| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ) |
فائدہ ۱: نفیسہ جلیلہ (فضیلت وافضلیت میں فرق ہے دربارہ تفضیل حدیث ضعیف ہرگز مقبول نہیں) فضیلت وافضلیت میں زمین آسمان کا فرق ہے وہ اسی باب سے ہے جس میں ضعاف بالاتفاق قابلِ قبول اور یہاں بالاجماع مردود ونامقبول۔ اقول جس نے قبول ضعاف فی الفضائل کا منشا کہ افاداتِ سابقہ میں روشن بیانوں سے گزرا ذہن نشین کرلیا ہے وہ اس فرق کو بنگاہِ اولین سمجھ سکتا ہے قبول ضعاف صرف محل نفع بے ضرر میں ہے جہاں اُن کے ماننے سے کسی تحلیل یا تحریم یا اضاعتِ حق غیر غرض مخالفت شرع کا بوجہ من الاجوہ اندیشہ نہ ہو فضائل رجال مثل فضائل اعمال ایسے ہی ہیں، جن بندگانِ خدا کا فضل تفصیلی خواہ صرف اجمالی دلائل صحیحہ سے ثابت ہے اُن کی کوئی منقبت خاصہ جسے صحاح وثوابت سے معارضت نہ ہو اگر حدیث ضعیف میں آئے اُس کا قبول تو آپ ہی ظاہر کہ اُن کا فضل تو خود صحاح سے ثابت، یہ ضعیف اُسے مانے ہی ہوئے مسئلہ میں تو فائدہ زائدہ عطا کرے گی اور اگر تنہا ضعیف ہی فضل میں آئے اور کسی صحیح کی مخالفت نہ ہو وہ بھی مقبول ہوگی کہ صحاح میں تائید نہ سہی خلاف بھی تو نہیں بخلاف افضلیت کے کہ اس کے معنی ایک کو دوسرے سے عنداللہ بہتر وافضل ماننا ہے یہ جب ہی جائز ہوگا کہ ہمیں خدا ورسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد سے خوب ثابت ومحقق ہوجائے، ورنہ بے ثبوت حکم لگادینے میں محتمل کہ عنداللہ امر بالعکس ہوتو افضل کو مفضول بنایا، یہ تصریح تنقیص شان ہے اور وہ حرام تو مفسدہ تحلیل حرام وتضیع حق غیر دونوں درپیش کہ افضل کہنا حق اس کا تھا اور کہہ دیا اس کو۔ یہ اس صورت میں تھا کہ دلائل شرعیہ سے ایک کی افضلیت معلوم نہ ہو۔ پھر وہاں کا تو کہنا ہی کیا ہے، جہاں عقائدِ حقّہ میں ایک جانب کی تفصیلی محقق ہو اور اس کے خلاف احادیث مقام وضعاف سے استناد کیا جائے، جس طرح آج کل کے جہال حضرات شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہا پر تفضیل حضرت مولا علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم میں کرتے ہیں۔ یہ تصریح مضادتِ شریعت ومعاندتِ سنّت ہے۔ ولہذا ائمہ دین نے تفضیلیہ کو روافض سے شمار کیا
کمابیناہ فی کتابنا المبارک "مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین"(۱۳۹۷ھ)
(جیسا کہ ہم نے اسے اپنی مبارک کتاب ''مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین'' میں بیان کیا ہے۔ ت) بلکہ انصافاً اگر تفضیل شیخین کے خلاف کوئی حدیث صحیح بھی آئے قطعاً واجب التاویل ہے اور اگر بفرضِ باطل صالح تاویل نہ ہو واجب الرد کہ تفضیل شیخین متواتر واجماعی ہے
کمااثبتنا علیہ عرش التحقیق فی کتابنا المذکور
(جیسا کہ ہم نے اپنی اس مذکورہ کتاب میں اس مسئلہ کی خوب تحقیق کی ہے۔ ت) اور متواتر واجماع کے مقابل اعاد ہرگز نہ سُنے جائیں گے ولہذا امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں زیر
حدیث عرض علی عمر بن الخطاب وعلیہ قمیص یجرّہ قالوا فمااولت ذلک یارسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم) قال الذین
(مجھ پر عمر بن الخطاب کو پیش کیا گیا اور وہ اپنی قمیص گھسیٹ کر چل رہے ہیں، صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ فرمایا دین۔ ت) فرماتے ہیں:
لئن سلّمنا التخصیص بہ (ای بالفاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) فھو معارض بالاحادیث الکثیرۃ البالغۃ درجۃ التواتر المعنوی الدالۃ علی افضلیۃ الصدیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فلاتعارضھا الاحاد، ولئن سلمنا التساوی بین الدلیلین لکن اجماع اھل السنۃ والجماعۃ علی افضلیتہ وھو قطعی فلایعارضہ ظنی ۱؎۔
اگر ہم یہ تخصیص ان (یعنی فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے ساتھ مان لیں تو یہ ان اکثر احادیث کے منافی ہے جو تواتر معنوی کے درجہ پر ہیں اور افضلیت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ پر دال ہیں اور احاد کا ان کے ساتھ تعارض ممکن ہی نہیں اور اگر ہم ان دونوں دلیلوں کے درمیان مساوات مان لیں لیکن اجماعِ اہلسنت وجماعت افضلیت صدیق اکبر پر دال ہے اور وہ قطعی ہے، تو ظن اس کا معارض کیسے ہوسکتا ہے! (ت)
(۱؎ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری باب تفاضل اہل ایمان فی الاعمال مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۱/ ۱۰۶)
الجملہ مسئلہ افضلیت ہرگز باب فضائل سے نہیں جس میں ضعاف سن سکیں بلکہ موافقت وشرح مواقف میں تو تصریح کی کہ بابِ عقائد سے ہے اور اس میں احاد صحاح بھی نامسموع،
حیث قال لیست ھذہ المسألۃ یتعلق بھا عمل فیلتفی فیھا بالظن الذی ھوکاف فی الاحکام العلمیۃ بل ھی مسألۃ علمیۃ یطلب فیھا الیقین ۱؎۔
ان دونوں نے کہا کہ یہ مسئلہ عمل سے متعلق نہیں کہ اس میں دلیل ظنی کافی ہوجائے جو احکام میں کافی ہوتی ہے بلکہ یہ معاملہ تو عقائد میں سے ہے اس کے لئے دلیل قطعی کا ہونا ضروری ہے۔ (ت)
(۱؎ شرح مواقف المرصد الرابع ازموقف سادس فی السمعیات مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸/ ۳۷۲)
فائدہ ۲: مہمہ عظیمہ (مشاجرات صحابہ میں تواریخ وسیر کی موحش حکایتیں قطعاً مردود ہیں) افادہ ۲۳ پر نظر تازہ کیجئے وہاں واضح ہوچکا ہے کہ کتبِ سیر میں کیسے کیسے مجروحوں میں مطعونوں شدید الضعفوں کی روایات بھری ہیں وہیں کلبی رافضی متہم بالکذب کی نسبت سیرت عیون الاثر کا قول گزرا کہ اُس کی غالب روایات سیر وتواریخ ہیں جنہیں علما ایسوں سے روایت کرلیتے ہیں وہیں سیرت انسان العیون کا ارشاد گزرا کہ سیر موضوع کے سوا ہر قسم ضعیف وسقیم وبے سند حکایات کو جمع کرتی ہے پھر انصافاً یہ بھی انہوں نے سیر کا منصب بتایا جو اُسے لائق ہے کہ موضوعات تو اصلاً کسی کام کے نہیں اُنہیں وہ بھی نہیں لے سکتے ورنہ بنظر واقع سیر میں بہت اکاذیب واباطیل بھرے ہیں کمالایخفی بہرحال فرق مراتب نہ کرنا اگر جنوں نہیں تو بدمذہبی ہے بد مذہبی نہیں تو جنون ہے، سیر جن بالائی باتوں کے لئے ہے اُس میں حد سے تجاوز نہیں کرسکتے اُس کی روایات مذکورہ کسی حیض ونفاس کے مسئلہ میں بھی سننے کی نہیں نہ کہ معاذاللہ اُن واہیات ومعضلات وبے سروپا حکایات سے صحابہ کرام حضور سیدالانام علیہ وعلٰی آلہٖ وعلیہم افضل الصّلاۃ والسلام پر طعن پیدا کرنا اعتراض نکالنا اُن کی شانِ رفیع میں رخنے ڈالنا کہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا مگر گمراہ بددین مخالف ومضاد حق تبیین آج کل کے بدمذہب مریض القلب منافق شعار ان جزافات سیروخرافات تواریخ وامثالہا سے حضرات عالیہ خلفائے راشدین وام المومنین وطلحہ وزبیر ومعاویہ وعمروبن العاص ومغیرہ بن شعبہ وغیرہم اہلبیت وصحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے مطاعن مردودہ اور ان کے باہمی مشاجرات میں موحش ومہل حکایات بیہودہ جن میں اکثر تو سرے سے کذب وواحض اور بہت الحاقات ملعونہ روافض چھانٹ لاتے اور اُن سے قرآن عظیم وارشاداتِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم واجماعِ اُمّت واساطین ملّت کا مقابلہ چاہتے ہیں بے علم لوگ اُنہیں سُن کر پریشان ہوتے یا فکر جواب میں پڑتے ہیں اُن کا پہلا جواب یہی ہے کہ ایسے مہملات کسی ادنٰی مسلمان کو گنہگار ٹھہرانے کیلئے مسموع نہیں ہوسکتے نہ کہ اُن محبوبانِ خدا پر طعن جن کے مدائح تفصیلی خواہ اجمالی سے کلام اللہ وکلام رسول اللہ مالامال ہیں جل جلالہ، وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، امام حجۃ الاسلام مرشد الانام محمدمحمد محمد غزالی قدسہ سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں:
لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال ان ابن ملجم قتل علیا فان ذلک یثت متواترا ۱؎۔
کسی مسلمان کو کسی کبیرہ کی طرف بے تحقیق نسبت کرنا حرام ہے، ہاں یہ کہنا جائز ہے کہ ابن ملجم شقی خارجی اشقی الآخرین نے امیرالمومنین مولٰی علی کرم اللہ وجہہ کو شہید کیا کہ یہ بتواتر ثابت ہے۔ (ت)
(۱؎ احیاء علوم الدین کتاب آفات اللسان الآفۃ الثامنۃ: اللعن مطبوعہ مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ ۳ /۱۲۵)