Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
143 - 157
اقول ھذا عجیب فقد اخرجہ ابوداؤد والترمذی والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بلفظ الفاجر مکان المنافق واسنادہ کماقال المناوی جید ۱۲ منہ (م)
اقول یہ عجیب ہے حالانکہ ابوداؤد ترمذی اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منافق کی جگہ لفظ فاجر روایت کیا ہے اور اس کی سند بقول امام مناوی کے جید ہے ۱۲ منہ (ت)
عہ۱: اقول بل صحیح من اعلی الصحاح فلمالک والصحیحین غیرھما عن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما رفعہ اذاقال الرجل لاخیہ یا کافر فقد باء بھا احدھما وللبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ رفعامن قال لاخیہ یاکافر فقدباء بھا احدھما ولابن حبان عن ابی سعید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بسند صحیح مرفوعا مااکفر رجل رجلا قط الاباء بھا احدھما وفی الباب غیر ذلک فان اراد خصوص اللفظ فقلیل الجدوٰی ۱۲ منہ (م)

اقول بلکہ یہ اعلٰی درجہ کی صحاح میں سے صحیح ہے، امام مالک اور شیخین وغیرہما نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مرفوعاً روایت کیا کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی کو ''یاکافر'' (اے کافر) کہا، تو وہ کفر اُن دونوں میں سے ایک پر لَوٹ آتا ہے۔ اور بخاری نے حضرت ابُو ہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً بیان کیا کہ جس نے اپنے بھائی کو ''یاکافر'' کہا تو وہ کفر اُن میں سے ایک پر لوٹ آئیگا۔ ابن حبان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً سند صحیح کے ساتھ روایت کیا جب بھی کوئی کسی کو کافر کہتا ہے تو وہ کفر یقینا ان میں سے کسی ایک کی طرف رجوع کرتا ہے، اور اس باب میں اس کے علاوہ بھی احادیث ہیں اگر اس سے مراد خاص الفاظ ہیں تو ایسی روایات تو بہت ہی کم ہیں ۱۲ منہ (ت)

عہ۲: اقول والصحیح انہ لاینزل عن الحسن کمابینتہ فی النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب ۱۲ منہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (م)

اقول (میں کہتا ہوں کہ) صحیح وہ ہے کہ جو حسن سے نیچے نہ ہو جیسے کہ میں نے ''النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب'' میں بیان کیا ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (ت)
ح الوضوء علی الوضوء نورعلٰی نور لم یوجد (عہ۱) فیہ مسح العینین بباطن السبابتین بعد تقبیلھما لایصح وروی تجریۃ ذلک عن کثیرین فیہ الصلاۃ عماد الدین ضعیف وصلاۃ التسبیح ضعیف (عہ۲) الدارقطنی اصح شیئ فی فضل الصلٰوت صلاۃ التسبیح فیہ طعام الجواد واء وطعام البخیل داء فی المقاصد (عہ۳ ) رجالہ ثقات وفی المختصر منکر فی المقاصد ماء زمزم لماشرب لہ ضعیف (عہ۴ ) لکن لہ شاھد فی مسلم ح ان اللّٰہ یبعث لھذہ الامۃ علی رأس کل مائۃ من یجدد لھا دینھا صححۃ (عہ۵ ) الحاکم ح مثل امتی کالمطر لایدری اولہ خیر ام اٰخرہ موضوع (عہ)  فی الوجیز انا وابوبکر وعمر خلقنا من تربۃ واحدۃ فیہ مجاھیل قلت لہ طریق اٰخر ولہ شاھد فی اویس حدیث فی ورقتین قال ابن حبان باطل قلت الوقف اولی فان لہ طرقا عدیدۃ لاباس ببعضھا ح من اخلص للّٰہ اربعین یوما سندہ ضعیف ولہ شاھد ح یکون فی اٰخر الزمان خلیفۃ لایفضل علیہ ابوبکر ولاعمر موضوع قلت بل مؤول الی ھنا مافی التذکرۃ ۱؎ اھ ملتقطا۔
حدیث وضو پر وضو نور  علٰی نور ہے، موجود نہیں۔ اس میں ہے سبابہ انگلیوں کا باطن چومنے کے بعد آنکھوں سے لگانا صحیح نہیں اور بطور تجربہ یہ عمل کثیر علماء سے مروی ہے۔ اس میں ہے نماز دین کا ستون ہے، یہ حدیث ضعیف ہے۔ صلاۃ التسبیح (والی حدیث) ضعیف ہے۔ دارقطنی میں ہے فضائلِ نماز کے بارے میں جتنی احادیث مروی ہیں ان میں نماز تسبیح والی حدیث اصح ہے۔ اس میں ہے سخی کا کھانا دوا ہے بخیل کا کھانا بیماری ہے، مقاصد میں ہے کہ اس کے رواۃ ثقہ ہیں، اور مختصر میں ہے کہ یہ منکر ہے۔ مقاصد میں ہے زمزم کا پانی اسی کام کے لئے ہے جس کی خاطر اسے پیا گیا، ضعیف ہے لیکن اس کے لئے مسلم میں شاہد ہے۔ حدیث اللہ تعالٰی ہر سو۱۰۰ سال کے بعد اس اُمت میں ایسے شخص کو مبعوث فرماتا ہے جو اس کے لئے دین کی تجدید کرتا ہے، حاکم نے اس کی تصحیح کی۔ حدیث میری اُمّت کی مثال بارش کی طرح ہے معلوم نہیں اس کا اول بہتر ہے یا آخر، موضوع ہے۔ وجیز میں ہے: مَیں، ابوبکر اور عمر تینوں ایک ہی مٹّی سے پیدا ہوئے، اس میں راوی مجہول ہیں، میں کہتا ہوں اس کی ایک اور سند ہے اور اس کے لئے شاہد ہے حدیث اویس جو دو۲ ورقوں پر ہے ابن حبان نے کہا یہ باطل ہے، میں کہتا ہوں سکوت بہتر ہے کیونکہ اس کی متعدد اسناد ہیں اس کی بعض سندوں میں کوئی حرج نہیں۔ حدیث جس نے چالیس دن اللہ تعالٰی کے لئے خالص کیے ، اس کی سند ضعیف ہے اور اس کے لئے شاہد ہے۔ حدیث آخر زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا جس سے ابوبکر و عمر افضل نہ ہوں گے، موضوع ہے۔ میں کہتا ہوں بلکہ اس میں تاویل ہے، یہاں تک ان روایات کا ذکر ہے جو تذکرہ میں تھیں اھ ملتقطاً۔ (ت)
عہ۱ : بل اخرجہ زرین وان قال المنذری ثم العراتی لم نقف علیہ ۱۲ منہ (م)

بلکہ اس کی تخریج زرین نے کی ہے اگرچہ منذری، پھر عراقی نے کہا کہ ہم اس سے آگاہ نہ ہوسکے ۱۲ منہ (ت)

عہ۲ : الحق انہ حدیث حسن صحیح لاشک حسن لذاتہ صحیح لغیرہ ان لم یکن لذاتہ والتفصیل فی اللآلی ۱۲ منہ (م)

حق یہ ہے کہ حدیث حسن صحیح ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حسن لذاتہ ہے صحیح لغیرہ ہے البتہ صحیح لذاتہ نہیں اور اس کی تفصیل اللآلی میں ہے (ت)

عہ۳ : اقول کذا قال المناوی وبالغ الذھبی کعادتہ فقال کذب ۱۲ منہ (م)

اقول اسی طرح مناوی نے کہا اور ذہبی نے اپنی عادت کے مطابق مبالغہ کیا اور کہا کہ وہ جھوٹے ہیں ۱۲ منہ (ت)

عہ۴ : اقول بل نص الحافظ انہ حجۃ بطرقہ وحسنہ المناوی وصححہ الامام سفین بن عینیہ والد میاطی والمنذری وابن الجزری ۱۲ منہ (م)

اقول بلکہ حافظ نے تصریح کی ہے کہ یہ اپنی اسناد کی بنا پر حجت ہے، مناوی نے اسے حسن کہا، امام سفیان بن عینیہ، دمیاطی، منذری اور ابن جزری نے اسے صحیح کہا ۱۲ منہ (ت)

عہ۵ :  ورواہ ابوداؤد وقال المناوی الاسناد صحیح ۱۲ منہ (م)

اسے ابوداؤد نے روایت کیا اور مناوی کہتے ہیں اسکی سند صحیح ہے۔ (ت)

عہ: اقول ھذا عجیب بل اخرجہ احمد والترمذی فی الجامع عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وحسنہ وفی الباب عن عمر ان بن حصین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اخرجہ البزار قال السخاوی بسند حسن وفیہ عن علی وعن عمار وعن عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وقال ابن عبدالبر ان الحدیث حسن وقال ابن القطان لانعلم لہ علۃ قال المناوی اسنادہ جید ۱۲ منہ (م)

اقول (میں کہتا ہوں کہ) یہ عجیب ہے، بلکہ اس کو احمد اور ترمذی نے جامع میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور حسن قرار دیا نیز اس بارے میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالٰی عنہما سے بھی مروی ہے اس کو بزار نے روایت کیا ہے۔ سخاوی کہتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے اور اس بارے میں حضرت علی، حضرت عمار اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم سے بھی مروی ہے، ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، ابن القطان کی رائے ہے کہ ہمیں اس میں کسی علّت کا علم نہیں۔ مناوی نے کہا کہ اس کی سند جید ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ خاتمہ مجمع بحارالانوار    فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ علی الحسن    نولکشور لکھنؤ    ۳/ ۵۱۰ تا ۵۱۹)
فائدہ ۱۲:    (حدیث بے سند مذکور علماء کے قبول میں نفیس وجلیل احقاق اور اوہام قاصرین زماں کا ابطال وازہاق) اقول وباللہ التوفیق اذہان اکثر قاصرین زمان میں سند کی فضیلتیں اور کلامِ اثریین میں اتصال کی ضرورتیں دیکھ دیکھ کر مرتکز ہو رہا ہے کہ احادیث بے سند اگرچہ کلماتِ ائمہ معتمدین میں بصیغہ جزم مذکور ہوں مطلقاً باطل ومردود وعاطل کہ احکام، مغازی، سَیر، فضائل کسی باب میں اصلاً نہ سُننے کے لائق، نہ ماننے کے قابل حالانکہ یہ محض اختراع بین الاندفاع مشاہیر محدثین وجماہیر فقہا دونوں فریق کے مخالف اجماع ہے، غیر صحابی جو قول یا فعل یا حال حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف بے سند متصل نسبت کرے محدثین کے نزدیک باختلاف حالات واصطلاحات مرسل منقطع معلق معضل ہے اور فقہا واصولین کی اصطلاح میں سب کا نام مرسل اصطلاحِ حدیث پر تعلیق واعضال یا اصطلاحِ فقہ واصول پر ارسال میں کچھ بعض سند کا ذکر ہرگز لازم نہیں بلکہ تمام وسائط حذف کرکے علمائے مصنفین جو قال یا فعل رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ذلک کہتے ہیں یہ بھی معضل ومرسل ہے، امام اجل ابن الصلاح کتاب معرفۃ انواع علم الحدیث میں فرماتے ہیں:
المعضل عبارۃ عماسقط من اسنادہ اثنان فصاعدا ومثالہ مایرویہ تابعی التابعی قائلا فیہ قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وکذلک مایرویہ من دون تابعی التابعی عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اوعن ابوبکر وعمر وغیرھما: غیر ذاکر للوسائط بینہ وبینھم وذکر ابو نصر السنجری الحافظ قول الراوی ''بلغنی'' نحو قول مالک ''بلغنی عن ابی ھریرۃ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قال للملوک طعامہ وکسوتہ الحدیث وقال اصحاب الحدیث یسمونہ المعضل، قلت وقول المصنفین من الفقہاء وغیرھم قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کذا وکذا'' ونحو ذلک کلہ من قبیل المعضل لماتقدم، وسماہ الخطیب ابوبکر الحافظ فی بعض کلامہ مرسلا وذلک علی مذھب من یسمی کل مالایتصل مرسلا کماسبق ۱؎ اھ باختصار۔
معضل حدیث وہ ہوتی ہے جس کی سند سے دو یا دو سے زائد راوی ساقط ہوں مثلاً وہ جسے تبع تابعی یہ کہتے ہوئے روایت کرے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا، اور اسی طرح وہ روایت جسے تبع تابعی کے بعد کا کوئی شخص حضور علیہ السلام سے یا ابوبکر وعمر یا دیگر کسی صحابی سے حضور اور صحابہ کے درمیان واسطہ ذکر کیے بغیر روایت کرے، ابونصر السنجری حافظ بیان کرتے ہیں کہ راوی کا قول ''بلغنی'' (مجھے یہ روایت پہنچی ہے) مثلاً امام مالک کا قول کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا مملوک کے لئے کھانا اور کپڑے ہیں، الحدیث۔ اور فرمایا کہ محدثین ایسی روایت کو معضل کہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں فقہاء اور دیگر مصنفین کا قول کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ یہ فرمایا یہ تمام از قبیل معضل ہی ہے جیسا کہ اس کا ذکر پہلے گزرچکا، اور خطیب ابوبکر حافظ نے بعض مقامات پر اسے مرسل کا نام دیا ہے اور یہ ان لوگوں کے مذہب کے مطابق ہے جنہوں نے ہر اس روایت کو مرسل کہا ہے جو متصل نہ ہو جیسا کہ گزرا اھ اختصار (ت)
 (۱؎ مقدمہ ابن الصلاح فی علوم الحدیث النوع الحادی عشر بالمعضل    مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان    ص ۲۸)
توضیح میں ہے :
الارسال عدم الاسناد وھو ان یقول الراوی قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من غیر ان یذکر الاسناد ۲؎۔
ارسال وہ ہے جس میں سند کا ذکر نہ ہو وہ یوں کہ کوئی راوی بغیر سند ذکر کیے کہہ دے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔ (ت)
 (۲؎ توضیح التلویح  فصل فی الانقطاع  مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاورص ۴۷۴)
علّامہ تفتازانی تلویح پھر مدقق علائی صاحبِ دُرمختار افاضۃ الانوار علٰی اصول المنار میں فرماتے ہیں:
ان لم یذکر الواسطۃ اصلا فمرسل ۳؎
 (اگر راوی اصلاً واسطہ ذکر نہ کرے تو وہ مرسل ہے۔ ت)
 (۳؎ حاشیۃ الوشیح مع التوضیح   فصل فی الانقطاع    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ص ۴۷۴)
مسلم الثبوت وفواتح الرحموت میں ہے :
 (المرسل قول العدل قال علیہ) وعلٰی اٰلہ واصحابہ الصلاۃ (والسلام کذا) وعند اھل الحدیث فالمرسل قول التابعی قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ واصحابہ وسلم کذا، والمعلق مارواہ من دون التابعی من دون سند والکل داخل فی المرسل عند اھل الاصول ۴؎ اھ مختصرا۔
مرسل وہ ہے جس کے متعلق عادل کا قول ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ فرمایا، اور محدثین کے ہاں مرسل سے مراد تابعی کا یہ قول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ واصحابہ وسلم نے یوں فرمایا، اور حدیث معلق وہ روایت ہے جو بغیر سند کے تابعی کے بعد کوئی شخص روایت کرے، اور اہلِ اصول کے ہاں یہ تمام مرسل میں داخل ہیں اھ مختصرا۔ (ت)
 (۴؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل    مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم    ۲/ ۱۷۴)
پھر باجماع علما محدثین وفقہا یہ سب انواع موضوع سے بیگانہ ہیں اور مادون الاحکام مثل فضائل اعمال ومناقب رجال وسِیر واحوال میں سلفاً وخلفاً ماخوذ ومقبول جملہ مصنفین علوم حدیث موضوع کو شرالانواع بتاتے اور اُنہیں اُس سے جُدا شمار فرماتے آئے اور تمام مؤلفین سِیر بلانکیر منکر ومراسیل ومعضلات کا ذکر واثبات کرتے رہے افادہ ۲۳ میں علّامہ حلبی کا ارشاد گزرا کہ سیر بلاغ ومرسل ومنقطع ومعضل غرض ماسوائے موضوع ہر قسم حدیث کو جمع کرتی ہے کہ ائمہ کرام نے ماورائے احکام میں مساہلت فرمائی ہے، یہ عبارت دونوں مطلب میں نص ہے معضل کا موضوع نہ ہونا اور اس کا مادون الاحکام میں مقبول ہونا خود صحیح بخاری ومسلم وصحیح مؤطا میں معضلات وبلاغات موجود ہیں وسط میں بقلت طرفین میں بکثرت خصوصاً بعض بلاغات مالک وہ ہیں کہ ان کی اسناد اصلاً نہ ملی، تدریب (عہ) میں امام ابوالفضل زین الدین عراقی سے ہے:
ان مالکالم یفرد الصحیح بل ادخل فیہ المرسل والمنقطع والبلاغات، ومن بلاغاتہ احادیث لاتعرف کماذکرہ ابن عبدالبر ۱؎۔
امام مالک نے احادیث صحیحہ کو الگ نہیں بلکہ اس میں مرسل، منقطع اور بلاغات کو شامل کردیا ہے حالانکہ ان کی بلاغات میں ایسی احادیث بھی ہیں جو معروف نہیں، جیسا کہ ابن عبدالبر نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
عہ: فی الثانیہ من مسائل الصحیح ۱۲ منہ (م)               مسائل صحیح کی دوسری قسم میں ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ تدریب الراوی    الثانیہ من مسائل الصحیح    مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ    ۱/ ۹۰)
وہیں امام مغلطائی سے ہے :
مثل ذلک فی کتاب البخاری ۲؎
(اسی کی مثل بخاری کی کتاب میں ہے۔ ت)
 (۲؎تدریب الراوی    الثانیہ من مسائل الصحیح    مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ    ۱/ ۹۰)
وہیں امام حافظ الشان سے ہے:
کتاب مالک صحیح عندہ وعند من یقلدہ علی مااقتضاہ نظرہ من الاحتجاج بالمرسل والمنقطع ۳؎ وغیرھما۔
 (۳؎تدریب الراوی  الثانیہ من مسائل الصحیح مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ    ۱/ ۹۰)
امام مالک کی کتاب اور ان کے اور ان لوگوں کے نزدیک صحیح ہے جو ان کی تقلید کرتے ہیں اس بنیاد پر کہ اس کی نظر کا تقاضا ہے کہ مرسل، منقطع وغیرہما سے استدلال درست ہے۔ (ت)
Flag Counter