اے اللہ کے رسول آپ پر اللہ تعالٰی کی طرف سے صلاۃ (رحمت ہو، یارسول اللہ! آپ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں، اے اللہ! میری سماعت وبصارت کو اس کی برکت سے مالامال فرما۔ (ت)
(۲؎ جامع الرموز باب الاذان مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/۱۲۵)
یاسیدی یارسول اللہ! اے میرے دل کے حبیب، اے میری آنکھوں کے نور وسرور، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک آپ پر اللہ تعالٰی رحمت فرمائے۔ (ت)
(۳؎ المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۸۴)
ساتویں میں ہے یوں کہے : اللھم احفظ حدقتی ونورھما ببرکۃ حدقتی محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ونورھما ۴؎۔
اے اللہ! میری آنکھوں کی حفاظت فرما اور انہیں منوّر فرما نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مبارک آنکھوں اور ان کی نور کی برکت سے۔ (ت)
(۴؎ المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۸۵)
منہیہ کے نزدیک یہ اللہ ورسول کے ذکر، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود، اللہ عزوجل سے دُعاکچھ طاعت ہی نہیں حالانکہ ذکر ہی روحِ طاعت ہے اور دُعا مغزِ عبادت، اور درود کو مسلمان ایمان کا چین چین کا ایمان جانتے ہیں اگرچہ منہیہ منتر مانے۔
(۲۵) اس عمل مبارک کے فوائد میں ایک فائدہ جو یہ فرمایا گیا کہ جو ایسا کرے گا اُس کی آنکھیں نہ دُکھیں گی نہ کبھی اندھا ہو، اس جرم پر وہ ذکرِ الٰہی ودرود ودُعا سب طاعت سے خارج ہوکر رمد کامنتر رہ گئے، نامِ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اس عداوت کی کوئی حد ہے، صدہا حدیثیں ہیں جن میں تلاوتِ قرآن عظیم وتسبیح وتہلیل وحمد وتکبیر ولاحول وغیرہا اذکارِ جلیلہ پر منافع جسمانیہ ودُنیاویہ ارشاد ہوئے ہیں جسے شوق ہو صحاح ستہ وترغیب وترہیب امام منذری وجوامع امامِ جلیل سیوطی وحصن حصین امام جزری وغیرہا کتبِ حدیث مطالعہ کرے منہیہ کے دھرم میں یہ اسلامی ایمانی کلمے اور خود قرآن عظیم سب منتر ہیں جنہیں طاعت سے کچھ علاقہ نہیں
اعوذباللّٰہ من الشیطٰن الرجیم ولاحول ولاقوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم۔
(۲۶) اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر حکیم سے بڑھ کر حکیم ہیں اُن کی رعایا میں ہر قسم کے لوگ ہیں ایک وہ عالی ہمّت کہ اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اللہ ورسول کے لئے یاد کریں اپنی کوئی منفعت دنیوی تو دنیوی اُخروی بھی مقصود نہ رکھیں یہ خالص مخلص بندے ہیں جن کی بندگی میں کسی ذاتی غرض کی آمیزش نہیں ان کے لئے وصلِ ذات ہے جن کو فرمایا:
والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا ۱؎۔
جو ہماری یاد میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم یقینا ان کے لئے اپنے تمام راستے کھول دیتے ہیں۔(ت)
(۱؎ القرآن ۲۹/۶۹)
دوسرے وہ جن کو کسی طمع کی چاشنی اُبھارے مگر نفع فانی کے گرویدہ نہیں باقی کی تلاش ہے قرآن وحدیث میں نعیم جنت کے بیان ان کی نظیر سے ہیں جن کو فرمایا:
ان اللّٰہ اشترٰی من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنّۃ ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے مومنوں سے ان کی جان ومال کو جنت کے عوض خریدلیا ہے (ت)
(۲؎ القرآن ۹/۱۱۱)
تیسرے وہ جن کو نفع عاجل کی امید دلانا زیادہ مؤید ہے جن کو فرمایا:
جہاد کرو غنیمت پاؤ گے اور روزہ رکھو تندرست ہوجاؤگے اور حج کرو غنی ہوجاؤ گے۔
روی الاول الطبرانی فی الاوسط بسند صحیح عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ والاٰخر عبدالرزاق عن صفوان بن سلیم مرسلا ووصلہ فی مسند الفردوس۔
پہلی کو طبرانی نے اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا اور دوسری کو عبدالرزاق نے صفوان بن سلیم سے مرسلاً روایت کیا، اور مسند الفردوس میں یہ متصلاً مروی ہے۔ (ت)
چوتھے وہ پست فطرت دون ہمت کہ امیدِ نفع پر بھی نہ سرکیں جب تک تازیانہ کاڈر نہ دلائیں قرآن حدیث میں عذاب نار کے بیان ان کی نظیر سے ہیں جن کو فرمایا:
ومن یعش عن ذکر الرحمٰن نقیض لہ شیطٰنا فھو لہ قرین وانھم لیصدونھم عن السبیل ویحسبون انھم مھتدونo حتی اذاجاء نا قال ٰیلیت بینی وبینک بعد المشرقین فبئس القرین ولن ینفعکم الیوم اذظلمتم انکم فی العذاب مشترکون ۴؎۔
جسے رتوند آئے رحمان کے ذکر سے ہم اس پر ایک شیطان متعین کردیں گے کہ وہ اس کا ساتھی رہے اور بیشک وہ شیطان ان کو راہ سے روکتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ راہ پر ہیں یہاں تک کہ جب کافر ہمارے پاس آئیگا اپنے شیطان سے کہے گا ہائے کسی طرح مجھ میں تجھ میں پورپ پچھم (مشرق ومغرب) کا فاصلہ ہوتا تُو کیا ہی بُرا ساتھی ہے، اور ہرگز تمہارا اس (حسرت) سے بھلانہ ہوگا آج جبکہ (دنیا میں) تم نے ظلم کیا توتم سب عذاب میں شریک ہو (ت)
(۴؎ القرآن ۴۳/۳۶ تا ۴۰)
اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
من لم یدع اللّٰہ غضب علیہ ۵؎ رواہ ابن ابی شیبۃفی المصنف عن ابی ھریرۃ
وہ شخص جو اللہ تعالٰی سے دعا نہیں مانگتا اس پر اللہ تعالٰی ناراض ہوتا ہے، اسے ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے،
(۵؎ مصنف ابن ابی شیبہ (۱۵۷۷) فی فضل الدعاء حدیث ۹۲۱۶ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰/۲۰۰)