لایصح فی ھذا الباب عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۵؎ شیئ
(اس باب میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کچھ صحیح مروی نہ ہوا)
(۵؎ جامع الترمذی باب ماجاء فی زکوٰۃ الحلّی مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۸۱)
امام منذری نے فرمایا: لعل الترمذی قصد الطریقین الذین ذکرھما والافطریق ابی داؤد لامقال فیہ ۶؎
(شاید ترمذی ان دو طریق کو کہتے ہیں جو انہوں نے ذکر کیے ورنہ سند ابی داؤد میں اصلا جائے گفتگو نہیں)
(۶؎ فتح القدیر بحوالہ المنذر فصل فی الذھب مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۶۴)
ابن القطان نے فرمایا : انما ضعف ھذا الحدیث لان عندہ فیہ ضعیفین ابن لھیعۃ والمثنی بن الصباح ۷؎۔
انہوں نے اس وجہ سے تضعیف کی کہ ان کے پاس اس کی سند میں دو۲ راوی ضعیف تھے ابن لہیعۃ اور مثنی بن الصباح۔
ذکرہ الامام المحقق فی الفتح ثم العلامۃ القاری فی المرقاۃ۔
اسے امام محقق نے فتح القدیر اور ملّاعلی قاری نے مرقاۃ میں ذکر کیا۔ (ت)
(۷؎ فتح القدیر بحوالہ ابن القطان فصل فی الذھب مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۶۴)
اور سُنیے حدیث ردّ شمس کہ حضور پُرنور سید الانوار، ماہِ عرب، مہرِ عجم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے ڈوبا ہُوا آفتاب پلٹ آیا، مغرب ہوکر پھر عصر کا وقت ہوگیا یہاں تک کہ امیرالمومنین مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم نے نمازِ عصر ادا کی جسے طحاوی و امام قاضی عیاض وامام مغلطای وامام قطب خیضری وامام حافظ الشان عسقلانی وامام خاتم الحفاظ سیوطی وغیرہم اجلہ کرام نے حسن وصحیح کہا
کماھو مفصل فی الشفاء وشروحہ والمواھب وشرحھا
(جیسے شفاء اس کی شروح اور مواہب اور اس کی شرح زرقانی میں تفصیلاً مذکور ہے۔ ت) علامہ شامی اپنی سیرت پھر علّامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
اماقول الامام احمد وجماعۃ من الحفاظ بوضعہ فالظاھر انہ وقع لھم من طریق بعض الکذابین والافطرقہ السابقۃ یتعذر معھا الحکم علیہ بالضعف فضلا عن الوضع ۱؎۔
امام احمد اور حفّاظ کی ایک جماعت کا اسے موضوع قرار دینا اس وجہ سے ہے کہ ان کو یہ روایت ایسے لوگوں کے ذریعے پہنچی ہوگی جو کذاب تھے ورنہ اس کی سابقہ تمام اسانید پر ضعف کا حکم لگانا متعذر ہے، چہ جائیکہ اسے موضوع کہا جائے۔ (ت)
(۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ ردّ شمس لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۵/۱۳۲)
عام تر سُنیے امام شیخ الاسلام عمدۃ الکرام مرجع العلماء الاعلام تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی قدس سرہ الملکی کتاب مستطاب مظہر الصواب مرغم الشیطان مدغم الایمان شفاء السقام عہ فی زیادۃ خیرالانام علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلاۃ والسلام میں فرماتے ہیں:
ومما یجب ان یتنبہ لہ ان حکم المحدثین بالانکار والاستغراب قدیکون بحسب تلک الطریق فلایلزم من ذلک ردمتن الحدیث بخلاف اطلاق الفقیہ ان الحدیث موضوع فانہ حکم علی المتن من حیث الجملۃ ۲؎۔
اس سے آگاہ رہنا واجب ہے کہ محدثین کا کسی حدیث کو منکر یا غریب کہنا کبھی خاص ایک سند کے لحاظ سے ہوتا ہے تو اس سے اصل حدیث کا رد لازم نہیں آتا بخلاف فقیہ کے موضوع کہنے کہ وہ بالاجمال اُس متن پر حکم ہے۔
عہ: فی الباب الاول تحت الحدیث الخامس من حج البیت فم یزرنی فقد جفانی ۱۲ منہ (م)
باب اول میں حدیث خامس کے تحت یہ مذکور ہے جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ پر ظلم کیا ۱۲ منہ (ت)
(۲؎ شفاء السقام الحدیث الخامس مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص ۲۹)
لطیفہ جلیلہ منیفہ: (لطیفہ جلیلہ منیفہ جان پر لاکھ من کا پہاڑ) ابوداؤد ونسائی کی یہ حدیث صحیح عظیم جلیل جس میں اُن بی بی نے کڑوں کے صدقہ کرنے میں اللہ عزوجل کے ساتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک بھی ملایا اور حضور نے انکار نہ فرمایا بعینہٖ یہی مضمون صحیح بخاری وصحیح مسلم نے حدیث تو بہ کعب بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ میں روایت کیا کہ جب ان کی توبہ قبول ہُوئی عرض کی:
یارسول اللّٰہ من توبتی ان انخلع من مالی صدقۃ الی اللّٰہ والٰی رسولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎۔
یارسول اللہ! میری توبہ کی تمامی یہ ہے کہ میں اپنا سارا مالی اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے صدقہ کردوں۔
(۱؎ صحیح البخاری باب قولہ تعالٰی لقدتاب اللہ علی النبی الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۷۵)
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انکار نہ فرمایا۔ یہ حدیثیں حضراتِ وہابیہ کی جان پر آفت ہیں اِنہیں دو۲ پر کیا موقوف فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے بجواب استفتائے بعض علمائے دہلی ایک نفیس وجلیل وموجز رسالہ مسمی بنام تاریخی الامن والعلی لناعتی المصطفی (عہ۱) بدافع البلا(۱۳۱۰ھ) ملقب بلقب تاریخی اکمال الطّامہ علی شرک سوی بالامور العامہ تالیف کیا اس میں ایسی بہت کثیر وعظیم باتوں کا آیات واحادیث سے صاف وصریح ثبوت دیا مثلاً قرآن وحدیث ناطق ہیں اللہ ورسول (عہ۲) نے دولتمند کردیا، اللہ ورسول (عہ۳) نگہبان ہیں، اللہ ورسول (عہ۴) بے والیوں کے والی ہیں، اللہ ورسول (عہ۵)مالوں کے مالک ہیں، اللہ ورسول (عہ۶) زمین کے مالک ہیں، اللہ ورسول (عہ۷) کی طرف توبہ، اللہ ورسول (عہ۸) کی دوہائی، اللہ ورسول(عہ۹) دینے والے ہیں، اللہ ورسول (عہ۱۰)سے دینے کی توقع، اللہ ورسول (عہ۱۱) نے نعمت دی، اللہ ورسول (عہ۱۲) نے عزّت بخشی۔ حضور (عہ۱۳) اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی اُمت کے حافظ ونگہبان ہیں، حضور (عہ۱۴)کی طرف سب کے ہاتھ پھیلے ہیں، حضور (عہ۱۵) کے آگے سب گڑگڑا رہے ہیں، حضور (عہ۱۶) ساری زمین کے مالک ہیں، حضور (عہ۱۷) سب آدمیوں کے مالک ہیں، حضور (عہ۱۸) تمام امتوں کے مالک ہیں، ساری دنیا کی مخلوق حضور (عہ۱۹) کے قبضہ میں ہے، مدد کی کنجیاں حضور (عہ۲۰) کے ہاتھ میں ہیں، نفع کی کنجیاں حضور(عہ۲۱)کے ہاتھ میں، جنت کی کنجیاں (عہ۲۲) حضور کے ہاتھ میں، دوزخ کی کنجیاں حضور (عہ۲۳) کے ہاتھ میں، آخرت میں عزّت دینا حضور (عہ۲۴) کے ہاتھ میں، قیامت میں کل اختیار حضور (عہ۲۵) کے ہاتھ میں ہیں، حضور (عہ۲۶) مصیبتوں کو دُور فرمانے والے، حضور (عہ۲۷) سختیوں کے ٹالنے والے، ابوبکر صدیق وعمر فاروق حضور (عہ۲۸)کے بندے، حضور (عہ۲۹) کے خادم نے بیٹا دیا، حضور (عہ۳۰) کے خادم رزق آسان کرتے ہیں، حضور (عہ۳۱) کے خادم بلائیں دفع کرتے ہیں،
عہ۱ : صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ عہ۲ تا عہ۱۲ جل جلالہ، وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ
عہ۱۳ تا عہ۳۱ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ
حضور (عہ۱) کے خادم بلندی مرتبہ دیتے ہیں، حضور (عہ۲)کے خادم تمام کاروبارِ عالم کی تدبیر کرتے ہیں، اولیا کے سبب بَلا دُور ہوتی ہے، اولیا کے سبب رزق ملتا ہے، اولیا کے سبب مدد ملتی ہے، اولیا کے سبب مینہ اُترتا ہے، اولیا کے سبب زمین قائم ہے۔ یہ اور ان جیسی بیسیوں باتیں صرف قرآن وحدیث سے لکھی ہیں، وہابی صاحب شرک وغیرہ جو حکم لگانا چاہیں اللہ ورسول کی جناب میں بکیں یا خدا ورسول سے لڑیں اگر لڑسکیں، اس میں یہ بھی روشن دلیلوں سے ثابت کردیا ہے کہ وہابی مذہب نے یوسف علیہ الصلاۃ والسلام، عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام، جبریل علیہ الصّلٰوۃ والسلام اور خود حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یہاں تک کہ خود رب العزت جل جلالہ کسی کو سخت شنیع الزام لگانے سے نہیں چھوڑا۔ ضمناً یہ بھی واضح دلائل سے بتادیا گیا کہ وہابی صاحبوں کے نزدیک جناب شیخ مجدد صاحب ومرزا جانِ جاناں صاحب وشاہ ولی اللہ صاحب وشاہ عبدالعزیز صاحب اور اُن کے اساتذہ ومشائخ یہاں تک کہ خود میاں اسمٰعیل دہلوی سب کے سب پکّے مشرک تھے، غرض وہابی مذہب پر شرک امور عامہ سے ہے جس سے معاذاللہ ملائکہ سے لے کر رسولوں، بندوں سے لے کر ربِّ جلیل تک، شاہ ولی اللہ سے لے کر ان کے پیروں اُستادوں، شاہ عبدالعزیز صاحب سے خود میاں اسمٰعیل تک کوئی خالی نہیں، وہابیت کا پھاگ، نجدیت کی ہولی، شرک کا رنگ، تقویۃ الایمان کی پچکاری ہے، زور گھنگھور شراٹوں کا شور، سارا جہان شرابور، پولو کی قید نہ اماوس پہ چھور، یہ انوکھا پھاگن بارہ ماوس جاری ہے ؎
یہ مختصر رسالہ کہ چار۴ جُز سے بھی کم ہے ایک سوتیس ۱۳۰ سے زیادہ فائدوں اور تیس۳۰ آیتوں اور ستر۷۰ سے زیادہ حدیثوں پر مشتمل ہے جو اس کے سوا کہیں مجتمع نہ ملیں گے بحمداللہ تعالٰی اُس کی نفاست، اُس کی جلالت، اُس کی صولت، اُس کی شوکت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
ذلک من فضل اللّٰہ علینا وعلی الناس ولکن اکثر الناس لایشکرون ۱؎ رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدیّ وان اعمل صٰلحا ترضہ واصلح فی ذریتی انی تبت الیک وانی من المسلمین ۱؎۔ والحمدللّٰہ رب العٰلمینo
یہ اللہ کا ہم پر اور لوگوں پر فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے، اے میرے رب مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں ان نعمتوں پر تیرا شکر کروں جو تُو نے مجھ اور میرے والدین پر فرمائی ہیں، اور مجھے اچھے اعمال کی توفیق دے جن سے تُو راضی ہوجائے اور میری اولاد کی اصلاح فرما، میں تیری ہی طرف رجوع کرتا اور مسلمانوں میں سے ہُوں، تمام تعریف اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے (ت)