(۲۵) بیمار کی مزاج پُرسی کروں گا۔
(۲۶) اگر کوئی غمی والا ملا تعزیت کروں گا۔
(۲۷) جس مسلمانوں کو چھینک آئی اور اس نے الحمدللّٰہ کہا اُسے یرحمک اللّٰہ کہوں گا۔
(۲۸ و ۲۹) امر بالمعروف ونہی عن المنکر کروں گا۔
(۳۰) نمازیوں کے و ضو کو پانی دُوں گا۔
(۳۱ و ۳۲) خود مؤذن ہے یا مسجد میں کوئی مؤذن مقرر نہیں تو نیت کرے کہ اذان واقامت کہوں گا اب اگر یہ کہنے نہ پایا دُوسرے نے کہہ دی تاہم اپنی نیت پر اذان واقامت کا ثواب پاچکا
فقدوقع اجرہ علی اللّٰہ ۱؎
(اللہ تعالٰی اسے اجر عطا فرمائے گا۔ ت)
(۳۳) جو راہ بھُولا ہوگا راستہ بتاؤں گا۔
(۳۴) اندھے کی دستگیری کروں گا۔
(۳۵) جنازہ مِلا تو نماز پڑھوں گا۔
(۳۶) موقع پایا تو ساتھ دفن تک جاؤں گا۔
(۳۷) دو مسلمانوں میں نزاع ہوئی تو حتّی الوسع صلح کراؤں گا۔
(۳۸ و ۳۹) مسجد میں جاتے وقت دہنے اور نکلتے وقت بائیں پاؤں کی تقدیم سے اتباعِ سنّت کروں گا۔
(۴۰ عــہ) راہ میں جو لکھا ہوا کاغذ پاؤں گا اُٹھا کر ادب سے رکھ دوں گا الی غیرذلک من نیات کثیرۃ تو دیکھئے کہ جوانِ ارادوں کے ساتھ گھر سے مسجد کو چلا وہ صرف حسنہ نماز کے لئے نہیں جاتا بلکہ ان چالیس۴۰ حسنات کے لئے جاتا ہے تو گویا اُس کا یہ چلنا چالیس طرف چلنا ہے اور ہر قدم چالیس قدم پہلے اگر ہر قدم ایک نیکی تھا اب چالیس۴۰ نیکیاں ہوگا۔ اسی طرح قبر پر اذان دینے والے کو چاہئے کہ ان پندرہ نیتوں کا تفصیلی قصد کرے تاکہ ہر نیت پر جُدا گانہ ثواب پائے اور ان کے ساتھ یہ بھی اراد ہ کہ مجھے میت کے لئے دُعا کا حکم ہے اس کی اجابت کا سبب حاصل کرتا ہوں اور نیز اُس سے پہلے عمل صالح کی تقدیم چاہئے یہ ادب دعا بجالاتا ہوں
الی غیرذلک ممایستخرجہ العارف النبیل واللّٰہ الھادی الٰی سواء السبیل
(ان کے علاوہ دوسری نیتیں جن کو عارف اور عمدہ رائے استخراج کرسکتی ہے اللہ تعالٰی ہی سیدھی راہ دکھانے والا ہے۔ ت) بہت لوگ اذان تو دیتے ہیں مگر ان منافع ونیات سے غافل ہیں وہ جوکچھ نیت کرتے ہیں اُسی قدر پائیں گے۔
عــہ یہ چالیس نیتیں ہیں جن میں چھبیس۲۶ علماء نے ارشاد فرمائیں اور چودہ۱۴ فقیر نے بڑھائیں جن کے ہندسوں پر خطوط کھینچے ہیں ۱۲ منہ
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۱؎
(اعمال کا ثواب نیتوں سے ہی ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ ت)
(۱؎ مشکوۃ المصابیح خطبۃ الکتاب مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۱۱)
تنبیہ سوم: جہال منکرین یہاں اعتراض کرتے ہیں کہ اذان تو اعلامِ نماز کے لئے ہے یہاں کون سی نماز ہوگی جس کے لئے اذان کہی جاتی ہے مگر یہ ان کی جہالت انہیں کو زیب دیتی ہے وہ نہیں جانتے کہ اذان میں کیاکیا اغراض ومنافع ہیں اور شرع مطہر نے نماز کے سوا کن کن مواضع میں اذان مستحب فرمائی ہے ازانجملہ گوش مغموم میں اور دفعِ وحشت کو کہنا تو یہیں گزرا اور بچّے کے کان عــہ میں اذان دیتا سنا ہی ہوگا ان کے سوا اور بہت مواقع ہیں جن کی تفصیل ہم نے اپنے رسالہ نسیم الصبا میں ذکر کی۔
عــہ: بعض احمق جاہل گوشِ مولود کی اذان سے یہ جواب دیتے ہیں کہ اس اذان کی نماز تو بعد موتِ مولود ہوتی ہے یعنی نمازِ جنازہ، یہ اذان جو قبر پر کہوگے اس کی نماز کہاں ہے؟ اذانِ گوشِ مولود کو نمازِ جنازہ کی اذان بتانا جیسی جہالت فاحشہ ہے خود ظاہر ہے مگر ان کا جواب ترکی بہ ترکی یہ ہے کہ نمازِ جنازہ جس طرح صرف قیام سے ہوتی ہے جو ادنٰی افعال نماز ہے ایک نماز روزِ محشر صرف سجود سے ہوگی جو اعلٰی افعالِ نماز ہے جس دن کشفِ ساق ہوگا اور مسلمان سجدے میں گِرینگے منافق سجدہ نہ کرسکیں گے جس کا بیان قرآن عظیم سورہ ق شریف میں ہے قبر کی اذان اس نماز کی اذان ہے ۱۲ منہ رحمہ اللہ تعالٰی۔ (م)
تنبیہ چہارم: شرع مطہر کی اصل کُلّی ہے کہ جو امر مقاصدِ شرع سے مطابق ہو محمود ہے اور جو مخالف ہو مردود، اور حکم مطلق اس کے تمام افراد میں جاری وساری، جب تک کسی خاص خصوصیت سے نہی شرع وارد نہ ہو تو بعد ثبوت حسن مطلق حسن مقید پر کسی دلیل کی حاجت نہیں بلکہ حسن مطلق ہے اُس پر دلیل قاطع اور بقاعدہ مناظرہ اثباتِ ممانعت ذمہ مانع، معہذا اصل اشیا میں اباحت تو قائل جواز متمسک باصل ہے کہ اصلا دلیل کی حاجت نہیں رکھتا اجازت خصوصیت کو اجازت خاصہ وارد ہونے پر موقوف جاننا اور منع خصوصیت کے لئے منع خاص وارد ہونے کی ضرورت نہ ماننا صرف تحکم وزبردستی ہی نہیں بلکہ دائرہ عقل ونقل سے خروج اور مطمورہ ۲؎ سفہ وجہل میں کامل دلوج ہے علمائے سنّت شکر اللہ تعالٰی مساعیہم الجمیلہ ان سب مباحث کو اعلٰی درجہ پر طے فرماچکے۔
(۲؎ بیوقوفی اور جہالت کے گڑھے میں مکمل طور پر داخل ہونا ہے۔)
ان تمام اصول جلیلہ رفعیہ ودیگر قواعد نافعہ بدیعہ کی تنقیحِ بالغ وتحقیقِ بازغ حضرت ختام المحققین امام المدققین حجۃ اللہ فی الارضین معجزۃمن معجزات سید المرسلین صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلٰی آلہٖ واصحابہ اجمعین سیدالعلما سند الکملا تاج الافاضل سراج الاماثل حضرت والد ماجد قدس اللہ سرہ ورزقنابرہ نے کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد وکتاب لاجواب اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد والقیام وغیرہا میں افادہ فرمائی اور فقیر نے بھی بقدر حاجت اپنے رسالہ اقامۃ القیامۃ علی طاعن ۱۲۹۹ھ عن القیام لنبی تھامہ ورسالہ منیرالعین فی حکم ۱۳۰۲ھ تقبیل الابھامین ورسالہ نسیم الصبافی ۱۳۰۲ھ ان الاذان یحول الوباء وغیرہا تصانیف میں ذکر کی یہاں ان مباحث کے ایراد سے تطویل کی ضرورت نہیں، حضرات مخالفین باآنکہ ہزار ہا بار گھر تک پہنچ چکے، اگر پھر ہمت فرمائیں گے ان شاء اللہ العزیز وہ جواب باصواب پائیں گے جس کے انوارِ باہرہ ولمعاتِ قاہرہ کے حضور باطل کی آنکھیں جھپکیں اور اُس کی سُہانی روشنیوں ودلکشا تجلیوں سے حق وصواب کے نورانی چہرے دمکیں وباللہ التوفیق وھوالمعین۔ والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین والصلاۃ والسلام علی سیدالمرسلین محمد واٰلہٖ وصحبہ اجمعین اٰمین اٰمین برحمتک یاارحم الراحمین الحمدللّٰہ کہ یہ رسالہ آخر محرم ۱۳۰۷ھ سے دو۲ جلسوں میں تمام ہوا واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کتبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامّی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
تمّت بالخیر
محمدی سنی حنفی قادری عبدالمصطفی احمد رضا خان ۱۳۰۱