Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
156 - 157
اشعۃ اللمعات شرح فارسی مشکوٰۃ میں اس کی وجہ فرماتے ہیں کہ باعثِ نزولِ رحمت ست (نزولِ رحمت کا سبب ہے۔ ت) اور فرماتے ہیں:
مناسب حال ذکر مسئلہ فرائض ست
 (ذکر مسئلہ فرائض مناسب حال ہے۔ ت) اور فرماتے ہیں:
اگر ختمِ قرآن کنند اولٰی وافضل باشد ۲؎
 (اگر قرآن پاک ختم کریں تو یہ اولٰی وبہتر ہے۔ ت)
 (۲؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ    الفصل الثانی من باب اثباب عذاب القبر     مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۲۰۱)
جب علمائے کرام نے حکایاتِ اہل خیر وتذکرہ صالحین وختم قرآن وبیان مسئلہ فقہیہ وذکر فرائض کو مستحب ٹھہرایا حالانکہ ان میں بالخصوص کوئی حدیث وارد نہیں بلکہ وجہ صرف وہی کہ میت کو نزولِ رحمت کی حاجت اور ان امور میں امیدِ نزول رحمت تو اذان کہ بشہادت احادیث موجب نزولِ رحمت ودفعِ عذاب ہے کیونکر جائز بلکہ مستحب عــہ نہ ہوگی۔
عــہ بالجملہ بحمداللہ تعالی ان دلائل جلائل نے کالشمس فی وسط السماء واضح کردیا کہ اس اذان کا جواز بلکہ استحباب یقینی بلکہ بنظرِ عمومات شرع بوجوہ کثیرہ فرد سنّت ہے شاید وہ بعض علماء جنہوں نے اس کے سنّت ہونے کی تصریح فرمائی جن کا قول امام ابن حجر مکی وعلّامہ خیر رملی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے نقل کیا یہی معنی مراد لیتے ہیں کہ فرد سنت ہے نہ کہ فرداً سنّت ولہذا مناسب ہے کہ کبھی کبھی ترک بھی کریں اگر اوہام عوام معنی ثانی کی طرف جاتے سمجھیں واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ رحمہ اللہ تعالٰی (م)
بحمداللہ یہ پندرہ۱۵ دلیلیں ہیں کہ چند ساعت میں فیضِ قدیر سے قلبِ فقیر پر فائض ہوئیں ناظر منصف جانے گا کہ ان میں اکثر تو محض استخراجِ فقیر ہیں اور باقی کے بعض مقدمات اگرچہ بعض اجلّہ اہل سنّت وجماعت رحمہم اللہ تعالٰی کے کلام میں مذکور مگر فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے تکمیل ترتیب وتسجیل تقریب سے ہر مقدمہ منفردہ کو دلیل کامل اور ہر مذکور ضمنی کو مقصود مستقل کردیا
والحمدللّٰہ رب العالمین
(سب تعریف اللہ تعالٰی کے لئے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ ت)
بااینہمہ ع لاشک ان الفضل للمتقدم
 (بیشک بزرگی پہلے کرنے والے کے لئے ہے۔ ت)
ہم پر اُن اکابر کا شکر واجب جنہوں نے اپنی تلاش وکوشش سے بہت کچھ متفرق کو یکجا کیا اور اس دشوار کام کو ہم پر آسان کردیا
جزاھم اللّٰہ عنا وعن الاسلام والسنۃ خیر جزاء وشکر مساعیھم الجمیلۃ فی حمایۃ الملۃ الغراء ونکایۃ الفتنۃ العوراء وھنأھم بفضل رسول نفی علی حمید رضی یوم القضاء وصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ الاطائب الکرماء اٰمین۔
تنبیہاتِ جلیلہ تنبیہ اوّل: ہمارے کلام پر مطلع ہونے والا عظمت رحمت الٰہی پر نظر کرے کہ اذان میں اِن شاء اللہ الرحمن اُس میت اور ان احیا کے لئے کتنے منافع ہیں، سات۷ فائدہ میت کیلئے:

(۱)    بحولہ تعالٰی شیطان رجیم کے شر سے پناہ۔

(۲)    بدولت تکبیر عذابِ نار سے امان۔

(۳)    جوابِ سوالات کا یاد آجانا۔

(۴)    ذکرِ اذان کے باعث عذابِ قبر سے نجات پانا۔

(۵)    بہ برکتِ ذکرِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نزولِ رحمت۔

(۶)    بدولتِ اذان دفعِ وحشت۔

(۷)    زوالِ غم وسرور وفرحت۔

اور پندرہ احیا کے لئے، سات۷ تو یہی، سات۷ منافع اپنے بھائی مسلمان کو پہنچانا کہ ہر نفع رسانی جدا حسنہ ہے اور ہر حسنہ کم سے کم دس۱۰ نیکیاں، پھر نفع رسانی مسلم کی منفعتیں خدا ہی جانتا ہے۔

(۸)    میت کے لئے تدبیر دفع شیطان سے اتباعِ سنّت۔

(۹)    تدبیر آسانی جواب سے اتباعِ سنّت۔

(۱۰)    دعاء عندالقبر سے اتباعِ سنت۔

(۱۱)    بقصدِ نفع میت قبر کے پاس تکبیریں کہہ کر اتباعِ سنّت۔

(۱۲)    مطلق ذکر کے فوائد ملنا جن سے قرآن وحدیث مالامال۔

(۱۳)    ذکرِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سبب رحمتیں پانا۔

(۱۴)    مطلق دُعا کے فضائل ہاتھ آنا جسے حدیث میں مغزِ عبادت فرمایا۔

(۱۵)    مطلق اذان کے برکات ملنا جنہیں منتہائے آواز تک مغفرت اور ہر تر وخشک کی استغفار وشہادت اور دلوں کو صبر وسکون وراحت ہے اور لُطف یہ کہ اذان میں اصل کلمے سات۷ ہی ہیں
اللّٰہ اکبر، اشھد ان لاالٰہ الااللّٰہ، اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ، حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح ، اللّٰہ اکبر لاالہ الااللّٰہ،
اور مکررات کو گنیے تو پندرہ۱۵ ہوتے ہیں، میت کے لئے وہ سات۷ فائدے اور احیا کے لئے پندرہ۱۵، انہیں سات۷ اور پندرہ۱۵ کے برکات ہیں، والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین تعجب کرتا ہوں کہ حضرات مانعین نے میت واحیا کو ان فوائدِ جلیلہ سے محروم رکھنے میں کیا نفع سمجھا ہے ہمیں تو مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۱؎۔
رواہ احمد ومسلم عن جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما۔

تم میں سے جس سے ہوسکے کہ اپنے بھائی مسلمان کو کوئی نفع پہنچائے تو لازم ومناسب ہے کہ پہنچائے۔ اسے احمد اور مسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔
 (۱؎ الصحیح لمسلم    باب استحباب الرقیۃ من العین الخ        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۲۲۴)
پھر خدا جانے اس اجازت کلی کے بعد جب تک خاص جزئیہ کی شرع میں نہی نہ ہو ممانعت کہاں سے کی جاتی ہے واللہ الموفق۔
تنبیہ دوم: حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
نیۃ المومن خیر من عملہ ۲؎
 (مسلمان کی نیت اُس کے عمل سے بہتر ہے)
رواہ البیھقی عن انس والطبرانی فی الکبیر عن سھل بن سعد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما۔
اسے بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے، طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
 (۲؎ المعجم الکبیر مرویات سہل الساعدی ،حدیث ۵۹۴۲    مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت        ۶/۱۸۵)
اور بیشک جو علم نیت جانتا ہے ایک ایک فعل کو اپنے لئے کئی کئی نیکیاں کرسکتا ہے مثلاً جب نماز کے لئے مسجد کو چلا اور صرف یہی قصد ہے کہ نماز پڑھوں گا تو بیشک اُس کا یہ چلنا محمود، ہر قدم پر ایک نیکی لکھیں گے اور دُوسرے پر گناہ محو کریں گے مگر عالم نیت اس ایک ہی فعل میں اتنی نیتیں کرسکتا ہے۔ 

(۱)    اصل مقصود یعنی نماز کو جاتا ہوں۔

(۲)    خانہ خدا کی زیارت کروں گا۔

(۳)    شعارِ اسلام ظاہر کرتا ہوں

(۴)    داعی اللہ کی اجابت کرتا ہوں۔

(۵)    تحیۃ المسجد پڑھنے جاتا ہوں۔

(۶)    مسجد سے خس وخاشاک وغیرہ دُور کروں گا۔

(۷)    اعتکاف کرنے جاتا ہوں کہ مذہب مفتی بہ پر اعتکاف کے لئے روزہ شرط نہیں اور ایک ساعت کا بھی ہوسکتا ہے جب سے داخل ہو باہر آنے تک اعتکاف کی نیت کرلے انتظار نماز وادائے نماز کے ساتھ اعتکاف کا بھی ثواب پائے گا۔

(۸)    امرِ الٰہی
خذوا زینتکم عند کل مسجد ۱؎
 (اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ۔ ت) امتثال کو جاتا ہوں۔
 (۱؎ القرآن    ۷/۳۱)
 (۹)    جو وہاں علم والا ملے گا اُس سے مسائل پُوچھوں گا دین کی باتیں سیکھوں گا۔

(۱۰)    جاہلوں کو مسئلہ بتاؤں گا دین سکھاؤں گا۔

(۱۱)    جو علم میں میرے برابر ہوگا اُس سے علم کی تکرار کروں گا۔

(۱۲)    علماء کی زیارت۔

(۱۳)    نیک مسلمانوں کا دیدار۔

(۱۴)    دوستوں سے ملاقات۔

(۱۵)    مسلمانوں سے میل۔

(۱۶)    جو رشتہ دار ملیں گے اُن سے بکشادہ پیشانی مل کر صلہ رحم۔

(۱۷)    اہلِ اسلام کو سلام۔

(۱۸)    مسلمانوں سے مصافحہ کروں گا۔

(۱۹)    اُن کے سلام کا جواب دُوں گا۔

(۲۰)    نماز جماعت میں مسلمانوں کی برکتیں حاصل کروں گا۔
Flag Counter