(ہر مشروع عمل میں امام کی متابعت ہوگی مگر غیر مشروع میں نہیں۔ت)
(۳؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱/۲۸۱)
اسی طرح ترک سنّت میں امام کی پیروی نہیں بلکہ موجبِ اسا ء ت وکراہت ہے اگر وہ چھوڑے مقتدی بجالائے جبکہ اس کی بجا آوری سے کسی واجب فعل میں امام کی متابعت نہ چھوٹے ولہذا علماء فرماتے ہیں اگر امام وقت ِتحریمہ رفع یدین یا تسبیح رکوع و سجود یا تکبیر انتقال یا ذکر قومہ ترک کرے تو مقتدی نہ چھوڑے
کمانص علیہ فی نظم الزندویسی والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ والھندیۃ وخزانۃ المفتین وفتح القدیر والغنیۃ والدرالمحتار وحاشیۃ الدرر للعلامۃ شرنبلالی وغیرھا وھذا نص البزازیۃ ملخصا، تسعۃ اشیاء اذا ترک الامام اتی بھا الماموم رفع الیدین فی التحریمۃ وتکبیرۃ الرکوع اوالسجود او التسبیح فیھما اوالتسمیع ۴؎الخ۔
نظمِ زندویسی ،خانیہ، خلاصہ ، بزازیہ، ہندیہ، خزانۃ المفتین، فتح القدیر، غنیـہ، درمختاراورحاشیہ در للعلامہ شرنبلالی اور دیگر کتب میں اس پر تصریح ہے ۔ عبارت بزازیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نو (۹)ایسی اشیاء جن کو امام ترک کردے تو مقتدی ان کو بجا لائے ،تکبیر تحریمہ کے موقعہ پر ہاتھوں کا اٹھانا، رکوع یا سجدہ کے لئے تکبیر یا ان دونوں مین تسبیح یا تسمیع (سمع اﷲلمن حمدہ کہنا) الخ(ت)
(۴؎ فتاوٰی بزازیۃ مع الفتاوٰی الھندیۃ نوع من الثانی صلی المغرب مطبوعہ نورانی کتب کانہ پشاور ۴/۵۸ )
یوں ہی تکبیرات ِ عیدین میں
رفع یدین فی الدر یرفع فی الزوائد ان لم یرامامہ ذلک ۱؎ الخ
(درمختار میں ہے تکبیرات زوائد میں اپنے ہاتھ بلند کرے خواہ امام اس عمل کو جائز نہ سمجھتا ہو الخ۔ت)
اور اگر رکوع و سجود میں ایک ہی تسبیح کہہ کر سر اُٹھائے تو مقتدی بھی ناچار سنت تثلیث ترک کرے ورنہ قومہ و جلسہ کی متابعت میںخلل آئے گا۔
ھوالصحیح کما فی الخانیۃ والخلاصۃ والخزانۃ والوجیزوالفتح والبحر وغیرھامن الاسفار الغر وھذا نظم الدرانہ مما یبتنی علی لزوم المتابعۃ فی الارکان انہ لو رفع الامام راسہ من الرکوع اوالسجود قبل ان یتم الماموم التسبیحات الثلث وجب متابعتہ ۲؎ ۔
یہی صحیح ہے جیسا کہ خانیہ، خلاصہ، خزانہ، وجیز، فتح، بحر وغیرہ معتبر کتابوں میں ہے ،درمختار کے الفاظ یہ ہیں ارکانِ نماز میں امام کی پیروی لاز م ہونے پر یہ مسئلہ مبنی ہے کہ اگر امام نے اپنا سر رکوع وسجود سے مقتدی کی تین تسبیحات مکمل ہونے سے پہلے اُٹھا لیا تو مقتدی پر متابعتِ امام لازم ہے۔(ت)
شرح منیہ علامہ ابرہیم حلبی و حاشیہ سیّد ابن عابدین میں ہے:
الاصل عدم وجوب المتابعۃ فی السنن فعلا فکذا ترکا وکذا الواجب القولی الذی لایلزم من فعلہ المخالفۃ فی واجب فعلی کالتشھد وتکبیر التشریق بخلاف القنوت و تکبیرات العیدین اذیلزم من فعلھا المخالفۃ فی الفعل وھو القیام مع رکوع الامام الخ۳؎ اھ ملخصا۔
اصل یہ ہے کہ سنن میں امام کی متابعت جس طرح فعلاً لازم نہیں اسی طرح ترکاً بھی لازم نہیں ،یہی حکم اس واجب قولی کا ہے جس کے بجالانے سے کسی واجب فعلی کی مخالفت لازم نہ آئے مثلاً تشہد اور تکبیرات تشریق بخلاف دعا قنوت اور تکبیرات ِعیدین کے کیونکہ ان کے بجالانے سے فعل میں مخالفت لازم آتی ہے ،یعنی ایسی صورت میں امام رکوع میں ہوگا اور مقتدی حالتِ قیام میںہوگا الخ اھ تلخیصاً۔(ت)
(۳؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۶۸)
جب یہ اصول معلوم ہولئے تواُن تینوں فروع کاحکم بھی انھیںسے نکل سکتا ہے رکوع وغیرہ میں رفع یدین ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے نزدیک منسوخ ہوچکا ہے اور منسوخ پر عمل نا مشروع ، تو اس میں متابعت نہیں ۔امام ملک العلماء ابوبکر مسعود کاشانی قدس سرہ الربانی بدائع میں فرماتے ہیں:
لو اقتدی بمن یرفع یدیہ عند الرکوع او بمن یقنت فی الفجر او بمن یری خمس تکبیرات فی صلٰوۃ الجنازۃ لایتابعہ لظھور خطیئہ بیقین لان ذلک کلہ منسوخ ۱؎ اھ نقلہ فی عیدردالمحتار۔
اگر کسی نے ایسے امام کی اقتداء کی جو رکوع کے وقت رفع یدین کرتا ہے یا نمازِ فجر میں قنوت پڑھتا ہےیا تکبیرات ِ جنازہ پانچ کہتا ہے تو مقتدی اس کی اتباع نہ کرے کیونکہ اس کا غلطی پر ہونا یقینی ہے کیونکہ یہ تمام منسوخ ہیں اھ ردالمحتار کے باب العید میں اس کو نقل کیا ہے۔(ت)
(۱؎ بدائع الصنائع فصل فی بیان قدر صلٰوۃ العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۲۷۸)
جلالی پھرشرح المقدمۃ الکیدانیۃ للقہستانی پھر جنائز حاشیہ شامی میں ہے:
لا تجوز المتابعۃ فی رفع الیدین فی تکبیرات الرکوع۲؎۔
تکبیراتِ رکوع کے موقعہ پر امام کے رفع یدین کرنے کی اتباع جائز نہیں۔(ت)
قومہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا شافعیہ کے نزدیک نمازِ فجر کی رکعت اخیرہ میں ہمیشہ وتر کی تیسریمیں صرف نصف اخیر شہرِ رمضان المبارک میں ہے کہ وہ ان میں دعائے قنوت پڑھتے ہیں ۔قنوت ِفجر تو ہمارے ائمہ کے نزدیک منسوخ یابدعت ، بہرحال یقینا نامشروع ہے۔لہذا اس میں پیروی ممنوع ،اور جب اصل قنوت میں متابعت نہیں تو ہاتھ اٹھانے میں کہ اس کی فرع ہے اتباع کے کوئی معنی نہیں مگر اصل قومہ رکوع فی نفسہ مشروع ہے لہذا وُہ جب تک نمازِفجر میں قنوت پڑھے مقتدی ہاتھ چھوڑے چُپکا کھڑا رہے۔درمختار میں ہے :
یاتی الماموم بقنوت الوتر ولوبشافعی یقنت بعد الرکوع لانہ مجتھد فیہ لا الفجر لا نہ منسوخ بل یقف ساکتا علی الاظھر مرسلا یدیہ ۳؎۔
مقتدی وتروں میں دعائے قنوت پڑھے اگر چہ اس نے ایسے شافعی المذہب امام کی اقتدا میں نماز شروع کی جو رکوع کے بعد قنوت پڑھنے والا ہو کیونکہ یہ معاملہ اجتہادی ہے البتہ فجر میں قنوت نہ پڑھے کیونکہ وہ منسوخ ہے،بلکہ وہ مقتدی مختار قول کے مطابق ہاتھ چھوڑے خاموش کھڑا رہے۔(ت)
اذا اقتدی بمن یقنت فی الفجر قام معہ فی قنوتہ ساکتا علی الاظہر ویر سل یدیہ فی جنبیہ ۱؎
اگر کسی نے ایسے امام کی اقتدا کی جو فجر میں قنوت پڑھتا ہے تو مختار قول کے مطابق اس کے ساتھ خاموش کھڑا رہے اور اپنے ہاتھ پہلوؤں کی طرف چھوڑ دے۔(ت)
(۱؎ نور الایصاح باب الوتر ، مطبوعہ مطبع علیمی لاہور ص۳۸)
اور نمازِوتر میں اگر شافعی امام کے پیچھے اقتدا باقی رہے (کہ وہ وتر کےدو ٹکڑے کرتے ہیں پہلے تشہد پر سلام پھیرا اخیر رکعت اکیلی پڑھتے ہیں اگر امام نے ایسا کیا جب تو رکعت قنوت آنے سے پہلے ہی اس کی اقتدا قطع ہوگئی اب نہ وہ امام نہ یہ مقتدی ،نہ اس کے وتر صحیح کہ اس کی وسط نمازمیں عمداً سلام واقع ہوا
فی الدرالمختار صح الاقتداء فیہ بشافعی لم یفصلہ بسلام لا ان فصلہ علی الاصح۲؎ اھ ملخصا
درمختار میں ہے وتر میں حنفی کواس شافعی کی اقتداء درست ہے جو وتر کو سلام کے ساتھ جُدا نہ کرے(یعنی دورکعت پر سلام نہ پھیرے) اگر امام نے وتر کو دوگانہ کے بعد سلام پھیر کر جُدا کیا تو اصح قول کے مطابق اس کی اقتدا درست نہیںہے اھ ملخصاً) جب ایسا نہ ہو اورا قتد ا قائم رہے)
(۲؎ درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۹۴)
تو اگرچہ شافعیہ قنوت قومہ میں پڑھتے ہیں اور ہمارے مذہب میں اس کا محل قبل رکوع ،مگر ہمارے علماء نے تمام متون و شروح وفتاوٰی میں مقتدی کو حکم دیاکہ یہاں قنوت میں متابعت کرے ،اور اس کا منشاء وہی کہ اسے بالکل نامشروع نہیں ٹھہراتے
(اس مسئلہ سے متعلق عبارات بمع دلائل ہدایہ، کافی اور دیگر شروح میں موجود ہیں۔ت)
رہا یہ کہ مقتدی اس حالت میں اتباع امام کرے یا اتباعِ مذہب ِامام یعنی ہاتھ باندھے یا چھوڑے یا دعا کی طرح اُٹھائے ، کیا کرنا چاہئے ،اس کی تصریح نظرِ فقیر سے نہ گزری ،نہ اپنے پاس کی کتب موجود میں اس سے تعرض پایا،ظاہر یہ ہے کہ مثل قیام ہاتھ باندھے گا کہ جب اسے قنوت پڑھنے کا حکم ہے تو یہ قیام ذی قرارو صاحبِ ذکر ،مشروع ہوا اور ہر ایسے قیام میں ہاتھ باندھنا نقلاً وشرعاً سنّت اور عقلاً و عرفاً ادبِ حضرت اور ترکِ سنّت میں امام کی پیروی نہیں،