Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
135 - 157
حاش للہ اگر مورخین وامثالہم کی ایسے حکایات ادنٰی قابلِ التفات ہوں تو اہل بیت وصحابہ درکنار خود حضرات عالیہ انبیاء ومرسلین وملٰئکم مقربین صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہم اجمعین سے ہاتھ دھوبیٹھا ہے کہ ان مہملات مخذولہ نے حضرات سعادتنا ومولٰنا آدم صفی اللہ وداؤد خلیفۃ اللہ وسلیمان نبی اللہ ویوسف رسول اللہ سے سیدالمرسلین محمد حبیب اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم وسلم تک سب کے بارہ میں وہ وہ ناپاک بیہودہ حکایات موحشہ نقل کی ہیں کہ اگر اپنے ظاہر پر تسلیم کی جائیں تو معاذاللہ اصل ایمان کو رد بیٹھنا ہے ان ہولناک اباطیل کے بعض تفصیل مع رد جلیل کتاب مستطاب شفا شریف امام قاضی عیاض اور اس کی شروح وغیرہا سے ظاہر لاجرم ائمہ ملّت وناصحانِ اُمت نے تصریحیں فرمادیں کہ ان جہال وضلال کے مہملات اور سیر وتواریخ کی حکایت پر ہرگز کان نہ رکھا جائے شفا وشروح شفا ومواہب وشرح مواہب ومدارج شیخ محقق وغیرہا میں بالاتفاق فرمایا، جسے میں صرف مدارج النبوۃ سے نقل کروں کہ عبارت فارسی ترجمہ سے غنی اور کلمات ائمہ مذکورین کا خود ترجمہ ہے فرماتے ہیں رحمہ اللہ تعالٰی:
ازجملہ توقیر وبرآنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم توقیر اصحاب وبرایشاں است وحسن ثنا ورعایت ادب بایشاں ودُعا واستغفار مرایشاں راوحق است مرکسے راکہ ثنا کردہ حق تعالٰی بروے وراضی ست ازوے کہ ثنا کردہ شوبروے وسب وطعن ایشاں اگر مخالف اولہ قطعیہ است، کفر والا بدعت وفسق، وہمچنیں امساک وکف نفس ازذکر اختلاف ومنازعات ووقائع کہ میان ایشاں شدہ وگزشتہ است واعراض واضراب ازاخبار مورخین وجہلہ رواۃ وضلال شیعہ وغلاۃ ایشاں ومبتدعین کہ ذکرقوادح وزلالت ایشاں کنند کہ اکثر آں کذب وافتراست وطلب کردن درآنچہ نقل کردہ شدہ است ازایشاں ازمشاجرات ومحاربات باحسن تاویلات واصوب خارج وعدم ذکر ہیچ یکے ازیشاں بہ بدی وعیب بلکہ ذکر حسنات وفضائل وعمائد صفات ایشاں ازجہت آنکہ صحبت ایشاں بآنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یقینی ست وماورائے آں ظنی است وکافیست دریں باب کہ حق تعالٰی برگزید ایشاں رابرائے صحبت حبیبہ خود صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم طریقہ اہل سنّت وجماعت دریں باب این است درعقائد نوشتہ اند لاتذکر احدا منھم الابخیر ف۱ وآیات واحادیث کہ درفضائل صحابہ عموماً وخصوصاً واقع شدہ است دریں باب کافی است ۱؎ اھ مختصرا۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم واحترام درحقیقت آپ کے صحابہ کا احترام اور ان کے ساتھ نیکی ہے ان کی اچھی تعریف اور رعایت کرنی چاہے اور ان کے لئے دعا وطلبِ مغفرت کرنی چاہئے بالخصوص جس جس کی اللہ تعالٰی نے تعریف فرمائی ہے اور اس سے راضی ہوا ہے اس سے وہ اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے پس اگر ان پر طعن وسب کرنے والا دلائل قطعہ کا منکر ہے تو کافر ورنہ مبتدع وفاسق، اسی طرح ان کے درمیان جو اختلافات یا جھگڑے یا واقعات ہُوئے ہیں ان پر خاموشی اختیار کرنا ضروری ہےاور ان اخبار واقعات سے اعراض کیا جائے جو مورخین، جاہل راویوں اور گمراہ وغلو کرنے والے شیعوں نے بیان کیے ہیں اور بدعتی لوگوں کے ان عیوب اور برائیوں سے جو خود ایجاد کرکے ان کی طرف منسوب کردئے اور ان کے ڈگمگا جانے سے کیونکہ وہ کذب بیانی اور افترا ہے اور ان کے درمیان جو محاربات ومشاجرات منقول ہیں ان کی بہتر توجیہ وتاویل کی جائے، اور ان میں سے کسی پر عیب یا برائی کا طعن نہ کیا جائے بلکہ ان کے فضائل، کمالات اور عمدہ صفات کا ذکر کیا جائے کیونکہ حضور علیہ السلام کے ساتھ ان کی محبت یقینی ہے اور اس کے علاوہ باقی معاملات ظنی ہیں اور ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالٰی نے انہیں پانے حبیب علیہ السلام کی محبت کے لئے منتخب کرلیا ہے اہل سنت وجماعت کا صحابہ کے بارے میں یہی عقیدہ ہے اس لئے عقائد میں تحریر ہے  کہ صحابہ میں سے ہر کسی کا ذکر خیر کے ساتھ ہی کیا جائے اور صحابہ کے فضائل میں جو آیات واحادیث عموماً یا خصوصاً وارد ہیں وہ اس سلسلہ میں کافی ہیں اھ مختصرا (ت)
ف۱ : مدارج النبوہ مطبوعہ سکھر میں ''وآیات کا لفظ نہیں ہے
 (۱؎ مدارج النبوۃ    وصل درتوقیر حضور واصحاب وے صلی اللہ علیہ وسلم    مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر      ۱ /۳۱۳)
امام محقق سنوسی وعلّامہ تلمسانی پھر علّامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
مانقلہ المؤرخون قلۃ حیاء وادب ۲؎
 (مؤرخین کی نقلیں قلت حیا وادب سے ہیں)
 (۲؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ     باب وفات امہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ    مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر    ۱/ ۲۰۴)
امام اجل ثقہ مثبت حافظ متقن قدوہ یحیٰی بن سعید قطان نے کہ اجلّہ ائمہ تابعین سے ہیں عبداللہ قوایری سے پُوچھا کہاں جاتے ہو؟ کہا  وہب بن جریر کے  پاس سیر لکھنے کو، فرمایا:
تکتب کذبا کثیرا  ۳؎
 (بہت سا جھوٹ لکھوگے)
 (۳؎ میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۷۱۹۷    محمد بن اسحاق            مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۳ /۴۶۹)
ذکرہ فی المیزان عہ
 (اس کا ذکر میزان میں ہے۔ ت)
عہ: فی ترجمۃ محمد بن اسحٰق حیث قال مالہ عندی ذنب الاماقد حشانی فی السیرۃ من الاشیاء المنکرۃ المنقطعۃ والاشعار المکذوبۃ، قال الفلاس سمعت یحیی القطان یقول لعبیداللّٰہ القواریری الٰی این تذھب، قال الٰی وھب بن جریر ا کتب السیرۃ قال تکتب کذبا کثیرا  ۲؎     ۱۲ منہ (م)

اس کا ذکر محمد بن اسحاق کے ترجمہ میں ہے جہاں انہوں نے کہا میرے نزدیک اس کا کوئی گناہ نہیں ماسوائے اس کے کہ انہوں نے سیرت میں منکر ومنقطع روایات اور جھُوٹے اشعار شامل کردئے ہیں، فلاس نے کہا میں نے یحیٰی قطان کو عبیداللہ قواریری سے یہ کہتے ہُوئے سُنا کہ کہاں جارہے ہو، انہوں نے کہا وہب بن جریر کی طرف سیرت لکھنے کیلئے، اس نے کہا تُو وہاں بہت زیادہ جھُوٹ لکھے گا ۱۲ منہ (ت)
 (۲؎ میزان الاعتدال    ترجمہ نمبر ۷۱۹۷    محمد بن اسحاق دارالمعرفۃ بیروت    ۱۳/ ۴۶۹)
تفصیل اس مبحث کی اُن رسائل فقیر سے لی جائے کہ مسئلہ حضرت امیر معٰویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ میں تصنیف کیے یہاں شاہ عبدالعزیز صاحب کی ایک عبارت تحفہ اثنا عشریہ سے یاد رکھنے کی ہے مطاعن افضل الصدیقین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے طعن سوم تخلف حبیش اسامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے رَد میں فرماتے ہیں : جملہ لعن اللہ من تخلف عنہا ہرگز درکتب اہل سنت موجود نیست قال الشھرستانی فی الملل والنحل ان ھذہ الجملۃ موضوعۃ ومفتراۃ وبعضے فارسی نویسان کہ خود رامحدثین اہل سنت شمردہ اند ودرسیر خود ایں جملہ را اوردہ برائے الزام اہل سنت کفایت نمی کند زیراکہ اعتبار حدیث نزد اہل سنت بیافتن حدیث درکتب مسندہ محدثین نزد اہل سنت بیافتن حدیث درکتب مسندہ محدثین است مع الحکم بالصحۃ وحدیث بے سند نزد ایشاں شتربے مہار است کہ اصلا عہ گوش بآں نمی نہند ۱؎۔
جملہ
''لعن اللّٰہ من تخلف عنھا''
کتب اہلِ سنت میں ہرگز موجود نہیں، شہرستانی نے الملل والنحل میں کہا کہ یہ جملہ موضوع اور جھُوٹا ہے، اور بعض فارسی لکھنے والوں نے خود کو محدثین اہلسنت ظاہر کیا ہے اور اہل اسنت کو الزام دینے کے لئے اپنی کتب میں اس جملہ کو شامل کردیا لیکن یہ قابلِ اعتبار نہیں، اہلسنت کے ہاں حدیث وہی معتبر ہے جو محدثین کی کتب احادیث میں صحت کے ساتھ ثابت ہو، ان کے ہاں بے سند حدیث ایسے ہی ہے جیسے بے مہار اونٹ، جو کہ ہرگز ناقابلِ سماعت نہیں۔ (ت)
 (۱؎ تحفہ اثناعشریہ       باب دہم طعن سوم ازمطاعن ابی بکر            مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص  ۲۶۵)
عہ: اقول یعنی درامثال باب تاباب احکام فاما دون اوکہ باب تساہل ست نقل معتمدی بسند است دگرچندبے سنداست چنانکہ در افادہ بست وہفتم تحقیق نمودیم خود شاہ صاحب درہچو مقام بہ بسیارے ازروایات بے سند استنادکردہ است کما لایخفی علی من طابع کتبہ وسر انجام است کہ کمال تحقیق ایں معنی در فائدہ  اخیر کردیم ۱۲منہ(م)

اقول یعنی یہ مثالِ مقام تاباب میں ہے اسکے علاوہ جو باب تساہل ہے کوئی ایک معتمد نقل سند کے ساتھ ہو

دوسری چاہے بے سندہوں، چنانچہ ستائیسویں۲۷ افادہ میں ہم نے تحقیق کی ہے کہ خود شاہ صاحب نے اس جیسے مقام میں بہت روایات بے سند ذکر کی ہیں جیسا کہ اس پر مخفی نہیں جس نے ان کی کتب کا مطالعہ کیا ہے آخر کار اس معنی کی مکمل تحقیق میں نے آخری فائدہ میں کردی ہے ۱۲ منہ (ت)
فائدہ ۳:(اظہر یہی ہے کہ تفرد کذاب بھی مستلزم موضوعیت نہیں) افادہ دہم  دیکھیے جو حدیث  اُن پندرہ  قرائن وضع سے منزہ ہو ہم  نے اُس کے بارے میں کلمات علماء تین طرز پر نقل کئے اصلاً موضوع نہ کہیں گے تفرد کذاب ہوتو موضوع تفرد متہم ہو تو موضوع، اور افادہ ۲۳  میں اشارہ کیا کہ ہمارے نزدیک مسلک اول قوی واقرب بصواب ہے  افادہ ۱۰ میں امام سخاوی سے اُس کی تصریح اور کلام علی قاری سے نظیر صریح ذکر کی دوسری نظیر صاف وسفید حدیث مرغ سپید کہ کلام علامہ مناوی سے افادہ ۲۳ میں گزری وہیں دلیل ثامن میں بشہادت حدیث وحکم عقل اس کی تقویت کا ایما کیا۔
والاٰن اقول یہی مذہب فقیر نے کلامِ امیرالمومنین فی الحدیث شعبہ بن طجاج سے استنباط کیا، فائدہ تاسعہ میں آتا ہے کہ انہوں نے قسم کھاکر کہا ابان بن ابی عباس حدیث میں جھُوٹ بولتا ہے پھر خود ابان سے حدیث سنی، اس پر پُوچھا گیا، فرمایا اس حدیث سے کون صبر کرسکتا ہے، معلوم ہوا کہ مطعون بالکذب کی ہر حدیث موضوع نہیں ورنہ اس کی طرف ایسی رغبت اور وہ بھی ایسے امام اجل سے چہ معنی ۔
ثم اقول اور فی الواقع یہی اظہر ہے کہ آخر الکذوب قدیصدق
(جھوٹ بولنے والا بھی کبھی سچ کہتا ہے۔ ت) میں کلام نہیں اور یہ بھی مسلّم کہ ایک شخص واحد کا روایت حدیث سے تفرد ممکن یہاں تک کہ غریب فرد میں صحیح حسن ضعیف بہ ضعف قریب وضعف شدید سب قسم کی حدیثیں مانی جاتی ہیں تو یہ کیوں نہیں ممکن کہ کبھی موسم بتکذیب بھی تفرد کرے اور اس حدیث خاص میں سچّا ہو اس کے بطلان پر کیا دلیل قائم، لاجرم یہی مذہب مہذب مقتضائے ارشادات امام ابن الصلاح وامام نووی وامام عراقی وامام قسطلانی وغیرہم اکابر ہے ان سب ائمہ نے موضوع کی یہی تعریف فرمائی کہ وہ حدیث کہ جو نری گھڑت اور افترا اور نبی عہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جھُوٹ بنائی گئی ہو،
عہ: بناء علی ان ماوضع علی غیرہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فیقال لہ الموضوع علی فلان ومطلقہ لایراد بہ الالکذب وعلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وعلیہ یبتنی مافی الارشاد وان طلقت فانت فی سعتہ منہ کماھو ظاھر کلام اٰخرین ۱۲ منہ (م)

اس بنا پر کہ اگر اس نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے پر جھوٹ گھڑا ہوتو اسے ''موضوع علٰی فلاں'' کہا جاتا ہے اور جب مطلقاً ذکر ہوتو اس وقت حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ہی جھُوٹ مراد ہوگا جو ارشاد میں ہے اس کی بنا اسی پر ہے اگر آپ اس کو مطلق ذکر کریں تو آپ کو اس میں گنجائش ہے جیسا کہ دوسروں کے کلام سے ظاہر ہے ۱۲ منہ (ت)
علوم الحدیث امام ابوعمر وتقریب میں ہے:
الموضوع ھوالمختلق المصنوع ۱؎
(موضوع وہ حدیث ہے جو من گھڑت اور بناوٹی ہو۔ ت)
 (۱؎ تقریب النواوی مع شرح تدریب الراوی    النوع الحادی والعشرون    مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ    ۱/ ۲۷۴)
الفیہ میں ہے : ؎
شرالضعیف الخیر الموضوع

الکذب المختلق المصنوع ۲؎
 (ضعیف کی بدترین قسم خبر موضوع ہے، جو جھوٹ ہو گھڑی گئی ہو اور بناوٹی ہو۔ ت)
 (۲؎ الفیۃ الحدیث مع فتح المغیث بحث الموضوع    دارالامام الطبری بیروت                ۱/ ۲۹۳)
ارشاد الساری میں ہے : الموضوع ھوالکذب علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ویسمی المختلق ۳؎۔
موضوع وہ حدیث ہے جو نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑاگیا ہو اسے مختلق بھی کہتے ہیں۔ (ت)
 (۳؎ ارشاد الساری شرح البخاری        الفصل الثالث فی نبذۃ لطیفۃ الخ    مطبوعہ دارالکتاب العربیہ    ۱/ ۱۳)
Flag Counter