اسناد کے سنّتِ مطلوبہ وفضیلتِ مرغوبہ وخاصہ امت مرحومہ ہونے میں کسے کلام ہے محققین قابلین مراسیل و
معاضیل بھی مسانید کو اُن پر تفضیل دیتے اور منقطع سے متصل کا نسخ نہیں مانتے ہیں
کمانص علیہ فی المسلم وغیرہ
(جیسا کہ مسلم الثبوت وغیرہ میں اسکی تصریح کی ہے۔ ت) تاکید اثریین بجائے خود ہے اور
قول بقیہ بن الولید ذاکرت حماد بن زید باحادیث فقال مااجودھا لوکان لھا اجنحۃ یعنی الاسناد
(میں نے حماد بن زید سے بعض احادیث کے متعلق مذاکرہ کیا تو فرمایا بڑی جید ہیں اگر ان کے لئے پَر یعنی اسناد ہو۔ ت) قطع نظر اس سے کہ
واقعۃ عین لاعموم لھا
(یہ ایک معین واقعہ ہے اس کے لئے عموم نہیں۔ ت) ممکن کہ وہ احادیث دربارہ احکام ہوں، یوں بھی صرف نفی جودت کرے گا وہ بطور محدثین مطلقا مسلم کہ معضل ضعیف ہے اور ضعیف جید نہیں،
قول امام سفیان ثوری الاسناد سلاح المؤمن فاذالم یکن معہ سلاح فبای شیئ یقاتل
(سند مومن کا اسلحہ ہے جب اس کے پاس اسلحہ نہ ہوتو وہ کس شَے سے لڑے گا۔ ت) صراحۃً دربارہ عقائد واحکام ہے۔
فان الحاجۃ الی القتال انما ھی فیما یجری فیہ التشدید والتماکس دون مااجمعوا علی التساھل فیہ۔
لڑائی کی نوبت وہاں آتی ہے جہاں سختی اور باہم جھگڑا ہو نہ کہ وہاں جس میں نرمی پر اجماع ہو۔ (ت)
یوں ہی ارشاد امام مبارک عبداللہ مبارک لولا الاسناد لقال من شاء ماشاء ۲؎
(اگر سند کا اعتبار نہ ہوتا تو جو کسی کی مرضی ہوتی وہی کہتا۔ ت) کہ جب قبولِ ضعاف فی الفضائل میں دخول تحت اصل خود مشروط اور امر عمل قواعد مقررہ شرعیہ مثل احتیاط واختیار نفع بے ضرر سے منوط تو ضعیف اثبات جدید نہ کرے گی اور
من شاء ماشاء
(جو کسی کی مرضی ہو کہے۔ ت) صادق نہ آئے گا
کماقدمنا بیانہ فی الافادۃ الثانیۃ والعشرین
(جیسا کہ ہم اس کا بیان بائیسویں افادہ میں پہلے کر آئے ہیں۔ ت)
(۲؎ الصحیح لمسلم باب بیان الاسناد من الدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲)
پُرظاہر کہ یہ اور اُن کی امثال جتنے کلمات محدثین کرام سے ضرورت اسناد میں ملیں گے سب کا مفاد ضرورت خاص اتصال ہے کہ نامتصل بجمیع اقسامہٖ اُن کے نزدیک ضعیف اور ضعیف خود مجروح ہے نہ کہ سلاح وصالح قتال، یونہی ایک راوی بھی ساقط ہوتو اُن کے طور پر وہی من شاء کا احتیاطی احتمال ولہذا وہ بالاتفاق منقطع ومعضل اور معضل دون معضل میں اصلاً فرق حکم نہیں کرتے، اسی لئے فواتح الرحموت میں اصطلاحات مرسل ومعضل ومنقطع ومعلق بیان کرکے فرمایا:
لم یظھر لتکثیر الاصطلاح والاسامی فائدۃ ۱؎
(کثیر اصطلاحوں اور ناموں کی وجہ سے کوئی فائدہ ظاہر نہ ہوگا۔ ت)
(۱؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ۲/ ۱۷۴)
بالجملہ جب اتصال نہ ہوتو بعض سند کا مذکور ہونا نہ ہونا سب یکساں، آخر نہ دیکھا کہ انہیں امام ابن المبارک
رحمہ اللہ تعالٰی نے حدیث ابن خراش عن الحجاج بن دینار قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت کیا فرمایا : اخرج مسلم فی مقدمۃ صحیحہ قال قال محمد یعنی ابن عبداللّٰہ بن قُھزاذَ، سمعت ابا اسحٰق ابراھیم بن عیسی الطالقانی قال قلت لعبداللّٰہ بن مبارک یا اباعبدالرحمٰن الحدیث الذی جاء ان من البر بعد البران تصلی لابویک مع صلاتک وتصوم لھمامع صومک قال فقال عبداللّٰہ یا ابا اسحٰق عن من ھذا قال قلت لہ ھذا من حدیث شہاب بن خراش فقال ثقۃ عمن قال قلت عن الحجاج بن دینار قال ثقہ عمن قال قلت قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قال یاابا اسحٰق ان بین الحجاج بن دینار وبین النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مفاوز تنقطع فیھا اعناق المطیّ ولکن لیس فی الصدقۃ اختلاف ۱؎۔
امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ محمد یعنی ابن عبداللہ بن قہراذ کہتے ہیں کہ میں نے ابواسحٰق ابراہیم بن عیسٰی طالقانی کویہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن! وہ حدیث جس میں یہ ہے کہ نیکی کے بعد نیکی یہ ہے کہ تو اپنی نماز کے بعد اپنے والدین کے لئے نماز پڑھے اور اپنے روزے کے بعد والدین کے لئے روزہ رکھے فرمایا تو عبداللہ نے کہا اے ابواسحٰق! یہ حدیث کس سے مروی ہے، فرمایا تو میں نے اسے کہا یہ حدیث شہاب بن خراش سے ہے، فرمایا کیا وہ ثقہ ہیں جس سے انہوں نے روایت کی ہے، میں نے کہا یہ حجاج بن دینار سے ہے، فرمایا وہ ثقہ ہیں تو میں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تو انہوں نے فرمایا اے ابواسحٰق! حجاج بن دینار اور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے درمیان اتنی عظیم مسافت ہے جسے طے کرتے ہُوئے سواریوں کی گردن منقطع ہوجائے، لیکن والدین کی طرف سے صدقہ کردینے میں کوئی اختلاف نہیں۔ (ت)
(۱؎صحیح لمسلم باب بیان ان الاسناد من الدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲)
امام نووی شرح میں فرماتے ہیں:
معنی ھذہ الحکایۃ انہ لایقبل الحدیث الاباسناد صحیح ۲؎۔
اس حکایت کا معنٰی ومفہوم یہ ہے کہ حدیث کو سند صحیح کے بغیر قبول نہیں کیا جائیگا۔ (ت)
( ۲؎ صحیح لمسلم باب بیان ان الاسناد من الدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲)
اب اگر ان کلمات کو عموم پر رکھئے مرسل، منقطع، معلق، معضل ہرنامتصل باطل وملتحق بالموضوع ہوجاتی ہے اور وہ بالاجماع باطل افادہ سوم میں ابن حجر مکی شافعی وعلی قاری حنفی سے گزرا
المنقطع یعمل بہ فی الفضائل اجماعاً ۳؎
(منقطع پر فضائل میں اتفاقاً عمل کیا جائے گا۔ ت)
(۳؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الرکوع مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۳۱۶)
لاجرم واجب کہ یہ سب عبارات صرف باب اہم واعظم یعنی احکام میں ہیں اگرچہ ظاہر اطلاق وارسال ہو نہ کہ جب نفس کلام تخصیص پر دال ہو
کماقررنا فی الکلمات المذکورۃ
(جیسے کہ ہم نے کلماتِ مذکورہ میں گفتگو کی ہے۔ ت) اور واقعی دربارہ رد وقبول غالب ومحاوراتِ علما صرف نظر بہ باب احکام ہوتے ہیں کہ وہی اکثر محط انظار نحبہ ونزہہ وغیرہما میں دیکھئے کہ حدیث کی دو۲ قسمیں کیں: مقبول ومردود۔ مقبول میں صحیح وحسن کو رکھا اور تمام ضعاف کو مردود میں داخل کیا حالانکہ ضعاف فضائل میں اجماعاً مقبول
ھکذا ینبغی التحقیق واللّٰہ ولی التوفیق
(تحقیق اسی طرح کرنی چاہئے اور توفیق دینے والا اللہ تعالٰی ہے۔ ت)
(جماہیر فقہائے کرام ائمہ فقہاء کی بے سند حدیثیں دربارہ احکام بھی حجت ہیں) یہ سب کلام بطور محدثین تھا، اور جماہیر فقہائے کرام کے نزدیک تو معضلات مذکورہ فضائل درکنار خود باب احکام میں حجت ہیں جبکہ مرسل امام معتمد محتاط فی الدین عارف بالرجال بصیر بالعلل غیر معروف بالتساہل ہو اور مذہب مختار امام محقق علی الاطلاق وغیرہا اکابر میں کچھ تخصیص قرن غیر قرن نہیں ہر قرن کے ایسے عالم کا قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کہنا حجت فی الاحکام ہے
کمانص علیہ فی المسلم (عہ) وشروحہ ۱؎
(جیسا کہ مسلم الثبوت اور اس کی شروح وغیرہ میں اس کی تصریح ہے۔ ت)
(۱؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قسم ۲/ ۱۷۴)
عہ: المرسل ان کان من الصحابی یقبل مطلقاً اتفاقاً وان من غیرہ فالاکثر ومنھم الامام ابوحنیفہ والامام مالک والامام احمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم قالوا یقبل مطلقا اذاکان الراوی ثقۃ وقال ابن ابان رحمہ اللّٰہ تعالٰی من مشائخنا الکرام یقبل من القرون الثلٰثۃ مطلقا ومن ائمۃ النقل بعد تلک القرون وقال طائفۃ من المتاخرین منھم الشیخ ابن الحاجب المالکی والشیخ کمال الدین بن الھمام منایقبل من ائمۃ النقل مطلقا من ای قرن کان اعتضد بشیئ ام لاویتوقف فی المرسل من غیرھم وھو المختار قیل وھو مراد الائمۃ الثلٰثۃ والجمھور ولایقول احد بتوثیق من لیس معرفۃ فی التوثیق والتجریح وعلی ھذا خلاف ابن ابان فی عدم اشتراط ھذا الشرط فی القرون الثلٰثۃ لزعمہ عدم الحاجۃ الی التوثیق فی تلک القرون لان الرواۃ فیھا کانوا اھل بصیرۃ فی التوثیق والتجریح ۱؎ اھ من مسلم الثبوت وفواتح الرحموت ملخصا ۱۲ منہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (م)
مرسل اگر صحابی کی ہوتو مطلقاً اتفاقاً اسے قبول کیا جائے گا اور غیر صحابی کی مرسل کے بارے میں اکثر علماء جن میں امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک اور امام احمد رضی اللہ تعالٰی عنہم ہیں، کی رائے یہ ہے کہ مطلقا مقبول ہے بشرطیکہ راوی ثقہ ہو، ابنِ ابان رحمہ اللہ تعالٰی جو ہمارے مشائخِ کرام میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ قرون ثلٰثہ (تین زمانوں) کی مرسل مطلقاً مقبول ہے اور تین قرون کے بعد ائمہ نقل کی مرسل بھی مقبول ہے، متاخرین کی ایک جماعت جن میں ابن حاجب مالکی اور شیخ کمال الدین بن الہمام ہم سے (یعنی احناف سے) کی رائے یہ ہے کہ ائمہ نقل کی مرسل مطلقاً مقبول ہے خواہ اس کا تعلق کسی قرن سے ہو خواہ اس کی تائید ہو یا نہ ہو، اور ان کے علاوہ کی مرسل میں توقف ہے اور یہی مختار ہے، اور کہا گیا ہے کہ تینوں ائمہ اور جمہور کی مراد بھی یہی ہے اور کوئی ایسے شخص کی توثیق کیسے کرسکتا ہے جو توثیق وتجریح کی معرفت نہ رکھتا ہو اسی بنا پر ابن ابان نے قرونِ ثلاثہ میں عدمِ اشراط کا اختلاف کیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک ان قرون میں توثیق کی حاجت نہیں اس لئے کہ ان ادوار میں تمام راوی توثیق اور تجریح کے ماہر تھے اھ مسلم الثبوت اور فواتح الرحموت سے ملخصاً بیان ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (ت)
(۱؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت مسئلہ فی الکلام علی المرسل مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ۲/ ۱۷۴)
اقول (تحقیق مصنف کہ غیر ناقد کے لئے ان کا قبول محدثین پر بھی لازم) انصافاً غیر ناقد کے لئے مراسیل مذکورہ سے احتجاج فی الاحکام اثریین پر بھی لازم، آخر اُس کی سبیل یہی ناقد پر اعتماد ہے نہ نقد کہ تکلیف مالا یطاق ہے، تو اُس کے لئے ذکر وعدمِ ذکرِ سند دونوں یکساں اور بلاشبہہ قول ناقد محتاط قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تصحیح صریح والتزامی سے اعلٰی نہیں تو کم بھی نہیں، اور جو احتمالات مساہلت وتحسین ظن وخطا فی النظر یہاں ہیں، وہاں بھی حاصل بلکہ مجرب ومشاہد باینہمہ امام ابن الصلاح وامام طبری وامام نووی وامام زرکشی وامام عراقی وامام عسقلانی وامام سخاوی وامام زکریا انصاری وامام سیوطی وغیرہم نے تصریحیں فرمائیں کہ اگر امام معتمد نے کسی حدیث کی صحت پر تنصیص کی یا کتاب ملتزم الصحۃ میں اُسے روایت کیا اسی قدر اعتماد کے لئے بس ہے اور احتجاج روا،
کماذکرنا نصوصھم فی مدارج طبقات الحدیث وقدتقدم نص القاری عن شیخ الاسلام فی الافادۃ الحادیۃ والعشرین۔
جیسے کہ ہم نے مدارجِ طبقات الحدیث میں ان کی تصریحات کا ذکر کیا ہے اور پہلے اکیسویں افادہ میں ملاعلی قاری کے حوالے سے شیخ الاسلام کی تصریح گزرچکی ہے۔ (ت)
تو کیا وجہ کہ یہاں اس پر اعتماد نہ ہو لاجرم جس طرح امام احمد یا یحیٰی کا
ھذا الحدیث صحیح
(یہ حدیث صحیح ہے۔ ت) فرمانا یا بخاری یا مسلم یا ابن خزیمہ یا ضیا کا صحاح میں لانا، یونہی منذری کا مختصر میں ساکت رہنا،یوں ہی ابن السکن کا صحیح یا عبدالحق کا احکام میں وارد کرنا، یونہی امام معتمد ناقد محتاط کا کہنا:
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فعل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الٰی غیر ذلک من احکامہ واحوالہ ونعوت جمالہ وشیون جلالہ وصفات کمالہ صلوات اللّٰہ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلٰی اٰلہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وعلیھم وبارک وسلم وشرف ومجد وعظم وکرم اٰمین۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ فرمایا، نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ کیا، اور اس طرح کے آپ کے دیگر احکام واحوال، آپ کے جمال وجلال کی صفات وشانیں اور آپ کے صفات کاملہ ہیں آپ پر اللہ تعالٰی کی رحمتیں اور سلام ہو اور آپ کی آل واصحاب پر، آپ پر اور صحابہ پر برکت وسلام شرافت، بزرگی، عظمت وکرم کی برسات ہو، آمین۔ (ت)
الحمدللہ کہ اس جواب کی ابتداء بھی حضورِ اقدس واکرم سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نام پاک اور حضور پر درود سے ہُوئی اور انتہا بھی حضور ہی کے نامِ محمود ودرودِ مسعود پر ہُوئی اُمید ہے کہ مولٰی عزوجل اس نام کریم وصلوٰۃ وتسلیم کی برکت سے قبول فرمائے اور
انارتِ عیون وتنویر قلوب وتکفیر ذنوب وسلامتِ ایمان وامن وامان وتنعیم قبر ونجات فی الحشر کا باعث بنائے فانہ تعالٰی بکرمہ یقبل الصلاتین وھو اکرم من ان یدع مابینھما وکان ذلک للیلۃ الثانیۃ یوم الاثنین لعلھا الثامنۃ عشر من الشھر الفاخر شھر ربیع اخرت من شھور السنۃ الثالثۃ عشر من المائۃ الرابعۃ عشر من ھجرۃ الحبیب سید البشر صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہ واولیائہٖ اجمعین واٰخر دعوٰنا ان الحمدللّٰہ ربّ العٰلمین، سبحٰنک اللھم وبحمدک، اشھد ان لاالٰہ الانت استغفرک واتوب الیک، واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔