Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
155 - 157
ابوجعفر بن حمدان نے ابوعمر وبن نجید سے اسے بیان کرکے فرمایا:
فرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم رأس الصلحین ۶؎
 (تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تو سب صالحین کے سردار ہیں)
 (۶؎ اتحاف السادۃ المتقین     الفائدۃ الثانیۃ التخلص بالعزلۃ علی المعاصی الخ    مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۶/۳۵۱)
پس بلاشبہہ جہاں اذان ہوگی رحمتِ الٰہی اُترے گی اور بھائی مسلمان کے لئے وہ فعل جو باعثِ نزولِ رحمت ہو شرع کو پسند ہے کہ نہ ممنوع۔
دلیل دوازدہم: خود ظاہر اور حدیثوں سے بھی ثابت کہ مُردے کو اُس نئے مکان تنگ وتاریک میں سخت وحشت اور گھبراہٹ ہوتی ہے
الامارحم ربی ان ربی غفور رحیم ۱؎
(مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے یقینا میرا رب بخشش فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ت)
 (۱؎ القرآن    ۱۲/۵۳)
اور اذان دافعِ وحشت وباعث اطمینان خاطر ہے کہ وہ ذکرِ خدا ہے اور اللہ عزّوجل فرماتا ہے:
الابذکر اللّٰہ تطمئن القلوب ۲؎
 (سُن لو خدا کے ذکر سے چین پاتے ہیں دل)
 (۲؎ القرآن    ۱۳/۲۸)
ابونعیم وابن عساکر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
نزل ادم بالھند فاستوحش فنزل جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام فنادی بالاذان ۳؎ الحدیث۔
جب آدم علیہ الصلاۃ والسلام جنّت سے ہندوستان میں اُترے اُنہیں گھبراہٹ ہُوئی تو جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے اُتر کر اذان دی۔ (الحدیث)
 (۳؎ حلیۃ الاولیاء    مرویات عمروبن قیس الملائی نمبر ۲۹۹    مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت    ۲/۱۰۷)
پھر ہم اس غریب کی تسکین خاطر ودفعِ تو حش کو اذان دیں تو کیا بُرا کریں حاشا بلکہ مسلمان خصوصاً ایسے بے کس کی اعانت حضرت حق عزوجل کو نہایت پسند، حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اللّٰہ فی عون العبد ماکان العبد فی عون اخیہ ۴؎۔
رواہ مسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ والحاکم عن ابن ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔ اللہ تعالٰی بندے کی مدد میں ہے جب تک بندہ اپنے بھائی مسلمانوں کی مدد میں ہے۔ اسے مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
 (۴؎ صحیح لمسلم    باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۳۴۵)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
من کان فی حاجۃ اخیہ کان اللّٰہ فی حاجتہ ومن فرج عن مسلم کربۃ فرج اللّٰہ عنہ بھاکربۃ من کرب یوم القیٰمۃ ۱؎۔ رواہ الشیخان وابوداؤد عن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما۔
جو اپنے بھائی مسلمان کے کام میں ہو اللہ تعالٰی اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو کسی مسلمان کی تکلیف دُور کرے اللہ تعالٰی اس کے عوض قیامت کی مصیبتوں سے ایک مصیبت اس پر سے دور فرمائیگا۔ اسے بخاری ومسلم اور ابوداؤد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔
 (۱؎ صحیح البخاری     باب لایظلم المسلم المسلم الخ ،من ابواب المظالم ،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۳۳۰)
دلیل سیزدہم: مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرالمومنین مولی المسلمین سیدنا علی مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم سے مروی: قال راٰنی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم حزینا فقال یاابن ابی طالب انی اراک حزینا فمربعض اھلک یؤذن فی اذنک فانہ درء الھمّ ۲؎۔
یعنی مجھے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا: اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہُوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے، اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔
 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰہ المصابیح    باب الاذان    مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان    ۲/۱۴۹)
مولٰی علی اور مولٰی علی تک جس قدر اس حدیث کے راوی ہیں سب نے فرمایا:
فجربتہ فوجدتہ کذلک
 (ہم نے اسے تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا)
ذکرہ ابن حجر کمافی المرقاۃ
(اس کا تذکرہ حافظ ابن حجر نے کیا، جیسا کہ مرقات میں ہے۔ ت) اور خود معلوم اور حدیثوں سے بھی ثابت کہ میت اُس وقت کیسے حزن وغم کی حالت میں ہوتا ہے مگر وہ خاص عباداللہ اکابر اولیاء اللہ جو مرگ کو دیکھ
کر مرحبا بحبیب جاء علٰی فاقۃ
 (خوش آمدید اس محبوب کو جو بہت دیر سے آیا۔ ت) فرماتے ہیں، تو اس کے دفعِ غم والم کے لئے اگر اذان سُنائی جائے کیا معذور شرعی لازم آئے حاشاللہ بلکہ مسلمان کا دل خوش کرنے کے برابر اللہ عزوجل کو فرائض کے بعد کوئی عمل محبوب نہیں۔ طبرانی معجم کبیر ومعجم اوسط میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان احب الاعمال الی اللّٰہ تعالٰی بعد الفرائض ادخال السرور علی المسلم ۳؎۔
بیشک اللہ تعالٰی کے نزدیک فرضوں کے بعد سب اعمال سے زیادہ محبوب مسلمان کو خوش کرنا ہے۔
 (۳؎ المعجم الکبیر    مرویات عبداللہ ابن عباس    حدیث ۱۱۰۹ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت    ۱۱/۷۱)
اُنہی دونوں میں حضرت امام ابن الامام سیدنا حسن مجتبٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان موجبات المغفرۃ ادخالک السرور علی اخیک المسلم ۱؎۔
بیشک موجباتِ مغفرت سے ہے تیرا اپنے بھائی مسلمان کو خوش کرنا۔
 (۱؎ المعجم الکبیر    مرویات حسن بن علی    حدیث ۲۷۳۱ و ۲۷۳۸ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت    ۳/۸۳ ، ۸۵)
دلیل چہاردہم: قال اللّٰہ تعالٰی:یاٰیھا الذین اٰمنوا اذکرواللّٰہ ذکراکثیرا ۲؎۔
اے ایمان والوں! اللہ کا ذکر کرو بکثرت ذکر کرنا۔
 (۲؎ القرآن        ۳۳/۴۱)
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اکثروا ذکراللّٰہ حتی یقولوا مجنون ۳؎۔ اخرجہ احمد وابویعلی وابن حبان والحاکم والبیھقی عن ابی سعید الخدری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ صححہ الحاکم وحسنہ الحافظ ابن حجر۔
اللہ کا ذکر اس درجہ ذکر بکثرت کرو کہ لوگ مجنون بتائیں۔ اسے احمد، ابویعلی، ابن حبان، حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے حاکم نے اسے صحیح اور حافظ ابنِ حجر نے حسن قرار دیا ہے۔ (ت)
 (۳؎ مسند احمد بن حنبل    من مسند ابی سعید الخدری        مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۳/۶۸، ۷۱)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم: اذکراللّٰہ عندکل حجر وشجر ۴؎۔ اخرجہ الامام احمد فی کتاب الزھد والطبرانی فی الکبیر عن معاذبن جبل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
ہر سنگ وشجر کے پاس اللہ کا ذکر کر۔ اسے امام احمد نے کتاب الزہد اور طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سندِ حسن کے ساتھ روایت کیا۔ (ت)
 (۴؎ المعجم الکبیر    مرویات معاذ بن جبل    حدیث ۳۳۱    مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت    ۲۰/۱۵۹)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں: لم یفرض اللّٰہ علی عبادہ فریضۃ الاجعل لھا حدا معلوما ثم عذر اھلھا فی حال العذر غیر الذکر فانہ لم یجعل لہ حدا انتھی الیہ ولم یعذر احدا فی ترکہ الامغلوبا علی عقلہ وامرھم بہ فی الاحوال کلھا ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں پر کوئی فرض مقرر نہ فرمایا مگر یہ کہ اُس کے لئے ایک حد معین کردی پھر عذر کی

حالت میں لوگوں کو اُس سے معذور رکھا سوا ذکر کے کہ اللہ تعالٰی نے اس کے لئے کوئی حد نہ رکھی جس پر انتہا ہو اور نہ کسی کو اس کے ترک میں معذور رکھا مگر وہ جس کی عقل سلامت نہ رہے اور بندوں کو تمام احوال میں ذکر کا حکم دیا۔
 (۱؎ تفسیر البغوی المعروف بہ معالم    التنزیل مع تفسیر خازن ،زیر آیت مذکورہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/۲۶۵)
اُن کے شاگرد امام مجاہد فرماتے ہیں:
الذکر الکثیران لایتناھی ابدا ۲؎
(ذکر کثیریہ ہے کہ کبھی ختم نہ ہو)
 (۲؎ تفسیر البغوی المعروف بہ معالم التنزیل مع تفسیر خازن ،زیر آیت مذکورہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر۵/۲۶۶)
نوٹ:تفسیر معالم التنزیل سے حوالہ دیاگیا ہے الفاظ مختلف ہیں لیکن مفہوم یہی ہے جو اعلٰیحضرت نے بیان کیا ہے۔

نذیر احمد۔
ذکرھما فی المعالم وغیرھا
(معالم وغیرہ میں ان دونوں کا ذکر ہے۔ ت) تو ذکرِ الٰہی ہمیشہ ہر جگہ محبوب ومرغوب ومطلوب ومندوب ہے جس سے ہرگز ممانعت نہیں ہوسکتی جب تک کسی خصوصیتِ خاصہ میں کوئی نہی شرعی نہ آئی ہو اور اذان بھی قطعاً ذکرِ خدا ہے پھر خدا جانے کہ ذکرِ خدا سے ممانعت کی وجہ کیا ہے، ہمیں حکم ہے کہ ہر سنگ درخت کے پاس ذکرِ الٰہی کریں، قبرِ مومن کے پتھّر کیا اس کے حکم سے خارج ہیں خصوصاً بعد دفن ذکرِ خدا کرنا تو خود حدیثوں سے ثابت اور بتصریح ائمہ دین مستحب ولہذا امام اجل ابوسلیمان خطابی دربارہ تلقین فرماتے ہیں:
لانجدلہ حدیثا مشھورا ولابأس بہ اذ لیس فیہ الا ذکراللّٰہ تعالٰی قولہ وکل ذلک حسن ۳؎۔
ہم اس میں کوئی مشہور حدیث نہیں پاتے اور اس میں کچھ مضائقہ نہیں کہ اس میں نہیں ہے مگر خدا کا ذکر اور یہ سب کچھ محمود ہے۔
 (۳؎ امام اجل سلیمان خطابی)
دلیل پانزدہم: امام اجل ابوزکریا نووی شارح صحیح مسلم کتاب الاذکار میں فرماتے ہیں:
یستحب ان یقعد عندالقبر بعد الفراغ ساعۃ قدر ماینحر جزور ویقسم لحمھا، ویشتغل القاعدون بتلاوۃ القراٰن والدعاء للمیت والوعظ وحکایات اھل الخیر، واحوال الصالحین ۴؎۔
مستحب ہے کہ دفن سے فارغ ہوکر ایک ساعت قبر کے پاس بیٹھیں اتنی دیر کہ ایک اُونٹ ذبح کیا جائے اور اُس کا گوشت تقسیم ہو اور بیٹھنے والے قرآن مجید کی تلاوت اور میت کے لئے دُعا اور وعظ ونصیحت اور نیک بندوں کے ذکر وحکایت میں مشغول رہیں۔
 (۴؎ الاذکار المنتخبہ من کلام سیدالابرار    باب مایقول بعدالدفن    مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت  ص ۱۴۷)
شیخ محقق مولٰنا عبدالحق محدّث دہلوی قدس سرہ لمعات شرح مشکوٰۃ میں زیرحدیث امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ فقیر نے دلیل ششم میں ذکر کی، فرماتے ہیں:
قدسمعت عن بعض العلماء انہ یستحب ذکر مسئلۃ من المسائل الفقھیۃ ۱؎۔
یعنی بتحقیق میں نے بعض علما سے سُنا کہ دفن کے بعد قبر کے پاس کسی مسئلہ فقہ کا ذکر مستحب ہے۔
 (۱؎ لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح    الفصل الثانی من باب اثباب عذاب القبرمطبوعہ مکتبۃ المعارف العلمیہ لاہور ۱/۲۰۰)
Flag Counter