| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ) |
ان تمام عبارات میں کہیں تقبیل ابہامین پر نکیر ثابت نہیں ہوتی بلکہ استحباب کا پتا الفاظ صریحہ میں ملتا ہے برخلاف اس کے صاحبِ فتاوٰی اشرفیہ عبارت شامی پر حاشیہ لکھ کر مباح (ص ۲ ملاحظہ ہو) مان رہے ہیں پھر اُس مباح کو بھی بدعت ٹھہرا رہے ہیں اس تضاد واشکال کو رفع فرما کر قاطع فیصلہ فرمایا جائے۔
صاحبِ فتاوٰی اشرفیہ عمل مانحن فیہ کو اپنے حاشیہ مذکورہ میں رقیہ مان کر دعوٰی کرتے ہیں
والعوام یفعلونہ باعتقاد الطاعۃ
(عوام اسے عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ ت) یہاں صرف یہ اشکال ہے کہ اعتقاد قلب سے تعلق رکھتا ہے اُس پر مفتی صاحب مذکور کو کس طرح اطلاع ہُوئی درصورتیکہ ان کے نزدیک رسول علیہ الصلاۃ والسلام بھی باوصف اعلام علّام مافی الصدور علوم غیبیہ سے بے خبر ہیں (معاذاللہ) وہ بھی عامہ مومنین کے دلی خیال اور اعتقاد سے اطلاع ہوئی خواہ وہ ہند میں ہوں یا کابل میں، ایران میں ہوں یا عرب شریف میں، غرض شرق میں ہوں یا غرب میں
حیث یقول والعوام یفعلونہ باعتقاد الطاعۃ
(عوام اسے عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ت) یہاں بعض الناس نے سخت فتنہ برپا کررکھا ہے مترصد کہ جلد تر جواب باصواب سے اعزاز بخشیں
اجرکم اللّٰہ تعالٰی بجاہ طٰہٰ ویس صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔ مختار صدیقی
الجواب اس مسئلہ کی تحقیق بالغ وتنقیح بازغ میں بائیس سال ہوئے فقیر نے منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین ۱۳۰۱ھ لکھی کہ بیس۲۰سال ہوئے بمبئی میں چھپ کر ملک میں مفت تقسیم ہُوئی اب میرے پاس صرف ایک نسخہ باقی ہے کہ آپ جیسے علم دوست حق پرست کی اعانت کو بغرض ملاحظہ مرسل، ایک نسخہ بھی اور ہوتا توہدیۃً حاضر کردیتا بعد ملاحظہ بیرنگ واپس فرمائیں یہ رسالہ باذنہ تعالٰی دربارہ حدیث وفقہ منکرین کے خیالات باطلہ عاطلہ کی بیخ کنی وصفرا شکنی کو بس ہے لہذا اُن سے زیادہ تعرض کی حاجت نہیں صرف بعض امورِ جہالت فتوائے مذکور کے متعلق اجمالاً گزارش وباللہ التوفیق۔ (۱) دعوٰی یہ کہ اذان میں کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں، اور اس پر دلیل شامی کی جراحی سے نقل کہ ان میں سے کوئی حدیث مرفوع درجہ صحت کو نہیں پہنچی جو خود مشیر ہے کہ اس کی احادیث موقوفہ پر یہ حکم نہیں ورنہ مرفوع کی تخصیص کیوں ہوتی عبارات کتب میں مفہوم مخالف بلاشبہہ معتبر ہے، اسی شامی طابع قسطنطینہ جلد ۵ ص ۵۲ میں ہے:
فان مفاھیم الکتب حجۃ ولومفھوم لقب علی ماصرح بہ الاصولیون ۱؎۔
عبارات کتب میں مفہومِ مخالف حجت ہوتا ہے خواہ وہ مفہوم لقبی ہو،علمائے اصول نے یہی تصریح کی ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/۳۸)
نیز جلد اول ص ۱۶۷: یفتی بہ عندالسؤال اھ ای لان مفاھیم الکتب معتبرۃ کماتقدم ۲؎۔
سوال کے وقت اسی پر فتوٰی ہوگا کیونکہ عباراتِ کتب میں مفہومِ مخالف حجت ہوتا ہے، جیسے کہ پہلے گزرچکا ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۱۹)
دُرِمختار بیان سُننِ وضو میں نہرالفائق میں سے ہے:
مفاھیم الکتب حجۃ بخلاف اکثر مفاھیم النصوص ۳؎۔
عبارات کتب میں مفہوم مخالف حجت ہوتا ہے اور نصوص کے اکثر مفاہیم معتبر نہیں ہوتے (ت)
(۳؎ درمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۲۱)
احادیثِ موقوفہ کیا روایت نہیں
لاجرم ملا علی قاری نے موضوعاتِ کبیر میں کل مایروی فی ھذا فلایصح رفعہ البتۃ
(اس سلسلہ میں جو کچھ مروی ہے اس کا مرفوع ہونا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ ت)
لکھ کر فرمایا:
قلت واذا ثبت رفعہ الی الصدیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فیکفی العمل بہ لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ''علیکم بسنّتی وسنّۃ الخلفاء الراشدین ۱؎۔''
میں کہتا ہوں جب اس کا مرفوع ہونا صدیقِ اکبررضی اللہ تعالٰی عنہ تک ثابت ہے تو عمل کے لئے اتنا ہی کافی ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ''تم پر میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنّت لازم ہے''۔ (ت)
(۱؎ الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعہ حرف المیم مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۲۱۰)