Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
147 - 157
 (۲)    صحیح کی نفی سے معتبر کی نفی جاننا فنِ حدیث سے جہالت پر مبنی۔ کُتب رجال میں ہزار جگہ ملے گا
یعتبربہ ولایحتج بہ
(یہ معتبر ہے لیکن اس سے استدلال نہیں کیا جائیگا۔ت) اور فضائل اعمال میں احادیث معتبرہ بالاجماع کافی اگرچہ صحیح بلکہ حسن بھی نہ ہوں۔

(۳)    فقہ میں روایت،روایت فقہیہ بھی ہے بالفرض اگر حدیث معتبر مطلقاً منفی تو اُس سے روایت معتبرہ کی نفی یا جہل محض ہے یا نری غیر مقلدی کہ بے ثبوت حدیث روایت فقہیہ معتبر نہ مانی۔

(۴)    یہیں یہیں اسی شامی میں قہستانی وفتاوٰی صوفیہ وکنزالعباد سے صراحۃً اس کا استحباب منقول اور بصیغہ جزم بلاتعصب مذکور ومقبول، تو شامی سے صرف نسبت حدیث ایک کلام نقل کرلانا اور اُسی عبارت میں شامی کے حکم مقرر فقہی کو چھوڑجانا صریح خیانت ہے۔

(۵)    پھر روایت فقہیہ قصداً بچا کر وہ سالبہ کلیہ کو کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں صاف اغوائے عوام ہے کیا کتبِ فقہ میں ہزار سے کم اس کے نظائر ملیں گے کہ حکم فقہی پر جو حدیث نقل کی اُس میں کلام کردیاگیا مگر اس سے روایت فقہی نامعتبر نہ ہوئی، ہاں وہی غیر مقلدی کی علت پیچھے ہوتو کیا علاج!

(۶)    اقامت میں کوئی ٹُوٹی پھوٹی روایت بھی موجود نہ ہونے پر شامی کا کلام نقل کیا کہ بعض نے قہستانی سے نقل کیا کہ اُنہوں نے اپنے نسخہ کے حاشیہ پر لکھا کہ دربارہ اقامت بعد تلاش کامل روایت نہ ملی اور انہیں شامی کا کلام نہ دیکھا کہ ایسی نقل نقلِ مجہول اور نقلِ مجہول محض نامقبول، جلد دوم ص ۵۱۲:
قول المعراج ورأیت فی موضع۔۔۔الخ (ای معزوا الی المبسوط) لایکفی فی النقل لجہالتہ ۱؎۔
معراج کا قول اور میں نے ایک جگہ دیکھا ہے الخ (یعنی مبسوط کی طرف منسوب ہے) جہالت کی وجہ سے نقل میں وہ ناکافی ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب الولی من کتاب النکاح    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۲/۳۳۹)
وہاں بواسطہ مجہول ناقل امام قوام الدین کاکی شارح ہدایہ تھے یہاں شامی، وہاں منقول عنہ بالواسطہ امام شمس الائمہ سرخسی تھے یا خود محرر المذہب امام محمد اور یہاں قہستانی ع
ببیں تفاوت راہ ازکجاست تابکجا
 (اتنا بڑا فرق کہاں وہ کہاں یہ)
جب وہ بوجہ جہالت واسطہ مقبول نہ ہُوئی اس کی کیاہستی، مگر کیا کیجئے کہ ع
عقل بازار میں نہیں بِکتی
 (۷)    لم یوجد(روایت نہیں پائی گئی۔ت) اور ''موجود نہیں'' میں جو فرق ہے عاقل پر مخفی نہیں، مگر عقل بھی ہو، یہ تو خالی نایافت کی نقل ہے کہ شہادت علی النفی سے زائد نہ ٹھہرے گی آکد الفاظ فتوے سے فتوٰی منقول ہوا اور بوجہ جہالت نامقبول ہُوا، انہیں علامہ شامی کا کلام سُنیے عقود الدریہ جلد ۲ ص ۱۰۹:
نقل الزیلعی ان الفتوی علی قولھما فی جوازھا قال الشیخ قاسم فی تصحیحہ مانقلہ الزیلعی شاذ مجھول القائل ۲؎ اھ۔
زیلعی نے نقل کیا ہے کہ فتوٰی ان دونوں کے قول پر اسکے جواز میں ہے، شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں کہا کہ زیلعی سے جو منقول ہے وہ شاذ ہے کیونکہ قائل مجہول ہے اھ (ت)
 (۲؎ العقود الدریۃ    فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ    کتاب الاجارۃ الخ     مطبوعہ تاجران کتب ارگ بازار قندہار افغانستان    ۲/۱۳۰)
دُرِمختار میں ہے:
علیہ الفتاوٰی زیلعی وبحر معزیا للمغنی لکن ردہ العلّامۃ قاسم فی تصحیحہ بان مافی المغنی شاذ مجھول القائل فلایعول علیہ ۳؎۔
اس پر زیلعی اور بحر کا فتوٰی ہے انہوں نے مغنی کی طرف منسوب کیا، لیکن علامہ قاسم نے اسے اپنی تصحیح میں بایں طور رَد کیا کہ مغنی میں جو کچھ ہے وہ شاذ ہے کیونکہ اس کا قائل مجہول ہے لہذا اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)
 (۳؎ درمختار         باب الاجارۃ الفاسدۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۲/۱۷۷)
شامی نے اسے مقرر رکھا۔

(۸)    اس پر یہ ادّعا کہ اسی واسطے فقہاء نے اُس کا بالکل انکار کیا ہے، صریح کذب ہے۔

(۹)    اس پر کہنا کہ یہ عبارت شامی کی ہے بکف چراغی ہے شامی میں قہستانی سے بنقل مجہول یہ منقول کہ اس کی روایت نہ ملی اگر بفرض غلط یہ نقل مجہول مقبول بھی ہو اور عدمِ وجدان روایت عدم وجود روایت بھی ہوتو نفی روایت روایتِ نفی نہیں، ہذا کا اشارہ جانب نقل ہے نہ جانب حکم فقہا نے بالکل انکار کیا کس گھر سے لائے۔

(۱۰)    اینہم برعلم تو غایت درجہ یہ قہستانی کا اپنا انکار ہوگا نہ کہ وہ فقہا سے کوئی قول نقل کررہے ہیں اور قہستانی کا بایں معنی فقہا میں شمار کہ اُن کا اپنا قول بلانقل مسلّم ہو یقینا باطل ہے بلکہ نقل میں بھی اُن کی وہ حالت جو خود یہی علامہ شامی عقود الدریہ جلد ۲ ص ۲۹۷ میں بتاتے ہیں کہ:
القھستانی کجارف سیل وحاطب لیل خصوصا واستنادہ الی کتب الزاھدی المعتزلی ۱؎۔
قہستانی بہالے جانے والے سیلاب اور رات کو لکڑی اکٹھی کرنے والے کی طرح ہے خصوصاً جبکہ اس کا استناد زاہدی معتزلی کتب کی طرف۔(ت)
 (۱؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الاجارۃ الخ مطبوعہ تاجران کتب ارگ بازار قندھار افغانستان  ۲/۳۵۶)
اور کشف الظنون حرف النون میں علّامہ عصام اسفرائنی کا قول نہ دیکھنا کہ اس ادعائے باطل کی لگی نہ رکھے گا اور بالکل کشف ظنون بلکہ علاجِ جنون کردے گا ہم نے پتا بتادیا نہ ملے تو پیش بھی کردیں گے اِن شاء اللہ تعالٰی۔

(۱۱)    یہ بھی سہی تو کیسا ظلم شدید وتعصب عنید ہے کہ مسئلہ اقامت میں قہستانی کا اپنا قول بلانقل بلکہ صرف روایت نہ پانا سند میں پیش کیا جائے اور اُسے انہیں ایک فقیہ نہیں بلکہ فقہا کا انکار ٹھہرادیا جائے اور یہیں یہیں مسئلہ اذان میں جو یہی قہستانی خاص روایت فقہی نقل فرما کر حکمِ استحباب بتارہے ہیں وہ مردود ونامعتبر قرار پائے، غرض بڑی امام اپنی ہوائے نفس ہے وبس۔

(۱۲)    اقامت میں اذان سے بھی زیادہ بدعت وبے اصل ہے یعنی بدعت وبے اصل اذان میں بھی ہے یہ وہی مرض غیر مقلدی ہے کہ فقہا اگرچہ صراحۃً مستحب فرمائیں مگر اُن کا قول مردود اور بدعت مذمومہ ہونا غیر مسدود۔

(۱۳)    نہیں نہیں نری غیر مقلدی نہیں بلکہ اجماعِ اُمت کا رَد اور غیر سبیل المومنین کا اتباعِ بَد ہے جس پر قرآن عظیم میں
نصلہ جھنم وساء ت مصیرا ۲؎
کی وعید مؤکد ہے،
 (۲؎ القرآن        ۴/۱۱۵)
احادیث یہاں قطعاً مروی مرفوع بھی اور موقوف بھی اور غایت اُن کا ضعف جس کا بیان قطعی منیرالعین میں ہے جس سے حق کی آنکھیں پُرنور اور باطل کی ظلمتیں دُور بلکہ خود اسی قدر عبارت کہ منکر نے نقل کی منصف کو کافی کہ اُس میں صرف
لم یصح
 (صحیح نہیں۔ت) کہا اور وہ بھی فقط احادیث مرفوعہ اگر سب کو کہتے جب بھی نفی صحت سے غایت درجہ اتنا معلوم ہوتا کہ ضعیف ہیں پھرضعیف تعدد طرق سے حسن ہوجاتی ہے اور مسائل حلال میں بھی حجت قرار پاتی ہے اور نہ بھی سہی تو قطعاً باب فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول اور مخالف اجماع مردود مخذول، اربعینِ امام ابوزکریا نووی رحمہ اللہ تعالٰی میں ہے:
قداتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال ۱؎۔
علماء محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائلِ اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل جائز ہے (ت)
 (۱؎ شرح متن اربعین نوویہ    قبیل حدیث اول    مطبوعہ امیر دولت قطر            ص ۶)
 (۱۴)    اجماعِ اُمت کا خلاف وہاں دشوار نہ تھا مصیبت یہ ہے کہ جمہور وہابیہ کی بھی مخالفت ہوئی کہ تخصیص عدم صحت باحادیث مرفوعہ نے صحت بتائی، ملّا علی قاری کی عبارت گزری تو قرونِ ثلٰثہ میں اصل متحقق ہوئی پھر بدعت وبے اصل کہنا اصولِ وہابیت پر بھی چھُری پھیرنا ہے۔

(۱۵)    وہابیت بجہنم سخت تر آفت یہ ہے کہ دیوبندیت کے امام اعظم جناب گنگوہی صاحب سے چل گئی اور وہ بھی بہت بُری طرح کہ ان کی سنّت، اُن کی بدعت، ان کی ہدایت، اُن کی ضلالت یہ فاعل کو بدعتی گمراہ ٹھہرائیں وہ ان کو منکر سنت ضال بد راہ بتائیں پھر یہ کیا کہ اُنہیں چھوڑ دیتے ہیں یہ کہیں گے کہ وہ بدعت ضلالت کو سنّت بتاکر سخت گمراہ بے دین ہُوئے
کفی اللّٰہ المؤمنین القتال
 (لڑائی میں مومنوں کے لئے اللہ تعالٰی کافی ہے۔(ت) اس کا مفصل بیان منیرالعین افادہ ۳۰ میں ملاحظہ ہو مجمل یہ کہ یہ احادیثِ تقبیل گنگوہی صاحب کے نزدیک بھی فضائل اعمال کی ہیں کہ اس پر ترغیب وثواب اُن میں مذکور ہے،مسند الفردوس کی حدیث میں بروایت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے کہ انہوں نے اذان میں نام سُن کر انگلیوں کے پوروں کو بوسہ دے کر آنکھوں پر پھیرا، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
من فعل مثل مافعل خلیلی فقد حلت علیہ شفاعتی ۲؎۔
جو ایسا کرے جیسا میرے اس پیارے نے کیا اُس پر میری شفاعت حلال ہوجائیگی۔
 (۲؎ المقاصد الحسنۃ    حرف المیم حدیث ۱۰۲۱     مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت        ص ۳۸۴)
جامع الرموز وکنزالعباد وغیرہما میں ہے:
فانہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یکون قاعدا لہ الی الجنۃ ۳؎۔
جو ایسا کرے گا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنے پیچھے پیچھے اسے جنت میں لے جائیں گے۔
 (۳؎ جامع الرموز    باب الاذان        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۱۲۵)
اور یہ تو روایات عدیدہ میں ہے جو ایسا کرے کبھی اندھا نہ ہوگا نہ اُس کی آنکھیں دُکھیں، یہ کیا فضیلت وترغیب نہیں بہرحال یہ حدیثیں فضائلِ اعمال کی ہیں، اور گنگوہی صاحب براہینِ قاطعہ طبع دوم ص ۹۶ میں فرماتے ہیں: ''سب کا یہ مدعا ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف پر عمل درست ہے ۱؎''۔ ظاہر ہے کہ درست یہاں بمعنی جائز ہی ہے خصوصاً جبکہ امیرالمؤمنین صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ثبوت لیں جیسا کہ عبارتِ علی قاری میں گزرا، جب تو اس مسئلہ قبول ضعاف کی بھی حاجت نہ ہوگی کہ شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما کی تقلید کا خود احادیث صحیحہ میں حکم فرمایا، حدیثِ خلفا کلامِ قاری میں گزری، دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا :
اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر ۲؎۔
ان دو۲ کی پیروی کرو جو میرے بعد والی اُمت ہوں گے ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
 (۱؎ براہین قاطعۃ علٰی ظلام الانوار الساطعۃ    مسئلہ فاتحہ اعتقادیت ہے الخ    مطبوعہ لے بلاسا واقع ڈھور ص ۹۶)

(۲؎ جامع الترمذی  مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ   مطبوعہ امین کمپنی دہلی     ۲/۲۰۷)
Flag Counter