ابن عدی حضرت عبداللہ بن عباس اور وہ اور ابن السنی وابن عساکر حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا رأیتم الحریق فکبروا فانہ یطفیئ النار ۴؎۔
جب آگ دیکھو اللہ اکبر اللہ اکبر کی بکثرت تکرار کرو وہ آگ کو بجھا دیتا ہے۔
(۴؎ الکامل فی الضعفاء الرجال ازمن اسمہ عبداللہ بن لہیعہ مطبوعہ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ۴/۱۴۶۹)
اب یہ اللہ اکبر اللہ اکبر کہنا غضب الٰہی کے بُجھانے کو ہے ولہذا آگ لگی دیکھ کر دیر تک تکبیر مستحب ٹھہری۔
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثالث من باب اثبات عذاب القبر مکتبہ امدادیہ ملتان ۱/۲۱۱)
وسیلۃ النجاۃ میں حیرۃ الفقہ سے منقول: حکمت درتکبیر آنست براہلِ گورستان کہ رسول علیہ السلام فرمودہ است اذارأیتم الحریق فکبروا چوں آتش درجائے افتد و ازدست شمابر نیاید کہ بنشانید تکبیر بگوئید کہ آتش بہ برکت آں تکبیر فرونشیند چوں عذابِ قبر بآتش ست ودست شمابآں نمیرسد تکبیر میباید گفت تامردگان ازآتش دوزخ خلاص یابند ۳؎۔
اہلِ قبرستان پر تکبیر کہنے میں حکمت یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے ''اذارأیتم الحریق فکبروا'' یعنی جب تم کسی جگہ آگ بھڑکتی ہُوئی دیکھو اور تم اسے بجھانے کی طاقت نہ رکھتے ہو، توتکبیر کہو کہ اس تکبیر کی برکت سے وہ آگ ٹھنڈی پڑ جائیگی چونکہ عذابِ قبر بھی آگ کے ساتھ ہوتا ہے اور اسے تم اپنے ہاتھ سے بجھانے کی طاقت نہیں رکھتے لہذا اللہ کا نام لو(تکبیر کہو)تاکہ فوت ہونے والے لوگ دوزخ کی آگ سے خلاصی پائیں(ت)
(۳؎ وسیلۃ النجاۃ)
یہاں سے بھی ثابت کہ قبر مسلم پر تکبیر کہنا فردسنت ہے، تو یہ اذان بھی قطعاً سنت پر مشتمل اور زیادات مفیدہ کا مانع سنیت نہ ہونا تقریر دلیل دوم سے ظاہر۔
دلیل پنجم:ابن ماجہ وبیہقی سعید بن مسیب سے راوی: قال حضرت ابن عمر فی جنازۃ فلما وضعھا فی اللحدقال بسم اللّٰہ وفی سبیل اللّٰہ فلما اخذ فی تسویۃ اللحد قال اللھم اجرھا من الشیٰطن ومن عذاب القبر ثم قال سمعتہ من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ھذا مختصر ۱؎۔
یعنی میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کیساتھ ایک جنازہ میں حاضر ہوا حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب اُسے لحد میں رکھا کہا بسم اللّٰہ وفی سبیل اللّٰہ جب لحد برابر کرنے لگے کہا الٰہی! اسے شیطان سے بچا اور عذاب قبر سے امان دے، پھر فرمایا میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سنا۔
(۱؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی ادخال المیت القبر مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۲)
امام ترمذی حکیم قدس سرہ الکریم الکریم بسند جید عمروبن مرہ تابعی سے روایت کرتے ہیں:کانوا یستحبون اذا وضع المیت فی اللحد ان یقولوا اللھم اعذہ من الشیطان الرجیم ۲؎۔
یعنی صحابہ کرام یا تابعین عظام مستحب جانتے تھے کہ جب میت کو دفن کریں یوں کہیں ''اللہ کے نام سے اور اللہ کی راہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ملّت پر، الٰہی! اسے عذابِ قبر وعذابِ دوزخ اور شیطان ملعون کے شر سے پناہ بخش۔
(۲؎ نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الفصل التاسع والاربعون مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳)
ابن ابی شیبہ اُستاذ امام بخاری ومسلم اپنے مصنف میں خثیمہ سے راوی: کانوا یستحبون اذاوضعوا المیت ان یقولوا بسم اللّٰہ وفی سبیل اللّٰہ وعلٰی ملّۃ رسول اللّٰہ اللھم اجرہ من عذاب القبر وعذاب النار ومن شر الشیطان الرجیم ۳؎۔
مستحب جانتے تھے کہ جب میت کو دفن کریں یوں کہیں ''اللہ کے نام سے اور اللہ کی راہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ملّت پر،الٰہی! اسے عذابِ قبر وعذابِ دوزخ اور شیطان ملعون کے شر سے پناہ بخش۔
(۳؎ المصنف ابن ابی شیبہ ماقالوا اذاوضع المیت فی قبرہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۳/۳۲۹)
ان حدیثوں سے جس طرح یہ ثابت ہوا کہ اس وقت عیاذاً باللہ شیطان رجیم کا دخل ہوتا ہے یونہی یہ بھی واضح ہوا کہ اُس کے دفع کی تدبیر سنّت ہے کہ دعا نہیں مگر ایک تدبیر اور احادیث سابقہ دلیل اوّل سے واضح کہ اذان رفعِ شیطان کی ایک عمدہ تدبیر ہے تو یہ بھی مقصود شارع کے مطابق اور اپنی نظیر شرعی سے موافق ہوئی۔
دلیل ششم:ابوداؤد وحاکم وبیہقی امیرالمومنین عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:
کان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذافرغ من دفن المیت وقف علیہ قال استغفروا لاخیکم وسلوا لہ بالتثبت فانہ الان یسأل ۱؎۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب دفنِ میت سے فارغ ہوتے قبر پر وقوف فرماتے اور ارشادکرتے اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے جوابِ نکیرین میں ثابت قدم رہنے کی دعا مانگو کہ اب اس سے سوال ہوگا۔
(۱؎ سنن ابوداؤد باب استغفار عند القبر للمیت مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۱۰۳)
سعید بن منصور اپنے سنن میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:
قال کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یقف علی القبر بعدماسوی علیہ فیقول اللھم نزل بک صاحبنا وخلف الدنیا خلف ظھرہ اللھم ثبت عندالمسألۃ منطقۃ ولاتبتلہ فی قبرہ بمالاطاقۃ لہ بہ ۲؎۔
یعنی جب مُردہ دفن ہوکر قبر درست ہوجاتی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قبر پر کھڑے ہوکر دعا کرتے الٰہی! ہمارا ساتھی تیرا مہمان ہُوا اور دنیا اپنے پسِ پشت چھوڑ آیا، الٰہی! سوال کے وقت اس کی زبان درست رکھ اور قبر میں اس پر وہ بلانہ ڈال جس کی اسے طاقت نہ ہو۔
(۲؎ الدر المنثور زیر آیت ویثبت اللّٰہ الذین اٰمنوا الخ مطبوعہ منشورات مکتبہ آیۃ اللہ، قم ایران ۴/۸۳)
ان حدیثوں اور احادیث دلیل پنجم وغیرہ سے ثابت کہ دفن کے بعد دعا سنّت ہے امام محمد بن علی حکیم ترمذی قدس سرہ الشریف دعا بعد دفن کی حکمت میں فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ بجماعت مسلمین ایک لشکر تھا کہ آستانہ شاہی پر میت کی شفاعت وعذر خواہی کیلئے حاضر ہُوا اور اب قبر پر کھڑے ہوکر دُعا یہ اس لشکر کی مدد ہے کہ یہ وقت میت کی مشغول کا ہے کہ اُسے اُس نئی جگہ کا ہول اور نکیرین کا سوال پیش آنے والا ہے
(امام جلال الدین سیوطی نے اسے شرح الصدور میں نقل کیا ہے۔ت) اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہاں استحبابِ دعا کا عالم میں کوئی عالم منکر ہو۔امام آجری فرماتے ہیں:
یستحب الوقوف بعد الدفن قلیلا والدعاء للمیت ۴؎۔
مستحب ہے کہ دفن کے بعد کچھ دیر کھڑے رہیں اور میت کے لئے دُعا کریں۔
(۳؎ نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الفصل التاسع والاربعون والمائتان مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳)
(۴؎ نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الفصل التاسع والاربعون والمائتان مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳)
اسی طرح اذکار امام نووی وجوہرہ نیرہ ودرمختار وفتاوٰی عالمگیری وغیرہا اسفار میں ہے، طرفہ یہ کہ امام ثانی منکرین یعنی مولوی اسحاق صاحب دہلوی نے مائۃ مسائل میں اسی سوال کے جواب میں کہ بعد دفن قبر پر اذان کیسی ہے فتح القدیر وبحرالرائق ونہرالفائق وفتاوٰی عالمگیریہ سے نقل کیا کہ قبر کے پاس کھڑے ہوکر دُعا سنّت سے ثابت ہے اور براہِ بزرگی اتنا نہ جانا کہ اذان خود دُعا بلکہ بہترین دُعا سے ہے کہ وہ ذکرِ الٰہی ہے اور ہر ذکرِ الٰہی دعا، تو وہ بھی اسی سنتِ ثابتہ کی ایک فرد ہُوئی پھر سنّیت مطلق سے کراہت فرد پر استدلال عجب تماشا ہے، مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
کل دعا ذکر وکل ذکر دعا ۱؎
(ہر دعا ذکر ہے اور ہر ذکر دُعا ہے)
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثانی من باب التسبیح الخ مطبو عہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۵/۱۱۲)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
افضل الدعاء الحمدللّٰہ ۲؎
(سب دعاؤں سے افضل دُعا الحمدللہ ہے)
اخرجہ الترمذی وحسنہ والنسائی وابن حبان والحاکم وصححہ عن جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما۔ اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن قرار دیا، نسائی، ابنِ حبان اور حاکم نے حضرت جابر بن عبداللہ تعالٰی عنہما سے روایت کرکے صحیح قرار دیا ہے (ت)
(۲؎ جامع الترمذی باب ماجاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۱۷۴)
صحیحین میں ہے ایک سفر میں لوگوں نے بآوازِ بلند اللہ اکبر اللہ اکبر کہنا شروع کیا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اپنی جانوں پر نرمی کرو
(تم کسی بہرے یا غائب سے دُعا نہیں کرتے سمیع بصیر سے دعا کرتے ہو)
(۳؎ الصحیح لمسلم باب خفض الصوت بالذکر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۴۶)
دیکھو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کی تعریف اور خاص کلمہ اللہ اکبر کو دعا فرمایا تو اذان کے بھی ایک دُعا اور فرد مسنون ہونے میں کیا شک رہا۔