(۱؎ فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۳۰۴)
فانہ اولی من الانفراد ۲؎کما فی ردالمحتار عملابقول من یقول ان الکرھۃ تنزیہۃ
(کیونکہ اقتداء تنہا نماز ادا کرنے سے اولٰی ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے تاکہ اس کے قول پرعمل ہوجائے جواسے مکروہ تنزیہی کہتا ہے۔ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۳)
لما ذھب الیہ کثیر من العلماء ان الکرھۃ تحریمیۃ ۱؎ وھوالذی حققہ فی الغنیۃ وغیرھا وھوالاظھر کما بیناہ فی فتاوئٰنا
(کیونکہ اکثر علماء کے نزدیک اس میں کراہت تحریمی سے جیسا کہ غنیـہ وغیرہا میں ثابت ہے اور یہی مختار ہے اسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المستملی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳)
مسئلہ نمبر ۵۸۳: ازکلکتہ دھرم تلہ نمبر۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادربیگ صاحب ۲۶صفر ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام شافعی المذہب ہو اور مقتدی حنفی تو اُن امور میں جو حنفی کوجائز نہیں جیسے آمین بالجہر کہنا اور رفع یدین اور قومہ میں ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگنا امام کی متابعت کرے یا نہ کرے ؟اور ایسے ہی مقتدی شافعی المذہب کو اپنے مذہب کے خلاف امور میں امام حنفی المذہب کی متابعت چاہئے یا نہیں؟ اور اگر متابعت کرے تواس کی نماز کا کیاحال ؟بینوا تو جروا۔
الجواب: حنفی جب دوسرے مذہب والے کی اقتداء کرے جہاں اس کی اقتداء جائز ہو کہ اگر امام کسی ایسے امر کا مرتکب ہو جو ہمارے مذہب میں ناقض طہارت یا مفسد نماز ہے جیسے آب قلیل متجنس یامستعمل سے طہارت یا چوتھائی سر سے کم کا مسح یا خونِ فصد و ریم زخم وقَے وغیرہا نجاسات غیر سبیلین پر وضو نہ کرنا یا قد درم سے زائد منی آلودہ کپڑے سے نماز پڑھنا یا صاحب ترتیب ہوکر باوصف یادفائتہ ووسعت وقت بے قضائے فائتہ نماز وقتی شروع کردینایا کوئی فرض ایک بار پڑھ کر پھر اُسی نماز میں امام ہوجانا تو ایسی حالت میں تو حنفی کو سرے سے اُس کی اقتداء جائز ہی نہیں اور اسکے پیچھے نماز محض باطل،
کما نص علیہ فی عامۃ کتب المذھب بل فی الغنیۃ اما الاقتداء بالمخالف فی الفروغ کالشافعی فیجوز مالم یعلم منہ مایفسد الصلاۃ علی اعتقاد المقتدی علیہ الاجماع انما اختلف فی الکرھۃ ۲؎اھ
جیسا کہ اس پر عامہ کتب مذہب میں تصریح ہے بلکہ غنیـۃ میں ہے فروعات میں مخالف مثلاً شافعی المسلک کی اقتداء اس وقت جائز ہوگی جب اس سے ایسے عمل کا علم نہ ہو جو اعتقاد ِمقتدی میں مفسدِنماز ہو جواز پر اجماع ہے البتہ کراہت میں اختلاف ہے اھ(ت)
(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المستملی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۶)
غرض جب وہ ایسے امور سے بری اور اُس کی اقتدا صحیح ہواس وقت بھی ان باتوں میں اس کی متابعت نہ کرے جو اپنے مذہب میں یقیناً ناجائز ونامشروع قرار پاچکی ہیں اگر متابعت کرے گا تو اُس کی نماز اس نامشروع کی مقدار کراہت پر مکروہ تحریمی یا تنزیہی ہوگی کہ پیروی مشروع میں ہے نہ غیر مشروع میں۔
ردالمحتار میں ہے:
تکون المتابعۃ غیر جائزۃ اذاکانت فی فعل بدعۃ او منسوخ او ما لاتعلق لہ بالصلٰوۃ۱؎۔
امام کی متابعت بدعت، عمل منسوخ اورہر اس عمل میںجائز نہیں جس کا تعلق نماز سے نہ ہو۔(ت)
(۱؎ رالمحتار مطلب مہم فی تحقیق متابعۃ الامام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۳۴۸)
پھر خزائن الاسرار پھر حاشیہ شامی میں ہے:
انما یتبعہ فی مشروع دون غیرہ۲؎
(امام کی متابعت مشروع میں جائز لیکن غیر مشروع میں جائز نہیں۔ت)
(۲؎رالمحتار مطلب مہم فی تحقیق متابعۃ الامام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۳۴۹)