Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
148 - 157
رواہ احمد والترمذی وحسنہ وابن ماجۃ والرویانی والحاکم وصححہ وابن حبان فی صحیحہ عن حذیفۃ والترمذی والحاکم عن ابن مسعود وابن عدی عن انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم۔
اسے احمد نے اور ترمذی نے روایت کرکے حسن کہا، ابنِ ماجہ، رویانی اور حاکم نے روایت کرکے اسے صحیح قرار دیا، ابن حبان نے اسے اپنی صحیح میں روایت کیا حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور ترمذی اور حاکم نے حضرت ابن مسعود سے اور ابن عدی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہم اور ان سب نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔(ت)
بلکہ تقلیدِ عام صحابہ ہمارے امام رضی اللہ تعالٰی عنہم وعنہ کا مذہب ہے بلکہ وہابیہ کے نزدیک تین قرن تک حکم تقلید بلکہ منصب تشریف جدید ہے کمابیناہ فی کتبنا فی الرد علیھم (جیسے کہ ہم نے اپنی کُتب میں ان کا رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے۔ت) بہرحال اس عمل کی دلیل جواز قرون ثلٰثہ میں متحقق ہوئی اور گنگوہی صاحب ص ۲۸ میں کہتے ہیں:

''جس کے جواز کی دلیل قرونِ ثلٰثہ میں ہو وہ سب سنّت ہے اھ'' ۳؎
 (۳؎ براہین قاطعۃ علی ظلام الانوار الساطعۃ    قرونِ ثلٰثہ میں موجود نہ ہونے کے معنی    مطبوعہ لے بلاسا واقع ڈھور ص ۲۸)
تو روشن ہُوا کہ جناب گنگوہی صاحب کے نزدیک اذان میں نام اقدس سُن کر انگوٹھے چُومنا سنّت ہے اور حدیث سے ثابت کہ منکرِ سنّت پر لعنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ستۃ لعنتھم لعنھم اللّٰہ وکل نبی مجاب (الی قولہ) والتارک لسنتی ۱؎ رواہ الترمذی عن ام المؤمنین والحاکم عنہا وعن علی والطبرانی بلفظ سبعۃ لعنتھم وکل نبی مجاب ۲؎ عن عمروبن سعواء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم بسند حسن۔
چھ۶ آدمی ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی اللہ ان پر لعنت کرے اور ہر نبی کی دعا مقبول ہے ازاں جملہ ایک وہ کہ میری سنّت کا منکر ہو، اس کو ترمذی نے ام المومنین سے اور حاکم نے ان سے اور حضرت علی سے روایت کیا اور طبرانی کے الفاظ یہ ہیں ''سات۷آدمی ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی اور ہر نبی کی دُعا مقبول ہے''۔ یہ حضرت عمروبن سغوی رضی اللہ تعالٰی سے سند حسن کے ساتھ مروی ہے۔ (ت)
 (۱؎ المستدرک کتاب الایمان ستۃ لعنھم اللّٰہ             دارالفکر بیروت    ۱/۳۶)

(۲؎ المعجم الکبیر    ترجمہ عمروبن سعواء     حدیث نمبر ۸۹    المکتبۃ الفیصلۃ بیروت    ۱۷/۴۳)
اب صاحبِ فتاوٰی اشرفیہ اپنا حکم گنگوہی صاحب سے دریافت کریں یا گنگوہی صاحب کے حق میں خود کوئی حکم فرمائیں۔

(۱۶)    اب اقامت کی طرف چلیے شامی سے بحوالہ مجہول قہستانی کا روایت نہ پانا تو نقل کرلائے اور اس سے یہ نتیجہ کہ فقہانے اُس کا بالکل انکار کیا حالانکہ فقہائے کرام کا مسلک وہ ہے جو امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر ص ۱۴ میں فرمایا:
عدم النقل لاینفی الوجود ۳؎
 (عدمِ نقل، وجود کے منافی نہیں۔ت)
 (۳؎ فتح القدیر   کتاب الطہارت  نوریہ رضویہ سکھر  ۱/۲۰)
 (۱۷)    عدم نقل کو نقل عدم ٹھہرانے کا رَد خود اسی شامی میں جابجا موجود، از انجملہ جلد اول ص ۶۰ میں بعد ذکر احادیث فرمایا :
قال العلماء ھذہ الاحادیث من قواعد الاسلام وھو ان کل من ابتدع شیأ من الخیر کان لہ مثل اجر کل من یعمل بہ الی یوم القیٰمۃ ۴؎۔
یعنی علمائے کرام نے فرمایا کہ یہ حدیثیں دین اسلام کے قواعد سے ہیں، ان سے یہ قاعدہ ثابت ہُوا کہ جو شخص کوئی اچھا کام نیا نکالے کہ پہلے نہ تھا قیامت تک جتنے مسلمان اس پر عمل کریں سب کے برابر ثواب اُس ایجاد کرنے والے کو ہو۔
 (۴؎ ردالمحتار    مطلب یجوز تقلید المفضول الخ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۳)
 (۱۸)    بدعت وبے اصل کی بھی حقیقت سُن لیجئے، فتح اللہ المعین جلد ۳ ص ۴۰۲:
لااصل لھا لایقتضی الکراھۃ ولذا قال فی الدر ماقیل انھا بدع ای مباحۃ حسنۃ ۱؎۔
یعنی بے اصل ہونے سے مکروہ ہونا لازم نہیں آتا اسی لئے دُرمختار میں فرمایا کہ اسے جو بدعت کہاگیا اس کے معنی یہ ہیں کہ نو پیدا جائز اچھی بات ہے (ت)
 (۱؎ فتح المعین    فصل فی الاستبراء وغیرہ   مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۳/۴۰۲)
 (۱۹)    فرض کردم کہ اس سے بوجہ عدم نقل انکار مطلق ہی مقصود ہوتو بحال عدم نقل احکام فقہا جن کا نمونہ ہم نے ذکر کیا اس کے معارض ہوں گے اور ترجیح وتوفیق وتوجیہ وتحقیق کہ ہمارے رسائل رَد وہابیہ میں ہے اس کی مؤنت جناب گنگوہی صاحب نے کم دی اور منکرین کو کسی عبارت خلاف سے شبہہ ڈالنے کی گنجائش نہ رکھی کہ اس سے غایت درجہ مسئلہ عدم نقل میں اختلاف ثابت ہوگا اور گنگوہی صاحب براہین ص ۱۳۷ میں فرماتے ہیں:

''اُس کی کراہت مختلف فیہ ہُوئی اور مختلف فیہ مسئلہ تو یوں بھی بلاضرورت جائز ہوجاتا ہے ۲؎''۔
 (۲؎ براہین قاطعۃ علٰی ظلام الانوار الساطعۃ    تحقیق مسئلہ اجرۃ تعلیم القرآن الخ        مطبوعہ بلاسا واقع ڈھور ص۱۳۷)
یہ وہاں کہی اور پُوری غیر مقلدی بلکہ بہ ہوائے نفس اتباع رخص حلال کردینے کی داد دی ہے جہاں ہمارے علماء اور امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اختلاف ہے تو جہاں خود علمائے حنفیہ کے قول دونوں طرف ہوں وہ تو بدرجہ اولٰی بلاضرورت مطلقاً جائز رہے گا اور منکر کہ قولِ خلاف سے سند لائے احمق کج فہم ٹھہرے گا۔

(۲۰)    نہیں نہیں فقط جائز نہیں بلکہ گنگوہی صاحب کے دھرم میں وقتِ اقامت بھی تقبیل مذکور سنّت اور تھانوی صاحب کا اُس پر انکار گمراہی وضلالت اور بحکمِ حدیث موجب لعنت ہے۔ علماء فرماتے ہیں اقامت احکام میں مثل اذان ہے سوا مستثنیات کے، بلکہ ہدایہ میں ہے :
یروی انہ لاتکرہ الاقامۃ ایضا لانھا احدی الاذانین ۳؎۔
اور یہ مروی ہے کہ اقامت بھی مکروہ نہیں کیونکہ یہ بھی ایک اذان ہے۔(ت)
 (۳؎ الہدایۃ  باب الاذان   مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی    ۱/۷۴)
اور عندالتحقیق تنقیح مناط انتفائے خصوص کرے گی تو اُس کی دلیل جواز بھی متحقق ہوئی اور سنّت ٹھہری، گنگوہی صاحب کے نزدیک تو سنّت ہونے کے لئے اشرفعلی کی جنس بھی قرونِ ثلٰثہ میں موجود ہونے کی حاجت نہیں یہاں تو اُس کی جنس یعنی تقبیل اذان خود موجود ہے براہین گنگوہی ص ۱۸ میں ہے :  ''جس کے جواز کی دلیل قرونِ ثلٰثہ میں ہو خواہ وہ جزئیہ بوجود خارجی اُن قرون میں ہُوا یا نہ ہوا اور خواہ اُسکی جنس کا وجود خارج میں ہوا ہو یا نہ ہوا ہو وہ سب سنّت ہے ۱؎۔''
(۱؎ براہین قاطعہ الخ    قرون ثلٰثہ میں موجود ہونے نہ ہونے کے معنی مطبوعہ لے بلاساواقع ڈھور    ص۲۸)
یہ اُس چار سطری تحریر پر
تلک عشرون کاملۃ
(یہ مکمل بیس۲۰دلائل ہیں۔ت) وہ بھی بنہایت اختصار، اب ڈیڑھ سطری منہیہ کی طرف چلئے وباللہ التوفیق۔
 (۲۱)    علمائے کرام نے کہ نفی صحت میں مرفوع کی تخصیص فرمائی بکمال حیا اُس کا مطلب یہ گھڑا کہ اس بارہ میں حدیث موقوف اگرچہ منقول ہے مگر ضعیف الاسناد ہے، کیا علما نے یہ فرمایا تھا کہ اس بارہ میں حدیث مرفوع کوئی منقول ہی نہیں یا یہ فرمایا تھا کہ جو منقول ہے ضعیف نہیں بلکہ صحیح ہے یا یہ فرمایا تھا کہ ضعیف بھی نہیں بلکہ موضوع ہے انہیں تین صُورتوں میں اُس اختراعی مطلب پر مرفوع وموقوف کا تفرقہ اور تخصیص کا فائدہ صحیح رہتا مگر ہر ذرا سے فہم والا بھی دیکھ رہا ہے کہ یہ بہر وجہ علماء پر افترا ہے علما نے یہی بتایا ہے کہ اس بارہ میں احادیث مرفوعہ اگرچہ منقول ہیں مگر درجہ صحت پر نہیں بلکہ ضعیف ہیں یہی اس بے معنی منہیہ نے حدیث موقوف میں کہا تو فرق کیا رہا صراحۃً تخصیص مرفوع باطل کرنے کو تخصیص مرفوع کا مطلب ٹھہرانا جنون نہیں تو شدید مکاری ڈھٹائی ہے مکاری نہیں تو سخت جنون وبے عقلی ہے۔

(۲۲)    بفرض باطل یہی مطلب سہی مگر یوں بھی کال نہ کٹا امام الطائفہ گنگوہی صاحب ایمان لاچکے کہ یہاں مقبول ہے اگرچہ ضعیف حدیث اور طائفہ بھر کا دھرم قرون کی تثلیث پھر حدیث موقوف وضعیف موجود مان کر بدعت وبے اصل کہنا کیسا قول خبیث!

(۲۳)    ایک بھاری دیانت یہ دکھائی کہ حدیث سے اس عمل کا طاعت ہونا نہیں نکلتا بلکہ رمد سے بچنے کا ایک منتر ہے الحق حیا وایمان متلازم ہیں یہ اعتراض اگر چل سکتا تو نہ موقوف وضعیف بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد صحیح اگر صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہوتا اُسے بھی اڑادیتا، حدیثوں میں تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  اس کی شفاعت فرمائیں گے اُسے اپنے ساتھ جنت میں لے جائینگے اور منہیہ کہتا ہے کہ یہ کوئی طاعت ہی نہیں کیا کوئی مسلمان کہہ سکتا ہے کہ جس پر یہ عظیم وجلیل ثواب موعود ہوں وہ سرے سے طاعت ہی نہیں ایک منتر ہے۔
Flag Counter