Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
136 - 157
ہاں اس میں کلام نہیں کہ حکمِ وضع کبھی قطعی ہوتا ہے کبھی ظنی، جیسا کہ ہم نے شمار قرائن میں تبدیل اسلوب عبارت سے اُس کی طرف اشارہ کیا اور حدیث مطعون بالکذب کو موضوع کہنے والے بھی اس کی موضوعیت بالیقین کا دعوٰی نہیں فرماتے بلکہ وضع ظنی میں رکھتے ہیں
کماصرح بہ شیخ الاسلام فی النزھۃ
 (جیسا کہ شیخ الاسلام نے نزہۃ النظر میں اس کی تصریح کی ہے۔ ت) شیخ محقق دہلوی قدس سرہ القوی مقدمہ لمعات التنقیح میں فرماتے ہیں:
حدیث المطعون بالکذب یسمی موضوعا و من ثبت عنہ تعمد الکذب فی الحدیث وان کان وقوعہ مرۃ لم یقبل حدیثہ ابدا، فالمراد بالموضوع فی اصطلاح المحدثین ھذا لا انہ ثبت کذبہ وعلم ذلک فی ھذا الحدیث بخصوصہ، والمسألۃ ظنیۃ والحکم، بالوضع والافتراء بحکم الظن الغالب ۱؎ اھ ملخصا
ایسے راوی کی حدیث جس پر کذب کا طعن ہو موضوع کہلاتی ہے اور ایسا شخص جس سے حدیث میں عمدہ جھوٹ ثابت ہوجائے خواہ وہ ایک ہی دفعہ ہو اس کی حدیث ہمیشہ قبول نہیں کی جائے گی، تو اصطلاحِ محدثین میں موضوع سے مراد یہی ہے، یہ نہیں کہ اس خاص حدیث میں اس کا جھوٹ ثابت ومعلوم ہو، اور چونکہ مسئلہ ظنی ہے لہذا وضع وافترا کا حکم ظنِ غالب کی بنا پر ہوگا اھ ملخصا (ت)
 (۱؎ لمعات التنقیح شرح المشکوٰۃ    فصل فی العدالۃ الخ    مطبوعہ المعارف العلمیۃ لاہور    ۱/ ۲۷)
اقول مگر محلِ تامل یہی ہے کہ مجرد کذب فی بعض الاحادیث سے کہ معاذاللہ کسی طمع دینا یا تائید مذہب فاسد یا غضب وربخش وغیرہا کے باعث ہو ظن غالب ہوجائے کہ اب جتنی حدیثوں میں یہ متفرد ہو سب میں وضع وافترا ہی کرے گا اگرچہ وہاں کوئی طمع وغیرہ غرض فاسد نہ ہو شاہد زور اگر کسی طمع یا عداوت سے ایک جگہ غلط گواہی دی تو اس کی سب گواہیاں مردود ضرور ہوں گی کہ فاسق ہے مگر بے لاگ جگہ میں خواہی نخواہی یہ ظن غالب نہ ہوگا کہ یہاں بھی جھوٹ ہی کہہ رہا ہے وجدان صحیح اس پر شہادت کو بس ہے اور اگر سند ہی چاہئے تو امام ائمہ الشان محمد بن اسمٰعیل بخاری علیہ رحمۃ الباری کا ارشاد سُنیے محمد بن اسحاق صاحبِ سیرت ومغازی کو ہشام بن عروہ پھر امام مالک پھر وہب پھر یحیٰی بن قطان نے کذاب کہا،
اخرجہ عہ  ابن عدی عن ابی بشر الدولابی و محمد بن جعفر بن یزید عن ابی قلابۃ الرقاشی ثنی ابوداؤد سلیمٰن بن داؤد قال قال یحیی القطان اشھد ان محمد بن اسحٰق کذاب، قلت ومایدریک قال قال لی وھیب فقلت لوھیب ومایدرک، قال قال لی مالک بن انس فقلت لمالک ومایدریک، قال قال لی ھشام بن عروۃ قلت لھشام بن عروۃ ومایدریک، قال حدث عن امرأتی فاطمۃ بنت المنذر، وادخلت علی وھی بنت تسع وماراٰھا رجل حتی بقیت اللّٰہ تعالٰی ۱؎۔
ابن عدی نے ابوبشر دولابی سے اور محمد بن جعفر بن یزید نے ابو قلابہ رقاشی سے، وہ کہتے ہیں مجھے ابوداؤد سلیمٰن داؤد نے بیان کیا کہ یحیٰی القطان نے بیان کیا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد بن اسحٰق کذاب ہے، میں نے عرض کیا تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ کہا مجھے وہیب نے بتایا میں نے وہیب سے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہے؟ انہوں نے کہا مجھے مالک بن انس نے بتایا تھا، تو میں نے مالک سے پوچھا آپ کو کیسے علم ہے؟ انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا تھا۔ میں نے ہشام بن عروہ سے کہا کہ آپ کو اس بات کا کیسے علم ہے؟ انہوں نے کہا اس نے میری اہلیہ فاطمہ بنت منذر سے حدیث بیان کی ہے اور ان کی شادی میرے ساتھ نوسال کی عمر میں ہُوئی اور اس نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ اس کا وصال ہوگیا۔ (ت)
 (۱؎ میزان الاعتدال ترجمہ ۷۱۹۷    محمد بن اسحٰق    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۳/ ۴۷۱

      الکامل فی ضعفا الرجال    ترجمہ محمد اسحاق    دارالفکر بیروت    ۷/ ۲۱۱۷)
عہ: حال التفصی عن ھذا فی المیزان بقولہ قلت ومایدری ھشام بن عروۃ، فلعلہ سمع منھا فی المسجد اوسمع منھا وھو صبی اودخل علیھا فحدثتہ من وراء حجاب، فای شیئ فی ھذا وقدکانت امرأۃ قدکبرت واسنت ۲؎ اھ۔

اس سے خلاصی میزان میں ان کے اس قول سے ہوجاتی ہے: میں کہتا ہوں ہشام بن عروہ کیا جانے شاید انہوں نے اس سے مسجد میں سنا، یا اس وقت اس سے سنا جب وہ بچّے تھے یا وہ اس کے پاس گئے ہوں تو اس خاتون نے پردے کے پیچھے سے بیان کیا ہو، کیا معلوم کہ ان میں سے کون سی صورت ہے حالانکہ وہ خاتون بُوڑھی اور سِن والی ہوچکی تھی (صاحب فتنہ نہ تھی) اھ
 (۲؎ میزان الاعتدال     ترجمۃ ۷۱۹۷    محمد بن اسحاق        مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۳/۴۷۰)
ثم قال افبمثل ھذا یعتمد علی تکذیب رجل من اھل العلم ھذا مردود ، ثم قدروی عنھا محمد بن سوقۃ ۱؎ الخ
پھر کہا: کیا اس طرح کی صورت میں اہلِ علم شخص کو جھُوٹا قرار دینا درست ہے یہ مردود ہے (درست نہیں) پھر اس سے محمد بن سوقہ نے بھی روایت لی ہے الخ
 (۱؎ میزان الاعتدال    ترجمہ ۷۱۹۷ محمد بن اسحاق    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۳/ ۴۷۱)
اقول لقائل ان یقول ان الحفاظ الناقدین ربنما یعرفون کذب الرجل بقرائن تلوح لھم، ولقد نری قوما من الائمۃ یکذبون رجلا ولایذکرون من السبب الاماھو قاصر عندنا لعدم علمنا بالقرائن فتبدولنا احتمالات شیئ لعل الامرکذا عسی ان کذا وھی جمیعا مندفعۃ عندھم نص علی ذلک الامام النووی فی مواضع من شرحہ صحیح مسلم فقال ھنا قاعدۃ ننبہ علیھا ثم نحیل علیھا فیما بعد ان شاء اللّٰہ تعالٰی وھی ان عفان رحمہ اللّٰہ تعالٰی قال انما ابتلیج ھشام (ھو ابن زیاد الاموی) یعنی انما ضعفوہ من قبل ھذا الحدیث کان یقول حدثنی یحیٰی عن محمد ثم ادعی بعد انہ سمعہ من محمدہ وھذا القدر وحدہ لایقتضی ضعفا لانہ لیس فیہ تصریح بکذب لاحتمال انہ سمعہ من محمد ثم نسیہ فحدث عن یحیٰی عنہ ثم ذکر سماعہ من محمد فرواہ عنہ ولکن انضم الی ھذا قرائن وامور اقتضت عندالعلماء بھذا الفن الحذاق فیہ المبرزین من اھلہ العارفین بدقائق احوال رواتہ انہ لم یسمعہ من محمد فحکموا بذلک لماقامت لدلائل الظاھرۃ عندھم بذلک وسیاق بعد ھذا اشیاء کثیرۃ من اقوال الائمۃ فی الجرح بنحو ھذا وکلھا یقال فیھا ماقلنا ھنا واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱؎ اھ۔
اقول (میں کہتا ہوں) قائل کے لئے یہ کہنا جائز ہے کہ حفاظ ناقدین بعض اوقات کسی آدمی کا جھُوٹ قرائن کی وجہ سے جانتے ہوتے ہیں اور ہم ائمہ کی ایک ایسی جماعت کا علم رکھتے ہیں جس نے کسی شخص کو جھوٹا کہا مگر سب ذکر نہ کیا صرف وہ ہے جو ہمارے نزدیک قاصر ہے کیونکہ ان قرائن کو نہیں جانتے، تو ہمارے لئے متعدد احتمالات ظاہر ہوں گے، شاید یہ ہویا یہ ہو اور وہ تمام ان کے ہاں مدفوع ہوں، اس پر امام نووی نے اپنی شرح صحیح مسلم میں کئی جگہ تصریح کی ہے اور کہا کہ یہاں ایک قاعدہ ہے جس پر ہم تنبیہ کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالٰی نے چاہا اس پر حوالہ دیں گے اور وہ یہ ہے کہ عفان رحمہ اللہ تعالٰی نے بیان کیا کہ ہشام (ابن زیاد اموی) مبتلا ہُوئے، یعنی اس حدیث کی وجہ سے ان کو لوگوں نے ضعیف کہا جس کے متعلق وہ کہتے تھے مجھے یحیٰی نے محمد سے بیان کیا پھر دعوٰی کیا کہ اس نے یہ محمد سے روایت سنی ہے اور صرف یہ چیز ضعف کا تقاضا نہیں کرتی کیونکہ اس میں کذب صراحۃً نہیں ہے ممکن ہے اس نے محمد سے سُنا ہو پھر بھُول گیا ہو پھر ہشام نے یحیٰی سے حدیث بیان کی ہو پھر یحیٰی کو محمد سے سماع یاد آیا تو دونوں نے محمد کے حوالے سے روایت بیان کی ہو، لیکن اس فن کے ماہرین اور اس کے راویوں کے دقیق اصول پہچاننے والوں پر ایسے قرائن آشکار ہوئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے محمد سے نہیں سُنا، جب ان کے ہاں اس پر دلائل ظاہری قائم ہوگئے تو اب انہوں نے یہ فیصلہ دے دیا کہ ہشام نے محمد سے نہیں سُنا، اور اس کے بعد عنقریب ائمہ کے اقوال میں اسی طرح سے کثرت کے ساتھ جرح کا ذکر آئے گا ان سب میں وہی بات کہی جائے گی جو ہم نے یہاں کہہ دی ہے واللہ تعالٰی اعلم اھ۔
 (۱؎ شرح الصحیح لمسلم    باب بیان الاسناد الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۴)
وقال بعد ذلک معنی ھذا الکلام ان الحسن بن عمارۃ کذب فروی ھذا الحدیث عن الحکم عن یحیٰی عن علی وانما ھو عن الحسن البصری من قولہ وقد قدمنا ان مثل ھذا وان کان یحتمل کونہ جاء عن الحسن وعن علی لکن الحفاظ یعرفون کذب الکاذبین بقرائن وقدیعرفون ذلک بدلائل قطعیۃ یعرفھا اھل ھذا الفن فقولھم مقبول فی کل ھذا ۲؎ اھ۔
اور اس کے بعد کہا کہ اس کلام کا معنٰی یہ ہے کہ حسن بن عمارہ نے جھوٹ بولتے ہوئے اس حدیث کو حکم از یحیٰی ازعلی روایت کیا حالانکہ وہ حسن بصری سے ان کے قول سے مروی ہے اور ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ اس کی مثل یہ ہے اگرچہ اس میں یہ احتمال ہے کہ وہ حسن سے اور علی سے ہو، لیکن اس فن کے حفاظ قرائن سے جھُوٹوں کے جھُوٹ سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور اس کو وہ ایسے دلائل قطعیہ سے جان لیتے ہیں جن کو صرف اہل فن ہی پہچانتے ہیں لہذا ان کا فیصلہ ان تمام میں مقبول ہوگا اھ۔
 (۲؎ شرح الصحیح لمسلم    باب بیان الاسناد الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷)
اماقولک افبمثل ھذا یعتمد الخ اقول افترا علی ھٰولاء الائمۃ الجلۃ الاعاظم یشھدون جزافا من دون ثبت ثم ھذا کلہ انما ذکرناہ لیعرف ان الذھبی کیف یحتال للذب عن قدری امرہ قدظھر واذاوقع بسنی اشعری اوولی اللّٰہ صوفی صارلایبقی ولایذرکما بینہ تلمیذہ الامام تاج الدین السبکی رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی الطبقات والافا الراجح عند علمائنا ایضا ھو توثیق ابن اسحٰق کماسنذکرہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (م)
رہا تیرا قول افبمثلہ ھذا یعتمد الخ قول یہ ان عظیم ائمہ پر اسی بات کا افترا ہے کہ وہ اندازے سے کام لیتے ہیں تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ ذہبی نے کس حیلہ سے قدری سے کذب کیا، جس کا معاملہ واضح تھا اور جس وقت یہ معاملہ کسی سخی اشعری یا کسی ولی اللہ صوفی کو رد کیا ہوتو وہ نہ چھوڑے نہ باقی رہنے دے جیسے کہ ان کے شاگرد امام تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ تعالٰی نے طبقات میں اس کو بیان کیا ہے ورنہ ہمارے ہاں بھی راجح یہی ہے کہ ابن اسحٰق ثقہ ہیں جیسا کہ عنقریب ہم اسے بیان کریں گے۔ (ت)
امام بخاری عہ۱ جزء القرأۃ خلف الامام میں توثیق عہ۲  ابن اسحٰق ثابت فرمانے کو اُس سے جواب دیتے ہیں:
رأیت علی بن عبداللّٰہ یحتج بحدیث ابن اسحاق وقال علی عن ابن عیینۃ مارأیت احدا یَتَّھِمُ محمد بن اسحاق (الی ان قال) ولوصح عن مالک تناولہ عن ابن اسحاق فلم بماتکلم الانسان فیرمی صاحبہ بشیئ واحد ولایتھمہ فی الامور کلھا ۱؎ الخ
میں نے علی بن عبداللہ کو حدیث ابن اسحاق سے استدلال کرتے ہوئے پایا ہے اور علی ابن عینیہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو محمد بن اسحٰق پر اتہام کرتا ہو (آگے چل کر کہا) اور اگر امام مالک سے ابن اسحاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے وہ صحیح ہوتو اکثر ہوتا رہتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے پر کسی ایک بات میں طعن کرتا ہے اور باقی تمام امور میں اس پر تہمت نہیں لگاتا الخ (ت)
 (۱؎ نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ  آخر کتاب الوصایا  مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الحاج ریاض الشیخ  ۴ /۴۱۶)
عہ۱ : نقلہ زیلعی فی نصب الرایۃ قبیل کتاب الخنثی ۱۲ منہ (م)

جیسے کہ زیلعی نے نصب الرایۃ میں کتاب الخنثی سے تھوڑا پہلے اس کو ذکر کیا ہے۔ (ت)

عہ۲: ہمارے علمائے کرام قدست اسرارہم کے نزدیک بھی راجح محمد بن اسحاق کی توثیق ہی ہے محقق علی الاطلاق فتح میں زیر مسئلہ یستحب تعجیل المغرب فرماتے ہیں :

توثیق ابن اسحاق ھو الحق الابلج ومانقل عن کلام المالک فیہ لایثبت ولوصح لم یقبلہ ھل العلم کیف وقدقال شعبۃ فیہ ھو امیرالمؤمنین فی الحدیث وروی عنہ مثل الثوری وابن ادریس وحماد بن زید ویزید بن زریع وبن علیۃ وعبدالوارث وابن المبارک واحتملہ احمد وابن معین وعامۃ اھل حدیث غفراللّٰہ تعالٰی لھم وقداطال البخاری فی توثیقہ فی کتاب القرأۃ خلف الامام لہ وذکرہ ابن حبان فی الثقات وان مالکا رجع عن الکلام فی ابن اسحاق واصطلح معہ وبعث الیہ ھدیۃ ذکرھا  ۱؎ اھ ۱۲ منہ (م)

ابن اسحاق کی توثیق ہی واضح اور حق ہے اور امام مالک کا  ان کے بارے میں جو قول منقول ہے وہ ثابت نہیں، اگر وہ ثابت بھی ہو تب بھی اہلِ علم کے ہاں قابلِ قبول نہیں، ایسا کیونکر ہو حالانکہ شعبہ نے ان کے بارے میں امیرالمومنین فی الحدیث کہا اور ان سے ثوری، ابنِ ادریس، حمادبن زید، یزید بن زریع، ابن علیہ، عبدالوارث اور ابن مبارک جیسے محدثین نے روایت لی ہے، اور احمد، ابن معین اور اکثر محدثین (رحمہم اللہ تعالٰی) نے ان کے بارے میں (عدم توثیق کا) احتمال غیر یقینی طور پر بیان کیا۔ امام بخاری نے اپنی کتاب القرأۃ خلف الامام میں ان کی توثیق کے بارے میں طویل گفتگو کی ہے۔ ابن حبان نے ثقات میں ان کا ذکر کیا اور یہ کہ امام مالک نے ابن اسحٰق کے بارے میں اپنے قول سے رجوع کرلیا، ان کے ساتھ متفق ہوگئے اور ان کے پاس ہدیہ ارسال کیا جس کا انہوں نے تذکرہ کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎فتح القدیر     فصل فی استحباب التعجیل    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۲۰۰)
دیکھو صاف تصریح ہے کہ ایک جگہ کاذب پانے سے ہر جگہ مہتم سمجھنا لازم نہیں، لاجرم امام ابن عراق تنزیہ الشریعۃ میں فرماتے ہیں:
قال الزرکشی فی نکتہ علی ابن الصلاح بین قولنا موضوع وقولنا لایصح بون کبیر فان الاول اثبات الکذب والاختلاق والثانی اخبار عن عدم الثبوت ولایلزم منہ اثبات العدم وھذا یجیئ فی کل حدیث قال فیہ ابن الجوزی لایصح ونحوہ قلت وکان نکتۃ تعبیرہ بذلک حیث عبربہ انہ لم یلح لہ فی الحدیث قرینۃ تدل علی انہ موضوع، غایۃ الامرانہ احتمل عندہ ان یکون موضوعا لانہ من طریق متروک اوکذاب وھذا انما یتم عندتفرد الکذاب اوالمتھم علی ان الحافظ ابن حجر خص ھذا فی النخبۃ باسم المتروک ولم ینظمہ فی مسلک الموضوع ۲؎۔
زرکشی نے اپنی نکت علی ابن الصلاح میں لکھا کہ ہمارے قول موضوع اور لایصح میں بہت بڑا فرق ہے، پہلی صورت میں کذب اور گھڑنے کا اثبات ہے اور دوسری صورت میں عدم ثبوت کی اطلاع ہوتی ہے اور اس سے عدمِ وجود کا اثبات لازم نہیں آتا اور یہ ضابطہ ہر اس حدیث میں جاری ہوگا جس کے بارے میں ابن جوزی نے 'لایصح'' کہا یا اس کی مثل کوئی کلمہ کہا ہے، میں کہتا ہوں کہ حدیث کو ان الفاظ سے تعبیر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ان کے لئے اس حدیث میں کوئی ایسا ظاہری قرینہ نہیں جس کی بنیاد پر وہ حدیث موضوع ہو، زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ ان کے نزدیک اس میں موضوع ہونے کا احتمال ہے کیونکہ یہ متروک یا کذاب سے مروی ہے اور یہ بات اس وقت تام ہوگی جبکہ وہ حدیث صرف اور صرف کذاب یا متہم سے مروی ہو، علاوہ ازیں حافظ ابن حجر نے ننجۃ الفکر میں اسے متروک کا نام دیا ہے، موضوع کی لڑی میں اس کو شامل نہیں کیا۔ (ت)
 (۲؎ تنزیہ الشریعۃ لابن عراق        کتاب التوحید فصل ثانی    دارالکتب العلمیۃ بیروت            ۱/ ۱۴۰)
دیکھئے تفرد کذاب کو صرف احتمال وضع کا مورث بتایا اور ابن الجوزی نے موضوعات میں جہاں موضوع کہنے سے

لایسع وغیرہ کی طرف عدول کیا اس کا یہی نکتہ ٹھہرایا کہ بوجہ تفرد کذاب یا متہم احتمال وضع تھا اگر غلبہ ظن ہوتا حکم بالوضع سے کیا مانع تھا کہ آخر صحیح موضوع وغیرہما تمام احکام میں غلبہ ظن کافی اور بلاشبہہ حجتِ شرعی ہے۔
اقول والاشارۃ فی قولہ خص ھذا انما تلمح الی لاقرب وھو المتھم فھو الذی خصہ الحافظ باسم المتروک اماما تفرد بہ الکذاب فھو عین الموضوع عندہ فانما عرفہ بمافیہ الطعن بکذاب الراوی فلیتنبہ ھذا کلہ ماظھرلی والحمدللّٰہ الواحد العلی۔
اقول زرکشی کے الفاظ ''خص ھذا'' میں اشارہ اقرب کی طرف یعنی متہم کی طرف ہے تو یہ وہی ہے جس کے لئے حافظ ابن حجر نے متروک کا نام خاص کیا ہے لیکن جس روایت میں کذب متفرد ہو وہ حافظ کے نزدیک بھی عین موضوع ہے کیونکہ انہوں نے خود موضوع کی تعریف ہی یہ کی ہے کہ جس میں کذاب راوی کا طعن ہو، اس پر توجہ کرو یہ وہ امور تھے جو میرے لئے ظاہر ہوئے اور تمام حمداللہ کے لئے جو واحد وبلند ہے (ت)
فقیر نے اپنی بعض تحریرات میں اس مسئلہ پر قدرے کلام کرکے لکھا تھا:
ھذا مایظھرلنا والمحل محل تامل فلیتامل لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امرا۔
یہ وہ ہے جو ہم پر ظاہر ہُوا اور یہ مقام مقامِ غوروفکر ہے لہذا ہر کوئی غور کرے، شاید اللہ تعالٰی اس کے بعد کوئی دوسرا امر ظاہر فرمادے۔ (ت)
Flag Counter