ایذان الاجر فی اذان ھ القبر(۱۳۰۷ھ)
(دفن کے بعد قبر پر اذان کہنے کے جواز پر مبارک فتوٰی)
مسئلہ ۳۸۸ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دفن کے وقت جو قبر پر اذان کہی جاتی ہے شرعاً جائز ہے یا نہیں، بینّوا توجروا۔
فتوٰی
بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحیم
الحمدللّٰہ الذی جعل الاذان علم الایمان وسبب الامان وسکینۃ الجنان ومنافۃ الاحزان ومرضاۃ الرحمٰن والصلاۃ والسلام الاتمان الاکملان علی من رفع اللّٰہ ذکرہ واعظم قدرہ فبذکرہ زان کل خطبۃ واذان وعلی اٰلہ وصحبہ الذاکرین ایاہ مع ذکر مولاہ فی الحیوۃ والموت والوجدان والفوت وکل حین واٰن واشھد ان لاالٰہ الااللّٰہ الحنان المنان وان محمدا عبدہ ورسولہ سید الانس والجان صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ المرضین لدیہ مااَذِنَ اُذُن لصوت اذان قال الفقیر عبدالمصطفٰی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی سقاہ المجیب من کاس الجیب عذبا فراتا وجعلہ من الذین ھم اھل الایمان والصلاۃ والاذان احیاء وامواتا اٰمین الہ الحق اٰمین۔
تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے جس نے اذان کو ایمان کی علامت، سببِ امان، دلوں کا سکون، غموں کا ازالہ اور رحمان کی رضا کا ذریعہ بنایا، صلاۃ وسلام کاملہ تامہ ہو اس ذات پر جس کا ذکر اللہ تعالٰی نے بلند کردیا اور اس کے مرتبہ کو عظیم کیا چنانچہ ان کے ذکر سے ہر خطبہ اور اذان کوزینت بخشی اور آپ کی آل واصحاب پر جو موت وحیات، وجدان وفوت غرضیکہ ہر وقت اپنے رب کریم کے ذکر کے ساتھ اپنے آقا کا ذکر کرتے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ حنّان ومنّان کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور انس وجن کے سردار نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اللہ تعالٰی کے برگذیدہ بندے اور رسول ہیں آپ پر اور آپ کی آل پاک اور صحابہ کرام پر جو کہ پسندیدہ ہیں سب پر اس وقت تک اللہ تعالٰی کی رحمتیں ہوں جب تک کان اذان کی آواز سنتے رہیں، خیر عبدالمصطفٰی احمد رضا محمدی سُنّی حنفی قادری برکاتی بریلوی دُعا کرتا ہے کہ اللہ تعالٰی اسے اپنے حبیب کے حوضِ کوثر سے سیراب کرے اور اسے ان لوگوں میں سے کردے جو موت وحیات میں ایمان، نماز اور اذان والے ہیں آمین الٰہ الحق آمین۔(ت)
الجواب
بعض علمائے دین نے میت کو قبر میں اتارتے وقت اذان کہنے کو سنّت فرمایا، امام ابن حجر مکّی وعلّامہ خیر الملۃ والدّین رملی استاذ صاحبِ دُرمختار علیہم رحمۃ الغفار نے اُن کا یہ قول نقل کیا:
اما المکی ففی فتاواہ وفی شرح العباب وعارض واما الرملی ففی حاشیۃ البحرالرائق ومرض۔
مکّی نے اپنے فتاوٰی اور شرح العباب میں نقل کیا اور اس نے معارضہ کیا، رملی نے حاشیہ البحرالرائق میں نقل کیا اور اسے کمزور کہا۔ (ت)
حق یہ ہے کہ اذان مذکور فی السوال کا جواز یقینی ہے ہرگز شرع مطہر سے اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں اور جس امر سے شرع منع نہ فرمائے اصلاً ممنوع نہیں ہوسکتا قائلانِ جواز کے لئے اسی قدر کافی، جو مدعیِ ممانعت ہو دلائل شرعیہ سے اپنا دعوٰی ثابت کرے، پھر بھی مقامِ تبرع میں آکر فقیر غفراللہ تعالٰی لہ بدلائل کثیرہ اس کی اصل شرع مطہر سے نکال سکتا ہے جنہیں بقانونِ مناظرہ اسانید تصور کیجئے فاقول وباللّٰہ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق۔
دلیل اوّل: وارد ہے کہ جب بندہ قبر میں رکھا جاتا اور سوالِ نکیرین ہوتا ہے شیطان رجیم (کہ اللہ عزوجل صدقہ اپنے محبوب کریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کا ہر مسلمان مرد و زن کو حیات وممات میں اس کے شر سے محفوظ رکھے)
وہاں بھی خلل انداز ہوتا ہے اور جواب میں بہکاتا ہے والعیاذ بوجہ العزیز الکریم ولاحول ولاقوۃ الّا باللّٰہ العلی العظیم۔ امام ترمذی محمد بن علی نوادر الاصول میں امام اجل سفیٰن ثوری رحمہ اللہ تعالٰی سے روایت کرتے ہیں :
اذا سئل المیت من ربک تراأی لہ الشیطان فی صورت فیشیر الی نفسہ ای اناربک ۱؎ فلھذا ورد سوال التثبیت لہ حین یسئل۔
یعنی جب مُردے سے سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ شیطان اُس پر ظاہر ہوتا اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی میں تیرا رب ہُوں، اس لئے حکم آیا کہ میت کے لئے جواب میں ثابت قدم رہنے کی دعا کریں۔(ت)
(۱؎ نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل التاسع والاربعون والمائتان الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳)
امام ترمذی فرماتے ہیں: ویؤیدہ من الاخبار قول النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عند دفن المیت اللھم اجرہ من الشیطان فلولم یکن للشیطان ھناک سبیل مادعا صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بذلک ۲؎۔
یعنی وہ حدیثیں جو اسکی مؤید ہیں جن میں وارد کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میت کو دفن کرتے وقت دعا فرماتے الٰہی! اسے شیطان سے بچا۔اگر وہاں شیطان کا کچھ دخل نہ ہوتا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یہ دُعا کیوں فرماتے۔(ت)
(۲؎ نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل التاسع والاربعون والمائتان الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳)
نوٹ:یہ دونوں عبارتیں اعلٰیحضرت نے بالمعنی نقل کی ہیں اس لئے الفاظ میں کافی تغیر وتبدل ہے، پہلی عبارت درست کردی ہے دوسری عبارت اس طرح ہے:
فلولم یکن للشیطان ھناک سبیل ماکان لیدعولہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بان یجیرہ من الشیطان۔
اور صحیح حدیثوں سے ثابت کہ اذان شیطان کو دفع کرتی ہے،صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذااذن المؤذن ادبر الشیطان ولہ حصاص ۳؎۔
جب مؤذن اذان کہتا ہے شیطان پیٹھ پھیر کر گوززناں بھاگتا ہے۔(ت)
صحیح مسلم کی حدیث جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے واضح کہ چھتیس میل تک بھاگ جاتا ہے ۴؎۔ اور خود حدیث میں حکم آیا جب شیطان کا کھٹکا ہو فوراً اذان کہو کہ وہ دفع ہوجائے گا ۵؎
اخرجہ الامام ابوالقاسم سلیمٰن بن احمدالطبرانی فی اوسط معاجیمہ عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ
(اسے امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)، ہم نے اپنے رسالہ
نسیم الصبافی ان الاذان یحول الوبا
(صبح کی خوشگوار ہوا اس بارے میں کہ اذان سے وبا دُور ہوجاتی ہے۔ت) میں اس مطلب پر بہت احادیث نقل کیں، اور جب ثابت ہولیا کہ وہ وقت عیاذاً باللہ مداخلت شیطان لعین کا ہے اور ارشاد ہُوا کہ شیطان اذان سے بھاگتا ہے اور اس میں حکم آیا کہ اُس کے دفع کو اذان کہو تو یہ اذان خاص حدیثوں سے مستنبط بلکہ عین ارشادِ شارع کے مطابق اور مسلمان بھائی کی عمدہ امداد واعانت ہُوئی جس کی خوبیوں سے قرآن وحدیث مالامال۔
دلیل دوم: امام احمد وطبرانی وبیہقی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
قال لمادفن سعد بن معاذ (زاد فی روایۃ) وسوی علیہ سبح النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وسبح الناس معہ طویلا ثم کبر وکبرالناس ثم قالوا یارسول اللّٰہ لم سبحت (زاد فی روایۃ) ثم کبرت قال لقد تضایق علی ھذا الرجل الصالح قبرہ حتی فرج اللّٰہ تعالٰی عنہ ۱؎۔
یعنی جب سعد بن معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ دفن ہوچکے اور قبر درست کردی گئی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دیر تک سبحان اللہ فرماتے رہے اور صحابہ کرام بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے پھر حضور اللہ اکبر اللہ اکبر فرماتے رہے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے، پھر صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ! حضور اول تسبیح پھر تکبیر کیوں فرماتے رہے؟ ارشاد فرمایا: اس نیک مرد پر اُس کی قبر تنگ ہُوئی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے وہ تکلیف اُس سے دُور کی اور قبر کشادہ فرمادی۔(ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل عن مسندہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳/۳۷۷ ۔۳۶۰)
علامہ طیبی شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: ای مازلت اکبر وتکبرون واسبح وتسبحون حتی فرجہ اللّٰہ ۲؎ اھ۔
یعنی حدیث کے معنی یہ ہیں کہ برابر مَیں اور تم اللہ اکبر اللہ اکبر سبحان اللہ کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے اُس تنگی سے انہیں نجات بخشی۔ اھ (ت)
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثالث من اثبات عذاب القبر مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱/۲۱۱)
اقول:اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے میت پر آسانی کے لئے بعد دفن کے قبر پر اللہ اکبر اللہ اکبر بار بار فرمایا ہے اور یہی کلمہ مبارکہ اذان میں چھ بار ہے تو عین سنّت ہُوا، غایت یہ کہ اذان میں اس کے ساتھ اور کلمات طیبات زائد ہیں سو اُن کی زیادت نہ معاذاللہ کچھ مضر نہ اس امر مسنون کے منافی بلکہ زیادہ مفید ومؤید مقصود ہے کہ رحمتِ الٰہی اتارنے کے لئے ذکر خدا کرنا تھا، دیکھو یہ بعینہٖ وہ مسلک نفیس ہے جو دربارہ تلبیہ اجلہ صحابہ عظام مثل حضرت امیرالمومنین عمر وحضرت عبداللہ بن عمر وحضرت عبداللہ بن مسعود وحضرت امام حسن مجتبٰی وغیرہم رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کو ملحوظ ہوا اور ہمارے ائمہ کرام نے اختیار فرمایا، ہدایہ میں ہے:
لاینبغی ان یخل بشیئ من ھذہ الکلمات لانہ ھو المنقول فلاینقص عنہ، ولوزاد فیھا جاز لان المقصود الثناء واظھار العبودیۃ فلایمنع من الزیادۃ علیہ ۱؎ اھ ملخصا۔
یعنی ان کلمات میں کمی نہ چاہئے کہ یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں تو اُن سے گھٹائے نہیں اور اگر بڑھائے تو جائز ہے کہ مقصود اللہ تعالٰی کی تعریف اور اپنی بندگی کا ظاہر کرنا ہے تو اور کلمے زیادہ کرنے سے ممانعت نہیں اھ ملخصا (ت)
(۱؎ الہدایۃ باب الاحرام مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/۲۱۷)
فقیر غفراللہ تعالٰی لہ، نے اپنے رسالہ صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین ۱۳۰۶ھ وغیرہا رسائل میں اس مطلب کی قدرے تفصیل کی۔
دلیل سوم: بالاتفاق سنّت اور حدیثوں سے ثابت اور فقہ میں مثبت کہ میت کے پاس حالتِ نزع میں کلمہ طیبہ لاالٰہ الااللّٰہ کہتے رہیں کہ اُسے سُن کر یاد ہو حدیث متواتر میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لقنوا موتاکم لاالٰہ الاللّٰہ ۲؎
(اپنے مردوں کو لاالٰہ الااللّٰہ سکھاؤ)
رواہ احمد ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی سعید الخدری وابن ماجۃ کمسلم عن ابی ھریرۃ وکالنسائی عن ام المؤمنین عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم۔
اسے احمد، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور ابن ماجہ نے مسلم کی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اور نسائی کی طرح حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے۔(ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد باب فی التلقین مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۸۸)
اب جو نزع میں ہے وہ مجازاً مردہ ہے اور اُسے کلمہ اسلام سکھانے کی حاجت کہ بحول اللہ تعالٰی خاتمہ اسی پاک کلمے پر ہو اور شیطان لعین کے بھُلانے میں نہ آئے اور جو دفن ہوچکا حقیقۃً مُردہ ہے اور اُسے بھی کلمہ پاک سکھانے کی حاجت کہ بعون اللہ تعالٰی جواب یاد ہوجائے اور شیطان رجیم کے بہکانے میں نہ آئے اور بیشک اذان میں یہی کلمہ لاالٰہ الّا اللّٰہ تین جگہ موجود بلکہ اُس کے تمام کلمات جواب نکیرین بتاتے ہیں ان کے سوال تین ہیں
(۱)من ربک
تیرا رب کون ہے؟
(۲)مادینک
تیرا دین کیا ہے؟
(۳)ما کنت تقول فی ھذا الرجل ۱؎
تُو اس مرد یعنی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے باب میں کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ اب اذان کی ابتدا میں
اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اشھد ان لاالٰہ الااللّٰہ اشھد ان لاالٰہ الااللّٰہ
اور آخر میں
اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لاالٰہ الااللّٰہ
سوال من ربک کا جواب سکھائیں گے ان کے سننے سے یاد آئیگا کہ میرا رب اللہ ہے اور
اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ سوال ماکنت تقول فی ھذا الرجل
کا جواب تعلیم کریں گے کہ میں انہیں اللہ کا رسول جانتا تھا اور حیّ علی الصلاۃ حی علی الفلاح جواب مادینک کی طرف اشارہ کریں گے کہ میرا دین وہ تھا جس میں نماز رکن وستون ہے کہ
الصلاۃ عمادالدین ۲؎
تو بعد دفن اذان دینا عین ارشاد کی تعمیل ہے جو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حدیث صحیح متواتر مذکور میں فرمایا، اب یہ کلام سماعِ موتٰی وتلقینِ اموات کی طرف مخبر ہوگا فقیر غفراللہ تعالٰی خاص اس مسئلہ میں کتاب مبسوط مسمّی بہ حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات تحریر کرچکا جس میں پچھتّر حدیثوں اور پونے چارسو۴۷۵ اقوالِ ائمہ دین وعلمائے کاملین وخود بزرگانِ منکرین سے ثابت کیا کہ مُردوں کا سُننا دیکھنا سمجھنا قطعاً حق ہے اور اس پر اہل سنت وجماعت کا اجماع قائم اور اس کا انکار نہ کرے گا مگر غبی جاہل یا معاند مبطل، اور اُسی کی چند فصول میں بحث تلقین بھی صاف کردی یہاں اُس کے اعادہ کی حاجت نہیں۔
(۱؎ مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثانی من اثبات عذاب القبر مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۲۵)
(۲؎ کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال کتاب الصلاۃ مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت ۷/۲۸۴)