Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
132 - 157
عزیزو! خدارا انصاف، ذرا شاہ ولی کے ''قول الجمیل'' کو دیکھو اور اُن کے والد ومشایخ وغیرہم کے اختراعی اعمال تماشا کرو، دردِ سر کے لئے تختہ پر ریتا بچھانا کیل سے ابجد ہوز لکھنا، چیچک کو نیلے سوت کا گنڈا بنانا، پھُونک پھُونک کر گرہیں لگانا، اسمائے اصحابِ کہف سے استعانت کرنا  انہیں آگ، لُوٹ، چوری سے امان سمجھنا، دیواروں پر اُن کے لکھنے کو آمدِ جن کی بندش جاننا، دفع جِن کو چار کیلیں گوشہ ہائے مکان میں گاڑنا، عقیمہ کے لئےگلاب اور زعفران سے ہرن کی کھال لکھنا، یہ کھال اس کے گلے کا ہار کرنا، اسقاطِ حمل کو کسی کا رنگا گنڈا نکالنا، عورت کے قد سے ناپنا، گِن کر نو گرہیں لگانا، دردِ زہ کو آیاتِ قرآنی لکھ کر عورت کی بائیں ران میں باندھنا، فرزند نرینہ کیلئے ہرن کی کھال اور وہی گلاب وزعفران کا خیال، بچّہ کی زندگی کو اجوائن اور کالی مرچیں لینا اُن پر ٹھیک دوپہر کو قرآن پڑھنا، لڑکا نہ ہونے کو عورت کے پیٹ پر دائرے کھینچنا، ستّر سے کم شمار نہ ہونا، دفعِ نظر کو چھری سے دائرہ کھینچنا، کنڈل کے اندر چھُری رکھنا، عائن وساحر کا نام لے کر پکارنا، ناپ کر تین گز ڈورا لینا اُس پر شہت بہت کیاکیا الفاظ غیر معلوم المعنی پڑھنا، قنطاع النجا خدا جانے کون ہے اُسے ندا کرنا، چور کی پہچان کا عمل نکالنا، یٰس پڑھ کر لوٹا گھمانا، بخار کو عیسٰی وموسٰی ومحمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی قسمیں دینا، مصروع کو تانبے کی تختی پر دو اسم کھدوانا، پھر تعیین یہ کہ دن بھی خاص اتوار ہو اُس کی بھی پہلی ہی ساعت میں کار ہو۔ اُس کے سوا صدہا باتیں ہیں ان میں کون سی حدیث صحیح یا حسن یا ضعیف ہے، ارے یہ قرونِ ثلاثہ میں کب تھیں، اور جب کچھ نہیں تو بدعت کیوں نہ ٹھہریں، شاہ صاحب اور ان کے والد ماجد وفرزند ارجمند واساتذہ ومشایخ معاذاللہ بدعتی کیوں نہ قرار پائے، یہ سب تو بے سند حلال ونفائس اعمال مگر اذان میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک سُن کر انگوٹھے چُومنا آنکھوں سے لگانا اُس سے روشنیِ بصر کی اُمید رکھنا کہ اکابر سلف سے ماثور علماء وصلحاء کا دستور کُتبِ فقہ میں مسطور، یہ معاذاللہ حرام و وبال وموجبِ ضلال، تو کیا بات ہے یہاں نامِ پاک حضور سیدالمحبوبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم درمیان ہے لہذا وہ دلوں کی دبی آگ بحیلہ بدعت شعلہ فشاں ہے ؎
بہررنگے کہ خواہی جامہ مے پوش		من اندازِ قدرت رامے شناسم

یہ سب درکنار شاہ صاحب اور ان کے اسلاف واخلاف یہاں تک کہ میاں اسمٰعیل دہلوی تک نے امر اعظم دین تقریب رب العٰلمین یعنی راہِ سلوک میں صدہا نئی باتیں نکالیں طرح طرح کے ایجاد واختراع کی طرحیں ڈالیں اور آپ ہی صاف صاف تصریحیں کیں کہ ان کا پتا سلف صالح میں نہیں خاص ایجاد بندہ ہیں مگر نیک وخوب وخوش آئندہ ہیں محدثات کو ذریعہ وصول الی اللہ جانا یا باعثِ ثواب تقرب رب الارباب مانا اس پر ان حضرات
کو نہ کل بدعۃ ضلالۃ
 (ہر بدعت گمراہی ہے۔ ت) کا کلیہ یاد آتا ہے نہ
من احدث فی امرنا مالیس منہ
(وہ شخص جس نے ہمارے دین میں کچھ ایجاد کیا جو دین میں سے نہ ہو۔ ت) یہاں
فھو رد
(پس وہ مردود ہے۔ ت) کا خلعت پاتا ہے، مگر شریعت اپنے گھر کی ٹھہری کہ ع
من کنم آنچہ من خواستم تو مکن آنچہ خواستے
 (میں جو چاہوں گا کروں گا تو جو چاہے نہ کر)
ان امور کی قدرے تفصیل اور ان صاحبوں کی تصریحات جلیل فقیر کے رسالہ انھار الانوار من یم صلاۃ الاسرار میں مذکور اور عدم ورود کو ورود عدم جاننے کا قلع کافی وقمع وافی کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد وکتاب لاجواب اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد والقیام وغیرہما تصنیفات شریفہ وتالیفات منیفہ اعلحٰضرت تاج المحققین الکرام سراج المدققین الاعلام حامی السنن السنیہ ماحی الفتن الدنیہ بقیہ السلف المصلحین سیدی دوالدی ومولای ومقصدی حضرت مولانا مولوی محمد نقی علی خاں صاحب قادری برکاتی احمدی رضی اللہ تعالٰی عنہ واجزل قربہ منہ اور بقدر حاجت باجمال ووجازت رسالہ اقامۃ القیامہ علی طاعن القیام لنبی تھامہ وغرہار سائل ومسائل فقیر میں مسطور والحمدللّٰہ العزیز الغفور والصلاۃ والسلام علے المنیر النور وعلٰی اٰلہ وصحبہ الٰی یوم النشور اٰمین۔
افادہ سیم ۳۰ (ہم تو استحباب ہی کہتے ہیں طرفہ یہ کہ وہابیہ جدیدہ کے طور پر تقبیل ابہامین خاص سنّت ہے) اقول ہمیں تو اس عمل تقبیل ابہامین کا جواز واستحاب ہی ثابت کرنا تھا کہ بعونہ عزوجل باحسن وجوہ نقش مراد کرسی نشین اور عرش تحقیق مستقر ومکین ہوا
وللّٰہ الحمد علی ما اولی من نعم لاتحصی
 (اللہ ہی کیلئے تعریف جو غیر محدود نعمتوں کا مالک ہے۔ ت) مگر حضرات وہابیہ اپنے نئے اماموں کی خبر لیں ان کے طور پر یہ فعل جائز کہاں کا مستحب کیسا خاص سنّت سنیہ بلند وبالا ہے اور اُس کا منکر سنّتِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا رد کرنے والا، بات بظاہر بہت چونکنے کی ہے کہ کہاں وہابی کہاں یہ انکہی مذہب بھر کی خرابی مگر نہ جانا کہ توہب واضطراب وتقلب وانقلاب دونوں ایک پستان سے دودھ پئے ہیں رفاقت دائم کا عہد کیے ہیں ؎
گر براند  نرود  ور برود  باز آید

ناگزیراست تناقض سخن نجدی را

(اگر دُور کرنے تو دُور نہ ہوگا اور اگر چلاجائے تو واپس آجائے گا نجدی کے کلام سے تناقض جدا نہیں رہ سکتا)طائفہ جدید کے استاد رشید نے اپنی کتاب عجاب براہین قاطعہ
''ماامراللہ بہ ان یوصل''
میں مسئلہ قبول ضعاف فیما دون الاحکام کے اگرچہ بکمال سلیم القلبی وبصیر العینی وعجیب وغریب معنے تراشے کہ جدت کی لہریں، حدث کے تماشے ایک ایک ادا پر ہزارہزار مکابرے، اپنی جانیں واریں عقل وہوش وچشم وگوش اپنے عدم ملکہ کو صدقے اتاریں خادمانِ شریعت چاکر اِن ملّت
مالم تسمعوا انتم ولااٰباؤکم
 (جو تم نے اور تمہارےآبا و اجداد نے کبھی نہیں سُنیں۔ ت)
پکاریں حضرت کی تمام سعی باطل تطویل لاطائل کا یہ حاصل بے حاصل کہ ارشادات عہ۱ علماء کی یہ مراد کہ صرف(۱) وہ حدیث ضعیف قابل قبول جس میں کسی عمل صالح کی فضیلت اور اس پر ثواب مذکور اگرچہ خاص اس عمل میں حدیث صحیح نہ آئی ہو جیسے روزہ ماہِ رجب وغیرہ اس کے بغیر اگرچہ حدیث میں عمل کی طلب نکلے جب کوئی خاص ثواب وفضیلت مذکور نہ ہو مقبول نہیں کہ یہ تو حدیث(۲) عمل کی ہوئی نہ فضائل عمل کی پھر بشرط عہ۲  مذکور حدیث اگرچہ مقبول ہوگی مگر وہ عمل(۳) باوصف قبول حدیث وتسلیم فضیلت مستحب ہرگز نہ ٹھہرے گا جب تک حدیث حسن لغیرہ نہ ہوجائے، حدیث(۴) ضعیف سے ثبوتِ استحباب محض اختراع وخلافِ اجماع ہے علما نے جتنے (۵) اعمال کو بہ نظرِ ورود احادیث مستحب مانا اُن سب میں حدیث حسن لغیرہ ہوگئی ہے دلیل(۶) یہ کہ احادیث ادعیہ وضو کو علامہ طحطاوی نے کہہ دیا کہ حسن لغیرہ ہیں۔
عہ ۱ : اقوال قبول ضعیف کو کہا سب کا یہی (ص ۹۶) مدعا ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف پر عمل درست ہے بھلا لیلۃ الجمعہ شب برأت، عیدین کے صدقہ میں کون سی فضیلت وثوابِ عظیم مذکور ہے جس پر عمل جائز ہو روایات میں کوئی ثواب مذکور نہیں فقط روح کا آنا اور حسرتناک بات کرنا اور طلب صدقہ کرنا ہے یہ فضائل اعمال کس طرح ہوئے، ہاں اعلام اُن کے آنے کا ہے یہ باب (ص ۹۹)علم کا ہے نہ فضل عمل کا کیونکہ ان روایات(ص ۹۷) میں عمل ہی نہیں بلکہ علم ہے اور اگر کوئی بپاس خاطر مؤلف عمل تسلیم بھی کرلے تو فقط عمل ہے نہ فضل عمل ہاں حدیث صومِ رجب وصلاۃ الاوابین میں فضل عمل ہے ص۹۷ اھ ملتقطا ۱۲ منہ (م)

عہ۲ : انوار ساطعہ میں تھا فقہاء اس عمل کو جو حدیث ضعیف سے ثابت ہو مستحسن لکھتے ہیں چنانچہ صلاۃ الاوابین، گردن کا مسح، رجب کا روزہ اس پر کہا یہ سرتاپا غلط ہے کسی نے یہ نہ کہا محض ایجاد ناصواب ہے مستحب کا ثبوت صحیح یا حسن سے ہوتا ہے ضعاف کہ ان امور میں ہیں تعدد طرق سے حسن لغیرہ ہوگئے ہیں۔
قال فی الدرالمختار رواہ ابن حبان وغیرہ من طرق، فی ردالمحتار فارتقی الی مرتبۃ الحسن ط اقول لکن ھذا اذاکان ضعفہ لسوء ضبط الراوی الصدوق الامین اولا رسالہ اوتدلیس اوجھالۃ الحال اما لوکان لفسق الراوی اوکذبہ فلاانتھٰی ۱؎۔ ملتقتاً
درمختار میں کہا اس کو ابن حبان وغیرہ نے کئی طریقوں سے روایت کیا ہے، ردالمحتار میں ہے اس طرح حدیث مرتبہ حسن تک ترقی کرتی ہے طحطاوی۔ اقول لیکن یہ اس وقت ہے جب حدیث کا ضعف صدوق میں راوی کے سوءِ ضبط یا ارسال یا تدلس یا جہات حال کی وجہ سے ہو۔ اگر وہ ضعف فسق راوی یا کذب راوی کی وجہ سے ہوتو وہ ترقی نہ کرے گی انتہی۔ (ت)
(۱؎ براہین قاطعہ    مطبع نے بلاساڈھور    ص ۹۸)
پس جس قدر نظائر مؤلف نے لکھے اور جس قدر کتبِ فقہ میں ہیں سب حسن لغیرہ سے ثابت ہوئے ہیں ۱۲ منہ (م)

بس معلوم ہوگیا کہ سب جگہ ایسے ہی ہیں آخر دیگ میں ایک ہی چاول دیکھتے ہیں یہ تو ان کا حکم تھا جو حدیثیں افعال متعلقہ بجوارح میں آئیں اور (۷) جو کچھ متعلق بجوارح نہیں وہ اگرچہ سِیر(۸) ہوں خواہ مواعظ(۹) معجزات خواہ فضائل صحابہ(۱۰) واہلبیت وسائر رجال جن میں قبول ضعاف کی علماء برابر تصریحیں فرماتے چلے آئے ہیں خواہ کسی اور خبر زائد کا بیان جس میں کسی طرح کا اعلام واخبار ہو اگرچہ وہ نفیا واثباتاً عقائد میں اصلاً داخل نہ ہو یہ سب کا سب باب عقاید سے ہے جس میں ضعاف درکنار بخاری ومسلم کی صحیح حدیثیں بھی مردود ہیں جب تک متواتر وقطعی الدلالۃ نہ ہوں مثلاً یہ حدیث کی رُوحیں شبِ جمعہ اپنے مکانوں پر آتی اور صدقات چاہتی ہیں باب عہ۱ عقائد سے ہے اور بنظر طلب صدقہ اگر ہوتو بابِ عمل سے کہ یہاں کوئی فضیلت صدقہ تو مذکور نہ ہُوئی خلاصہ یہ کہ جو متعلق بجوارح نہیں اُس میں صحاح احاد بھی بے اعتبار اور متعلق بجوارح بے ذکر ثواب مخصوص میں خاص صحاح درکار، ہاں ثواب بھی مذکور ہوتو ضعاف قبول اور یہی مراد علما مگر مستحب نہ ٹھہرے گا جب تک حسن لغیرہ نہ ہو شروع صفحہ۸۱ سے وسط صفحہ ۸۹ تک ان محدث نے یہی قاعدہ حادثہ احداث کیا ہے ان خرافاتِ بے سروپا کے ابطال میں کیا وقت ضائع کیجئے جس نے افادات سابقہ میں ہمارے کلمات رائقہ دیکھے وہ اس تاروپود عنکبوت کو بعونہٖ تعالٰی نیم جنبش نظر میں تار تارکرسکتا ہے معہذا ہم نے یہاں بھی تلخیص تقریر میں اس کے اجمالی ابطال کی طرف اشارے کیی اور مواقع مواخذات پر ہند سے لگادیی خیریہ تو اُن کا نہیں اُن کی سمجھ کا قصور ہے جب خدا فہم نہ دے بندہ مجبور ہے مگر ہمیں یہاں یہ کہنا ہے کہ تقبیل ابہامین کی سنیت ثابت ہوگئی کہ اگر بہ نظر تعدد طرق اس کی حدیث کو حسن لغیرہ کہئے فبہا ورنہ یہ تو آپ کی تفسیر پر بھی بابِ فضائل سے ہے کہ متعلق بعمل جوارح بھی اور اس میں ثواب خاص بھی مذکور تو احادیث مفید استحباب نہ سہی جواز تو ضرور ثابت کریں گے قبول ضعاف فی الفضائل کا اجماعی مسئلہ یہاں تو آپ کو بھی جاری ماننا ہوگا اب اس جواز کو خواہ اس حدیث سے مستفاد مانیے کہ جو حدیث جس باب میں مقبول لاجرم وہ اس میں دلیل شرعی ہے خواہ اجماعِ علماء سے کہ ایسی جگہ ایسی حدیث معمول بہ خواہ قرآنِ عظیم وحدیث صحیح ''کیف وقدقیل'' وحدیث صحیح ارتقائے شبہات واحادیث مذکورہ افادہ ۱۸ وغیرہا سے کہ قبول وعمل کی طرف ہدایت فرماتے ہیں خواہ قاعدہ مسلمہ شریعتِ محمدیہ علٰی صاحبہا افضل الصلاۃ والتحیۃ یعنی اخذ بالاحتیاط سے ہر طرح ایک دلیل شرعی اُس پر قائم اور آپ کے نزدیک جس فعل کے جواز پر کوئی دلیل شرعی صراحۃً دلالۃً کسی طرح دال ہو اگرچہ وہ فعل خاص بلکہ اُس کے جنس کا بھی کوئی فعل قردنِ ثلاثہ میں نہ پایا گیا ہو سب سنّت ہے تو اب اس کی سنیت میں کیا کلام رہا۔
Flag Counter