عہ۱: شبِ جمعہ وغیرہ ارواح کے آنے اور صدقہ چاہنے کی احادیث کو کہا ان روایات ص۹۷ میں عمل ہی نہیں بلکہ علم ہے عقیدہ کے باب میں یہ حدیث ہے یہ مسئلہ ص۹۶ عقائد کا ہے اس میں مشہور ومتواتر صحاح کی حاجت ہے، یہ اعتقادیات میں داخل ہے کہ ارواح کا شبِ جمعہ کو گھر آنا اعتقاد کرے اور اعتقاد میں قطعیات کا اعتبار ہے نہ ظنیاتِ صحاح کا ۱؎ اھ بالالتقاط ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (م)
(۱؎ براہین قاطعہ مطبع نے بلاساڈھور ص ۸۹)
اسی براہین کے صفحہ ۲۸ و ۲۹ پر ارشاد ہوتا ہے :
''مؤلف اپنی خوبی فہم سے معنی قرون ثلٰثہ میں نہ موجود ہونے کے یہ سمجھ رہا ہے کہ اگر جزئی خاص نے اُن قرون میں وجود خارجی نہ پایا اگرچہ دلیل جواز کی موجود ہوتو وہ بدعت سیہ ہے مگر یہ بالکل غلط فاحش اور کور علمی اور کج فہمی ہے بلکہ معنے یہ ہیں کہ جو شے بوجود شرعی قرون ثلٰثہ میں موجود ہو وہ سنت ہے اور جو بوجود شرعی موجود نہ ہو وہ بدعت ہے، وجودِ شرعی اس کو کہتے ہیں کہ بدون شارع کے بتلانے کے معلوم نہ ہوسکے پس اس شے کا وجود شارع کے ارشاد پر موقوف ہوا خواہ صراحۃً ارشاد ہو یا اشارۃً ودلالۃً پس جب کسی نوعِ ارشاد سے حکمِ جواز کا ہوگیا وہ شے وجود شرعی میں آگئی اگرچہ اس کی جنس بھی خارج میں نہ آئی ہو پس جس کے جواز کا حکم کلیۃ ہوگیا وہ بجمیع جزئیات شرع میں موجود ہوگیا اور جس کے عدمِ جواز کا حکم ہوگیا تو شرع میں اس کا عدم ثابت ہوگیا پس یہ حاصل ہوا کہ جس کے جواز کی دلیل قرونِ ثلٰثہ میں ہو خواہ وہ جزئیہ بوجود خارجی اُن قرون میں ہُوا یا نہ ہوا اور خواہ اس کی جنس کا وجود خارج میں ہوا ہو یا نہ ہوا ہو وہ سب سنت ہے اور وہ بوجود شرعی ان قرون میں موجود ہے اور جس کے جواز کی دلیل نہیں تو کواہ وہ ان قرون میں بوجود خارجی ہوا یا نہ ہوا وہ سب بدعت ضلالہ ہے اس قاعدہ کو خُوب سمجھ لینا ضرور ہے مولف اور اس کے اشیاع نے اُس کی ہوا بھی نہ سُونگھی اس عاجز کو اپنے اساتذہ جہاندیدہ کی توجہ سے حاصل ہوا ہے اس جوہر کو اس کتاب میں ضرورۃً رکھتا ہوں کہ موافقین کو نفع اور مخالفین کو شاہد ہدایت ہو ۱؎ الخ ملخصاً۔''
(۱؎ براہین قاطعہ قرون ثلاثہ میں موجود ہونے نہ ہونے کے معنی مطبوعہ مطبع لے بلاسا واقع ڈھور ص ۲۹۔ ۲۸)
اقول ماشاء اللہ کیا چمکتا جوہر کتاب میں رکھا ہے کہ آدھی وہابیت اپنا جوہر کر گئی، نجدیت بیچاری کے دو۲ رکن ہیں شرک وبدعت، رکن پسین پر قیامت گزرگئی، کبرائے طائفہ کی برسوں کی مالا جسے جپتی بیتی جس کا لقب بحمداللہ اب آپ ہی کی زبان سے غلط وفاحش وکور علمی وکج فہمی کہ فلاں فعل صحابہ نے نہ کیا تابعین نے نہ کیا تابعین نے نہ کیا فلاں صدی میں شائع ہوا فلاں شخص بانی تھا تم کیا صحابہ وتابعین سے بھی محبت وتعظیم میں زیادہ کہ انہوں نے نہ کیا تم کرنے پر آمادہ بہتر ہوتا تو وہی کر گزرتے فعل میں اتباع ہے ترک میں کیوں نہیں کرتے نیم شوخی میں سارے بکھرگئی صحابہ وتابعین نے ہزار نہ کیا ہو بلکہ اُس جنس کا بھی کوئی کار نہ کیا ہو کچھ ضرر نہیں اشارۃً دلالۃً جزئیہ کسی طرح ارشاد شارع سے جواز نکلے پھر سنّت ماننے سے مضر نہیں ؎
طائفہ بھر کے خلاف آپ سبق کہتے ہیں للہ الحمد اسے ہیبت حق کہتے ہیں
طرفہ یہ کہ اب قرونِ ثلٰثہ کی وہ ہٹ نئے طائفہ کی پُرانی رٹ جسے یہاں بھی نباہ رہے ہو مہمل رہ گئی لفظ کا سوار پکڑا کیجئے، معنی کی نیا اُس پار بہہ گئی جب اُن میں وجود سے سود نہ عدم سے زیاں پھر اُن کا قدم کیا درمیاں۔ خود کہتے ہوکہ وجود خارجی درکار نہیں اور وجود شرعی بے ارشاد شارع محال تو کیا صحابہ تابعین پر کوئی نئی شریعت اُترے گی کہ اُن کے قرون میں وجود نو کا خیال ارشاد شارع سے جس کا جواز مستفادہ وہ ہر قرن میں بوجود شرعی موجود اور جس کا منع مقتضائے ارشاد وہ ہر قرن میں شرع مطہر سے معدوم ومفتود، پھر قرن دون قرن سے کیا کام رہا، محض ارشاد اقدس میں کلام رہا یعنی فعل کبھی حادث ہوا ہو قواعد شرعیہ پر عرض کریں گے اباحت سے وجوب یا ترک اولٰی سے حرمت تک جس اصل میں داخل ہو وہی فرض کریں گے یہی خاص مذہب مہذب اربابِ حق ہے، صاف نہ کہہ دو شرم نباہنے کو اگلی رٹ کا ناحق سبق ہے تم سمجھنا کہ اب تو جو کہنی تھی کہہ گئے ہم جانیں گے تم جہنم کے ایسے ہی تھے چلو ؎
نہ ہم سمجھے نہ تم آئے کہیں سے پسینہ پُونچھیی اپنی جبیں سے
طرفہ تر یہ کہ جس کا جواز دلیل شرع میں موجود وہ سب سنّت، جس کا معدوم وہ سب بدعت ضلالت، اب تیسری شق کی کون سی صورت، تمام افعال انہیں دو۲ حکموں میں محصور ہوگئے خصوصاً اباحت واستحباب وکراہت تنزیہ عہ تین حکم شرع کو کافور ہوگئے، اساتذہ جہابذہ نے سُجھائی تو اچھی کہ دونی اُلجھ گئی سلجھائی لچھی اسی ہستی پر یہ ناز وغرور کہ لوگ تو اس کی ہوا سے دُور، حضرت یہ اپنی ہوا خود آپ ہی سُونگھیں، اہلِ حق کو معاف ہی رکھیں، اچھی تعلیم بھلے تلامذہ رہے تلقین خہے اساتذہ ؎
گرہمیں مکتب وھمیں مُلّا کارطفلاں تمام خواہد شد
عہ: ظاہر ہے کہ ضلالت کا ادنٰی درجہ کراہت تحریم ہے مکروہ تنزیہی ہرگز ضلالت نہیں، دلیل واضح یہ کہ ہر ضلالت میں باس ہے اور مکروہ تنزیہی لاباس بہ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (م)
خیریہ تو وہابیہ جدیدہ کا نامعتقد عقیدہ کہ تقبیل ابہامین سنّتِ مجیدہ، پُرانوں کی سُنیے تو وہ اور ہی ہوا پر کہ یہ فعل معاذاللہ زنا وربا وقذف محصنہ وقتل ناحق نفس مومنہ سب سے بدتر بلکہ عیاذاً باللہ شرک کے انداز اصل ایمان میں خلل انداز کہ آکر باجماعِ طائفہ بدعت حائضہ اور تقویۃ الایمان کا یہ عقیدہ فوائقہ شرک وبدعت سے بہت بچے کہ یہ دونوں چیزیں اصل ایمان میں خلل ڈالتی ہیں اور باقی گناہ ان سے نیچے ہیں کہ وہ اعمال میں خلل ڈالتے ہیں۔ اب خدا جانے اُنہوں نے سنت کو کفر سے ملایا انہوں نے قریب بہ کفر کو سنّت بنایا خیر طویلے کے لتیاؤ میں ہمیں کیا مقال،
کفی اللّٰہ اھل الحق القتال والحمدللّٰہ المھیمن المتعال والصلاۃ والسلام علٰی ذی الافضال واٰلہ وصحبہ خیر صحب وآل آمین۔
اہل حق کی طرف سے قتال میں اللہ کافی ہے اور تمام تعریف اس باری تعالٰی کے لئے جو محافظ وبلند ہےاور صلوۃ وسلام اس ذات پر جو صاحبِ فضل واکرام ہے اور آپ کی آل پر اور اصحاب پر جو بہترین ہیں آمین۔ (ت)
حکم اخیر وخلاصہ تحریر بالجملہ حق اس میں اس قدر کہ فعل مذکور بحکم احادیث وبہ تصریح کتب فقہیہ مستحب ومندوب وامید گاہ فضل مطلوب وثواب مرغوب جو کتب علما وعمل قدما وترغیب وارد پر نظر رکھ کر اُسے عمل میں لائے اُس پر ہرگز کچھ مواخذہ نہیں بلکہ ثواب مروی کی اُمید وارحسن ظن وصدق نیت باعث فضل جاوید اور جو اُسکے مکروہ وممنوع وبدعت بتائے مبطل وخاطی علمائے کرام مقتدایان عام جب کسی منکر کو دیکھیں اُس کے سامنے ضرور ہی کریں کہ بد مذہب کا رد اور اُس کے دل پر غیظ اشد ہو جس طرح ائمہ کرام نے فرمایا کہ وضو نہر سے افضل مگر معتزلی عہ۱ منکر حوض کے سامنے حوض سے بہتر ۱؎ کمابینہ المولی المحقق فی فتح القدیر وغیرہ فی غیرہ عہ۲ جب ترک افضل اس نیت سے افضل تو مستحب ومندوب تو آپ ہی افضل،
عہ۱ : یہ لفظ یہاں عجب لطیف واقع ہوا کہ معتزلہ حوض سے وضو ناجائز بتاتے ہیں یہاں یہی معنی مراد اور وہ اشقیا حوضِ کوثر کے بھی منکر ہیں ۱۲ منہ (م)
عہ۲ :کلد روحواشیہ وآخرین کلہم فی المیاہ ۱۲ منہ (م)
(۱؎ فتح القدیر باب ماء الذی یجوزبہ الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۷۲)
والحمدللّٰہ ولی الانعام وافضل الصلاۃ واکمل السلام علٰی سیدالختام قمر التمام واٰلہ وصحبہ الغر الکرام اٰمین۔
تمام تعریف اللہ کے لئے جو انعام کا مالک ہے اور افضل صلاۃ اور اکمل سلام ہو انبیاء کے خاتم وسربراہ پر، جو چودھویں کا کامل چاند ہیں، اور آپ کی آل واصحاب پر، جو نہایت ہی روشن اور مکرم ہیں آمین!
خاتمہ فوائد منثورہ میں ایہا المسلمون اس مسئلہ کا سوال فقیر کے پاس بلادِ نزدیک ودُور سے باربار آیا ہر دفعہ بمقتضائے حال کبھی مختصر کبھی کچھ مطول کبھی دو ایک صفحہ کبھی دوچار ہی سطر جواب لکھتا رہا بار آخر قدرے زیادہ تفصیل کی کہ ایک جز تک پہنچ کر صورت رسالہ میں جلوہ گر ہُوئی سائل نے علمائے اعلام بدایوں وبریلی ورامپور
وقین عن الشروع وبقین بالسرور
(جو شر سے دُور سرور سے معمور رہتے ہیں۔ ت) سے مُہریں کرائیں تصدیقیں لکھائیں اصل رسالہ منیرالعین اُسی قدر تھا کہ بفرمائش سید معظم مولانا مولوی غلام حسین صاحب جُونا گڈھی نزیل بمبئی
حفظہ اللّٰہ عن شرکل بشرو رئی
(اللہ تعالٰی انہیں ہر بشر اور نظرِ بد کے شر سے محفوظ رکھے۔ ت)
واہتمام تمام نام مولانا المکرم مولوی محمد عمرالدین صاحب ہزاروی جعلہ اللّٰہ کاسمہ عمرالدین وعمر بہ عمران الدین المتین
(اللہ تعالٰی انہیں ان کو نام کی طرح دین کی خدمت کرنے والا بنائے اور ان کے ذریعے اپنے دین متین کو آباد فرمائے۔ ت)
وعلو ہمت سیٹھ حاجی محمد بن حاجی محمد عبداللطیف لطف بھما المولی اللطیف
(لطف فرمانے والا مولٰی ان دونوں پر لطف فرمائے۔ ت) ماہ مبارک اشرف وافضل شہرر ربیع الاول ۱۳۱۳ھ میں چھپنا آغاز ہُوا سرکار مفیض سے مضامین کثیرہ کا القا وافادہ دلنواز ہُوا اور اُدھر کاپی کی تیاری اِدھر تصنیف جاری، جو جز لکھا روانہ کیا یہاں تک کہ ایک جز کا رسالہ دس جز تک پہنچا الحمدللّٰہ
من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا ۱؎
(تمام تعریف اللہ کے لئے جو ایک نیکی پر دس اجر عطا فرماتا ہے۔ ت)
(۱القرآن ۶/ ۱۶۰)
جس میں رسالہ عربیہ مدارج طبقات الحدیث جُدا کرلیا اُدھر یہ تعجیل اِدھر ورود فتاوٰی سے فرصت قلیل، نظر ثانی کی بھی فرصت نہ ملی، بعض فوائد حاضرہ کی تجرید رہ گئی، بعض نے نظر یا خاطر میں وقعت غابر میں تجلی کی ہنوز کہ سیارہ طبع بذریعہ حرکت بمعنی القطع مبدء کا تارک منتہی کا طالب ہے نہ الحاق باقی مواقع ماضیہ سے متیسر نہ اُس کا ترک ہی مناسب ہے اور ائمہ تصنیف کا داب شریف کہ آخر کتاب میں کچھ مسائل تازہ کچھ متعلق بابواب سابقہ تحریر اور انہیں مسائل شتی یا مسائل منثورہ سے تعبیر فرماتے ہیں لہذا اقتضاءً بہم یہ فوائد منثورہ بعونہٖ تعالٰی سلکِ تحریر میں انتظام پاتے ہیں۔