Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
145 - 157
نھج السلامۃ فی حکم تقبیل الابھامین فی الاقامۃ( ۳۳ ۱۳ھ)

(اقامت کے دوران انگوٹھے چُومنے کے حکم میں عُمدہ تفصیل۔ ت)

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
مسئلہ (۳۸۷): از اپربرہما شہر مانڈے سورتی مسجد مرسلہ مولوی احمد مختار صاحب قادری رضوی صدیقی میرٹھی     ۲۶ جمادی الاخری ۱۳۳۳ ہجری

منقول از فتاوٰی امدادیہ معروف بہ فتاوٰی اشرفیہ جلد چہارم صفحہ ۵۷ و ۵۸

سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ جس وقت مؤذن اقامت میں ''اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ'' بولے تو سُننے والا دونوں انگوٹھوں کو چُوم کر دونوں آنکھوں پر رکھے یا نہیں، اگر رکھتا ہے تو آیا جائز یا مستحب یا واجب یا فرض ہے، اور جو شخص اُس کا مانع ہووے اُس کا کیا حکم ہے اور اگر نہیں رکھتا ہے تو آیا مکروہ یا مکروہ تحریمی یا حرام ہے اور جو مرتکب اس فعل کا ہووے اُس کا اور جو حکم کرے اُس کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔

جدید یہ کہ اذان پر قیاس کرکے تحریر نہ فرمائیں بلکہ درصورت جواز یا عدم جواز کسی کتاب معتبر سے عبارت نقل کرکے

تحریر فرمائیں۔
جواب اوّل تو اذان ہی میں انگوٹھے چُومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں اور جو کچھ بعض لوگوں نے اس بار ے میں روایت کیا ہے وہ محققین کے نزدیک ثابت نہیں، چنانچہ شامی بعد نقل اُس عبارت کے لکھتے ہیں:
وذکر ذلک الجراحی واطال ثم قال ولم یصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ انتھی ۱؎ (جلد اول صفحہ ۲۶۷)
جراحی نے اس بحث کا طویل ذکر کیا ہے پھر کہا ان میں سے کوئی حدیث مرفوع درجہ صحت کو نہیں پہنچی انتہی۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار علی ردالمحتار    باب الاذان        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/ ۲۶۷)
مگر اقامت میں تو کوئی ٹوٹی پھُوٹی روایت بھی موجود نہیں پس اقامت میں انگوٹھے چُومنا اذان کے وقت سے بھی زیادہ بدعت وبے اصل ہے اسی واسطے فقہاء نے اس کا بالکل انکار کیا ہے یہ عبارت شامی کی ہے:
ونقل بعضھم ان القھستانی کتب علی ھامش نسختہ ان ھذا مختص بالاذان واما فی الاقامۃ فلم یوجد بعد الاستقصاء التام والتتبع ۲؎۔
بعض نے نقل کیا کہ قہستانی نے اپنے ایک نسخہ کے حاشیہ پر تحریر کیا ہے کہ یہ اذان کے ساتھ مختص ہے، اقامت میں جستجو اور تلاش بسیار کے باوجود ثبوت نہیں ملا۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار علی ردالمحتار   باب الاذان  مطبوعہ مجتبائی دہلی  ۱/ ۲۶۷)
یہی مفتی صاحب لم یصح فی المرفوع پر حاشیہ منہیہ لکھتے ہیں:
قلت واما الموقوف فانہ وان کان منقولا لکن مع ضعف اسنادہ لیس فیہ کون ھذا العمل طاعۃ بل ھو رقیۃ للحفظ عن رمد والعوام یفعلونہ باعتقاد کونہ طاعۃ ۱۲ منہ حاشیہ صاحب فتاوٰی اشرفیہ برعبارت شامی۔
رہی موقوف حدیث تو وہ اس سلسلہ میں اگرچہ منقول ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہونے کے ساتھ اس میں یہ نہیں ہے کہ یہ عمل عبادت وطاعت ہے بلکہ یہ صرف آنکھوں کے دُکھنے کا علاج ہے اور عوام اسے عبادت سمجھتے ہوئے بجالاتے ہیں ۱۲ منہ (ت)
گزارش وموجب تکلیف دہی یہ ہے کہ ہفتہ گزشتہ میں ایک عریضہ دربارہ استفتائے تقبیل ابہامین عند قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ابلاغ خدمت کیا ہے آج فتاوائے امدادیہ میں ایک صاحب نے عبارت مرقومہ بالا دکھائی جو بلفظہ ملاحظہ عالی میں پیش کرکے رفعِ شکوک کا خواستگار ہُوں وھی ھذہ:

(۱)  علامہ شامی یا دوسرے محققین نے تقبیل کے بارہ میں ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت نقل کرکے ''لم یصح فی المرفوع'' (کوئی مرفوع حدیث نہیں ملی۔ ت) یا اس کے ہم معنی الفاظ تحریر کئے ہیں ان سے حدیث کے مرفوع ہونے کا انکار ہے یا کلیۃ تقبیل ہی کا ثبوت صحت کو نہیں پہنچتا، مفتی صاحب کی تحریر وحاشیہ خود غور طلب ہے۔ پھر اُن کے معتقدین تقبیل مطلق کو غیر صحیح فرماتے ہیں خواہ بروایت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ یا بہ تعلیم سیدنا خضر علیہ السلام جامع(۱) الرموز نے کنزالعباد سے جو عبارت نقل کی ہے اُس میں اثبات استحباب ہے۔ مجموعہ فتاوٰی جلد سوم صفحہ ۴۲، طحطاوی(۲) نے شرح مراقی الفلاح مصری صفحہ ۱۱۸ میں اسی روایت کو نقل کیا ہے نیز فردوس دیلمی سے حدیث ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ مرفوعاً لکھ کر حضرت خضر علیہ السلام سے عملاً روایت بطور تائید بیان کے علٰی ہذا سادات احناف کی اکثر کتب میں موجود ہے۔ اعانۃ(۳) الطالبین علٰی حل الفاظ فتح المعین مصری ص ۲۴۷ (فقہ شافعی):
وفی الشنوانی مانصہ من قالحین یسمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ مرحباً بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبداللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ثم یقبل ابھامیہ ویجعلھا علی عینیہ لم یعم ولم یرمدا ابدا انتھٰی ۱؎۔
شنوانی میں عبارت یہ ہے: جس نے مؤذن کا یہ جملہ ''اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ'' سن کر کہا ''مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبداللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم'' پھر اپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے تو وہ نہ کبھی اندھا ہوگا اور نہ اس کی آنکھیں کبھی خراب ہوں گی انتہٰی (ت)
 (۱؎ اعانۃ الطالبین  فصل فی الاذان والاقامۃ  مطبوعہ احیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۲۳۳)
کفایۃ(۴) الطالب الربانی لرسالۃ ابن ابی زید القیروانی فی مذھب سیدنا الامام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ مصری جلد ا ص ۱۶۹

فائدۃ: نقل صاحب الفردوس ان الصدیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لماسمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ قال ذلک وقبل باطن انملۃ السبابتین ومسح عینیہ فقال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من فعل مثل خلیلی فقد حلت علیہ شفاعتی، قال الحافظ السخاوی ولم یصح، ثم نقل عن الخضر انہ علیہ الصلاۃ والسلام قال من قال حین یسمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبداللّٰہ (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم) ثم یقبل ابھامیہ ویجعلھما علٰی عینیہ لم یعم ولم یرمدا ابدا ونقل غیر ذلک ثم قال ولم یصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ ۱؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
فائدۃ: صاحب الفردوس نے نقل کیا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب مؤذن کا یہ جملہ سنا ''اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ'' تو آپ نے یہ دُہرایا اور دونوں شہادت کی انگلیوں کا باطنی حصہ اپنی آنکھوں سے لگایا تو اس پر نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے یہ عمل کیا جو میرے اس دوست نے کیا ہے تو اس کے لئے میری شفاعت ثابت ہوگئی۔ حافظ سخاوی نے کہا کہ یہ صحیح نہیں، پھر حضرت خضر علیہ السلام سے یہ منقول ہے فرمایا کہ جو شخص مؤذن کا یہ جملہ اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ سن کر یہ کہے مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبداللّٰہ (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم) پھر اپنے دونوں انگوٹھے چُوم کر اپنی دونوں آنکھوں سے لگائے تو وہ نہ کبھی اندھا ہوگا اور نہ اس کی آنکھیں کبھی خراب ہوں گی اور ان کے علاوہ نے بھی ذکر کیا، پھر کہا کہ اس سلسلہ میں کوئی مرفوع صحیح روایت نہیں ملی واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ کفایت الطالب الربانی لرسالۃ ابن ابی زید القیروانی    مطبوعہ مصر    ۱/ ۱۶۹)
علامہ(۵) الشیخ علی الصعیدی العدوی اسی شرح کے حاشیہ ص ۱۷۰ میں فرماتے ہیں:
 (قولہ ثم یقبل الخ) لم یبین موضع التقبیل من الابھامین الا انہ نقل عن الشیخ العالم المفسر نورالدین الخراسانی قال بعضھم لقیتہ وقت الاذان فلما سمع المؤذن یقول اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ قبل ابھامی نفسہ ومسح بالظفرین اجفان عینیہ من المآقی الی ناحیۃ الصدغ ثم فعل ذلک عند کل تشھد مرۃ مرۃ فسألتہ عن ذلک فقال کنت افعلہ ثم ترکتہ فمرضت عینای فرأیتہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مناما فقال لم ترکت مسح عینیک عند الاذان ان اردت ان تبرأ عیناک فعد الی المسح فاستیقظت ومسحت فبرئت ولم یعاودنی مرضھما الی الاٰن انتھی فھذا یدل علی ان الاولی التکریر والظاھر انہ حیث کان المسح بالظفرین ان التقبیل لھما ۱؎ 

واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
 (قولہ ثم یقبل الخ) انگوٹھوں کی کون سی جگہ چُومے، اس میں اس کا ذکر نہیں کیا، مگر شیخ العالم المفسّر نُورالدین خراسانی سے یہ منقول ہے بعض لوگوں نے کہا میں ان سے دورانِ اذان ملا جب انہوں نے مؤذن سے اشھد ان محمد رسول اللّٰہ سنا تو انہوں نے اپنے دونوں انگوٹھے چُومے اور ان دونوں کے ناخن اپنی پلکوں پر ناک کی طرف ملے پھر انہوں نے ہر بار ایسا کیا تو میں نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے میں پہلے یہ عمل کیا کرتا تھا پھر میں نے اسے چھوڑ دیا تو میری آنکھیں خراب ہوگئیں اور مجھے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت ہُوئی تو فرمایا: تُونے اذان کے وقت آنکھوں پر انگوٹھے لگانے کیوں ترک کردئے اگر تُو چاہتا ہے کہ تیری آنکھیں درست ہوجائیں تو انگوٹھے چُومنا دوبارہ شروع کردے پھر میں بیدار  ہُوا اور میں نے انگوٹھے چُومنے کا عمل کیا تو میں صحیح ہوگیا، اس کے بعد آج تک میری آنکھیں کبھی خراب نہیں ہوئیں انتہی، پس یہ عبارت دلالت کررہی ہے کہ باربار کرنا بہتر ہے اور ظاہر یہی ہے کہ جب کبھی آنکھوں پر انگوٹھے لگائے تو چُوما بھی انہیں کرے، واللہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ حاشییہ علی کفایۃ    الطالب الربانی الخ    مطبوعہ مصر        ۱/۱۷۰)
Flag Counter