گا نہ کہ امام کے مذہب کے مطابق ،کیونکہ مستقل حیثیت رکھنے والا اپنی رائے کے مطابق عمل کرتا ہے تحقیق کا حق یہی تھا،اﷲ تعالٰی ہی توفیق کامالک ہے اسے اچھی طرح پختہ کرلو کیونکہ ایسی تحقیق اس تحریر کے علاوہ تمھیں کہیں نہیں ملے گی ،اور یہ آسان ترین کلمات میں نہایت ہی اعلٰی علم ہے۔(ت)
 (۱؎ مراقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ         باب ماعلی الماموم الخ        مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان    ۳/۹۴)
ولہذاحرمین طیبین زادہما اﷲ تعالٰی شرفاً وتکریماً میں مرئی ومشاہدہے کہ ایک امام کے پیچھے چاروں مذہب والے نماز پڑھتے ہیں اوران امور میں سب اپنے مذہب پر عمل کرتے ہیں حنفی امام حنفی کے پیچھے زیر ناف ہاتھ باندھے ہے ،اُس کے دہنے بازو پر شافعی سینے پر ہاتھ رکھے ،بائیں بازو پر مالکی ہاتھ کھولے ہوئے ہے کوئی کسی پر انکار نہیں کرتا، اور کیوں ہو کہ بحمد اﷲ ہم چاروں حقیقی بھائی ایک ماں باپ کی اولاد ہیں باپ ہمارا اسلام ماں ہماری سنّت سنیہ سیّد الانام علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلٰوۃ والسّلام، انکار تو ان گمراہوں پر ہے جو تقلید ائمہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو معاذ اﷲ شرک و حرام بتاتے اور مذاہب حقّہ راشدہ اہل حق کا نام چوراہہ رکھتے ہیں۔
وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبون ۱؎
(عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے ۔ت)
 (۱؎ القرآن        ۲۲/۲۲۷)
ولا حول ولا قوۃ الّا باﷲ العلی العظیم صلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہٖ وعلماء حزبہ اجمعین۔
رہا یہ کہ ایسی صورت میں شافعی کو کیا چاہئے ،یہ علماء شافعیہ سے پُوچھا جائے ۔  

خلاصہ ودرمختار میں ہے :
ولو قیل للحنفی مامذھب الامام الشافعی فی کذاوجب ان یقول قال ابوحنیفۃ کذا ۲؎اھ۔
اگر کسی حنفی سے سوال کیا جائے کہ امام شافعی کا مسلک فلاں مسئلہ کے بارے میں کیا ہے تو جواباً یہ کہنا واجب ہے کہ امام ابوحنیفہ کا موقف یہ ہے اھ
 (۲؎ درمختار        باب العدۃ        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۲۵۶)
اقول:  ولا شک ان الرجل بمذھبہ ادری وامرالفتیا امرواَدْھٰی فترک اجترائعلی مذھب غیرہ احق واحری واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
اقول: (میں کہتا ہوں) اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر آدمی اپنے مذہب کو خوب جانتا ہے اور فتوٰی جاری کرنے کا معاملہ نہایت ہی سخت اور دشوارہے،پس دیگر مذہب پر جرأت کا ترک ہی زیادہ مناسب و لائق ہے ،اﷲ تعالٰی سب سے بہتر جانتا ہے اس کا علم اتم اور سب سے کامل ہے(ت)
مسئلہ نمبر۵۸۴: از ملک آسام ضلع جوہاٹ ڈاکخانہ گٹنگا مقام سرائے بہی    مرسلہ سیّد محمد صفاء الدین صاحب     ۱۰ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عدیم البصر کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: بلاشبہ جائز ہے مگر اولٰی نہیں مکروہ تنزیہی ہے جبکہ حاضرین میں کوئی شخص صحیح العقیدہ غیر فاسق قرآن مجید صحیح پڑھنے والا اس سے زائد یا اس کے برابر مسائلِ نماز و طہارت کا علم رکھتا ہو ورنہ وہ عدیم البصرہی اولٰی وافضل ہے جو باوصف صفات مذکورہ باقی حاضرین سے اُسے علم میں زائد ہو۔
ہندیہ میں ہے:
الاولٰی بالامامۃ اعلمھم باحکام الصلٰوۃ ھکذا فی المضمرات،وھوالظاہر ھکذا فی البحرالرائق ،ھذا اذاعلم من القرأۃ قدرماتقوم بہ سنۃ القرأۃ ھکذا فی التبیین، ولم یطعن فی دینہ کذا فی الکفایۃ ، وھکذا فی النھایۃ ،ویجتنب الفواحش الظاہرۃ وان کان غیرہ اورع منہ کذا فی المحیط ،وھکذا فی الزاھدی ،وان کان متبھرا فی علم الصلٰوۃ لکن لم لم یکن لہ حظ فی غیرہ من العلوم فھو اولی کذا فی الخلاصۃ ۱؎۔
امامت کے لئے سب سے بہتر وہ ہے جواحکامِ نماز سے زیادہ آگاہ ہو۔مضمرات میں یہی ہے، اور مختار بھی یہی ہے ، بحرالرائق میں اسی طرح ہے ۔یہ اس وقت ہے جب اتنی قرأت سے واقف ہو جس سے قرأت مسنونہ ادا ہوجاتی ہو،تبیین میں اسی طرح ہے۔کفایہ اور نہایہ میں ہے کہ اس کے دین پر طعن نہ ہو ۔ محیط اور زاہدی میں ہے کہ وہ فواحشِ ظاہری سے بچنے والا ہو اگرچہ کوئی دوسرا اس سے زیادہ صاحبِ ورع ہو۔خلاصہ میں ہے اگر وہ مسائلِ نماز کے بارے میں نہایت ہی ماہر ہو لیکن وہ دیگر علوم میں واقفیت نہ رکھتا ہو تو پھر وہی اولٰی ہے(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    الفصل الثانی فی بیان من ہو احق بالامامۃ        مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۸۳)
Flag Counter