Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
140 - 157
فائدہ ۹:    (وہ محدثین جو غیر ثقہ سے روایت کرتے) ہم نے افادہ ۲۱ میں ذکر کیا محدثین میں بہت کم ایسے ہیں جن کا التزام تھا کہ ثقہ ہی سے روایت کریں جیسے شعبہ بن الحجاج (۱) وامام مالک (۲) و امام احمد(۳) اور افادہ دوم میں یحیٰی بن سعید قطان  (۴) وعبدالرحمن بن مہدی (۵)کو گنا، اور انہیں سے ہیں امام شعبی(۶)  وبقی بن مخلد (۷) وحریز  بن عثمٰن (۸)  وسلیمٰن بن حرب (۹) ومظفر بن مدرک خراسانی (۱۰) وامام بخاری (۱۱) ۔ مقدمہ صحیح مسلم شریف میں ہے:
حدثنی ابوجعفر الدارمی ثنا بشربن عمر قال سألت مالک بن انس (فذکر الحدیث قال) وسألتہ عن رجل اٰخر نسیت اسمہ فقال ھل رأیتہ فی کتبی قلت لاقال لوکان ثقۃ لرأیتہ فی کتبی ۳؎۔
ابوجعفر دارمی نے مجھے حدیث بیان کی کہ ہمیں بشربن عمر نے بتایا کہ میں نے مالک بن انس سے پُوچھا (پھر تمام حدیث بیان کی اور کہا) اور میں نے ایک دوسرے آدمی کے بارے میں ان سے پُوچھا جن کا نام میں اس وقت بھُول گیا تو انہوں نے فرمایا کہ تُونے اسے میری کتب میں پایا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا اگر وہ ثقہ ہوتے تو میری کتب میں انہیں ضرور پاتا۔ (ت)
(۳؎ صحیح لمسلم   باب بیان ان الاسناد من الدین الخ  مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۹)
منہاج امام نووی میں ہے:ھذا تصریح من مالک رحمہ اللّٰہ تعالٰی بان من ادخلہ فی کتابہ فھو ثقۃ فمن وجدناہ فی کتابہ حکمنا بانہ ثقۃ عند مالک وقدلایکون ثقۃ عند غیرہ ۴؎۔
یہ امام مالک کی تصریح ہے کہ جسے وہ اپنی کتاب میں ذکر کریں گے وہ ثقہ ہوگا تو اب ہم ان کی کتاب میں جسے پائیں ہم اسے امام مالک کے نزدیک ثقہ سمجھیں گے اور کبھی ان کے غیر کے ہاں وہ شخص ثقہ نہیں ہوگا۔ (ت)
 (۴؎ شرح صحیح مسلم النووی   باب بیان ان الاسناد من الدین الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۹)
میزان میں ہے : ابراھیم بن العلاء ابوھارون الغنوی وثقہ جماعۃ ووھاہ شعبۃ فیما قیل ولم یصح بل صح انہ حدث عنہ ۱؎۔
ابراہیم بن العلاء ابوہارون غنوی کو ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور کہا گیا ہے کہ شعبہ نے انہیں کمزور کہا، اور یہ صحیح نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ شعبہ نے ان سے حدیث بیان کی ہے۔ (ت)
 (۱؎ میزان الاعتدال     ترجمہ ۱۵۲    ابراہیم بن العلاء    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان    ۱/ ۴۹)
اُسی میں ہے: عبدالاکرم بن ابی حنیفۃ عن ابیہ وعنہ شعبۃ لایعرف لکن شیوخ شعبۃ جیاد ۲؎ اھ
عبدالاکرم بن ابی حنیفہ اپنے والد سے اور ان سے شعبہ نے روایت کیا ہے اور وہ معروف نہیں لیکن شعبہ کے تمام اساتذہ جید ہیں اھ (ت)
 (۲؎میزان الاعتدال     ۴۷۳۴ عبدالاکرم       مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان   ۲/ ۵۳۲)
اقول لکن قال یزید بن ھارون قال شعبۃ داری وحماری فی المساکین صدقۃ ان لم یکن ابان ابن ابی عیاش یکذب فی الحدیث قلت لہ فلم سمعت منہ؟ قال ومن یصبر عن ذا الحدیث۔ یعنی حدیثہ عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبداللّٰہ عن امہ انھا قالت رأیت رسول صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قنت فی الوتر قبل الرکوع کمافی المیزان ۳؎ ولک التفصی عنہ بان السماع شیئ والتحدیث شیئ، والکلام فی الاخیر وان کان اسم الشیخ یتناول الوجھین وسنذکر اٰخر ھذہ الفائدۃ ان الامام ربما حمل عمن شاء، فاذا حدث تثبت نعم لعل الصواب التقیید بمن حدث عنہ فی الاحکام دون مایتساھل فیہ لماتقدم فی الافادۃ الثالثۃ والعشرین من قول ابن عدی ان شعبۃ حدث عن الکلبی ورضیہ بالتفسیر ۱؎ کمانقلہ فی المیزان  وفیہ ایضا فی محمد بن عبدالجبار قال العقیلی مجھول بالنقل قلت شیوخ شعبۃ نقاوۃ الا النادر منھم وھذا الرجل قال ابوحاتم شیخ ۲؎ اھ قلت وھذا لایضر فقد یکون الرجل ثقۃ عندہ وعند غیرہ مجروح اومجھول حتی ان من شیوخہ الذین وثقھم وصرح بحسن الثناء علیھم، جابربن یزید الجعفی ذاک الضعیف الرافضی المتھم قال الامام الاعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ، مارأیت فیمن رأیت افضل من عطاء ولااکذب من جابر الجعفی ۳؎ وکذلک کذبہ ایوب و زائدۃ ویحیی والجوزجانی وترکہ القطان وابن مھدی والنسائی واٰخرون۔
اقول لیکن یزید بن ہارون نے بیان کیا کہ شعبہ نے کہا کہ میرا گھر اور میری سواری مساکین میں صدقہ ہے، اگر ابان ابن ابی عیاش حدیث میں جھُوٹا نہ ہو، میں نے انہیں کہا تو پھر آپ نے ان سے کیوں سماع کیا؟ تو اس نے فرمایا کون ہے جو صاحبِ حدیث سے حدیث لینے سے باز رہے، اس سے انہوں نے ان کی وہ حدیث مراد لی جو ابراہیم سے علقمہ سے عبداللہ سے اور انہوں نے اپنی والدہ سے بیان کی ہے، وہ بیان کرتی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وتر میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھی ہے جیسا کہ میزان میں ہے، اور تیرے لئے اس سے خلاصی کی صورت یہ ہے کہ سماع اور شیئ ہے اور حدیث بیان کرنا اور ہے، گفتگو دوسرے میں ہے اگرچہ شیخ کا نام دونوں کے لئے مستعمل ہے عنقریب ہم اس فائدہ کے آخر میں ذکر کرینگے کہ امام شعبہ کبھی جس سے چاہے روایت لیتا ہے جب وہ حدیث بیان کرے تو تُو اس پر ثابت قدم رہ۔ ہاں شاید درست یہ ہوکہ اسے مقید کردیا جائے اس شخص کے ساتھ جس سے احکام کی احادیث بیان کی گئی ہیں نہ کہ وہ احادیث جن میں نرمی کی جاتی ہے جیسا کہ تئیسویں افادہ میں ابن عدی کا یہ قول گزرا ہے کہ شعبہ نے کلبی سے روایت کی ہے اور باب تفسیر میں اسے پسند کیا ہے میزان میں اسی طرح منقول ہے اور اس میں محمد بن عبدالجبار کے بارے میں بھی ہے کہ عقیلی نے کہا کہ وہ مجہول بالنقل ہے میں کہتا ہوں کہ شعبہ کے تمام شیوخ جید ہیں مگر بہت کم ایسے ہیں جو جید نہ ہوں، اور یہ وہ آدمی ہیں جس کے بارے میں ابوحاتم نے کہا شیخ ہے اھ قلت یہ نقصان دہ نہیں یہ ہوتا رہتا ہے کہ ایک آدمی ایک محدث کے ہاں ثقہ ہے دوسرے کے ہاں مجروح یا مجہول ہوتا ہے حتی کہ اس کے شیوخ وہ ہیں جن کو ثقہ کہاگیا اور ان کی تعریف کی تصریح کی گئی ان میں سے جابر بن یزید الجعفی ہے جو ضعیف رافضی اور متہم ہے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا میں نے جو لوگ دیکھے ان میں عطا سے بڑھ کر سچا کسی کو نہیں پایا اور جابر جعفی سے زیادہ جھُوٹا کوئی نہیں دیکھا، اسی طرح ایوب، زائدہ، یحیٰی اور جوزجانی نے اسے جھُوٹا قرار دیا۔ قطان، ابن مہدی، نسائی اور دیگر محدثین نے اسے ترک کردیا۔ (ت)
 (۳؎میزان الاعتدال     ترجمہ ۱۵     ابان ابن ابی عیاش   مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان    ۱/ ۱۱)

(۱؎ میزان الاعتدال     ترجمہ ۷۵۷۴    محمد بن السائب الکلبی    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان    ۳/ ۵۵۸)

(۲؎میزان الاعتدال     ترجمہ ۷۸۲۲        محمد بن عبدالجبار    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان    ۳/ ۶۱۳)

(۳؎ میزان الاعتدال     ترجمہ ۱۴۲۵        جابر بن یزید الجعفی    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان   ۱/ ۳۸۰)
شفاء السقام (عہ۱) شریف میں ہے : احمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی لم یکن یروی الا عن ثقۃ وقدصرح الخصم (یعنی ابن تیمیۃ) بذلک فی الکتاب الذی صنفہ فی الرد علی البکری بعد عشر کرار لیس منہ، قال ان القائلین بالجرح والتعدیل من علماء الحدیث نوعان منھم من لم یروالا عن ثقۃ عندہ کمالک وشعبۃ ویحیی بن سعید وعبدالرحمٰن بن مھدی واحمد بن حنبل وکذٰلک البخاری وامثالہ ۱؎ اھ
امام احمد رحمہ اللہ تعالٰی ثقہ کے علاوہ کسی سے روایت نہیں کرتے اورمخالف (یعنی ابی تیمیہ) نے اس بات کی اپنی اس کتاب میں تصریح کی ہے جو اس نے بکری کے رَد میں اس کے دس رسائل کے بعد لکھی، کہا کہ علماءِ جرح وتعدیل (حدیث میں) دو۲ اقسام ہیں ایک وہ ہیں جو صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں مثلاً مالک، شعبہ، یحیٰی بن سعید، عبدالرحمن بن مہدی، احمد بن حنبل اور اسی طرح بخاری اور ان کے ہم مثل اھ (ت)
عہ۱: فی الباب الاول تحت حدیث الاول ۱۲ منہ (م)
 (۱؎ شفاء السقام    الحدیث الاول        مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ص ۱۰)
تہذیب التہذیب امام ابن حجر عسقلانی میں ہے :
خارجۃ بن الصلت البرجمی الکوفی روی عنہ الشعبی وقدقال ابن ابی خیثمۃ اذاروی الشعبی عن رجل وسماہ فھو ثقۃ یحتج بحدیثہ ۲؎۔
خارجہ بن الصلت برجمی کوفی جن سے شعبی نے روایت کیا ہے اور ابن ابی خیثمہ نے کہا کہ جب شعبی کسی شخص سے حدیث بیان کریں اور اس کا نام لیں تو وہ ثقہ ہوگا اس کی حدیث سے استدلال کیا جائیگا۔ (ت)
 (۲؎ تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی    ترجمہ ۱۴۵    خارجہ بن الصلت    مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن    ۳/ ۷۵)
تدریب (عہ۲) میں ہے: من لایروی الاعن عدل کابن مھدی ویحیی بن سعید ۳؎ اھ اقول ولاینکر علیہ بمافی المیزان عن عباس الدوری عن یحیٰی بن معین عن یحیٰی بن سعید لولم ار والا عمن ارضی مارویت الاعن خمسۃ اھ فان رضی یحیٰی غایۃ لاتدرک وکیف یظن بہ ان الخلق کلھم عندہ ضعفاء الاخمسۃ وانما المرضی لہ جبل ثبت شامخ راسخ لم یزل ولم یتزلزل ولافی حرف ولامرۃ۔
وہ لوگ جو صرف عادل راویوں سے روایت لیتے ہیں مثلاً ابن مہدی اور یحیٰی بن سعید اھ اقول اور اس پر اس بات سے اعتراض نہیں کیا جاسکتا جو میزان میں عباس دوری نے یحیٰی بن معین سے انہوں نے یحیٰی بن سعید کے حوالے سے روایت کی ہے کہ اگر میں اس شخص سے روایت کرتا ہوں جس سے میں راضی ہوتا ہوں تو میں صرف پانچ سے روایت کرتا ہوں اھ اور یحیٰی کے راضی ہونے کی غایت ومقصد معلوم نہیں اور یہ ان کے بارے میں کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ پانچ کے علاوہ تمام لوگ ان کے نزدیک ضعیف ہوں اور ان کے ہاں پسندیدہ ومعتبر وہی شخص ہوگا جو اس فن میں پہاڑ کی مانند ٹھوس، مستحکم اور مضبوط ہونہ زائل ہو اور نہ حرکت کرے نہ کسی حرف میں نہ ایک مرتبہ میں (ت)
عہ۲:  فی ترجمۃ اسرائیل بن یونس ۱۲ منہ (م)
 (۳؎ تدریب الراوی شرح تقریب النواوی    روایۃ مجہول العدالۃ والمستور    دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور    ۱/ ۳۱۷)
Flag Counter