Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
141 - 157
تہذیب التہذیب میں ہے:
سلیمن بن حرب بن بجیل الازدی الواشجی قال ابوحاتم امام من الائمۃ کان لایدلس وقال ابوحاتم ایضا کان سلیمٰن بن حرب قل من یرضی من المشائخ فاذا رأیتہ قدروی عن شیخ فاعلم انہ ثقۃ ۱؎ اھ ملتقطا۔
سلیمان بن حرب بن بجیل ازدی واشجی کے بارے میں ابوحاتم کہتے ہیں کہ ائمہ حدیث میں سے امام ہیں اور وہ تدلیس نہیں کرتے تھے اور ابوحاتم نے یہ بھی کہا کہ سلیمان بن حرب بہت کم مشائخ کا اعتبار کرتے تھے لہذا جب آپ دیکھیں کہ انہوں نے کسی شیخ سے روایت کی ہے تو یقینا وہ ثقہ ہی ہوگا اھ ملتقطاً (ت)
 (۱؎ تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی    ترجمہ ۳۱۱ سلیمٰن بن حرب    مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن    ۴/ ۱۷۸ و ۱۷۹)
تقریب التہذیب میں ہے:
مظفر بن مدرک الخراسانی ابوکامل ثقۃ متقن کان لایحدث الاعن ثقۃ ۲؎۔
مظفر بن مدرک خراسانی ابوکامل ثقہ اور پختہ ہیں اور وہ ثقہ کے علاوہ کسی سے روایت نہیں کرتے تھے۔ (ت)
 (۲؎ تقریب التہذیب         من اسمہ مظفر        مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی        ص ۲۴۸)
نافعہ جامعہ: امام سخاوی فتح(عہ) المغیث میں فرماتے ہیں:
تتمۃ من کان لایروی الاعن ثقۃ الافی النادر الامام احمد وبقی بن مخلد وحریز بن عثمٰن وسلیمٰن بن حرب وشعبۃ والشعبی وعبدالرحمٰن بن مھدی ومالک ویحیٰی بن سعید القطان وذلک فی شعبۃ علی المشھور فانہ کان یتعنت فی الرجال ولایروی الاعن ثبت، والا فقدقال عاصم بن علی سمعت شعبۃ یقول لولم احدثکم الاعن ثقۃ لم احدثکم عن ثلٰثۃ وفی نسخۃ ثلٰثین وذلک اعتراف منہ بانہ یروی عن الثقۃ وغیرہ فینظر وعلی کل حال فھو لایروی عن متروک ولاعمن اجمع علی ضعفہ، واما سفین الثوری فکان یترخص مع سعۃ علمہ وورعہ ویروی عن الضعفاء حتی قال فیہ صاحبہ شعبۃ لاتحملوا عن الثوری الاعمن تعرفون فانہ لایبالی عمن حمل وقال الفلاس قال لی یحیٰی بن سعید لاتکتب عن معتمر الاعمن تعرف فانہ یحدث عن کل ۱؎ اھ۔
تتمہ ان لوگوں کے بارے میں جو ثقہ کے علاوہ سے روایت نہیں کرتے مگر شاذ ونادر۔ وہ امام احمد ، بقی بن مخلد، حریز بن عثمان ، سلیمان بن حرب ، شعبہ ، شعبی ، عبدالرحمن بن مہدی ، مالک اور یحیٰی بن سعید القطان ، اور شعبہ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ لوگوں کے بارے میں سختی سے کام لیتے ہیں وہ صرف ثبت سے ہی روایت کرتے ہیں ورنہ عاصم بن علی کہتے ہیں کہ میں نے شعبہ کو یہ کہتے ہُوئے سنا کہ اگر میں تمہیں ثقہ کے علاوہ کسی سے حدیث بیان نہ کرتا تو صرف تین راویوں (بعض نسخوں میں تیس کا ذکر ہے) سے حدیث بیان کرتا۔ یہ ان کا اعتراف ہے کہ میں ثقہ اور غیر ثقہ دونوں سے روایت کرتا ہُوں لہذا غوروفکر کرلیا جائے، ہرحال میں وہ متروک سے روایت نہیں کرتے اور نہ اس شخص سے جس کے ضعف پر محدثین کا اتفاق ہو، رہا معاملہ سفیان ثوری کا تو وہ باوجود علمی وسعت اور ورع وتقوٰی کے نرمی کرتے ہوئے رخصت دیتے اور ضعفا سے روایت کرتے ہیں حتی کہ ان کے بارے میں ان کے شاگرد شعبہ نے کہا ہے کہ ثوری سے روایت نہ لو مگر ان لوگوں کے حوالے سے جن کو تم جانتے ہو کیونکہ وہ پروا نہیں کرتے کہ وہ کس سے حدیث اخذ کررہے ہیں، فلاس کہتے ہیں کہ مجھے یحیٰی بن سعید نے کہا کہ معتمر سے نہ لکھو مگر ان لوگوں کے حوالے سے جن کو تم خود جانتے ہو کیونکہ وہ ہر ایک سے حدیث اخذ کرتے ہیں اھ (ت)
عہ: فی معرفۃ من تقبل روایتہ ۱۲ منہ (م)         جس کی روایت مقبول ہو اسکی معرفت میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ فتح المغیث شرح معرفۃ من تقبل روایتہ ومن ترد    دارالامام الطبری بیروت    ۲/ ۴۲ و ۴۳)
اقول ماذکر عن عاصم فیجوز بل یجب حملہ علی مثل ماقدمنا فی کلام یحیی کیف وان للثقۃ اطلاقا اٰخر اخص واضیق کماقال فی التدریب ان ابن مھدی قال حدثنا ابوخلدۃ فقیل لہ اکان ثقۃ فقال کان صدوقا وکان مأمونا وکان خیر الثقۃ شعبۃ وسفین قال وحکی المروزی قال سألت ابن حنبل عبدالوھاب بن عطاء ثقۃ؟ قال لاتدری ماالثقۃ انما الثقۃ یحیٰی بن سعید القطان ۱؎ اھ فعلیک بالتثبت فان الامر جلی واضح۔
اقول (میں کہتا ہوں) جو کچھ عاصم کے حوالے سے مذکور ہے اس کو اس گفتگو پر محمول کرنا جائز بلکہ واجب ہے جو ہم نے پہلے کلامِ یحیٰی پر کی تھی اور یہ کیسے نہ ہو حالانکہ ثقہ کا ایک دوسرا اطلاق نہایت ہی محدود اخص ہے جیسا کہ تدریب میں ہے کہ ابن مہدی کہتے ہیں کہ ہمیں ابوخلدہ نے بیان کیا کہ ان سے کہاگیا کہ کیا وہ ثقہ ہے تو کہا کہ وہ صدوق اور مامون ہے اور بہتر ثقہ شعبہ اور سفیان ہیں اور کہا کہ مروزی نے بیان کیا کہ میں نے ابن حنبل سے عبدالوہاب بن عطا کے ثقہ ہونے کے بارے میں پُوچھا تو انہوں نے کہا تم ثقہ کو نہیں جانتے ثقہ صرف یحیٰی بن سعید القطان ہے اھ اس پر قائم رہنا کیونکہ معاملہ بڑا ہی واضح ہے۔ (ت)
 (۱؎ تدریب الراوی شرح تقریب النواوی    علمِ جرح والتعدیل الخ    مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور    ۱/ ۳۴۴)
ثم اقول (ہمارے امام اعظم جس سے رعایت فرمالیں اس کی ثقاہت ثابت ہوگئی) انہیں ائمہ محتاطین سے ہیں علم اعلم امام اعظم سیدنا ابوحنیفۃ النعمان انعم اللہ تعالٰی علیہ بانعام الرضوان ونعمہ بانعم نعم الجنان، یہاں تک کہ اگر بعض مختلطین سے روایت فرمائیں تو اخذ قبل التغیر پر محمول ہوگا جس طرح احادیث صحیحین میں کرتے ہیں محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
قال محمد بن الحسن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی کتاب الاٰثار اخبرنا ابوحنیفۃ ثنالیث بن ابی سلیم عن مجاھد عن ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال لیس فی مال الیتیم زکٰوۃ ولیث کان احد العلماء العباد وقیل اختلط فی اٰخر عمرہ ومعلوم ان اباحنیفۃ لم یکن لیذھب فیاخذ عنہ فی حال اختلاطہ ویرویہ وھو الذی شدد فی امرالروایۃ مالم یشددہ غیرہ علٰی ماعرف ۲؎ اھ۔
امام محمد بن حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کتاب الآثار میں فرماتے ہیں کہ ہمیں امام ابوحنیفہ نے ازلیث بن ابی سلیم ازمجاہد ازابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ یتیم کے مال میں زکٰوۃ نہیں، لیث علمائے عابدین میں سے تھا اور انہیں آخر عمر میں اختلاط ہوگیا اور یہ بات مسلّم ہے کہ امام اعظم ان سے اختلاط کے بعد حدیث اخذ نہیں کرسکتے کیونکہ آپ حدیث اخذ کرنے اور بیان کرنے میں جتنے سخت ہیں دوسروں سے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ معلوم ومعروف ہے اھ (ت)
 (۲؎ فتح القدیر   کتاب الزکوٰۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۲/ ۱۱۵)
تنبیہ: (قلۃ المبالاۃ فی الاخذ قدحدث من زمن التابعین اخذِ
حدیث میں نرمی اکابر تابعین کے زمانہ سے پیدا ہُوئی ہے۔ ت)
قلت ھذا التوسع وقلۃ المبالاۃ فی الاخذ قدحدث فی العلماء من لدن التابعین الاعلام اخرج الدارقطنی عن ابن عون قال قال محمد بن سیرین اربعۃ یصدقون من حدثھم فلایبالون ممن یسمعون، الحسن وابوالعالیۃ وحمید بن ھلال ولم یذکر الرابع وذکرہ غیرہ فسماہ انس بن سیرین ۱؎ ذکرہ الامام الزیلعی فی نصب الرایۃ(عہ) وقال علی بن المدینی کان عطاء یاخذ عن کل ضرب، مرسلات مجاھد احب الیّ من مرسلاتہ بکثیر وقال احمد بن حنبل مرسلات سعید بن المسیب اصح المرسلات، ومرسلات ابراھیم النخعی لاباس بہا، ولیس فی المرسلات اضعف من مرسلات الحسن وعطاء بن ابی رباح فانھما کانا یاخذان عن کل احد ۲؎ وقال الشافعی فی مراسیل الزھری لیس بشیئ لانانجدہ یروی عن سلیمٰن بن الارقم ۳؎ ذکرھا فی التدریب۔
قلت (میں کہتا ہوں) اخذِ حدیث میں وسعت اور نرمی اکابر تابعین کے زمانہ سے پیدا ہوئی ہے، دارقطنی نے ابنِ عون سے بیان کیا کہ محمد بن سیرین کہتے ہیں چار ایسے آدمی ہیں جو ان سے حدیث بیان کرے (اساتذہ) اس کو سچّا سمجھتے ہیں! اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ کس سے سماع کررہے ہیں، وہ چار یہ ہیں حسن، ابوالعالیہ، حمید بن ہلال اور چوتھے کا نام نہیں لیا اور ان کے غیر نے چوتھے کا نام ذکر کیا اور اس کا نام انس بن سیرین بتایا ہے، اس کو امام زیلعی نے نصب الرایہ میں ذکر کیا ہے۔ علی بن مدینی نے کہا کہ عطاء ہر قسم کی روایات لیتا تھا، مجاہد کی مرسلات اس کی کثیر مرسلات سے مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔ اور احمد بن حنبل کا قول ہے مرسلات میں سے سعید بن مسیب کی مرسلات اصح ہیں اور مرسلاتِ ابراہیم نخعی میں کوئی حرج نہیں، حسن اور عطاء بن رباح کی مراسیل سب سے ضعیف ہیں کیونکہ وہ دونوں ہر ایک سے حدیث اخذ کرلیتے تھے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ زہری کی مراسیل میں کوئی شیئ نہیں کیونکہ ہم نے اسے سلیمان بن ارقم سے روایت کرتے ہوئے پایا ہے اس کا ذکر تدریب میں ہے۔ (ت)
عہ: فصل نواقض الوضو ۱۲ منہ
 (۱؎ نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب الطہارۃ واما المراسیل مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ریاض    ۱/ ۵۱)

(۲؎ تدریب الراوی شرح تقریب النواوی    الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل     مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لاہور     ۱/ ۲۰۳)

(۳؎تدریب الراوی شرح تقریب النواوی    الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل     مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لاہور    ۱/ ۲۰۵)
قلت ومراسیل الائمۃ الثقات مقبولۃ عندنا وعندالجماھیر ولاشک ان عطاء والحسن والزھری منھم وقلۃ المبالاۃ عندالتحمل لایقتضیھا عند الاداء فقدیاخذ الامام عمن شاء ولایرسلہ الا اذااستوثق وقد وافقنا علی قبول مراسیل الحسن ذاک الورع الشدید عظیم التشدید قدوۃ الشان یحیی بن سعید القطان وذاک الجبل العلی علی بن مدینی الذی کان البخاری یقول مااستصغرت نفسی الاعندہ وذلک الامام الاجل نقاد العلل ابوزرعۃ الرازی وناھیک بھم قدوۃ اما القطان فقال ماقال الحسن فی حدیثہ قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الا وجدنا لہ اصلا الاحدیثا اوحدیثین واما علی فقال مرسلات الحسن البصری التی رواھا عنہ الثقات صحاح مااقل مایسقط منھا، واما ابوزرعۃ فقال کل شیئ قال الحسن قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وجدت لہ اصلا ثابتا ماخلا اربعۃ احادیث ۱؎ نقلھا فی التدریب۔
قلت (میں کہتا ہوں) ثقہ ائمہ کی مراسیل ہمارے اور جمہور علما کے ہاں مقبول ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ عطا، حسن اور زہری ان میں سے ہیں اور اخذ میں نرمی کے لئے لازم نہیں کہ بیان کرتے وقت بھی نرمی ہو، بعض اوقات امام کسی شخص سے حدیث اخذ کرلیتے ہیں مگر ارسال اسی وقت کرتے ہیں جب اسے وہ ثقہ محسوس کرتے ہوں، اور ہمارے ساتھ حسن کی مراسیل کو قبول کرنے میں یحیٰی بن سعید القطان شریک ہیں جو ورع وتقوٰی اور حدیث کے اخذ کرنے میں نہایت ہی سخت ہیں، اور اس فن کا عظیم شخص علی بن مدینی بھی جن کے بارے میں امام بخاری کا قول ہے میں نے اپنے آپ کو ان کے سوا کسی کے سامنے ہیچ نہیں سمجھا، اور امام اجل نقاد العلل ابوزرعہ رازی بھی شریک ہیں اور یہ لوگ اقتدا کے لئے کافی ہیں، لیکن قطان نے کہا ہے کہ جس حدیث کے بارے میں امام حسن یہ کہہ دیں ''قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم'' تو ہمیں ایک یا دو کے علاوہ ہر حدیث کی اصل ضرور ملی، علی بن مدینی کہتے ہیں کہ وہ مراسیل حسن بصری جو ان سے ثقہ لوگوں نے روایت کی ہیں وہ صحیح ہیں، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اب سے ساقط ہونے والی کتنی ہیں اور ابوزرعہ کہتے ہیں جس شَے کے بارے میں بھی حسن نے ''قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم'' کہا ہے مجھے چار احادیث کے علاوہ ہر ایک کی اصل مل گئی ہے۔ اس عبارت کو تدریب میں نقل کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ تدریب الراوی شرح تقریب النواوی    الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل    مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور    ۱/ ۲۰۴)
Flag Counter