ایک اور اعلٰی واجل نظیر کلام امام(۱) حافظ محدث ابوبکر بیہقی وامام(۲) محقق علی الاطلاق وامام(۳) ابن امیرالحاج وعلامہ(۴) ابراہیم حلبی وعلامہ(۵) حسن شرنبلالی وعلامہ(۶) سید احمد طحطاوی وعلامہ(۷) سید ابن عبادین شامی وغیرہم علمائے اعلام رحمہم اللہ تعالٰی سے یہ ہے کہ سُنن ابی داؤد وابن ماجہ میں بطریق ابوعمر یا ابومحمد بن محمد بن حریث عن جدہ حریث رجل من بنی عذرۃ، عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ عن الابی القاسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دربارہ سترہ نماز مروی ہوا:
فان لم یکن معہ عصا فلیخطط خطا ۱؎۔
اگر اس کے پاس لکڑی نہ ہوتو اپنے سامنے ایک خط کھینچ لے۔
(۱؎سنن ابی داؤد باب الخط اذالم یجد عصاً مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۱۰۰)
امام ابوداؤد نے کہا امام سفٰین بن عینیہ نے فرمایا: لم نجد شیئا نشدبہ ھذا الحدیث ولم یجئ الامن ھذا الوجہ ۲؎۔
ہم نے کوئی چیز نہ پائی جس سے اس حدیث کو قوت دیں اور اس سند کے سوا دوسرے طریق سے نہ آئی۔
(۲؎ سنن ابی داؤد باب الخط اذالم یجد عصاً مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۱۰۰)
یونہی امام شافعی وامام بیہقی وامام نووی وغیرہم ائمہ نے اس کی تضعیف ؎ فرمائی باینہمہ ائمہ وعلمائے مذکورین نے تصریح کی کہ حدیث ضعیف سہی ایسے حکم میں حجت ومقبول ہے کہ اُس میں نفع بے ضرر ہے،
عہ :قال فی الحلیۃ ثم فی ردالمحتار وقدیعارض تضعیفہ بتصحیح احمد وابن حبان وغیرھما لہ اھ وعقبہ فی الحلیۃ بمایاتی عنھا من قولہ ویظھر ان الاشبھہ الخ وقال فی المرقاۃ قداشار الشافعی الی ضعفہ واضطرابہ قال ابن حجر صححہ احمد وابن المدینی وابن المنذر وابن حبان وغیرھم وجزم بضعفہ النووی اھ ملخصا قلت وھو وان فرض صحتہ لم یضرنا فیما نحن بصددہ لماقدمنا انفافی التنبیہ ۱۲ منہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (م)
حلیہ پھر ردالمحتار میں ہے کہ اسکی تضعیف کبھی احمد اور ابن حبان وغیرہ کی تصحیح کے معارض ہوتی ہے اور حلیہ میں اس کا تعاقب ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے جو آگے آرہے ہیں یعنی ''وان یظھر ان الاشبہ الخ'' اور مرقات میں ہے کہ امام شافعی نے اس کے ضعف اور اضطراب کی طرف اشارہ کیا ہے، ابن حجر نے کہا کہ احمد، ابن مدینی، ابن منذر اور ابن حبان وغیرہ نے اس کی تصحیح کی ہے اور امام نووی نے اس کے ضعف پر جزم کیا ہے اھ ملخصا۔ میں کہتا ہوں اگر اس کی صحت ہی فرض کرلی جائے تو ہمارے بیان کردہ مسئلہ میں یہ نقصان دہ نہیں جیسا کہ ابھی ہم نے تنبیہ میں اس کا ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ امام ابن حجر مکی سے منقول:
قال البیہقی لاباس بالعمل بہ وان اضطرب اسنادہ فی مثل ھذا الحکم ان شاء اللّٰہ تعالٰی ۱؎۔
امام بیہقی فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے مگر اس طرح کے مسائل میں اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ان شاء اللہ تعالٰی۔ (ت)
(۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب السترۃ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۲۴۶)
حلیہ میں فرمایا: یظھر ان الاشبہ قول البیہقی ولاباس بالعمل بھذا الحدیث فی ھذا الحکم ان شاء اللّٰہ تعالٰی، وجزم بہ شیخنا رحمہ اللّٰہ تعالٰی فقال والسنۃ اولی بالاتباع ۲؎۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ بیہقی کا قول اس حکم میں اس حدیث پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ان شاء اللہ تعالٰی اشبہ ومختار ہے، اور اسی پر ہمارے شیخ رحمہ اللہ تعالٰی نے یہ کہتے ہوئے جزم فرمایا کہ سنّت زیادہ لائقِ اتباع ہے۔ (ت)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
غنیہ میں ہے : من جوزہ استدل بحدیث ابی داؤد وتقدم مافیہ لکن قدیقال انہ یجوز العمل بمثلہ فی الفضائل کمامر اٰنفا ولذا قال ابن الھمام والسنۃ اولٰی بالاتباع ۳؎ اھ ملخصا۔
جس نے جائز قرار دیا اس کا حدیث ابی داؤد سے استدلال ہے اور اس حدیث میں جوہے وہ پیچھے بیان ہوچکا، لیکن کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ فضائل میں ایسی حدیث ضعیف پر عمل جائز ہے جیسا کہ ابھی گزرا اور اسی لئے امام ابن الہمام نے فرمایا سنّت زیادہ لائقِ اتباع ہے اھ ملخصا۔ (ت)
نیز غنیہ پھر امداد الفتاح شرح نورالایضاح پھر حاشیہ طحطاویہ علی مراقی الفلاح میں ہے:
ان سلم انہ یعنی الخط غیر مفید فلاضرر فیہ مع مافیہ من العمل بالحدیث الذی یجوز العمل بہ فی مثلہ ۴؎۔
اگر تسلیم کرلیا جائے کہ خط مفید نہیں تو اس میں کوئی ضرر نہیں باجود اس کے محل نظر ہونے کے یہ حدیث ان میں سے ہے جس پر ایسے احکام میں عمل جائز ہوتا ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے : یسن الخط کماھو الروایۃ الثانیۃ عن محمد لحدیث ابی داؤد فان یکن معہ عصا فلیخط خطا وھو ضعیف لکنہ یجوز العمل بہ فی الفضائل ولذا قال ابن الھمام والسنۃ اولی بالاتباع ۱؎ الخ۔
خط کھینچنا مسنون ہے جیسا کہ امام محمد کی روایت ثانیہ ہے انہوں نے ابوداؤد کی اس حدیث اس سے استدلال کیا: اگر نمازی کے پاس عصا (لکڑی) نہ ہوتو ایک خط کھینچ لے۔ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن فضائل میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے اس بنا پر امام ابن حمام نے فرمایا: سنت زیادہ لائقِ اتباع ہے الخ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فبہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۷۱)
تنبیہ (فضائلِ اعمال سے مراد اعمالِ حسنہ ہیں، نہ صرف ثوابِ اعمال) ان دونوں نظیروں میں علامہ ابراہیم حلبی اور نظیر اخیر میں علّامہ شامی کا ان افعال میں سُترہ کو ابرو کے مقابل رکھنے یا خط کھینچنے کو فضائل سے بتانا اُس معنی کی صریح تصریح کررہا ہے جو فقیر نے حاشیہ افادہ ۲۱ میں ذکر کیا تھا کہ فضائلِ اعمال سے مراد اعمالِ فضائل ہیں یعنی وہ اعمال کہ بہتر ومستحسن ہیں نہ خاص ثواب اعمال، یہاں سے خیالات باطلہ گنگوہیہ کی تفضیح کامل ہوتی ہے وللہ الحمد۔
فائدہ ۷: (حدیث ضعیف سے سنیت بھی ثابت ہوسکتی ہے یا نہیں) عبارت ردالمحتار کہ ابھی منقول ہوئی بتارہی ہے کہ امثال مقام میں نہ صرف استحباب بلکہ سنّیت بھی حدیث ضعیف سے ثابت ہوسکتی ہے یونہی افادہ ۱۷ میں علی قاری کا ارشاد گزرا کہ حدیث ضعیف کے سبب ہمارے علماء نے مسح گردن کو مستحب یا سنّت مانا۔
اقول لکن قال الامام ابن امیرالحاج فی الحلیۃ بعد ماذکر حدیث ابن ماجۃ عن الفاکہ وعن ابن عباس والبزار عن ابی رافع رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم فی اغتسال النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یوم العیدین وقال ان فی اسانید ھٰذہ ضعفاء مانصہ، واستنان غسل العیدین ان قلنا بان تعدد الطرق الواردۃ فیہ یبلغ درجۃ الحسن، والالندب وفی ذلک تأمل ۲؎ اھ
اقول لیکن امام ابن امیرالحاج نے حلیہ میں عیدین کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں حدیث ابن ماجہ، فاکہ، ابن عباس سے اور حدیث بزار، ابورافع رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کرنے کے بعد کہا کہ ان اسانید میں راوی ضعیف ہیں، اور پھر کہا کہ عیدین کے موقعہ پر غسل سنّت ہے اگر ہم یہ کہیں کہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہونے کی بنا پر حسن کا درجہ پاچکی ہے اور اگر یہ نہیں تو غسل مستحب ہے اور اس میں تأمل ہے اھ۔
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
فقداشار رحمہ اللّٰہ تعالٰی الٰی ان الضعیف لایفید الاستنان ولک ان تقول ان السنۃ ربما تطلق علی المستحب کعکسہ کما صرحوا بھما فیتجہ کلام الشامی والقاری وبہ یحصل التوفیق بین الروایتین عن علمائنا فی المسألۃ اعنی مسألۃ الخط، فمن اثبت اراد الاستحسان ومن نفی نفی الاستنان وقدکان متأیدا بمافی الحلیۃ ھل ینوب الخط بین یدیہ منابھا فعن ابی حنیفۃ وھو احدی الروایتین عن محمد انہ لیس بشیئ ای لیس بشیئ مسنون اھ لولا انہ زاد بعدہ بل فعلہ وترکہ سواء ۱؎ انتھی ففیہ بعدبعد فافھم۔
امام رحمہ اللہ تعالٰی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ حدیث ضعیف سنّت کا فائدہ نہیں دیتی، اور تیرے لئے یہ جائز ہے کہ تُو کہے کہ بعض سنّت کا اطلاق مستحب اور مستحب کا سنت پر ہوتا رہتا ہے جیسا کہ فقہا نے اس کی اور تصریح کی ہے، لہذا امام شامی اور قاری کے کلام کی توجیہ ہوجائے گی اور اسی سے مسئلہ خط میں ہمارے علماء سے مروی دو۲ روایات میں تطبیق بھی ہوجائے گی، پس جس نے اسے ثابت کیا اس نے اس استحسان کا ارادہ کیا اور جس نے نفی کی اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ سنّت نہیں اور اس کی تائید حلیہ کی اس عبارت سے ہوتی ہے کہ کیا خط سترہ کے قائم مقام ہوگا یا نہیں؟ تو امام ابوحنیفہ اور ایک روایت کے مطابق امام محمد فرماتے ہیں کہ یہ کوئی شیئ نہیں یعنی سنّت نہیں اھ کاش اس کے بعد وہ یہ اضافہ نہ کرتے کہ اس کا کرنا اور چھوڑنا برابر ہے انتہی، اس میں نہایت ہی بعد ہے اسے اچھی طرح سمجھ لو۔ (ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
فائدہ ۸: (فائدہ ۸ متعلق افادہ ۱۱ کہ وضع یا ضعف کا حکم کبھی بلحاظ سند خاص ہوتا ہے نہ بلحاظ اصل حدیث) ہم نے افادہ ۱۱ میں بہت نصوص نقل کیے کہ بارہا محدثین کا کسی حدیث کو موضوع یا ضعیف کہنا ایک سند خاص کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ اصل حدیث کے۔ اور سُنیے حدیث صحیح زکوٰۃ حلی، مروی سنن ابی داؤد ونسائی:
امرأۃ اتت النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ومعھا ابنۃ لھا وفی یدابنتھا مسکتان غلیظتان من ذھب فقال أتعطین زکاۃ ھذا قالت لاقال ایسرک ان یسورک اللّٰہ بھما یوم القٰیمۃ سوارین من نار قال فخلعتھما فالقتھما الی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فقالت ھما للّٰہ ورسولہ ۱؎۔
یعنی ایک بی بی خدمتِ اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں اُن کی بیٹی ان کے ساتھ تھیں دُختر کے ہاتھ میں سونے کے کڑے تھے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ عرض کی نہیں۔ فرمایا: کیا تجھے یہ پسند ہے کہ اللہ عزوجل قیامت میں ان کے بدلے آگ کے کنگن پہنچائے، اُن بی بی نے کڑے اتار کر ڈال دئے اور عرض کی یہ اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
(۱؎ سُنن ابی داؤد باب الکنز ماہو وزکوٰۃ الحلی مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۱۸
سنن النسائی باب الحلی دار الحیل بیروت ۳/ ۳۸)
جیسے امام ابوالحسن ابن القطان وامام ابن الملقن وعلّامہ سید میرک نے کہا:
اسنادہ صحیح ۲؎
(اس کی سند صحیح ہے)
(۲؎ فتح القدیر بحوالہ ابی الحسن ابن القطعان فصل فی الذھب، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۶۴)
امام عبدالعظیم منذری نے مختصر میں فرمایا:
اسنادہ لامقال فیہ ۳؎
(اس کی سند میں کچھ گفتگو نہیں)
(۳؎ فتح القدیر بحوالہ ابی الحسن ابن القطعان فصل فی الذھب، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۶۴)
محقق علی الاطلاق نے فرمایا:
لاشبھۃ فی صحتہ ۴؎
(اس کی صحت میں کچھ شبہہ نہیں)
(۴؎ فتح القدیر بحوالہ ابی الحسن ابن القطعان فصل فی الذھب، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۶۵)