Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
154 - 157
دلیل ہفتم: یہ تو واضح ہولیا کہ بعد دفن میت کے لئے دُعا سنّت ہے اور علماء فرماتے ہیں آدابِ دعا سے ہے کہ اُس سے پہلے کوئی عملِ صالح کرے، امام شمس الدین محمد بن الجزری کی حصن حصین شریف میں ہے:
اٰداب الدعاء منھا تقدیم عمل صالح وذکرہ عند الشدۃ ۴؎ م ت د۔
آدابِ دُعا میں سے ہے کہ اس سے پہلے عمل صالح ہو اور ذکرِ الٰہی مشکل وقت میں ضرور کرنا چاہئے مسلم، ترمذی، ابوداؤد۔ (ت)
 (۴؎ حصن حصین     آداب  الدعاء        نولکشور لکھنؤ            ص ۱۴)
علّامہ علی قاری حرزِ ثمین میں فرماتے ہیں: یہ ادب حدیث ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے، کہ ابوداؤد وترمذی، ونسائی وابن ماجہ وابن حبان نے روایت کی، ثابت ہے اور شک نہیں کہ اذان بھی عمل صالح ہے تو دُعا پر اُس کی تقدیم مطابق مقصود وسنّت ہُوئی۔
دلیل ہشتم:رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثنتان لاترد الدعاء عند النداء وعند البأس ۱؎۔ اخرجہ ابوداؤد وابن حبان والحاکم بسند صحیح عن سھل بن سعد الساعدی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
دو۲دعائیں رَد نہیں ہوتیں ایک اذان کے وقت اور ایک جہاد میں جب کفّار سے لڑائی شروع ہو۔ اسے ابوداؤد، ابن حبان اور حاکم نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سندِ صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ المستدرک علی الصحیحین    لایرد الدعاء عندالاذان وعندالبأس    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۱/۱۹۸)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم: اذا نادی المنادی فتحت ابواب السماء واستجیب الدعا ۲؎۔ اخرجہ ابویعلی والحاکم عن ابی امامۃ الباھلی وابوداؤد الطیالسی وابویعلی والضیاء فی المختارۃ بسند حسن عن انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما۔
جب اذان دینے والا اذان دیتا ہے آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور دعا قبول ہوتی ہے۔ یہ روایت ابویعلی اور حاکم نے حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی اور ابوداؤد طیالسی اور ابویعلی اور ضیاء الدین نے المختارہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہما سے سند صحیح کے ساتھ بیان کی ہے (ت)
 (۲؎ المستدرک علی الصحیحین     اجابۃ الاذان والدعاء بعدہ           مطبوعہ دارالفکر بیروت      ۱/۵۴۶)
ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ اذان اسباب اجابت دعا سے ہے اور یہاں دعا شارع جل وعلا کو مقصود تو اُس کے اسباب اجابت کی تحصیل قطعاً محمود۔
دلیل نہم:حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: یغفر اللّٰہ للمؤذن منتھی اذانہ ویستغفرلہ کل رطب ویابس سمع صوتہ ۱؎۔
اذان کی آواز جہاں تک جاتی ہے مؤذن کیلئے اُتنی ہی وسیع مغفرت آتی ہے اور جس تر وخشک چیز کو اس کی آواز پہنچتی ہے اذان دینے والے کے لئے استغفار کرتی ہے۔
 (۱؎ مسند امام احمد بن حنبل    عن مسند عبداللہ بن عمر    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۲/۱۳۶)
اخرجہ الامام احمد بسند صحیح واللفظ لہ والبزار والطبرانی فی الکبیر عن عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما ونحوہ عند احمد وابی داؤد والنسائی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابن حبان من حدیث ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وصدرہ عند احمد والنسائی بسند حسن جید عن البراء بن عازب والطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ ولہ فی الاوسط عن انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم۔
اسے امام احمد نے سند صحیح کے ساتھ تخریج کیا اور یہ الفاظ امام احمد کے ہیں اور بزار طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا، اور اس کی مثل احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اس کا ابتدائی حصّہ احمد اور نسائی نے سند حسن اور جید کے ساتھ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اور اوسط میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے(ت)
یہ پانچ حدیثیں ارشاد فرماتی ہیں کہ اذان باعثِ مغفرت ہے اور بیشک مغفور کی دُعا زیادہ قابل قبول واقرب باجابت ہے، اور خود حدیث میں وارد کہ مغفوروں سے دُعا منگوانی چاہئے، امام احمد مسند میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا لقیت الحاج فسلم علیہ وصافحہ ومرہ ان یستغفرلک قبل ان یدخل بیتہ فانہ مغفورلہ ۲؎۔
جب تُو حاجی سے ملے اُسے سلام کر اور مصافحہ کر اور قبل اس کے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو اُس سے اپنے لئے استغفار کراکہ وہ مغفور ہے۔
 (۲؎ مسند امام احمد بن حنبل     مرویات  عن مسند عبداللہ بن عمر     مطبوعہ دارالفکر بیروت       ۲/۱۲۸)
پس اگر اہلِ اسلام بعد دفنِ میت اپنے میں کسی بندہ صالح سے اذان کہلوائیں تاکہ بحکمِ احادیث صحیحہ ان شاء اللہ تعالٰی اُس کے گناہوں کی مغفرت ہو پھر میت کے لئے دعا کرے کہ مغفور کی دُعا میں زیادہ رجائے اجابت ہوتو کیا گناہ ہُوا بلکہ عین مقاصد شرع سے مطابق ہوا۔
دلیل دہم: اذان ذکرِ الٰہی اور ذکرِ الٰہی دافعِ عذاب، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن شیئ انجی من عذاب اللّٰہ من ذکر اللّٰہ ۱؎ رواہ الامام احمد عن معاذبن جبل وابن ابی الدنیا والبیھقی عن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم۔
کوئی چیز ذکرِ خدا سے زیادہ عذابِ خدا سے نجات بخشنے والی نہیں۔ اسے امام احمد نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا (ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    مرویات معاذ ابنِ جبل    مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۵/۲۳۹)
نوٹ:    ابن ابی الدنیا اور بیہقی کے الفاظ عبداللہ ابن عمر سے یوں ہی مروی ہیں جبکہ احمد بن حنبل کے الفاظ معاذ بن جبل سے یوں مروی ہیں:
ماعمل آدمی عملاقط انجی لہ من عذاب اللّٰہ من ذکراللّٰہ الخ
اور خود اذان کی نسبت وارد، جہاں کہی جاتی ہے وہ جگہ اُس دن عذاب سے مامون ہوجاتی ہے، طبرانی معاجیم ثلٰثہ میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا اذن فی قریۃ امنھا اللّٰہ من عذابہ فی ذلک الیوم ۲؎
وشاھدہ عندہ فی الکبیر من حدیث معقل بن یسار رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔ جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالٰی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہے اور اس کی شاہد وہ روایت ہے جو معجم کبیر میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔ (ت)
 (۲؎ المعجم الکبیر    مرویات انس بن مالک حدیث ۷۴۶     مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت    ۱/۲۵۷)
اور بیشک اپنے بھائی مسلمان کے لئے ایسا عمل کرنا جو عذاب سے منجی ہو شارع جل وعلا کو محبوب ومرغوب، مولٰنا علی قاری رحمہ الباری شرح عین العلم میں قبر کے پاس قرآن پڑھنے اور تسبیح ودعائے رحمت ومغفرت کرنے کی وصیت فرماکر لکھتے ہیں:
فان الاذکار کلھا نافعۃ لہ فی تلک الدار ۳؎
 (کہ ذکر جس قدر ہیں سب میت کو قبر میں نفع بخشتے ہیں۔ ت)
 (۳؎ شرح عین العلم لملا علی قاری مع عین العلم الباب الثامن فی الصحبۃ والمؤلفۃ مطبوعہ امرت پریس لاہور ص ۳۳۲)

(شرح عین العلم لملا علی قاری مع عین العلم الباب الثامن فی الصحبۃ والمؤلفۃ  مطبوعہ مطبع اسلامیہ لاہور ص ۱۶۶)
امام بدرالدین محمود عینی شرح صحیح بخاری میں زیر باب موعظۃ المحدث عندالقبر فرماتے ہیں:
واما مصلحۃ المیت فمثل مااذا اجتمعوا عندہ لقراء ۃ القراٰن والذکر فان المیت ینتفع بہ ۱؎۔
میت کے لئے اس میں مصلحت ہے کہ مسلمان اُس کی قبر کے پاس جمع ہوکر قرآن پڑھیں ذکر کریں کہ میت کو اس سے نفع ہوتا ہے (ت)
 (۱؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب موعظۃ المحدث عندالقبر الخ    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۸/۱۸۶)
یارب مگر اذان ذکرِ محبوب نہیں یا مسلمان بھائی کو نفع ملنا شرعاً مرغوب نہیں۔

دلیل یازدہم: اذان ذکرِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہے اور ذکرِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باعثِ نزول رحمت۔

اوّلاً حضور کا ذکر عین ذکرِ خدا ہے امام ابن عطا پھر امام قاضی عیاض وغیرہما ائمہ کرام تفسیر
قولہ تعالٰی ورفعنا لک ذکرک ۲؎
میں فرماتے ہیں:
جعلتک ذکراً من ذکری فمن ذکرک فقدذکرنی ۳؎۔
میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایک یاد کیا جو تمہارا ذکر کرے وہ میرا ذکر کرتا ہے۔
 (۲؎ القرآن        ۹۴/۴) (۳؎ نسیم الریاض شرح الشفاء     زیر آیت مذکور        مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۱/۱۲۵)
اور ذکر الٰہی بلاشبہہ رحمت اُترنے کا باعث، سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم صحیح حدیث میں ذکر کرنے والوں کی نسبت فرماتے ہیں:
حفتھم الملٰئکۃ وغشیتھم الرحمۃ ونزلت علیھم السکینۃ ۴؎۔
رواہ مسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ وابی سعید رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما۔
انہیں ملائکہ گھیر لیتے ہیں اور رحمتِ الٰہی ڈھانپ لیتی ہے اور اُن پر سکینہ اور چین اُترتا ہے۔ اسے مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔ (ت)
 (۴؎ صحیح لمسلم    باب فضل الاجتماع علٰی تلاوت القرآن الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۳۴۵)
ثانیاً ہر محبوبِ خدا کا ذکر محلِ نزولِ رحمت ہے، امام سفیٰن بن عینیہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:
عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ ۵؎
 (نیکوں کے ذکر کے وقت رحمتِ الٰہی اترتی ہے)
 (۵؎ اتحاف السادۃ المتقین     الفائدۃ الثانیۃ التخلص بالعزلۃ علی المعاصی الخ    مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۶/۳۵۰)
Flag Counter