Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
142 - 157
قلت وعدم الوجدان لایقتضی عدم الوجود فلم یفت یحیی الاواحدا و اثنان ولعل غیر یحیی وجد مالم یجدہ
وفوق کل ذی علم علیم ۱؎
ونقل فی مسلم الثبوت عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ قال متی قلت لکم حدثنی فلان فھو حدیثہ ومتی قلت قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فعن سبعین ۲؎ اھ وفی التدریب قال یونس بن عبید سألت الحسن قلت یاابا سعید انک تقول قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وانک لم تدرکہ فقال یاابن اخی لقد سألتنی عن شیئ ماسألنی عنہ احد قبلک ولولا منزلتک منی مااخبرتک انی فی زمان کماتری وکان فی زمن الحجاج کل شیئ سمعتنی اقول قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فھو عن علی بن ابی طالب غیرانی فی زمان لااستطیع ان اذکر علیا ۳؎ اھ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
قلت (میں کہتا ہوں) عدمِ وجدان عدمِ وجود کو مستلزم نہیں تو یحیٰی کو ایک یا دو احادیث جو نہ ملیں ممکن ہے کسی اور محدّث کو وہ مل گئی ہوں اورشاد باری ہے وفوق کل ذی علم علیم (ہر علم والے پر ایک علم والا ہے) اور مسلّم الثبوت میں حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے جب تم کو یہ کہوں کہ مجھے فلاں نے حدیث بیان کی تو وہ اس کی حدیث ہوتی ہے اور جب میں یہ کہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا تو وہ ستر۷۰ سے مروی ہوتی ہے اھ تدریب میں ہے یونس بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے پُوچھا اے ابوسعید! آپ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا حالانکہ آپ نے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت نہیں کی؟ فرمایا اے بھتیجے! تُو نے مُجھ سے ایسا سوال کیا ہے جو تجھ سے پہلے آج تک مجھ سے کسی نے نہیں کیا، اگر تیرا یہ مقام میرے ہاں نہ ہوتا تو میں تجھے اس سوال کا جواب نہ دیتا میں جس زمانے میں ہوں (وہ جیسے تجھے معلوم ہے) اور یہ حجاج کا زمانہ تھا جو کچھ مجھ سے آپ لوگ سنتے ہیں کہ میں کہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے میں نے سُنا ہوتا ہے (یہ نہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہری حیات پائی ہے) چونکہ میں ایسے دَور میں ہُوں جس میں حضرت علی کا نام ذکر نہیں کرسکتا (اس لئے میں حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام لیتا ہوں) واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ القرآن    ۱۲/ ۷۶)

(۲؎ مسلم الثبوت    تعریف المرسل    مطبوعہ مطبع انصاری دہلی    ص ۲۰۲)

(۳؎ تدریب الراوی شرح تقریب النوادی    الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل     مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور    ۱/ ۲۰۴)
فائدہ ۱۰:    (فائدہ ۱۰ متعلق افادہ ۲۴ دربارہ احادیث طبقہ رابعہ) سُفہائے زمانہ نے احادیث طبقہ رابعہ کو مطلقاً باطل وبے اعتبار محض قرار دیا جو شان موضوع ہے جس کا ابطال بین بابین وجوہ افادہ ۲۴ میں گزرا، یہاں اتنا اور سُن لیجئے کہ برعکس اس کے مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے اُن کی روایت کو دلیل عدم موضوعیت قرار دیا ہے،
موضوعات کبیر میں زیر حدیث : من طاف بالبیت اسبوعا ثم اتی مقام ابراھیم فرکع عندہ رکعتین ثم اتی زمزم فشرب من مائھا، اخرجہ اللّٰہ من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ ۱؎۔
جو سات پھیرے طواف کرکے مقامِ ابراہیم میں دو رکعت  نماز پڑھے پھر زمزم شریف پر جاکر اس کا پانی پئے اللہ عزوجل اُسے گناہوں سے ایسا پاک کردے جیسا جس دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔
فرماتے ہیں:حیث اخرجہ الواحدی فی تفسیرہ والجندی فی فضائل مکّۃ والدیلمی فی مسندہ لایقال انہ موضوع غایتہ انہ ضعیف ۲؎۔
جبکہ اسے واحدی نے تفسیر اور جندی نے فضائل مکّہ اور دیلمی نے مسند میں روایت کیا تو اسے موضوع نہ کہا جائیگا نہایت یہ کہ ضعیف ہے۔
 (۱؎ الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ    حرف المیم    مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ بیروت    ص ۲۳۶)

(۲؎ الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ    حرف المیم    مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ بیروت    ص ۲۳۶)
اقول وجہ یہ ہے کہ اصل عدم وضع ہے اور بوجہ خلط صحاح وسقام وثابت وموضوع جس طرح وضع ممکن یونہی صحت محتمل تو جب تک خصوص متن وسند کے لحاظ سے دلیل قائم نہ ہو احد الاحتمالین خصوصاً خلاف اصل کو معین کرلینا محض ظلم وجزاف ہے تو اُن کی حدیث قبل تبین حال جس طرح بسبب احتمال ضعف وسقوط احکام میں مستند ومعتبر نہ ہوگی یوں ہی بوجہ احتمال صحت وحسن وضعف محض موضوع وباطل وساقط بھی نہ ٹھہر سکے گی لاجرم درجہ توقف میں رہے گی اور یہی مرتبہ ضعیف محض کا ہے جس طرح وہاں توقف مانع تمسک فی الفضائل نہیں یونہی یہاں بھی
کمالایخفی علی اولی النھی
 (جیسا کہ اصحابِ فہم پر مخفی نہیں۔ ت) فواتح الرحموت (عہ) میں ہمارے علماءِ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ہے:
الراوی انکان غیر معروف بالفقاھۃ ولا بالروایۃ بل انما عرف بحدیث اوحدیثین فان قبلہ الائمۃ اوسکتوا عنہ عند ظھور الروایۃ اواختلفوا کان کالمعروف وان لم یظھر منھم غیر الطعن کان مردودا وان لم یظھر شیئ منھم لم یجب العمل بل یجوز فیعمل بہ فی المندوبات والفضائل والتواریخ ۱؎۔
راوی حدیث اگر فقاہت وروایت میں معروف نہ ہو بلکہ کسی ایک یا دو۲ احادیث سے معروف ہو اور محدثین نے اسے قبول کرلیا یا ظہور روایۃ کے وقت اس سے خاموشی اختیار کی ہو یا اس میں اختلاف کیا ہوتو یہ بھی معروف کی طرح ہی ہوگا اگر اس پر محدثین نے طعن کا اظہار ہی کیا ہے تو وہ مردود ہوگا اور اگر محدثین نے کسی شیئ کا اظہار نہیں کیا تو اب عمل واجب نہیں بلکہ جائز ہوگا تو وہ مستحبات، فضائل اور تاریخ میں قابلِ عمل ہے ۔(ت)
عہ: فی مسئلۃ معرف العدالۃ ۱۲ منہ (م)	معرف العدالۃ کے بحث میں ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت    بذیل المستصفی مسئلہ مجہول الحال الخ    مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم    ۲/ ۱۴۹)
فائدہ ۱۱:    (تذکرۃ الموضوعات محمد طاہر فتنی میں ذکر مستلزم گمان وضع نہیں) اُن ضروری فوائد سے کہ بوجہ تعجیل ہنگام تبییض تحریر سے رہ گئے تذکرۃ الموضوعات علامہ محمد طاہر فتنی رحمہ اللہ تعالٰی کا حال ہے کہ اس میں مجرد ذکر سے موضوعیت پر استدلال تو بڑے بھاری متکلمین منکرین نے کیا حالانکہ محض جہالت وبے رہی یا دیدہ ودانستہ مغالطہ دہی تذکرہ مذکورہ بھی کتب قسم ثانی سے ہے اُس میں ہر طرح کی احادیث لاتے اور کسی کو موضوع کسی کو لم یجد کسی کو منکر کسی کو لیس بثابت کسی کو لایصح کسی کو ضعیف کسی کو مؤول کسی کو رجالہ ثقات کسی کو لاباس بہ کسی کو صححہ فلان کسی کو صحیح فرماتے ہیں، حدیث تقبیل ابہامین اُنہیں میں ہے جنہیں ہرگز موضوع نہ کہا بلکہ صرف لایصح پر اقتصار اور تجربہ کثیرین سے استظہار کیا خاتمہ مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں:
فصل فی تعیین (ف۱ ) بعض الاحادیث المشتھرۃ علی الالسن والصواب خلافھا علی نمط ذکرتہ فی التذکرۃ ۲؎ فیہ من عرف نفسہ عرف ربہ لیس بثابت، ح رأیت ربی فی صورۃ شاب لہ وفرۃ صحیح محمول علی رویۃ المنام اومؤول ح المؤمن غرّکریم والمنافق خب لئیم موضوع (عہ) ح ماشھد رجل علی رجل بکفر الاباء بہ احدھما ضعیف (عہ۱) فیہ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم طرقھا واھیۃ (عہ۲)  ح من ادی الفریضۃ وعلم الناس الخیر کان فضلہ علی العابد الحدیث ضعیف اسنادہ لکنھم یتساھلون فی الفضائل،
فصل، بعض احادیث کی تعیین کے بارے میں جو لوگوں کی زبانوں پر مشہور ہیں حالانکہ صواب اس کے خلاف ہے اس طریقہ پر جس کا ذکر تذکرہ میں میں نے کیا ہے اس میں ہے وہ شخص جس نے اپنے نفس (آپ) کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا، یہ ثابت نہیں، حدیث میں نے اپنے رب کو ایسے خوبصورت جوان کی صورت میں دیکھا جس کے بال لمبے وخوب صورت ہوں، صحیح ہے یہ خواب پر محمول ہے یا یہ مؤول ہے، اور حدیث مومن دھوکا کھانے والا اور شرم والا ہوتا ہے اور منافق دغاباز اور کمینہ ہوتا ہے موضوع ہے۔ حدیث نہیں گواہی دیتا کوئی آدمی دوسرے کے کفر کی مگر کفران میں سے کسی ایک پر لوٹ آتا ہے، ضعیف ہے۔ اسی میں ہے علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اس کے تمام طرق کمزور ہیں۔ حدیث، وہ شخص جس نے فرض ادا کیا اور لوگوں کو خیر کی تعلیم دی اس کو عابد پر فضیلت حاصل ہے، اس حدیث کی سند ضعیف ہے لیکن محدثین فضائل عمل میں نرمی برتتے ہیں۔
ف۱ یہ عبارت مختصراً ورمتعدد صفحات سے نقل کی گئی ہے۔ حوالہ کے لئے ص ۵۱۰ تا ۵۱۹ ملاحظہ ہو۔
Flag Counter