بالجملہ منکرین کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ادعائے بے دلیل سے بدتر کوئی شے ذلیل نہیں دربارہ اذان تو احادیث وارد اور اس کا استحباب کُتبِ فقہ میں مصرح تو انکار نہیں مگر جہل مبین اور دربارہ اقامت اگر ورود نہیں کہیں منع بھی نہیں اور بے منع شرعی منع کرنا ظلم مہین، ادنی درجہ منع کراہت ہے اور کراہت کے لئے دلیل خاص کی حاجت ہے اور بے دلیل شرعی ادعائے منع شریعت پر افتراء وتہمت ہے، ردالمحتار جلد ۱ ص ۶۸۳:
لایلزم منہ ان یکون مکروھا الابنھی خاص لان الکراھۃ حکم شرعی فلابدلہ من دلیل ۳؎۔
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مکروہ ہوگا مگر کسی نہی خاص کے ساتھ کیونکہ کراہت حکم شرعی ہے اس کے لئے دلیل کا ہونا ضروری ہے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار مطلب بیان السنۃ والمستحب الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۸۳)
البحرالرائق جلد ۲ ص ۱۷۶:
لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃ اذلابدلھا من دلیل خاص ۴؎۔
ترکِ مستحب سے کراہت کا ثبوت نہیں ہوتا کیونکہ اس کیلئے خاص دلیل کی ضرورت ہے (ت)
وہابیہ کی جہالت کہ جواز کے لئے ورود خاص مانگیں اور منع کے لئے دلیل خاص کی کچھ حاجت نہ جانیں اس اوندھی الٹی سمجھ کا کیا ٹھکانا، مگر علت وہی شریعت مطہرہ پر افترا اٹھانا۔ ردالمحتار جلد ۵ ص ۴۵۵:
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی اللّٰہ تعالٰی باثبات الحرمۃ اوالکراھۃ اللذین لابدلھا من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل ۱؎۔
احتیاط نہیں کرتے اللہ تعالٰی پر افتراء میں حرمت وکراہت ثابت کرنے میں جن کے لئے دلیل کا ہونا ضروری ہے البتہ اباحت کا قول کرنے میں احتیاط کرتے ہیں جو کہ اصل ہے (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الاشربۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/۳۲۶)
ظاہر ہے کہ نامِ اقدس سُن کر انگوٹھے چُومنا آنکھوں سے لگانا عرفاً دلیلِ تعظیم ومحبّت ہے اور امورِ ادب میں قطعاً عرف کا اعتبار۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
فیحال علی المعھود حال قصد التعظیم ۲؎۔
تعظیم مقصود ہونے کے وقت اسے عرف پر محمول کیا جائیگا۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر باب صفۃ الصّلٰوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۲۴۹)
اور تعظیم حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطلقاً ماموربہ۔
قال اللّٰہ تعالٰی لتؤمنوا باللّٰہ ورسولہ وتعزروہ وتؤقروہ ۳؎۔
اللہ تعالٰی کا ارشادِ مبارک ہے: تم اللہ تعالٰی اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ہمیشہ ان کی تعظیم وتوقیر بجالاؤ۔ (ت)
(۳؎ القرآن ۴۸/۹)
اور مطلق ہمیشہ اپنے اطلاق پر جاری رہے گا جب تک کسی خاص فرد سے منع شرعی نہ ثابت ہو جیسے سجدہ، زیادات امام عتابی پھر جامع الرموز پھر ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۹ میں ہے:
ان المطلق یجری علٰی اطلاقہ الا اذاقام دلیل التقیید نصا اودلالۃ فاحفظہ فانہ للفقیہ ضروری ۴؎۔
مطلق اپنے اطلاق پر ہی رہتا ہے مگر اس صورت میں کہ جب تقیید پر کوئی صراحۃً یا دلالۃً دلیل قائم ہو اسے اچھی طرح محفوظ کرلو کیونکہ یہ فقیہ کے لئے ضروری قاعدہ ہے۔(ت)
(۴؎ ردالمحتار فصل فی البیع من کتاب الحظر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/۲۷۲)
مگر ہے یہ کہ اشقیا کے نزدیک تعظیمِ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطلقاً شرک وظلم ہے شریعت نے برخلاف قیاس بعض مواضع میں خدا جانے کس ضرورت سے ناچاری کو مقرر کردی ہے لہذا مورد پر مقتصر رہے گی باقی اُسی اصل حکم پر شرک وبدعت وحرام ٹھہرے گی فلہذا جہاں وارد ہوئی خدا کا دھرا سر پر، قہرِ درویش بجانِ درویش ماننی پڑی وہ بھی فقط ظاہراً نہ دل سے جیسے التحیات میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو غائبانہ ندا کرنے کا شریعت نے حکم دیا خدا جانے شریعت کو کیا ہوگیا تھا کہ عین نماز میں یہ غیر خدا کی تعظیم اور اس پر دُور ونزدیک سے پکارنا رکھ دیا، خیر قہرا جبراً التحیات کے لفظ تو پڑھ لو مگر انشائے معنی کا ارادہ نہ کرنا وہ دیکھو امام الطائفہ اسمٰعیل دہلوی صراطِ مستقیم میں حکم لگارہے ہیں کہ :
''صرف ہمت درنماز بسوئے شیخ وامثال آں ازمعظمین گوجناب رسالتمآب باشند بچندیں مرتبہ بدترست ازاستغراق درخیال گاؤ ۱؎ وخر خود، الی آخر الکلمۃ الملعونۃ لعن اللہ قائلہا وقابلہا۔
''نماز میں اپنے شیخ یا بزرگوں میں سے کسی دوسرے بزرگ حتی کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف توجہ صَرف کرنا اپنے گدھے اور بیل کے خیال میں مستغرق ہوجانے سے کئی درجے بدتر ہے'' آخر کلام ملعون تک، اللہ تعالٰی اس کلام کے قائل اور قبول کرنے والے کو اپنی رحمت سے دُور رکھے۔ (ت)
ولہذا وہابیہ تصریح کرتے ہیں کہ تشہد میں السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ سے حکایتِ لفظ کا ارادہ کرے قصدِ معنی نہ کرے تصریح کرتے ہیں دُور سے یارسول اللہ کہنا شرک ہے مگر بحمداللہ تعالٰی مسلمانوں کے ایمان میں تعظیمِ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عین ایمان ایمان کی جان ہے اور علی الاطلاق مطلوب شرع، تو جو کچھ بھی جس طرح بھی جس وقت بھی جس جگہ بھی تعظیمِ اقدس کے لئے بجالائے خواہ وہ بعینہٖ منقول ہو یا نہ ہو سب جائز ومندوب ومستحب ومرغوب ومطلوب وپسندیدہ وخوب ہے جب تک اُس خاص سے نہی نہ آئی ہو جب تک اُس خاص میں کوئی حرجِ شرعی نہ ہو، وہ سب اس اطلاق ارشادِ الٰہی وتعزروہ وتؤقروہ میں داخل اور امتثال حکم الٰہی کا فضل جلیل اسے شامل ہے ولہذا ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ جس قدر ادب وتعظیم حبیب رب العالمین جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں زیادہ مداخلت رکھے اُسی قدر زیادہ خوب ہے، فتح القدیر امام محقق علی الاطلاق ومنسک متوسط وفتاوٰی عٰلمگیریہ وغیرہا میں ہے :
کل ماکان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا ۲؎۔
جس قدر بھی ادب وعزت میں کامل ہو اتنا ہی زیادہ اچھا ہے۔(ت)
(۲؎ المسلک المقتسط فی المنسک المتوسط مع ارشاد الساری باب زیادۃ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ص ۳۳۶)
امام ابنِ حجر مکّی ''جوہر منظم'' میں فرماتے ہیں: تعظیم النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیھا مشارکۃ اللّٰہ تعالٰی فی الالوھیۃ امر مستحسن عند من نوراللّٰہ ابصارھم ۱؎۔
وہ لوگ جنہیں اللہ تعالٰی نے آنکھوں کا نور عطا فرمایا ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کی تمام اقسام وصورتوں کو امر مستحسن تصوّر کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں ہرگز باری تعالٰی کے ساتھ شرکت کا کوئی پہلو نہیں۔(ت)
(۱؎ الجوہر المنظم الفصل الاول مطبوعہ ادارۃ المرکزیۃ واشاعۃ القرآن گلبرگ لاہور ص ۱۲)
تو مسلمان اگر وقتِ اقامت بھی تقبیل کرے ہرگز کوئی وجہِ ممانعت نہیں، اور اسے شرعاً ناجائز نہ کہے گا مگر وہ کہ شرع پر افترا کرتا یا نام واکرام سیدالانام علیہ افضل الصلاۃ والسلام سے جلتا ہے۔اسی طرح نماز واستماع قرآن مجید واستماع خطبہ جن میں حرکت منع ہے اور ان کے امثال مواضع لزوم محذور کے سوا جہاں کہیں بھی یہ فعل بنظرِ تعظیم ومحبت حضرت رسالت علیہ افضل الصلاۃ والتحیۃ ہو جیسا کہ بعض محبان سرکار سے مشہور ہے بہرحال محبوب ومحمود ہے واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔