الحمدللہ اب بوجہ کثیر اسے تاکد وتائید حاصل ہوا کلام(۱) امام سخاوی کی تصریح کلام(۲) علّامہ قاری وعلامہ(۳) مناوی ہیں اُس کے نظائر(۴) صریح کلام امام اجل شعبہ بن الحجاج سے استنباط صحیح تعریف(۵) امام ابن الصلاح وامام(۶) نووی وامام(۷) عراقی وامام(۸) قسطلانی کا اقتضائے نجیع حدیث(۹) سے تائید دلیلِ عقل (۱۰) سے تشیید کلام امام(۱۱) بخاری وعلامہ ابن عراق(۱۲) سے تاکید
الحمدللّٰہ سرا وجھرا فقد حقق رجائی واحدث امرا
(تمام خوبیاں ظاہراً وباطناً اللہ کے لئے ہیں پس اس نے میری امید پوری کی اور نئی راہ پیدا فرمائی۔ ت)
تنبیہ: (تنبیہ متعلق افادہ ۲۵ کہ کتاب موضوعات میں ذکر حدیث مؤلف کے نزدیک یہ مستلزم موضوعیت نہیں) اس عبارت تنزیہ الشریعۃ سے ایک اور نفیس فائدہ حاصل ہوا کہ کتب موضوعات قسم اول میں بھی لفظ حکم پر لحاظ چاہئے اگر صراحۃً موضوع یا باطل کہہ دیا تو مؤلف کے نزدیک وضع ثابت ہوگی اور اگر لایصح وغیرہ ہلکے الفاظ کی طرف عدول کیا تو آخر یہ عدول بے چیزے نیست ظاہراً خود مؤلف کو اُس پر حکمِ وضع کی جرأت نہ ہُوئی صرف احتمال درج کتاب کیا
فافہم فلعلہ حسن وجیہ ولم ارہ لغیرہ فلیحفظ
(اسے اچھی طرح سمجھ لیجئے شاید یہ بہتر توجیہ ہو اور میں نے اسے کسی غیر سے نہیں پڑھا پس اسے محفوظ کرلیجئے۔ ت)
فائدہ ۵: (مجہول العین کا قبول ہی مذہب محققین ہے) افادہ دوم میں گزرا کہ امام نووی نے مجہول العین کا قبول بہت محققین کی طرف نسبت کیا اور امام اجل ابوطالب مکّی نے اُسی کو مذہب فقہائے کرام واولیائے عظام قرار دیااور یہی مذہب ہمارے ائمہ اعلام کا ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ مسلم الثبوت وفواتح الرحموت میں ہے :
اس میں جرح (نہیں کہ (اس کا راوی) (فقط) ایک ہے (اور وہ اصطلاح میں مجہول العین ہے) مثلاً سمعان، ان سے راوی شعبی کے علاوہ کوئی نہیں کیونکہ مدار عدالت راوی وحفظ ہے، راویوں کا متعدد وہونا نہیں، بعض نے کہا کہ محدثین کے نزدیک یہ مقبول نہیں یہ زیادتی ہے اھ مختصراً (ت)
(۱؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ مجہول الحال الح مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ۲/ ۱۴۹)
پس دربارہ مجہول قول مقبول یہ ہے کہ مستور ومجہول العین دونوں حجت، ہاں مجہول الحال جس کی عدالت ظاہری بھی معلوم نہ ہو احکام میں حجت نہیں فضائل میں بالاتفاق وہ بھی مقبول۔
تنبیہ (غالباً مطلق مجہول سے مراد مجہول العین ہوتا ہے) مجہول جب مطلق بولا جاتا ہے تو کلام محدثین میں غالباً اُس سے مراد مجہول العین ہے، امام سبکی شفاء السقام عہ میں فرماتے ہیں:
فائدہ ۵: (فائدہ ۵ متعلق افادہ ۲۱ کہ قبول ضعیف کے لئے درود صحیح کی حاجت نہیں) ہم نے افادہ ۲۱ میں روشن دلیلوں سے ثابت کیا کہ مادون الاحکام میں ضعیف محتاج ورود صحیح نہیں اور دلیل ثابت میں اس کی دس۱۰ نظائر کے پتے دئے سب سے اجل واعظم یہ کہ اکابر ائمہ کرام اعاظم محدثین اعلام مثل امام(۱) ابن عساکر وامام(۲) ابن شاہین وابوبکر(۳) خطیب بغدادی وامام(۴) سہیلی وامام(۵) محب الدین طبری وعلامہ(۶) ناصرالدین ابن المنیر وعلامہ(۷) ابن سید الناس وحافظ(۸) ابن ناصر وخاتم(۹) الحفاظ وعلامہ(۱۰) زرقانی وغیرہم نے حدیث احیاءِ ابوین کریمین کو باوصف تسلیم ضعف دربارہ فضائل ایسا معمول ومقبول مانا کہ اسے احادیث سے کہ بظاہر مخالف تھیں متاخر ٹھہرا کر اُن کا ناسخ جانا تو خود اس باب میں حدیث صحیح کی حاجت درکنار اُس کے مقابل کی صحاح اُس سے منسوخ نے ٹھہرائیں شرح مواہب لدنیہ میں ہے :
قال ا لسیوطی فی سبیل النجاۃ مال الی ان اللّٰہ تعالی احیاھما حتی اٰمنا بہ طائفۃ من الائمۃ وحفاظ الحدیث واستندوا الی حدیث ضعیف، لاموضوع کالخطیب وابن عساکر وابن شاھین والسھیلی والمحب الطبری والعلامۃ ناصرالدین ابن المنیر وابن سیدالناس ونقلہ عن بعض اھل العلم ومشی علیہ الصلاح الصفدی، والحافظ ابن ناصر، وقد جعل ھؤلاء الائمۃ ھذا الحدیث ناسخا للاحادیث الواردۃ بمایخالفہ ونصوا علی انہ متاخر عنھا فلاتعارض بینہ وبینھا اھ وقال فی الدرج المنیفۃ جعلوہ ناسخا ولم یبالوا بضعفہ لان الحدیث الضعیف یعمل بہ فی الفضائل والمناقب وھٰذہ منقبۃ ھذا کلام ھذا الجھبذ وھو فی غایۃ التحریر ۱؎ اھ ملخصا۔
امام سیوطی نے سبیل النجاۃ میں فرمایا کہ ائمہ اور حفاظ حدیث کی ایک جماعت اس طرف مائل ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضور علیہ السلام کے والدین کریمین کو زندہ فرمایا اور وہ آپ کی ذاتِ اقدس پر ایمان لائے، یہ قول انہوں نے ایک ایسی حدیث کی بنا پر کیا ہے جو ضعیف ہے موضوع نہیں، وہ ائمہ یہ ہیں مثلاً خطیب بغدادی، ابن عساکر، ابن شاہین، سہیلی، محب طبری، علامہ ناصرالدین بن منیر اور ابن سیدالناس۔ اسے بعض اہلِ علم سے نقل کیا اور اسی پر صلاح الصفدی اور حافظ ابنِ ناصر چلے ہیں اور ان ائمہ نے اس مذکورہ حدیث کو اس سلسلہ میں وارد مخالف احادیث کے لئے ناسخ قرار دیا اور تصریح کی ہے کہ یہ حدیث ان سے موخر ہے لہذا اس کے اور ان کے درمیان کوئی تعارض نہیں اھ اور درج المنیفہ میں فرمایا کہ اس حدیث کو محدثین نے ناسخ قرار دیتے ہوئے اس کے ضعف کی پرواہ نہیں کی کیونکہ فضائل ومناقب میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جاتا ہے اور یہ (والدین کا اسلام لانا) آپ کی منقبت ہے، یہ ان ماہرین حدیث کا کلام ہے اور یہ اس مسئلہ میں انتہائی بہتر رائے اور تحریر ہے اھ ملخصا (ت)
(۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ باب وفات امہ ومایتعلق بابویہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃ العامرہ مصر ۱/ ۱۹۷)
تنبیہ ضروری (وہابیہ کے ایک کید پر آگاہ کرنا) اقول جب کسی اصل کا کلمات علما سے اثبات منظور ہوتو اس کے لئے کافی ہے کہ انہوں نے فلاں فلاں فروع میں اس پر مشی فرمائی ہُوا کہ یہ اصل اُن کے نزدیک متأصل ہے اُن کلمات کی نقل سے غرض مستدل اسی قدر امر سے متعلق اگرچہ وہ فرع خاص بنظر کسی اور وجہ کے اس کو مسلّم نہ ہو مثلاً ہم نے افادہ ۲۸ میں اس امر کے استحباب کو کہ موضوعیت مستلزم ممنوعیت نہیں کلام ائمہ سے چند نظائر نقل کیے کہ دیکھو حدیث کو موضوع اور فعل کو مشروع مانا اسی قدر سے استدلال تمام ہوگیا اگرچہ ہمیں ان بعض احادیث کی وضع تسلیم نہ ہو، یونہی یہاں اتنی بات سے کام ہے کہ علمائے نے ضعیف کو صحیح سے اتنا مستغنی مانا کہ ناسخ جانا دعوٰی غنا مؤید ومشید ہوگیااگرچہ ہم قائل نسخ نہ ہوں اور دوسرے طور پر صحاح کا معارضہ دفع کرکے ان ضعاف کو قبول کریں، یہ نکتہ ہمیشہ ملحوظ رکھنے کا ہے کہ متکلمین وہابیہ دھوکے دیتے اور خارج از مبحث اُس فرع کے ترجیح وتزییف کی طرف کتراجاتے ہیں۔ خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد نے قاعدہ یازدہم اصول الرشاد شریف میں اُن سُفہا کے اس کید ضعیف کی طرف ایمائے لطیف فرمایا یونہی فقیر نے آخر نکتہ جلیلہ فصل سیزدہم نوع اول مقصد سوم کتاب حیاۃ المواۃ فی بیان سماع الاموات (۱۳۰۵ھ) میں سے اس کی نظیر پر متنبہ کیا فلیحفظ ۔
فائدہ ۶: (فائدہ ۶ کا متعلق افادہ ۲۰ کہ حدیث ضعیف بعض احکام میں بھی مقبول) افادہ ۲۰ میں گزرا کہ فضائل تو فضائل بعض احکام میں بھی حدیث ضعیف مقبول ہے جبکہ محل محل احتیاط ونفع بے ضرر ہو اُس کی ایک اور نظیر نیز علامہ حلبی کا فرمانا ہے کہ نماز میں سُترہ کو سیدھا اپنے سامنے نہ رکھے بلکہ دہنی یا بائیں ابروپر ہوکہ حدیث میں ایسا وارد ہوا اور وہ اگرچہ ضعیف ہے مگر ایسے حکم میں مقبول۔
حیث قال عہ ینبغی ان یجعلھا حیال احد حاجبیہ لماروی ابوداؤد من حدیث ضباعۃ بنت المقداد بن الاسود عن ابیھا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال مارأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یصلی الی عود ولاعمود ولاشجرۃ الاجعلہ علی حاجبہ الایمن اوالایسر ولایصمد لہ صمدا، وقداعل بالولید بن کامل وبجھالۃ ضباعۃ، لکن ھذا الحکم ممایجوز العمل فیہ بمثل ھذا، لانہ من الفضائل ۱؎ اھ باختصار۔
الفاظ یہ ہیں مستحب یہ ہے کہ سُترہ دونوں ابروؤں میں سے کسی ایک کے سامنے کھڑا کیا جائے جیسا کہ ابوداؤد نے ضباعۃ بنت مقداد بن اسود اور انہوں نے اپنے والد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو کسی لکڑی، ستون یا درخت کی طرف نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا مگر آپ اس کو اپنی دائیں یا بائیں ابرو مبارک کے سامنے کردیتے بالکل سیدھا اس کی طرف رُخ نہ ہوتا۔ اس حدیث کو ولید بن کامل اور ضباعۃ کے مجہول ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا گیا، لیکن یہ حکم ان مسائل میں سے ہے جن پر عمل اس طرح کی روایت سے جائز ہے کیونکہ یہ مسئلہ فضائل اعمال سے ہے اھ باختصار۔ (ت) عہ: اواخر کراھۃ الصلاۃ قبیل الفروع ۱۲ منہ (م)