Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
150 - 157
وبلفظ من لم یسأل اللّٰہ یغضب علیہ ۱؎ احمد والبخاری فی الادب المفرد والترمذی وابن ماجۃ والبزار وابن حبان والحاکم وصححاہ وللعسکری عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی المواعظ بسند حسن عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قال قال اللّٰہ تعالٰی من لایدعونی اغضب علیہ ۲؎ اللھم صل وسلم وبارک علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ابدا اٰمین۔
حدیث کے دوسرے الفاظ یہ ہیں: وہ شخص جو اللہ تعالٰی سے سوال نہیں کرتا اللہ تعالٰی اس پر ناراض ہوتا ہے اسے احمد اور بخاری نے ''الادب المفرد'' میں، ترمذی، ابن ماجہ، بزار، ابنِ حبان اور حاکم سب نے روایت کیا ہے اور آخری دو۲نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور عسکری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اپنی ''المواعظ'' میں سند حسن کے ساتھ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے: جو شخص مجھ سے دُعا نہیں کرتا میں اس پر ناراض ہوتا ہوں۔اللہ تعالٰی ہمیشہ رحمتِ کاملہ اور سلامتی بھیجے آپ پر، آپ کی آل، اصحاب، بیٹے اور گروہ سب پر، آمین (ت)
 (۱؎ جامع الترمذی    باب ماجاء فی فضل الدعاء        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/۱۷۳)

(۲؎ کنزالاعمال    بحوالہ العسکری الباب الثامن فی الدعاء الخ    مکتبہ التراث الاسلامی بیروت    ۲/۶۲)
صاحبِ منہیہ اللہ عزّوجل کی حکمتوں کو باطل کرتا اور طاعت کو صرف قسم اوّل میں منحصر کرنا چاہتا اور حدیث وقرآن کے تمام اذکار جنت ونار ترغیب وترہیب کو لغو وفضول بلکہ اغوا واضلال بناتا ہے کہ بندوں کو مقصود سے دُور کرکے منتر جنتر میں لاڈالا۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۳؎
 (عنقریب جان لیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
 (۳؎ القرآن        ۲۶/۲۲۷)
 (۲۷)    عوام پر غیظ ہے کہ وہ یہ ذکر خدا ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باعتقاد طاعت کرتے ہیں الحمدللہ مسلمانوں کے عوام آپ جیسے خواص سے عقل وفہم وفضل وعلم میں بدرجہازائد ہیں وہ اپنے رب عزوجل کے ذکر ودعا اور اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ذکر ومحبت وتعظیم وتوسل کو طاعت نہ جانیں تو کیا آپ کی طرح ذکر وتعظیمِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بہرحیلہ ممکنہ باطل کرنے بلکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صریح توہینوں کو عبادت مانیں۔وہ رمد چشم کا عمل ہی سہی، فرض کیجئے ایک دیوبندی اپنی آنکھوں کے علاج کو جالینوس کا شیاف یا ابن سینا کی سلائی لگاتا ہے اور ایک مسلمان سورہ فاتحہ وآیۃ الکرسی واسمِ الٰہی نور وصلاۃ نور سے علاج کرتا ہے آپ کے دھرم میں دونوں برابرہیں کہ ایک فعل مباح کررہے ہیں، طاعت نہ یہ نہ وہ، مگر مسلمان جانتے ہیں کہ کہاں جالنیوس وابن سینا پر بھروسا اور کہاں کلام اللہ نورِ ہُدٰی وشفاء واسمائے الٰہیہ سے تو سل والتجایہ، ضرور اطاعت اور اس کے حسن ایمان کی علامت ہے
ولکن النجدیۃ لایعلمون
 (لیکن نجدی نہیں سمجھتے۔ت) بات یہ ہے کہ وعیدوں یا جسمانی دنیاوی بلکہ اُخروی منفعتوں ثوابوں کے وعدے سے بھی حاشایہ مراد خدا ورسول نہیں جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ اُن وعیدوں سے بچنا یا اُن منافع کا ملنا ہی مقصود بالذات بناکر اسی غرض ونیت سے ذکرِ خدا ورسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کروکہ یہ تو قلب موجوع وعکس مقصود ہے جو عبادت جنت کی نیت سے کرے کہ وہی اُس کی مقصود بالذات ہو ہرگز عابد خدا نہیں عابد جنّت ہے، تورات مقدس سے منقول اُس سے بڑھ کر ظالم کون جو بہشت کی طمع یا دوزخ کے ڈر سے میری عبادت کرے، کیا اگر میں جنّت ونارنہ بناتا مستحقِ عبادت نہ ہوتا، بلکہ اس سے مراد صرف ابھارنا ہے کہ اس طمع وخوف کے لحاظ سے عمل لوجہ اللہ کریں مضرت سے بچنا یا منفعت جسمانی  خواہ روحانی دنیوی خواہ اُخروی کا ملنا مقصود بالغرض ہو، جیسے حج میں تجارت، جہاد میں غنیمت، روزے میں صحت، نماز میں کسرت، بحمدللہ تعالٰی مسلمانوں کے عوام اپنے رب کی مراد سمجھے اور اس عمل میں بھی وہی اُن کا مقصود ہُوا کہ اپنے رب جل وعلا اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہیں اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نامِ اقدس پر براہِ محبت وتعظیم بوسہ دیتے ہیں اور یہ سب قطعاً طاعت ومرادِ شریعت ہے اس کی برکت اس کے طفیل اس کے صدقہ سے ہمیں جسمانی فائدہ بھی ملے گا کہ آنکھیں نہ دُکھیں گی اندھے نہ ہوں گے یہ عین وہی نیت ہے جو شارع کو ایسے وعدوں میں مقصود ہوتی ہے مگر خائب وخاسر، احمق وغادر وہ کہ ایسے وعدوں پر پھُول کر اصل مقصود خدا ورسول کو بھُول جائے اور ان کے ذکر وتعظیم ومحبت کو نرا منتر بتائے
نسوا اللّٰہ فانسٰھم انفسھم ۱؎
 (جو بھُول گئے اللہ تعالٰی کو، تو اس نے انہیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں۔ ت)
 (۱؎ القرآن        ۵۹/۱۹)
 (۲۸)    غنیمت ہے کہ رمد کا منتر مان کر منتر کے نام سے وہ محض عدم روایات یا ضعف مروی بدعت بدعت کا بھُوت تو اُترا اور یہ عمل مباح ٹھہرا ورنہ عدمِ ورود پر بدعت وبے اصل ہونے کے جو معنی آپ حضرات کے یہاں ہیں اُن کا مصداق کسی طرح مباح نہیں ہوسکتا اگرچہ اعتقادِ طاعت نہ ہو۔

(۲۹)    یہ تو اوپر گزرا کہ اسی فعل کو اذان میں ہو خواہ اقامت میں محض مباح جاننا شریعتِ گنگوہیہ کے بالکل خلاف ہے کہ اُس میں یہ عمل سنت ہے تو عوام میں ٹھیک سمجھے اور طاعت کے طاعت اعتقاد کرنے کو بدعت بتاکر تُمہیں بدعتی بد مذہب ہُوئے اگرچہ دیوبندیت کی معراج ترقی فی المراوق من الدین کے بعد بدعت کی کیا گنتی ع
ماعلی مثلہ بعد الخطاء
 (بعد ازخطا اس کی مثل پر کیا لازم آئے)
مگر یہاں یہ گزارش ہے کہ مباح بمعنی شامل فرض جس طرح امکان عام شامل وجوب ہے قطعاً وجوب ہے قطعاً یہاں مراد نہیں ورنہ فرض کو بھی طاعت سمجھنا گمراہی وبدعت ہو،لاجرم مباح بمعنی مساوی الطرفین نظیر امکان خاص مراد ہے یعنی وہ فعل نہ محمود نہ مذموم،آپ نے اُسے رمد چشم کا منتر بناکر ایسا ہی مباح سمجھا اور یہ شریعت گنگوہیہ سے کفر ہے عالی جناب گنگوہی صاحب کے دھرم میں کوئی فعل ایسا مباح نہیں اُسی صفحہ ۲۸ پر بولتے ہیں:

''جس کے جواز کی دلیل قرونِ ثلٰثہ میں ہو خواہ وہ جزئیہ بوجود خارجی اُن قرون میں ہوا یا نہ ہوا وہ سب سنّت ہے اور جس کے جواز کی دلیل نہیں خواہ وہ ان قرون میں بوجود خارجی ہوا یا نہ ہوا وہ سب بدعت ضلالت ۱؎ ہے''۔
 (۱؎ براہین قاطعہ علٰی ظلام انوار الساطعۃ    قرونِ ثلٰثہ میں موجود ہونے نہ ہونے کا معنی       مطبوعہ لے بلاسا واقع ڈھور     ص ۲۸)
ظاہر ہے کہ کوئی فعل ہو یا اُس کے جواز کی دلیل قرونِ ثلٰثہ میں ہوگی یا نہیں، تیسری شق ناممکن ہے کہ یہ حصر عقلی دائربین النفی والاثبات ہے اور گنگوہی صاحب دوکلیہ دے گئے کہ شق اول کے سب سنت ہیں اور شق دوم کے سب ضلالت۔اب وہ کون سا رہا کہ دونوں سے خارج ہوکر نرا مباح ہو بلکہ نہ ایک مباح کہ مکروہ تنزیہی وخلاف اولٰی ومستحب یہ سب احکامِ شرعیہ یکسر اُڑگئے یہ ہے وہ گنگوہی شریعت کا تازہ جوہر جس پر صفحہ ۲۹ میں یہ ناز ہیں کہ اس قاعدہ کو خوب غور کرنا اور سمجھ لینا ضرور ہے اس عاجز کو اساتذہ جہاندیدہ کی توجہ سے حاصل ہوا ہے اس جوہر کو اس کتاب میں ضرورۃً رکھتا ہُوں ۲؎''۔ کیا نفیس جوہر ہے کہ ادھر تو شریعتِ محمدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آدھے احکام اُڑگئے اُدھر آدھی وہابیت اپنا جوہر کرگئی جس کا بیان منیرالعین افادہ مذکور میں ہے منیرالعین نے آنکھیں کھول دی تھیں پھر بھی تنبّہ نہ ہوا اور کیوں ہوتا کہ حضور اقدس عالم ماکان ومایکون صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم صحیح حدیث صحیح بخاری شریف میں فرماچکے ہیں
ثم لایعودون فیہ ۳؎
 (پھر وہ لوٹ کر دین میں نہیں آئیں گے۔ ت)
 (۲؎ براہین قاطعہ علٰی ظلام انوار الساطعۃ     قرونِ ثلٰثہ میں موجود ہونے نہ ہونے کا معنی       مطبوعہ لے بلاسا واقع ڈھور   ص ۲۹)

(۳؎ صحیح البخاری        آخر کتاب ا لتوحید        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۱۱۲۸)
 (۳۰)    مباح کا اعتقاد طاعت سے بدعت ہوجانا اگر اس سے یہ مراد کہ جو شے مباح محض ہے جس کے فعل وترک شرعاً دونوں مساوی اُسے فی نفسہ ماموربہ ومطلوب شرع اعتقاد کرنا اُسے بدعت کردیتا ہے تو منہیہ والے کے پاس کیا دلیل ہے کہ یہ فعل مساوی الطرفین ہے اور عام عوام فی نفسہ اس کو ماموربہ یا مطلوب من جہۃ الشرع اعتقاد کرتے ہیں اب یہاں وہ علم غیب کا مسئلہ جانگزائے اہلِ منہیہ ہوگا جو ہمارے سائل فاضل سلمہ نے ایراد کیا اور اگر یہ مراد کہ مباح کو بہ نیت قربت کرنا اسے بدعت کردیتا ہے تو شریعت مطہرہ پر محض افتراء ہے بلکہ مباح کو بہ نیت قربت کرنا اسے قربت کردیتا ہے اور ہر قربت طاعت ہے تو اُس میں اعتقاد طاعت ضرور حق اور اُسے بدعت بتانا جہل مطلق،
اشباہ والنظائر وردالمحتار میں ہے: اما المباحات فتختلف صفتھا باعتبار ماقصدت لاجلہ فاذا قصد بہ التقوی علی الطاعات اوالتوصل الیھا کانت عبادۃ ۱؎۔
باقی مباحات کا معاملہ نیت کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے اگر ان سے مقصود طاعات پر تقوٰی یا ان تک پہنچنا ہوتو پھر یہ عبادت ہے۔ (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر  القاعدۃ الاولی من الفن لاول  ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/۳۲)
غمزالعیون میں ہے :
کل قربۃ طاعۃ ولاتنعکس ۲؎
 (ہر قربت طاعت ہے اور ہر طاعت قربت نہیں ہوتی۔ ت)
 (۲؎ شرح غمزالعیون    البصائر مع الاشباہ من الفن لاول    ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/۳۲)
یہ اس ڈیڑھ سطری منہیہ پر
تلک عشرۃ کاملۃ
(دس مکمل دلائل ہیں۔ ت) ہیں۔
Flag Counter